امریکی اور پاکستانی شاعرات کے تخلیقی سفر کا مَوازنہ


Naheed virk usa

شاعری ہمیشہ سے ہمارے ذاتی تجربات کے گرد گھومتی رہی ہے۔ یہ ہماری ثقافت کا مرکز ہے اور اس قابل ہے کہ اسے سب سے زیادہ طاقتور اور انسان کو بدل دینے والا فن سمجھا جائے۔

جہاں تک لکھنے کی بات ہے تو لکھنے کا عمل وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے سوچ کو تحریک ملتی ہے، جہاں لاشعور شعور میں جنم لیتا ہے اس لیے شاعروں اور ادیبوں کا ایک خاص کردار ہے جو اپنے معاشرے کے لحاظ سے مختلف ہے۔ چونکہ ادب معاشرے کی عکاسی کرتا ہے اس لیے ادب پر معاشرے کا بہت بڑا اثر ہونا لازمی ہے۔ ادب، معاشرہ، اور ان کے ایک دوسرے پر اثرات آپس میں ایک گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

اب بات آتی ہے کہ ہم دیگر زبانوں کے ادب کو کیسے سمجھیں۔ دیگر زبانوں کے ادب اور معاشرے کو سمجھنے کے لیے ترجمہ نگاری ایسا دریچہ ہے جس سے دوسری قوموں کے احوال ہم پر کُھلتے ہیں۔ اسی لیے اَدَبی تخلیقات کا ترجمہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسی ترجمہ کے توسط سے لوگ ایک دوسرے کے عقائد، مذاہب، رسم و رواج اور تہذیب و تمدن سے واقف ہوتے ہیں۔

شاعر کے تخلیقی سفر کو سامنے رکھتے ہوئے آج میں اکیسویں صدی کی دو امریکی شاعرات اور دو پاکستانی شاعرات کے حالاتِ زندگی، اور اُن کے تخلیقی سفر پر بات کروں گی۔

ان شاعرات نے روایتی موضوعات کی بجائے اپنے عہد کی مخصوص سَماجی، سیاسی، معاشی اور اخلاقی صورتحال کو شاعری کے توسط سے پیش کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے اپنی شاعرانہ حِسّیِت سے یہ تاثر دیا ہے کہ عورت حساس، باشعور ہوتے ہوئے سَماجی بدلاؤ کے جملہ بیانیے کا گہرا ادراک رکھتی ہے۔

میں جن شاعرات کی شاعری اور حالاتِ زندگی کا مَوازنہ کر رہی ہوں ان کا تعلق بالکل دو مختلف تہذیبوں سے ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ یہ شاعرات کن موضوعات پر لکھتی ہیں اور وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہوئے بھی کیسے جذبات کے لحاظ سے آپس میں جُڑی ہوئی ہیں۔ ان شاعرات کی نفسیات کیا ہے اور سَماجی مسائل کیسے ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

میں نے جن دو امریکی شاعرات کو چُنا ہے اُن میں مایا اینجلو اور سلویا پلاتھ کے نام شامل ہیں۔ جبکہ پاکستانی شاعرات میں فہمیدہ ریاض اور سارا شگفتہ کے نام شامل ہیں۔

فہمیدہ ریاض اور مایا اینجلو

فہمیدہ ریاض اور مایا اینجلو دونوں اپنے اپنے دور کی متحرِک سَماجی کارکُن رہیں۔ فہمیدہ جنرل ایوب اور ضیا کے دور میں مزاحمتی ادب سے وابستہ رہیں، مایا بھی سیاہ فام طبقے کے استحصال کے خلاف کھڑی ہونے والی شخصیات مارٹن لوتھر کنگ اور مالکم ایکس کے ساتھ وابستہ رہیں اور سول رائٹس موومنٹ کے لیے بھی مایا نے بہت کام کیا۔

دونوں نے جِدوجَہد میں زندگی گزاری اور دونوں نے کم عمری میں لکھنا شروع کیا۔ دونوں صرف شاعرہ ہی نہیں بلکہ ان کا تعلق نثر سے بھی ہے۔ مایا اپنی خود نوشت کے حوالے سے بھی بہت مشہور ہیں۔ مایا اور فہمیدہ دونوں کے ہاں اپنی قوم سے محبت، آمریت اور جَبر کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات ملتی ہے۔

