صحیفے، زمینی حقائق اور پاک سرزمین
کہا جاتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ اگر اس مفروضے کو چند لمحوں کے لیے سچ مان لیا جائے تو فقط تاریخ ہی نہیں غلطیاں، نظریے، آدرش اور مذہب بھی خود کو دہراتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان ساری چیزوں کے دہرانے کو ہم تاریخ کا دہرانا کہہ سکتے ہیں؟ تو آسان جواب یہ ہے کہ کہہ سکتے ہیں۔ مگر تاریخ کا دہرایا جانا ایک بڑا واقعہ ہوتا ہے جو قوموں کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایک وقت میں مفکر، شاعر، ادیب اور تاریخ دان ایک ہی طرح کی باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ ان باتوں کو بعد میں آنے والے لوگ بھی ایک نئے زاویے سے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک نئے پیرائے میں ڈھال سکتے ہیں۔ رنگ اور ہو سکتا ہے اسلوب الگ ہو سکتا ہے مگر بنیادی بات ایک ہی ہو سکتی ہے۔
سیفؔ اندازِ بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
تاہم چند باتوں کو یہ اعزاز دیا جا سکتا ہے کہ وہ دنیا میں پہلی بار کہی گئیں۔ ان میں سے ایک بات مصری مفکر پروفیسر حسن حنفی نے کہی۔ وہ کہتے ہیں کہ مذہب خدائی ہوتا ہے مگر اس کے چار انسانی عوامل بھی ہیں: پہلا، مذہب کا یا خدائی کلام کا مخاطب انسان ہے ؛ دوسرا، یہ انسان کے ذریعے پہنچایا گیا یعنی پیغمبر کی وساطت سے؛ تیسرا، اجماع، چوتھا اجتہاد۔ ذرا اس بات پر غور کریں اور داد دیں ان کی جرات کی۔ حسن حنفی صاحب کی اس بات نے یورپ کی مذہب اور دنیوی زندگی کو الگ الگ خانوں میں بانٹنے کی کوشش کو دھندلا دیا ہے۔ زندگی کے مذہبی اور مادی پہلوؤں کو متوازن کرنے کی سعی کی۔ زندگی توازن اور اعتدال کا نام ہے۔
زندگی کیا ہے عناصر میں ترتیب ظہور
کیا اسی توازن اور اعتدال کا اطلاق آسمانی اور آئینی صحیفوں پر کیا جا سکتا ہے؟ ٹیکسٹ اور زمینی حقائق کی مطابقت پر؟ اگر ٹیکسٹ اور حقائق کے درمیان نزاع پیدا ہو جائے کیا کریں؟ ان دونوں کی باہمی چپقلش کو کیسے کم کیا جائے؟ قرآن کا اسباب النزول اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پہلے حقائق جنم لیتے ہیں اور پھر ان حقائق اور مسائل کے حل کے لیے آیت نازل ہوتی تھی۔ تو اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پروفیسر حسن حنفی صاحب کا کہنا ہے کہ اگر آیت مقدس ہے تو حقائق بھی مقدس ٹھہرے۔ کیوں کہ حقائق آیت کی بنیاد بن رہے ہیں۔ رہی بات ان دونوں کے درمیان نزاع اور چپقلش کی تو حقیقت کو ٹیکسٹ پر برتری دی جائے گی۔
یہاں یہ وضاحت کی جاتی ہے کہ ہمارے مضمون کو آسمانی نہیں بلکہ آئینی صحیفے سے سروکار ہو گا۔ آئین کو صحیفہ اس لیے قرار دے رہے ہیں کہ مذہبی صحائف کی طرح اسے بھی مقدس مانا جاتا ہے۔ تو چلیے آئین پاکستان اور زمینی حقائق کی روشنی میں پاک سرزمین کے نظام کو دیکھتے ہیں۔
قرار داد مقاصد (فی الحال اس قرار داد کے تنقیدی پہلو کو ایک طرف رکھ دیں) میں لکھا گیا ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور عوام کے منتخب نمایندے خدا کے نائب کے طور پر اس اقتدارِ اعلیٰ کو استعمال میں لائیں گے تو پاکستانیو دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ کون اقتدارِ اعلیٰ پر قابض رہا ثالث صدی سے؟ کیا حاکمیت اعلیٰ مقننہ کے پاس رہی یا کسی ادارے کے ملازمین کے پاس؟
درسی کتابوں میں اس بات کی رٹ لگائی گئی کہ پاکستان اسلام کی تجربہ گاہ ہے۔ یہ کیسی تجربہ گاہ ہے کہ جہاں اسلام چند رسوم کا نام رہ گیا۔ سیاست میں نہ آنے کا حلف لینے والے قومی مفاد کے نام پر ڈنکے کی چوٹ پر سیاست کرتے ہیں بلکہ بلاواسطہ اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں۔
