خدا مری نظم کیوں پڑھے گا؟


ادبی سفر کے دوران میں دانیال طریر نے میر سے رگوں کے اندر دہکتے شعلے بنانا، بانجھ آنکھوں سے اشک بہانا اور اپنی ذات کو فنا کر کے خود کو ریشم بنانا سیکھا۔ غالب سے ذات کی اہمیت، نظیر سے احترام آدمیت اور اقبال سے الفت محمد سیکھی۔ میرا جی کو جنگلوں میں میرا کی تلاش میں سرگرداں پایا، راشد کو انتقام میں جمالیات کا حظ اٹھاتے دیکھا، مجید امجد کو وقت کے بھید میں مقید پایا، منیر نیازی کو ہمیشہ دیر کرتے ہوئے پایا اور فیض سے لوگوں کو فیض یاب ہوتے ہوئے دیکھا۔ واپسی پر دانیال طریر نے روئے زمین پر اپنے سفر کی روداد یعنی زمین نژادوں کے دل کی فریاد ایک طویل نظم کی شکل میں لکھی۔ یہ نظم ”خدا مری نظم کیوں پڑھے گا“ ابتدائیہ اور اختتامیہ کے بغیر چوبیس حصوں پر مشتمل ہے۔

روئے زمین پر سب سے پہلے مردانگی، معرفت، محبت اور ہوس سے بے خبر، جب دو برہنہ وجود ایک دوسرے سے پیوست ہو گئے تو جنگل رونے لگا، جانوروں کی نیندیں اڑ گئیں، زمین ماتم کرنے لگی، چڑیاں خموش ہو گئیں، ستارے مدہم پڑ گئے اور ہوائیں رک گئیں۔ اس سے پہلے سب کچھ ٹھیک تھا، مگر آخر یہ بھید کیا ہے؟ یہ بھید اک خلا ہے۔ خلا کو پر کرنا ہے۔ اس خلا میں ”لا“ کینوس پہ من چاہے رنگ بھرنا ہے۔ جہاں کچھ نہیں، وہاں کچھ نہیں کو تلاش کرنا ہے۔ اس تلاش میں دانیال کو ’میں‘ کے سوا کچھ نہ ملا اور جوہر کو جود سے پہلے نہ پایا۔ ’میں‘ کا یہ دستور ہے کہ یہ خود اگے گا اور خود جھڑے گا۔ جو خود اگے گا اور خود جھڑے گا، خدا اس کی فریاد کیوں سنے گا؟

جب زندگی ان سنی ہو جائے تو بندہ و خدا اور زمین و آسمان، عید و نوید اور خواب و گمان اور سمندر و صحرا اور صبح و شام یعنی ساری حقیقتیں دکھ ہی دکھ نظر آتی ہیں۔ دکھوں سے انسان خوگر ہو تو دکھ سکھ بن جاتے ہیں اور سکھ کو تشہیر کی حاجت نہیں رہتی۔ مگر دکھ اور سکھ میں بیر کیوں ہے؟ بندہ اور خدا میں فاصلہ کیوں ہے؟ فلک کی دوری میں راز کیا ہے؟ وقت کیوں تلخ ہوا اور گھاؤ کے بھاؤ کیوں گر گئے؟ لوحِ غیب اور زمینی حقائق میں فرق کیا ہے؟ پلید و پاک، مجاز و نماز، اچھوت اور چھوت اور عبادت اور پوجا کے واہمے کہاں سے پھوٹتے ہیں؟ ازل سے غیب دھویں میں اور مینڈک کنویں میں کیوں محصور ہیں؟ جب تک دانیال طریر جیسے مورکھ کو اس کشف کا ککھ نہ ملے گا، تب تک اس سارتر کے حروف پر تتلی اپنی خودی کی سوچ میں کیوں محو ہو جائے گی؟ اس کشف کے حصول کے لیے اور مفید بننے کے لیے طریر کے ہزاروں سجدے، کروڑوں آنسو اور ان گنت دعائیں اپنی بے انت خودی کی سوچوں میں گم خدا تک پہنچتے پہنچتے بالکونی میں سو گئیں۔ مگر وہ پھر بھی ان کی یادوں اور تخیل پر حاوی رہے۔

مفید بننے کے لیے مخیل و موزوں ہونا ضروری ہے۔ کیاری، بادل، پیاس، پانی اور خاموش فضا کے وجود کے بعد ہی پھول، خوشبو اور محبت کا وجود ممکن ہے۔ لیکن یہ عرق ریزی پستیوں میں یعنی بستیوں میں رہنے والے نہیں سمجھ سکتے۔ جو نہیں سمجھے گا وہ کیوں پڑھے گا؟ دراصل ان کے الفاظ روشنی کے متلاشیوں کے لیے ہیں۔ بدقسمتی سے روشنی تلاش کرنے والے واپس نہیں آتے، ان کے لہو لہو لوتھڑے اور بوری بند لاشیں مل جاتی ہیں۔ ارباب اقتدار اور صاحب جبہ و دستار خموش ہیں۔ معاصر مدیران ادب کا متفقہ فیصلہ ہے کہ آئندہ روشنی شائع نہیں کی جائے گی!