دونوں کو معاشرے میں عورت کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں اور زیادتیوں کا ادراک ہے اور دونوں نے نہ صرف عورت کے حوالے سے آواز اٹھائی بلکہ معاشرتی تفریق، چاہے اس کا شکار مرد ہی کیوں نہ رہا ہو کے لیے بھی لکھا۔ دونوں معاشرتی بدعنوانیوں، حق تلفیوں اور تکلیفوں کا ذکر کرتی ہیں لیکن اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتیں۔ دونوں راہ دکھاتی ہیں، حوصلہ بڑھاتی ہیں اور محبت کے اظہار اور اس کی طلب سے نہیں کتراتیں بلکہ عورت کی فطرت کو واضح کرتی ہیں اور اس پر فَخر بھی کرتی ہیں۔

فہمیدہ معاشرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی بات کہتی ہے۔ ان کی نظم چادر اور چاردیواری کی آخری چند سطریں ملاحظہ کیجئے :

(یہ نظم قدرے طویل ہے اس لیے میں اس کا صرف آخری بند ہی پیش کروں گی۔ لیکن اس نظم کی نفسیات کو سمجھنے کے لیے آپ اِسے مکمل ضرور پڑھیں۔ )

چادر اور چار دیواری
یہ بچیاں ہیں
کہ جن کے سر پر پھرا جو حضرت کا دست شفقت
تو کم سنی کے لہو سے رَیشِ سپید رنگین ہو گئی ہے
حضور کے حجلۂ معطر میں زندگی خون رو گئی ہے
پڑا ہوا ہے جہاں یہ لاشہ
طویل صدیوں سے قتلِ انسانیت کا یہ خوں چَکاں تماشا
اب اس تماشا کو ختم کیجے
حضور اب اس کو ڈھانپ دیجئے
سیاہ چادر تو بن چکی ہے، مَری نہیں آپ کی ضرورت
کہ اس زمیں پر وجود میرا نہیں فقط اک نشان شہوت
حیات کی شاہ راہ پر جگمگا رہی ہے مری ذہانت
زمین کے رُخ پر جو ہے پسینہ تو جھلملاتی ہے میری محنت
یہ چار دیواریاں یہ چادر، گلی سڑی لاش کو مبارک
کُھلی فضاؤں میں بادباں کھول کر بڑھے گا مرا سفینہ
میں آدم نو کی ہم سفر ہوں
کہ جس نے جیتی مری بھروسا بھری رفاقت
(فہمیدہ ریاض)

مایا کے ہاں بھی ہتھیار نہ ڈالنے والا لب و لہجہ ملتا ہے۔ چاہے وہ اپنی نسل کے لیے آواز اُٹھائے یا اپنی صِنف کے لیے، وہ احتجاج نہیں کرتی بلکہ انتہائی اعتماد سے اپنا موقف بیان کرتی ہیں۔ مغربی معاشرے میں پلی بڑھی ما یا اینجلو اپنی ذات سے برتی جانے والی ذلّت کی چنگاریوں کو جوڑ جوڑ کے آگ بناتی رہی اور اندر ہی اندر اس آگ کو ہوا دیتے ہوئے بھڑکاتی رہی۔ اپنی ذات کے با رے میں خود فیصلے لکھے۔ خود کو بدلنے اور معا شرے میں اپنے لوگوں کی قسمت بدل دینے کا فیصلہ، اپنے وجود کو نا قابلِ تسخیر اور نا قابِل فراموش بنا دینے کا فیصلہ۔

مایا کی نظم Still I Rise (میں پھر بھی طلوع ہوں گی) کی آخری چند سطریں ملاحظہ کیجئے :
(میں پھر بھی طلوع ہوں گی) Still I Rise
کیا تم مجھے شکست خوردہ دیکھنا چاہتے تھے؟
کندھے گرائے ہوئے شکستہ دل
دُکھوں سے نڈھال گِریہ کُناں؟
خمیدہ سر اور جُھکی آنکھوں کے ساتھ؟
کیا میرا غرور و تمکنت تمہیں پریشان کرتا ہے؟
کیا تمہیں یہ بات تکلیف دیتی ہے
کہ میں یوں بھرپُور زندگی جیتی ہوں اور خوش رہتی ہوں
جیسے میرے گھر کے آنگن میں سونے کی کانیں ہوں
تم اپنے نوکیلے لفظوں سے میری جان لے سکتے ہو
تم اپنی زہریلی نگاہوں سے مجھے چھلنی کر سکتے ہو
تم اپنی نفرت سے مجھے مار سکتے ہو
لیکن میں پھر بھی، معطّر ہوا کی طرح طلوع ہوں گی
(مایا اینجلو)