علامہ محمد اقبال کو پاکستان کا قومی شاعر اور مفکر قرار دیا گیا ہے۔ آئیے ان کی نظر سے ریاست کے قیام کا مقصد دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے مشہور خطبات ”تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ“ میں رقم طراز ہیں کہ توحید کی اصل عملی طور پر مساوات، اتحاد اور آزادی ہے۔ ریاست، اسلامی نقطہ نظر سے، ان مثالی اصولوں کو زمانی و مکانی حقیقت میں بدلنے کی ایک جدوجہد کا نام ہے۔ انہیں ایک خاص انسانی تنظیم میں بدلنے کے جذبے کا نام ریاست ہے۔ ہماری ریاست اقبال کے اس نظریے پر کس حد تک عمل پیرا ہے، قاری ان احوال سے خوب آگاہ ہے۔ برسبیل تذکرہ یہاں ذکر کیے دیتے ہیں کہ ریاست کے مقاصد اور ذمہ داریوں کے لحاظ سے اقبال ایک حد تک جرمن فلسفی ہیگل کے ہم خیال ہیں۔
شاعر مشرق نے امہ کا جو تصور دیا تھا اسے ذہن میں رکھتے ہوئے ہم سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ غزہ کی موجودہ صورت حال پر ہماری ریاست نے کیا کردار ادا کیا؟ یہ لکھتے ہوئے شرم محسوس ہو رہی ہے کہ مغرب میں عوامی سطح پر فلسطین کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں اور جامعات کے اندر طلبا نے فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے خیمے لگا دیے مگر ہمارے ہاں نہ عوامی سطح پر اور نہ سرکاری سطح پر کوئی احتجاج ہوا۔ طرفہ تماشا ہے کہ چند سیکڑوں مظاہرین جو فلسطین کے حق میں پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے، پر پولیس نے بے دردی سے تشدد کیا۔ پاکستان تحریک انصاف کو فلسطین کے حق میں جھنڈا تک نہ اٹھانے دیا۔ نیوز بلیٹن میں غزہ کی خبر کو دسویں نمبر پر لے گئے۔
مملکت خداداد میں امن عامہ، صحت، تعلیم اور عوام کی مجموعی حالت کو دیکھ کر کون اعتقاد لائے گا کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ہے۔ جب کوئی صحیفہ یا ٹیکسٹ حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے تو حقیقت اسے بے وقعت کر دیتی ہے۔ دو جمع دو پانچ کو ہزار کتابوں میں درج کرا دو ، کون مانے گا عزیزو!
نظریے اور حقیقت کے درمیان ایک شدید تناؤ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا محال ہو گا
گھٹن اتنی نہ بڑھاؤ کہ سانس کا سلسلہ منقطع ہو جائے۔ حقیقت کا گلا کون گھونٹ سکا ہے بھلا! سانس کی ڈور تو ٹیکسٹ کی کٹے گی۔ ٹیکسٹ سے مراد آپ لکھا یا بولا جانے والا لفظ بھی لے سکتے ہیں۔ ٹیکسٹ اشاروں کنایوں کا نام بھی ہے۔ جب افواج پاکستان کا ترجمان کہتا ہے کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تو کون مانتا ہے؟
نہ ہم سمجھے نہ آپ آئے کہیں سے
پسینہ پونچھیئے اپنی جبیں سے
آخر میں چند سوالات سے اختتام کی طرف بڑھتے ہیں۔ چند روز پہلے اے این پی کے ایمل ولی خان نے کہا کہ آپ بیمار ہوں تو لندن اور امریکا جاتے ہیں۔ گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح بیمار ہوں تو زیارت بھیج دیا جاتا ہے۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کی ایمبولینس کا تیل ختم ہو جاتا ہے۔ اگر نظریے اور عمل اور آپ کے ٹیکسٹ اور حقیقت میں فرق نہیں ہے تو بانی پاکستان پر تحقیق کرنے کی پابندی کیوں ہے؟ کوئی پاکستانی یونیورسٹی قائداعظم پر تحقیقی مقالہ کیوں نہیں کرواتی؟ آئین پاکستان کو توڑنے والوں کو سرکاری اعزاز کے ساتھ کیوں دفن کیا گیا؟ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کو نصف صدی گزر جانے کے باوجود شائع کیوں نہیں کیا گیا؟ آؤ دلیل کو دلیل سے رد کرو۔ ثبوت کو ثبوت سے مٹاؤ۔ کسی مفکر نے کہا تھا کہ میں نے اس سے مشکل کوئی بات نہیں دیکھی کہ جب کسی نظریے کا وقت آ جائے اور اسے روکا جائے۔
سلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

