ایک بہادر راجپوت جنرل رتن سنگھ کا شہر، مست ہاتھی اور شاہجہاں
1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے
میں نے اپنے زیرِ مطالعہ کتاب میں پڑھا کہ رتلم جو کہ وسطی بھارت کا ایک قصبہ ہے کے رہنے والے ایک بہادر راجپوت رتن سنگھ نے شاہجہاں اور اس کے درباریوں کو ایک مست ہاتھی کے ہاتھوں مرنے سے بچایا تھا۔ اس کی بہادری سے خوش ہو کر شاہجہاں نے اسے رتلم میں ایک بڑی جاگیر دے دی۔ اس کے علاوہ رتن سنگھ شاہجہاں کی طرف سے خراسان تک جنگ بھی کرتا رہا۔ شاہجہاں کی زندگی میں ہی اس کے بچوں کے درمیان تخت کی جنگ ہوئی۔ جس میں رتن سنگھ نے دارا شکوہ کا ساتھ دیا اس کی پاداش میں عالمگیر نے اس کی ساری جائیداد چھین لی۔ رتن سنگھ عالمگیر کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے مارا گیا لیکن اس نے داراشکوہ سے کی ہوئی وفاداری پر حرف نہ آنے دیا۔
جب ہماری گاڑی رتلم پہنچی تو اس وقت رات کے بارہ بج چکے تھے۔ نیند میری آنکھوں سے ابھی کوسوں دور تھی۔ یہاں ہماری گاڑی کا سٹاپ بھی تھا۔ اس لیے مجھے پلیٹ فارم پر اترنے کا موقع بھی مل گیا۔ یہ شہر بھی اپنی ایک منفرد تاریخ رکھتا ہے جو وفاداری اور بہادری سے مزین ہے۔ جس کا ایک مختصر احوال آپ کی خدمت میں پیش ہے۔
رتن سنگھ اور رتلم کے بارے میں باربرا این راموسیک کی کتاب The Indian Princes and their Statesجسے کیمرج یونیورسٹی نے 2004 ء میں شائع کیا ہے، میں بہت تفصیل سے لکھا ہے۔ جو میں نے اس کتاب میں پڑھا اس کے مطابق رتلم بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں مالوا خطے کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ یہ شہر سطح سمندر سے پندرہ سو فٹ بلندی پر واقع ہے۔ (لاہور چھ سو فٹ بلندی پر واقع ہے ) ۔ یہ شہر چٹ پٹے کھانوں اور قدیم مندروں کی وجہ سے بھی خاصی شہرت رکھتا ہے۔ رتلم ریاست کی بنیاد سولہویں صدی کے وسط میں جودھ پور کے راجہ ادائی سنگھ کے پوتے راجہ رتن سنگھ راٹھور نے رکھی۔
باربرا این راموسیک نے (صفحہ 16 ) میں ایک واقعہ کا تذکرہ کیا ہے جس میں ایک مست ہاتھی کے ہاتھوں شاہجہاں بادشاہ کی جان جا سکتی تھی۔ اس موقع پر رتن سنگھ جس کی عمر صرف تئیس سال تھی نے بادشاہ کی جان بچائی تھی۔ اس پر خوش ہو کر شاہجہاں نے یہ علاقہ اسے دیا تھا۔ راجہ رتن سنگھ راٹھور اور اس کے والد نے افغانستان میں ایرانیوں اور ازبک کے خلاف کام یاب جنگیں لڑیں جس سے شاہ جہاں کی حکومت کو استحکام اور سلطنت کو وسعت ملی۔ میرے لیے بھی یہ ایک نئی بات تھی کہ ہندو بھی مغل حکمرانوں کی خاطر اتنے دور دراز علاقوں میں جاتے تھے۔ جس سے اس بات کی بھی نفی ہوتی ہے کہ ہندو ہندوستان سے باہر جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ لوگ جنگ کے لیے ہندوستان سے باہر نکلے اور اپنی بہادری کے جوہر دکھائے جس کا اعتراف مغل حکمران بھی کرتے تھے۔ رتن سنگھ کی فوجی خدمات کے صلے اور ان کے بہادری کے عظیم کارناموں کے انعام کے طور پر انھیں راجپوتانہ اور شمالی مالوا میں ایک بڑی جاگیر سے نوازا گیا۔ رتن سنگھ نے اپنا دارالحکومت ایک نئے شہر میں بنایا جس کا نام اپنے پہلے بیٹے رام سنگھ کے نام سے ”رترم“ رکھا جو بعد میں رتلم میں بدل گیا۔
رتن سنگھ اس فوج میں شامل تھا جو جودھ پور کے مہاراجہ جسونت سنگھ کی کمان میں راجپوتوں اور مسلمانوں کی مشترکہ فوج تھی اور اس نے داراشکوہ کی حمایت میں عالمگیر کے خلاف ایک اہم جنگ لڑی تھی۔ راٹھور قبیلے کے سربراہ کی حیثیت سے رتن سنگھ فوج کا سربراہ تھا۔ کہتے ہیں کہ اس جنگ کی ناکامی میں مسلمان فوجیوں کے عدم تعاون کا بہت زیادہ عمل دخل تھا۔ اس جنگ میں رتن سنگھ بھی مارا گیا۔ موت کے وقت اس کے جسم پر تلوار کے اسی کے قریب زخم تھے۔ میرے علم کے مطابق رتن سنگھ ان چند راجاؤں میں سے ہے جو میدان جنگ میں لڑتے ہوئے مارے گئے۔
رتلم شہر کی ترقی میں ایک انگریز کیپٹن بورتھوک کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ انگریزوں کے دور میں رتلم وسطی ہندوستان کا ایک اہم کاروباری شہر تھا۔ رتن سنگھ کے دور میں رتلم ایک بہت بڑی ریاست تھی۔ انگریزوں نے جب اس علاقے کو فتح کیا جس کے لیے رتن سنگھ کے وفاداروں نے انگریزوں کی ہر طرح سے مدد کی تھی تو انھوں نے ریاست کو بحال کیا جس کے نتیجے میں مہاراجہ سجن سنگھ اس ریاست کا راجہ بنا اور راجہ کا وہ لقب بحال کر دیا گیا جسے عالمگیر نے ختم کر دیا تھا۔ برطانوی حکمرانی کے دوران اس ریاست کا رقبہ 1795 مربع کلومیٹر تھا (ضلع لاہور کا رقبہ 1772 مربع کلو میٹر ہے ) ۔ یہ شہر افیون کی تجارت کے لیے بہت مشہور تھا۔ تقسیم ہند کے بعد اس ریاست نے بھارت سے الحاق کر لیا۔ رتلم جنکشن ایک بہت بڑا جنکشن ہے۔ اس ریلوے سٹیشن پر روزانہ ڈیڑھ سو سے زائد ٹرینیں رکتی ہیں۔ اس سٹیشن کو پورے بھارت کا پہلا صاف ستھرا ٹرین سٹیشن ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ سٹیشن ہندوستان کے مصروف ترین ریلوے سٹیشنوں میں سے ایک ہے۔ رومانٹک مزاحیہ فلم ”جب وی میٹ“ میں بھی اس شہر کا ذکر ہے۔