فہمیدہ ریاض اور مایا اینجلو کی مشترکہ خوبی یہ ہے کہ یہ دونوں فیمنسٹ ہیں لیکن عورت کی زندگی میں مرد کی محبت اور اہمیت سے انکاری نہیں۔ مایا کا تعلق جس معاشرے سے رہا وہاں کسی قسم کے اظہار پر پابندی نہیں اس لیے مایا کے ہاں الفاظ اور انداز فہمیدہ کی نسبت کہیں زیادہ بے باک ہے۔ لیکن فہمیدہ کُھل کر نہ بولنے کے باوجود اپنے احساسات کے بیان میں کامیاب رہی۔

اب اگلی دو شاعرات سارا شگفتہ اور سلویا پلاتھ کی طرف آتے ہیں جنہوں نے عین جوانی میں اپنی جان لے کر خود کو امر کر دیا۔ تانیثی اعتبار سے سارا شگفتہ کی شاعری اور شخصیت کا سلویا سے پلاتھ سے بارہا موازنہ کیا جاتا ہے۔

سارا شگفتہ اور سلویا پلاتھ

انگریزی ادب میں اگر تانیثی ( فیمینزم ) فکر کی نمائندہ سلویا پلاتھ کو مانا جاتا ہے تو اردو ادب میں بھی تانیثیت کے اظہار میں ایک نمائندہ آواز سارا شگفتہ کی ہے۔ ان دونوں کی شاعری اپنے ذاتی تجربات اور مشاہدات کے گِرد گھومتی ہے۔ سلویا کی شاعری ڈپریشن اور خودکُشی کے موضوعات کے ساتھ ساتھ عورت ذات سے جُڑے تمام خوابوں اور عذابوں کی شاعری ہے۔ وہ اپنی محدود زندگی میں لامحدود خیالات کی شاعری کرتی تھی۔ ایک غیر معمولی اور غیر روایتی سوچ کی مالک سلویا اپنی موت کے بعد ادب کی دنیا میں پیدا ہوئی۔

سلویا نے عورت ہونے کے تمام سہانے اور ڈراؤنے منظر دیکھے بھی اور برتے بھی اور وہ ان کو بیان کرنے کی جرات بھی رکھتی تھی۔ اس نے عورت کی نامرادی اور مظلومی کو اپنا موضوع سخن بنایا۔ اس نے لکھا ہے کہ میرا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ میں عورت پیدا ہوئی۔ سلویا پلاتھ کی زندگی اتار چڑھاؤ اور تلخیوں سے بھری پڑی ہے۔ سلویا کی شادی برطانوی شاعر ٹیڈ ہیوز کے ساتھ ہوئی لیکن اس شادی کا انجام ٹیڈ ہیوز کی بے وفائی کے سبب دونوں کی علیحدگی پر ہُوا۔ اپنے شاعر شوہر کی بے وفائی کے نتیجے میں شدتِ جذبات کے باعث سلویا ذہنی ڈپریشن کی مریضہ بن گئی۔ سلویا نے متعدد بار اپنی جان لینے کی کوشش کی۔ اور پھر 31 برس کی عمر میں سلویا نے اپنی زندگی ختم کرنے کے انتہائی قدم کو اپنی زندگی کی تکمیل سمجھتے ہوئے اس دنیا سے کِنارہ کر لیا۔

