یونانی لیڈی ٹیچرز کے ہاتھوں کالاش لڑکیوں کی تربیت


نور پیر کے تڑکے آنکھ کھلنا میرا ہمیشہ کا معمول ہے۔ ریسٹ ہاؤس میں سارا عالم ابھی سوتا تھا۔ باہر مظاہر فطرت جاگتے اور دل لُبھاتے تھے۔ نماز کے لئے مسجد بھی نظر آ گئی تھی۔ بلندوبالا چوبی ستون اپنے ڈیزائن اور بناوٹ و قامت کے اعتبار سے وادی کی طرح ہی منفرد تھے۔ مرکزی دروازے پر ’زخاک آفریدہ خداوند پاک‘ پس ای بندہ گی کن جونمرگ ’لکھا ہوا تھا۔ نمازی جانے کہاں تھے۔ مسجد میں سناٹا تھا۔ برآمدے کے چوبی ستونوں کا گہرا فیروزی مائل سبز رنگ بولتا تھا۔ پتھروں اور شہتیروں سے بنے صحن کے نیچے تہہ خانے میں بہتے کھال پر وضو کے لیے جگہ اور بیت الخلا تھے۔ فرش پر خشک نرم گھاس صفوں کی مانند بکھری پڑی تھی۔ اسی پر ماتھا ٹیک دیا۔

میرے اندر دُکھوں کا بھانبڑ جلتا تھا۔ مجھے فکریں مضطرب رکھتی تھیں۔ اندیشہ ہائے دوردراز چین نہیں لینے دیتے تھے۔ دو قطرے آنسوؤں کے کیا نکلے جیسے میرا مُو مُو اس کے حضور ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ ہچکیاں تھیں۔ بھل بھل گرتے آنسوؤں کی برسات تھی۔

کچھ پتہ نہیں کب اس بہاؤ میں کمی آئی۔ بس جب سر اُٹھایا تو اشکوں سے بھری آنکھوں نے پہاڑوں کے اوپر سے جھانکتی روشنی کی سنہری کرن کو دیکھا اور وہاں سے نگاہ پلٹی تو سبزے کا دلفریب منظر سامنے تھا۔

پتہ نہیں میری ذات ہست و نیست کی گھمن گھیریوں میں کیوں اُلجھی رہتی ہے؟

ٹھیک ہے اُس نوازنے والے کے رنگ نرالے ڈھنگ نرالے پر یہ بھی نہیں کہ سدا پکارنے پر تشنہ کام رہو۔ یوں وہ واقعی قبولیت کی گھڑی تھی کہ ایک ماہ بعد مجھے حسب مراد سبھی کچھ ملا تھا۔ باہر نکلی مسجد کے دروازے پر دو آدمی بیٹھے تھے۔ کہنہ سالہ اور نو خیز۔ میری وادی کے بارے میں کچھ جاننے کی خواہش پر وہ رعنا نوجوان یوں کھڑا ہوا جیسے کوئی تابعدار شاگرد اُستاد کے سوال کا فوری جواب دینے کے لیے کھڑا ہوتا ہے۔

”یہ بمبوریت کی آخری مسلمان وادی شیخاندہ ہے۔ چلیے آئیے۔“ کہتے ہوئے جب اُس نے قدم اُٹھائے تو ساتھ ہی گائیڈ کے فرائض بھی سنبھال لیے۔ افغانستان اس کے ساتھ سر سے لے کر پاؤں تک جڑا ہوا ہے۔

نورستان کے پہاڑوں سے اُترنے والے نالے کے اٹکھیلیاں کرتے چاندی جیسے شفاف پانی کو سورج کی اُبھرتی کرنوں کی روشنی میں دیکھنا مکئی کے کھیتوں کی وٹوں اور پگڈنڈیوں پر چلنا۔ ندی کے پار کے گھروں سے اُٹھتے دھوئیں کی دید۔ فشریز ڈیپارٹمنٹ کی سیر حوضوں اور تالابوں میں ٹراؤٹ مچھلی کی پیدائش سے بلوغت تک مختلف مراحل کے نظارے سب دلچسپ اور معلوماتی تھے۔

اب مجھے ناشتے کی ضرورت تھی۔ چائے کی طلب تھی۔ درختوں پر لٹکتی تازہ خوبانیوں اور شہتوتوں کو میں نے صرف چکھا تھا۔ عبدالرب کو خدا حافظ کہہ کر ریسٹ ہاؤس آئی۔ یہاں ڈرامے کی اداکارائیں شوٹنگ کے لیے تیار ہو رہی تھیں۔ مرد لوگ غالباً لوکیشن کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ اور پروین عاطف جانے کہاں تھیں۔

تقریباً تین کلو میٹر کا یہ ڈھلانی راستہ تھا جسے پیدل طے کرتی میں کڑاکال پہنچی تھی۔ وادی کے آغاز سے اختتام تک یہی کچی روڈ ہے۔ جس کی گہرائیوں میں دریائے بمبوریت شور مچاتا گیت گاتا اُچھلتا کودتا بہتا ہے۔ سڑک کے اوپر والے پہاڑ کتنے عاجز اور مسکین سے نظر آتے تھے جھُکے ہوئے جیسے کمریں ٹوٹی ہوئی ہوں جیسے آپ کو تعظیم دیتے ہوں۔ مکئی کے کھیتوں کا ایک سمندر پھلدار درخت دو منزلہ چوبی گھر جن کی کشادہ کھڑکیوں سے اندر کی سیاہی جھانکتی تھی اور پھر وہ اپسرائیں وہ سیاہ پیرہن پہنے موتیوں سیپیوں سے سجی پریاں کہیں کھیتوں میں بکھری کہیں راستوں میں سجی کہیں بھیڑ بکریوں کے پیچھے بھاگتی آپ کو حیرت زدہ کرتی تھیں۔

پر ایک اور منظر بھی خاصا حیران کن تھا تقریباً چھ سات غیر ملکی نوجوان لڑکیاں کیلاش بچوں کے ایک جم غفیر کے ساتھ بے ڈھب انداز میں لمبے لمبے ڈگ بھرتی چلی جاتی تھیں جینز کے نیچے موٹے موٹے گورے گورے پاؤں قینچی چپلوں میں پھنسے سڑک کی دھول مٹی سے اٹے پڑے تھے۔ پتہ چلا کہ یہ ٹولا یونان ٹیچرز سوسائٹی کی طرف سے ان بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے دو ماہ کے لیے یہاں آیا ہوا ہے۔

یہ Thenvsis Leronnis ،Maria Kokicini ،Ourenia ،Helen Ziti اور Lena Kokin تھیں۔

اب میں ان کے ساتھ ہوئی کہ چلو دیکھیں تو سہی یہ سب ہے کیا۔ سکول میں ٹینکی پر ان ننھی مُنی بچیوں کے ہاتھ دُھلاتے ہوئے جب ماریا کولیسینی اور ہیلن زٹی نے کلاشوار (کالاشیوں کی زبان ) میں انہیں ہدایات دیتے ہوئے بولنے میں جو تیزی اور رفتار دکھائی۔ میں تو حیرت کی جیسے دلدل میں گر گئی۔ پھر وہ اس ریوڑ کو ہانکتی ہوئی کلاس میں لے گئیں۔ اب یہ ان کی آرٹ کلاس تھی۔

”یہ یونانی ہیں۔ الیگزینڈر دی گریٹ کی فوج کے اُن سپاہیوں کی اولاد جو بیماری کے باعث یہاں رہ گئے تھے۔ ان کے نقوش میں یونان جھلکتا ہے ان کے رسم و رواج یونانی تہذیب کے نمائندہ ہیں۔ گریک گورنمنٹ ان کی بہبود کے لیے بہت کوشاں ہے۔“ مجھے ہیلن زٹی نے مطلع کیا۔ ان باہر والوں کی ممتا کتنی پھٹی پڑ رہی ہے ان کے لیے۔ میری سوچ میں کڑواہٹ تھی۔ اب حکومت ان کے زمانوں پرانے کلچر رسم و رواج ان کی تہذیب کو مسلمان اور عیسائی مبلغوں سے محفوظ رکھنے میں نہایت سرگرم ہے کہ وادی اس کے لیے سونے کا انڈا ثابت ہو رہی ہے۔ دنیا بھر کے سیاح ان انوکھے لوگوں کو دیکھنے کے لیے پینڈے مارتے چلے آتے ہیں۔ کچھ تو سامان ان کی دید کا ہو۔ پر آگہی کے اس دور میں جب دنیا گلوبل ولیج کی شکل اختیار کر گئی ہے اور خود یہ لوگ جو اب تعلیم آرٹ اور علم کے بہاؤ میں بہنے شروع ہو گئے ہیں کب تک نئے رجحانات کے سامنے مدافعت کے بند باندھیں گے۔

Facebook Comments HS