روشنی زمین اور انسان کو لٹنے سے محفوظ رکھتی ہے۔ زمین خزانوں اور انسان خوابوں کی وجہ سے غیر محفوظ ہیں۔ جہاں خزانوں اور خوابوں سے زنا بالجبر ہوتا ہو، وہاں ہوس اور وحشت کی پیداوار، ہو کا عالم اور گدھ کا راج ہوتا ہے۔ گدھ کے خلاف کون لکھے گا اور کون پڑھے گا؟ انسان فی الحقیقت آنسو، سسکیاں، آہیں، چیخیں اور ماتم نہیں پڑھ سکتا، اور خدا کو یہ سب کچھ دیکھنے اور سننے کے بعد پڑھنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اگر کوئی حساس اور مجبور شخص ان حالات کے آگے ہتھیار پھینک کر خود کشی کر لیتا ہے تو عصر اسے زندیق قرار دے کر دفنانے کے بجائے نذر آتش کرنے کا فتویٰ دیتا ہے۔ اب انسان مرے نہیں تو جیے کیسے؟ تاہم ایک شاعر کے لیے ان دونوں جہانوں کے کھو جانے کا اتنا اندیشہ نہیں ہوتا جتنا دکھ اس کے سچے سامع اور قاری کے کھو جانے کا ہوتا ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ محبت اور ذریعہ محبت کے کھو جانے سے عاشق کی دنیا بنجر ہوجاتی ہے، مگر ایک سچا عاشق ان اندھیروں کو توانائی میں تبدیل کر کے اپنا تخلیقی سفر مزید توانا بنا دیتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہ تخلیقی سفر اندھیروں میں کون درخورِ اعتنا سمجھے گا؟

جہاں مکھیوں کی راج دھانی ہو، لال بیگوں کی سلطنت ہو، غلاظتوں کا انبار ہو، لغویات پہ قہقہے ہوں، پنگھٹ ویران ہو، کھیت بنجر ہو اور اقدار بے معنی ہو، وہاں لوگوں کی جنم بھومی اور فنا دونوں کوڑے دانوں میں ہوتی ہیں۔ کوڑے دان نژاد ان کی نظم کیوں پڑھے گا؟

کوڑے دان سے باہر بھی اک دنیا آباد ہے جن کے بھی اپنے خواب ہوتے ہیں۔ مگر یہ چلتے پھرتے خواب آن ہی آن میں بھک سے اڑ جاتے ہیں کیوں کہ براستہ جہنم اک طبقے نے جنت اور خدا سے ملنے کا ارادہ کیا ہے۔ ننھی تتلیاں، معصوم شہزادیاں اور خوب صورت گڑیا رانیاں اس مذموم ارادے کا شکار ہوجاتی ہیں۔ خوشیوں کی تکفین و تدفین کے بعد سوائے ہرے زخموں کے، کچھ باقی نہیں رہتا۔ ہرے زخموں کو شاعری نہیں بخیہ گری چاہیے!

قدرتی اور انسانی آفات سے محفوظ خلقت کی زندگانی بھی کسی المیے سے کم تر نہیں۔ یہ خود ساختہ خداؤں کے آگے سر بہ سجدہ، کیمرے کے طلسم پر جان و دل سے قربان، نیٹ ورکنگ میں محو، چیٹنگ میں غرق اور انگلیوں کے لمس پر تھرکتی برہنہ دنیا ہے۔ اس دنیا میں زمین، آسمان اور انسان یعنی سب کچھ برائے فروخت ہے۔ یہ بے طرب چو، بے تعب چو اور مذہب چو دنیا طریر کی نظم کیوں پڑھے گی؟

علم و ادب سے یہ بے نیازی صرف زمین کا المیہ نہیں، بل کہ فلک پر بھی نظموں کی قرات کا کوئی خاص معمول نہیں ہے۔ ایک عرصے سے زمین اور فلک فکری جمود کا شکار ہیں۔ اس جمود کے خاتمے کے لیے دانیال طریر اتنی نظمیں لکھے گا کہ دنیا لفظوں سے بھر جائے گی۔ لوگ لفظوں کی آکسیجن میں سانس لیں گے، لفظوں کے باغیچے میں لفظوں کی تتلیاں پکڑیں گے، لفظوں کی کشتیوں میں لفظوں کے ساحل پر لفظوں کی مچھلیاں پکڑیں گے اور لفظوں کی آغوش میں لفظوں کے قہقہے اڑائیں گے۔ یعنی وہ لفظوں کی برکت سے زمین کے مقدر میں ترمیم کرے گا۔ پھر اعضاء نہیں بکھریں گے، مسخ شدہ لاشیں اور لہو لہو چیتھڑے نہیں ملیں گے، جنازے نہیں اٹھیں گے اور گلی گلی ماتم نہیں ہو گا۔ صرف اور صرف خوب صورت الفاظ تلاشے اور تراشے جائیں گے۔ لفظ سب کچھ ہو گا۔

مگر رکیے زرا! باہر سے کوئی آواز آ رہی ہے۔ لگتا ہے کوئی دانیال طریر کو بلا رہا ہے۔ وہ جا رہا ہے۔ اوپر۔ جی ہاں، بہت اوپر! وہ اپنی فریاد خدا کو براہ راست سنانے جا رہا ہے۔ جذبیہ اور جذلان، سنو! ان کے واپس آنے تک اور زمین کے مقدر میں بہتری محسوس کرنے تک دنیا کو لفظوں سے بھرتے رہنا!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments