ستاروں سے پیچھے جہاں اور ہیں


ابنِ انشا نے سجنی سے بہانہ تو یہ کیا تھا کہ چین سے ایک مشہور ادیب آیا ہے، ذات کا مزاح نگار ہے، میرے سفرنامے کے جواب میں پاکستان کا سفرنامہ لکھنا چاہتا ہے، شام کو سفارت خانے نے اس کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا ہے جہاں اس چینی ادیب سے میری ملاقات ہو گی اور میں اسے انشا پردازی کے کچھ گُر سکھاؤں گا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ انشا جی، ایک سبزہ زار میں دوستوں کے درمیان رونق افروز ہیں اور خوش گپیاں ہو رہی ہیں۔ ہولے ہولے بادِ نسیم چل رہی تھی اور رفتہ رفتہ شام، شب میں بدل رہی تھی۔ اچانک سب دوستوں کی نظر آسمان پر پڑتی ہے جہاں کچھ گول گول چمک رہا تھا۔ ابنِ انشا نے احباب سے دریافت کیا کہ یہ کیا معمہ ہے؟ ایک فاقہ مست نے جواب دیا کہ مجھے تو یہ روٹی دکھائی دیتی ہے۔ ایک صاحب جو ”گنجے گراں مایہ“ تھے، بولے ”یہ چاند ہے“ ۔ تیسرے دوست جو حسن پرست مشہور تھے، گویا ہوئے کہ یہ چہرۂ محبوب ہے۔ غرض کہ شب بھر یہی چرچا رہا۔ قیاس آرائیاں ہوتی رہیں مگر احباب کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ ابنِ انشا بھی آخر کو گھر لوٹ آئے اور اس واقعے پر ایک اچھی غزل کہی۔

ایسا ہی ایک واقعہ ہمارے ساتھ بھی پیش آیا۔ موسم سرما کی ایک رات تھی۔ ہم ایک ”سبز باغ“ میں یاروں کے درمیان گھرے بیٹھے تھے۔ قریب ہی آگ کا الاؤ روشن تھا جس پر ”خیالی پلاؤ“ پکائے جا رہے تھے۔ ہم بھی موج میں تھے اور گپیں ہانک رہے تھے۔ زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے کہ اچانک آسمان پر ستاروں کی ایک قطار محوِ خرام دکھائی دی۔ ہکا بکا رہ گئے۔ دوستوں کو انگلی کے اشارے سے وہ نظارہ دکھایا اور ان سے استفسار کیا کہ یہ ماجرا کیا ہے؟ ایک دوست جو ریلوے میں ملازم ہیں، کہنے لگے کہ یہ ستاروں کی ٹرین ہے۔ دوسرے دوست جنہیں ان کی ہیئت کذائی کے باعث حلقۂ یاراں میں ”بھالو“ کے نام سے لکھا اور پکارا جاتا ہے، زور سے پکار اٹھے کہ یہ دُبِ اکبر ہے۔ عرض کیا ”آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش“ جواب میں انہوں نے مزید مشکل آفرینی کا مظاہرہ کیا کہ یہ بنات النعش ہیں۔ گزارش کی ”حضرت، سلیس اردو میں بتائیے“ اس پر انہوں نے غالب کا وہ شعر پڑھا جس میں بنات النعش کے شب میں عریاں ہونے کا تذکرہ ہے اور پھر برہنہ آنکھوں سے آسمان کی جانب تکنے لگے۔ یہ تبصرہ سن کر ایک مولانا نے کانوں کو ہاتھ لگائے اور پھر اپنے تصور کو حوروں سے رنگین کرتے ہوئے، محفل میں موجود تمام گناہ گاروں کو یہ کہہ کر ڈرایا کہ یہ قربِ قیامت کی نشانی ہے۔ اس بات سے ماحول پر خاموشی چھا گئی اور سب کی رگوں میں بجائے خون کے، خوف دوڑنے پھرنے لگا۔ وہ تو بھلا ہو بھالو کا کہ جس نے اس موقعے پر غالب کا وہ ”قدِ آدم“ شعر پڑھا جس میں قیامت کے فتنے کو کم دیکھنے کا ذکر ہے۔ اس سے خوف کے ماحول میں قدرے تخفیف ہوئی۔ شعر کے بعد بھالو نے اپنی نثر سنانی شروع کی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ ماضی کی مرحوم فلمی ستاروں کی قطار ہے۔ یہ وہ ”بقیۃ السیف“ اداکارائیں ہیں جو لالہ و گل میں نمایاں نہ ہو سکیں تو آسمان پر ستاروں کی صورت فروزاں ہو گئیں۔ اس مسئلے کے بیچ ہماری فاضل رائے یہ تھی کہ ہو نہ ہو، یہ جاسوس سیارے ہیں جو مریخ کی مخلوق نے زمین کی جاسوسی کے لیے روانہ کیے ہیں۔ ہماری رائے کو بھالو نے شرلاک ہومز کا ایک لطیفہ سنا کر ، ہنسی میں اڑا دیا۔

ایک روز شرلاک ہومز اور ڈاکٹر واٹسن نے یہ ارادہ باندھا کہ کوئی شام ناول سے باہر، کسی سرسبز و شاداب وادی میں گزاری جائے۔ شام کو شراب، کباب اور رباب کی محفل ہو اور پھر خیمے میں شب بسری کی جائے، چنانچہ دونوں گھوڑوں پر سوار ہو کر ایک حسین وادی میں جا پہنچے، وہاں اپنی شام کو حسبِ توفیق رنگین کیا اور پھر جن گھوڑوں پر سوار ہو کر آئے تھے، انہیں بیچ کر سو گئے۔ نیم شب کو شرلاک نے واٹسن کو نیند سے بیدار کیا اور کہا کہ آسمان کی جانب دیکھو اور بتاؤ کہ تم نے کیا دیکھا؟

”میں لاکھوں ستارے دیکھ رہا ہوں۔“ واٹسن نے جواب دیا۔
”یہ ستارے تمہیں کیا بتاتے ہیں۔ ؟“ شرلاک نے پوچھا۔
ڈاکٹر واٹسن نے ایک مفکر کی طرح جواب دیا:

”فلکیات کی رو سے یہ مجھے بتاتے ہیں کہ کائنات میں لاکھوں کہکشائیں اور کروڑوں ستارے ہیں۔ علمِ اوقات کے مطابق انہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ رات کے دو بجے ہیں۔ دینیات کی روشنی میں یہ ستارے خدا کی بزرگی اور انسان کی عاجزی کی خبر دیتے ہیں۔ موسمیات کے مطابق کل ایک روشن دن ہو گا۔ تمہارا کیا خیال ہے ان ستاروں کے بارے میں، شرلاک؟“

”ابے احمق، کس نے ہمارا خیمہ چرا لیا ہے اور ہم کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔“ شرلاک ہومز نے جواب دیا۔

اس لطیفے پر ہنستے مسکراتے محفل برخاست ہو گئی۔ ستاروں کا قافلہ کوچ کر چکا تھا۔ ہم بھی لوٹ کے گھر کو آ گئے مگر ایک پھانس سی دل میں رہ گئی۔ اگلے روز بھی دن میں تارے نظر آتے رہے۔ دوپہر میں ایک کام سے بازار گئے تو ایک بچگانہ سی آواز کان میں پڑی: ”یار، رات کو ستاروں کی قطار دیکھی تھی؟“

یہ جملہ سن کر ہمارے قدم وہیں رک گئے اور ہم شرلاک ہومز کی طرح ان کی جاسوسی کرنے لگے۔ ایک دس بارہ سال کا بچہ، اپنے ہم سن کو بتا رہا تھا:

”یار، یہ مصنوعی سیارے تھے جو امریکی کمپنی سپیس ایکس نے خلا میں بھیجے ہیں تاکہ زمین پر انٹرنیٹ کا دائرہ وسیع اور رفتار تیز ترین کی جا سکے۔ یہ ایلون مسک کی کمپنی ہے اور یہ کمپنی اب تک ہزاروں مصنوعی سیارے خلا میں روانہ کر چکی ہے۔ یار، ہماری عوام اتنی جاہل ہے کہ انہیں اصلی ستارے سمجھتی ہے۔“

ہم میں مزید تابِ شنیدن نہیں تھی۔ ہم وہاں سے دم دبا کر بھاگ نکلے۔ بالکل دم دار ستارے کی طرح!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments