مقبوضہ فلسطین کے بارے میں قرآن کریم اور بائبل کی پیش گوئیاں (1)
ارض فلسطین دنیا کا وہ خطہ ہے جس کا ذکر بائبل میں اکثر ملتا ہے۔ اور پھر قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر موجود ہے اور ان کتب میں جو پیشگوئیاں بیان کی گئی ہیں ان سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ انجام کار ارض مقدس پر قبضہ کس کا ہو گا۔ آیا یہود کایا مسلمانوں کا۔ چنانچہ قرآن اور اور بائبل کی پیشگوئیوں کی روشنی میں ہم ارض مقدس کا جائزہ لیتے ہیں کہ اس سرزمین میں کن کن ادوار میں کیا ماجرا گزرا۔ اور خدا تعالیٰ کی تقدیر نے اس ارض مقدس کو کس کے لیے مقدر کر رکھا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ سورۃ انبیاء میں فرماتا ہے۔
”اور ہم نے زبور میں کچھ نصیحتیں کرنے کے بعد یہ لکھ چھوڑا ہے کہ ارض مقدس کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے۔“
اس آیت میں زبور کی جس پیشگوئی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا ذکر زبور باب 37 آیت 1 تا 11 میں یوں ہے۔
”تُو بد کرداروں کے سبب سے بیزار نہ ہو اور بدی کرنے والوں پر شک نہ کر کیونکہ وہ گھاس کی طرح جلد کاٹ ڈالے جائیں گے اور سبزہ کی طرح مرجھا جائیں گے۔ بد کار کاٹ ڈالے جائیں گے لیکن جن کو خداوند کی آس ہے۔ ملک کے وارث ہوں گے۔ کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائے گا۔ تو اس کی جگہ کو غور سے دیکھے گا۔ پر وہ نہ ہو گا لیکن حلیم ملک کے وارث ہوں گے۔ اور سلامتی کی فراوانی سے شاداب رہیں گے۔“
اسی طرح زبور 37 آیت 29 میں لکھا ہے۔ ”صادق زمین کے وارث ہوں گے۔ اور اس میں ہمیشہ بسیں رہیں گے۔“
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وعدہ ارض مقدس کے متعلق غیرمشروط وعدہ نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ نیکی اور تقویٰ اور صلاحیت کی شرط لگائی گئی تھی۔ اور ان کو صاف طور پر فرما دیا تھا کہ اگر تم شرارتوں اور فسادوں پر کمر باندھ لی تو یہ ملک تم سے چھین لیا جائے گا۔ چنانچہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے ان کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ۔
”جیسے تمہارے ساتھ بھلائی کرنے اور تم کو بڑھانے سے خداوند خوشنود ہوا۔ ایسے ہی تم کو فنا کرنے اور ہلاک کر ڈالنے سے خدا خوشنود ہو گا۔ اور تم اس ملک سے اکھاڑ دیے جاؤ گے جہاں تو اس پر قبضہ کرنے جا رہا ہے خداوند تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام قوموں میں پراگندہ کر دے گا۔“ (استثناء باب 28 آیت 64۔ 63 )
قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے زبور کا حوالہ دے کر بنی اسرائیل کے ساتھ ارض فلسطین پر مشروط وعدہ فرمایا اور اس مشروط وعدہ کے مطابق خدا نے یہ خبر بھی دی کہ اگر تم حد سے بڑھ جاؤ گے تو خدا یہ ملک واپس لے لے گا۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل میں تفصیل سے یہ بیان فرمایا ہے۔
”اور ہم نے اس کتاب میں ( بائبل میں ) بنی اسرائیل کو کھول کر یہ بات پہنچا دی تھی کہ تم یقیناً اًس ملک میں دو بار فساد کرو گے اور یقیناً ًتم بہت سرکشی کر و گے“ ۔ (بنی اسرائیل آیت 5 )
چنانچہ موسٰی کی کتاب استثناء باب 28 آیت 15 میں بھی اس بات کا ثبوت ملتا ہے لیکن تو اگر ایسا نہ کرے کہ خداوند اپنے خدا کی بات سن کر اس کے سارے احکام اور آئین پر جو آج کے دن میں تجھے دیتا ہوں احتیاط سے عمل کرے کہ یہ ساری نعمتیں تجھ پر نازل ہوں گی تجھ کو لگے گی۔ ”
اس کے بعد ان لعنتوں کا ذکر کیا جو نافرمانی کی وجہ سے ان پر اتریں گی۔ چنانچہ یسعیاہ باب 28 آیت 36 اور آیت 49 تا 51 میں ہے کہ