دوسری طرف سارا کے ساتھ اُس کی چار ناکام شادیاں تھیں۔ سارا کے شوہروں نے اُسے مسلسل اذیت اور گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا جس سے وہ شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو گئی۔ سارا اپنی بے باک نظموں اور آمرانہ حکومت کے خلاف لکھی گئی نظموں کی وجہ سے گرفتار ہوئی۔ گرفتاری کے دوران اُسے درندگی اور بیہمانہ اذیت کا نشانہ بنایا گیا جس سے وہ مزید شدید نفسیاتی دباؤ میں گِھر گئی اور 29 برس کی عمر میں صدیوں کی اذیت برداشت کرنے والی نے ٹرین کی پٹری پر لیٹ کر اپنی جان قربان کر دی۔ خودکُشی کی یہ دوسری کوشش تھی جس میں وہ کامیاب ہوئی۔

سارہ نے اپنے نومولود بیٹے کی موت پر ایک نظم ”موت کی تلاشی مت لو“ لکھی جس میں وہ کہتی ہے :
موت کی تلاشی مت لو
بادلوں میں ہی میری تو بارش مر گئی
ابھی ابھی بہت خوش لباس تھا وہ
میری خطا کر بیٹھا
میرے ہاتھوں میں کوئی دل مر گیا ہے
موت کی تلاشی مت لو
انسان سے پہلے موت زندہ تھی
ٹوٹنے والے زمین پر رہ گئے
میں پیڑ سے گرا سایہ ہوں
آواز سے پہلے گھٹ نہیں سکتی
میری آنکھوں میں کوئی دل مَر گیا ہے۔
(سارا شگفتہ)

سارا شگفتہ جو اپنے انگارے بُجھنے تلک جیتی رہی اور اُس کے یہ انگارے کتاب کی صورت ہمیں اپنی بُک شیلف میں ملتے ہیں۔

سلویا نے بھی اپنے بیٹے کے لیے ایک خوبصورت نظم The Night Dances لکھی جسے میں نے رقصِ شبی کا عنوان دیا ہے۔

(میں اس نظم کا ترجمہ اُس وقت مکمل نہیں کر پائی تھی جب میری کتاب ”شمالی امریکہ کی شاعرات کی منتخب نظموں کا اردو ترجمہ“ جسے اکادمی ادبیات پاکستان نے فروری 2023 میں شائع کیا تھا اس لیے یہ نظم اُس کتاب میں شامل ہونے سے رہ گئی تھی۔ میں یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری سمجھتی ہوں کہ آپ کو اس نظم کی صرف پہلی دو سطروں کا ہی اردو ادب میں حوالہ ملتا ہے۔ سلویا پلاتھ کی شاعری اور بہ طور خاص اس نظم کو ترجمہ کرنا ہر گز آسان نہیں۔ )

میں اس نظم کی چند سطریں آپ کے سامنے رکھتی ہوں، وہ کہتی ہے :
The Night Dances (رقصِ شبی)
گھاس پہ اک مسکراہٹ گِری اور کھو گئی
اس کی واپسی اب ممکن نہیں ہے
یہ بھر پور اُچھل کود اور قِلقاریاں
تاحیات کائنات میں گردش کرتی رہیں گی
گھومتی رہیں گی،
اے میرے جگر پارے
تمہارے جوان ہونے پر میرا دامن
خوبصورتی سے ہر گز خالی نہیں ہو گا،
زندگی سے بھر پور
تمہاری حدت بھری ننھی منھی حرکتیں
ستاروں کی چمک میں مدغم ہو جائیں گی
یہ ستارے، دُم دار ستارے
ابد تک آسمانی وُسعتوں میں چمکتے رہیں گے
تمہاری حدت بھری روشنی
ان وسعتوں میں سفر کرتی رہے گی۔
(سلویا پلاتھ)
خودکُشی کرنے والی ان شاعرات کے نزدیک مرنا بھی ایک فن تھا اور وہ اس فن میں بھی کامل ہونا چاہتی تھی۔

آخر میں اپنی بات سمیٹتے ہوئے میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ میں نے یہ موازنہ جو ان شاعرات کی زندگی، شخصیت، اور ان کے تخلیقی سفر کے گہرے مطالعے کے بعد کیا ہے، اس سے آپ جو بھی تاثر لیتے ہیں یہ میں آپ پر چھوڑتی ہوں۔ لیکن میں نے اپنی پوری کوشش کی کہ میں جو بھی معلومات آپ تک پہنچاؤں اس سے آپ اچھی طرح جان جائیں کہ یہ کتنی مضبوط اور اہم شاعرات تھیں۔

Facebook Comments HS