”خداوند تجھ کو اور تیرے بادشاہ کو جسے تو اپنے اوپر قائم کرے گا ایک گروہ کے درمیان جس سے تو اور تیرے باپ دادے واقف نہ تھے لے جائے گا۔ خداوند دور سے بلکہ زمین کی انتہا سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھا لائے گا۔ جیسے عقاب ٹوٹ کر آتا ہے اس قوم کی زبان تو نہیں سمجھے گا۔ اس قوم کے لوگ ترش رو ہوں گے۔ نہ وہ بوڑھوں کا لحاظ کریں گے نہ جوان پر ترس کھائیں گے۔ اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے۔ جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے۔ وہ تیرے تمام ملک میں تیرا محاصرہ تیری ہی بستیوں میں کیے رہیں جب تک تیری اونچی اونچی فصلیں جن پر تیرا بھروسا ہو گا گر نہ جائیں۔ تیرا محاصرہ وہ تیرے ہی ملک کی سب بستیوں میں کریں گے۔ جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے۔
قوم یہود فساد اور سرکشی میں اتنی بڑھ گئی کہ اس نے انبیاء پر تہمتیں لگائیں۔ ان تہمتوں کا ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے کہ اس قوم نے حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر تہمتیں لگائیں اور ان کی زبان سے اس قوم پر لعنت ڈالی گئی۔ اس وجہ سے بھی یہ قوم لعنتی ٹھہری۔ چنانچہ قرآن کریم میں المائدہ آیت نمبر 79 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
”جن لوگوں نے بنی اسرائیل میں سے کفر کیا وہ داؤد کی زبان سے لعنت ڈالے گئے اور عیسٰی ابن مریم کی زبان سے بھی یہ ان کے نافرمان ہونے کے سبب سے اور اس سبب سے ہوا کہ وہ حد سے تجاوز کیا کرتے تھے۔“ (المائدہ 79 )
چھ سو سال قبل مسیح کے قریب حضرت داؤد علیہ السلام کے چار سو سال بعد یرمیاہ نبی کی معرفت بنی اسرائیل کے گناہوں پر انہیں پھر تنبیہ کی اور فرمایا کہ اب بھی تو بہ کرلو تو وہ تمہارے جلاوطنی کی پیشگوئی بھی ٹلا دی جائے گی مگر وہ باز نہ آئے۔ (یرمیاہ باب 7 ) آخر کار اللہ تعالیٰ نے بابلیوں کو ان پر مسلط کر دیا جو کہ بہت جنگجو تھے۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا ہے۔
ہم نے اپنے بعض ایسے بندوں کو ( تمہاری سرکوبی کے لئے ) تم پر کھڑا کر دیا جو سخت جنگجو تھے۔ اور وہ تمہارے گھروں کے اندر جا گھسے۔ (بنی اسرائیل 6 )
قرآن کریم کے مطابق جب پہلا وعدہ پورا ہونے کا وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے بابلیوں کو مسلط کر دیا۔ چنانچہ واقعہ بائبل میں یوں بیان ہوا ہے۔
”شاہ ِبابل بنو کد نضر کے عہد کے انیسویں برس کے پانچویں مہینے کے ساتویں دن شاہ ِبابل کا ایک خادم نبوزرادان جو جلوداروں کا سردار تھا یروشلم میں آیا۔ اور اس نے خداوند کا گھر اور بادشاہ کا قصر اور یروشلم کے سب گھر یعنی ہر بڑا گھر آگ سے جلا دیا۔ اور کسدیوں کے سارے لشکر نے جو جلوہ داروں کے سردار کے ہمراہ تھا یروشلم کی فصیل کو چاروں طرف سے گرا دیا اور باقی لوگوں کو جو شہر میں رہ گئے تھے اور ان کو جنہوں نے اپنوں کو چھو ر کر شاہ ِبابل کی پناہ لی تھی اور عوام میں سے جتنے باقی رہ گئے تھے ان سب کو نبوزرادان جلو داروں کا سردار اسیر کر کے لے گیا۔“
( 2 سلاطین باب 25 آیت 8۔ 12 )
قرآن کریم اور بائبل کے مطابق قوم یہود کو ارض مقدس اپنی سرکشیوں کی بدولت چھوڑنا پڑا۔ اور وہ مختلف ممالک میں تتر بتر ہو گئے۔
قرآن کریم اور بائبل میں ارض مقدس میں یہود کے دوبارہ واپسی کا بیان
قرآن کریم اور بائبل میں یہود کی تباہی کے واقعہ کے بعد ایک مرتبہ دوبارہ واپس آنے کا ذکر موجود ہے۔ چنانچہ قرآن کریم نے یہود کی واپسی کا ذکر یوں فرمایا ہے۔
پھر ہم نے تمہاری طرف (دشمن پر ) دو بارہ حملہ کی طاقت کو لوٹا دیا اور ہم نے کئی قسم کے مالوں اور نیز بیٹوں کے ذریعہ سے تمہاری مدد کی۔ اور ہم نے تمہیں جتھے کے لحاظ سے زیادہ کر دیا۔ ” (بنی اسرائیل 7 )
حضرت موسٰی علیہ السلام پہلی تباہی کے بعد بنی اسرائیل کی دوبارہ واپسی کی خبر دیتے ہیں کہ ارض مقدس میں ایک بار پھر بسائے جاؤ گے۔ چنانچہ استثناء باب 30 آیت 5۔ 1 میں ان الفاظ سے پیشگوئی کرتے ہیں۔
”اور جب یہ سب باتیں یعنی برکت اور لعنت جن کو میں نے آج تیرے آگے رکھا ہے۔ تجھ پر آئیں اور تو ان قوموں کے بیچ جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو ہنکا کر پہنچا دیا ہو ان کو یاد کرے۔ اور تو اور تیری اولاد دونوں خداوند اپنے خدا کی طرف پھیریں اور اس کی بات ان سب احکام کے مطابق جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے مانیں۔ تو خداوند تیرا خدا تیری اسیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرے گا۔ اور تجھ کو سب قوموں میں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہو جمع کرے گا۔ اگر تیرے آوارہ گرد دنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیرا خدا تجھ کو جمع کر کے لئے آئے گا اور خدا و ند تیرا خدا اسی ملک میں تجھ کو لائے گا جس پر تیرے باپ دادا نے قبضہ کیا تھا اور تو اس کو اپنے قبضہ میں لائے گا۔ پھر وہ تجھ سے بھلائی کرے گا اور تیرے باپ دادا سے زیادہ تجھ کو بڑھائے گا۔ ( استثنا باب 30 آیت 1۔ 6 )
445 قبل مسیح مید اور فارس کے بادشاہ نے بابل فتح کر لیا تھا۔ اس صلہ میں یہود نے اس کی مدد کی تھی۔ ان کو واپس یروشلم جانے کی اجازت دے دی۔ اس بادشاہ کا نام خورس تھا۔ جس کو انگریزی میں سائرس لکھتے ہیں۔ اس نے نہ صرف یہود کو ان کے وطن میں واپس جانے کی اجازت دی بلکہ وہ سامان جو وہاں بنو کدنضر لے گیا تھا وہ بھی ان کو واپس دے دیا۔
اور جب دوسری بار والا وعدہ پورا ہونے کا وقت آ گیا۔ تا کہ وہ (یعنی تمہارے دشمن) تمہارے معزز لوگوں سے ناپسندیدہ معاملہ کریں اور (اسی طرح) مسجد میں داخل ہوں جس طرح وہ اس میں پہلی بار داخل ہوئے تھے۔ اور جس چیز پر غلبہ پائیں اسے بالکل تباہ و برباد کر دیں۔ (بنی اسرائیل 8 )یہود کے دوسرے فساد کی پیشگوئی بائبل میں ان الفاظ میں حضرت موسٰی نے کی۔
” انہوں نے اس چیز کے باعث جو خدا نہیں مجھے غیرت اور اپنی باطل باتوں سے مجھے غصہ دلایا۔ سو میں بھی ان کے ذریعہ سے جو کوئی امت نہیں ان کو غیرت اور ایک نادان قوم کے ذریعہ سے ان کو غصہ دلاؤں گا۔ اس لئے کہ میرے غصہ کے بارے آگ بھڑک اٹھی ہے جو پاتال کی تہہ تک جلتی جائے گی اور زمین کو اس کی پیداوار سمیت بھسم کردے گی اور پہاڑوں کی بنیادوں کو آگ لگا دی گی۔ میں ان پر آفتوں کا ڈھیر لگا دوں گا اور اپنے تیروں کو ان پر ختم کر دوں گا۔ وہ بھوک کے مارے گھل جائیں گے گے اور شدید حرارت اور سخت ہلاکت کا لقمہ ہو جائیں گے اور میں ان پر درندوں کے دانت اور زمین پر کے سرکنے والے کیڑوں کا زہر چھوڑ دون گا باہر وہ تلوار سے مریں گے اور کوٹھریوں کے اندر خوف سے اور جوان مرد اور کنواریاں دودھ پیتے بچے اور پکے بال والے یوں ہی ہلاک ہوں گے۔ میں نے کہا ان کو دور دور پراگندہ کردوں گا۔ (استثناء باب 32 آیت 21 تا 26 )
مندرجہ بالا پیشگوئیوں کی روشنی سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جب یہود اپنی سرکشیوں میں حد سے بڑھ گئے اور خدا تعالیٰ کی نظروں سے گر گئے۔ ان پر عذاب نازل ہوا۔ چنانچہ اس دوسرے عذاب کی تفصیل یہ ہے کہ اس دفعہ سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دکھ دینا تھا۔ جیسا کہ قرآن کریم نے بیان کیا ہے۔
بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ان پر داؤد اور عیسٰی بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی۔ چنانچہ یہود پر ایک لعنت حضرت داؤد علیہ السلام کی زبان سے (جو کہ بنو کدنضر کے ارض مقدس پر حملے کی صورت میں وارد ہوئی ) اور دوسری لعنت حضرت عیسٰی کی زبان سے ان پر وارد ہوئی۔ یہ سزا حضرت عیسیٰ کے واقعہ صلیب کے 70 سال بعد ان پر وارد ہوتی ہے۔ ٹائٹس رومی نے یروشلم پر حملہ کیا۔ اس کے گرجے جلا دینے کا حکم دیا۔ شہر کی در و دیوار کو اور ہیکل کو گرا دیا۔ اور پیشگوئی کے مطابق تمام مرد و زن اور بچے تہہ تیغ کیے گئے۔ شہر کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا۔ بچے کھچے یہودی پھر دوسرے ملکوں میں تتر بتر ہو گئے۔ (جاری ہے )

