بقر عید پر جانوروں کے ساتھ امتیازی سلوک
سب سے پہلے ایک دفعہ پھر وہ درخواست جو ہم ہر عید کے موقع پر کرتے ہیں۔
آج کے جدید دور میں خوشی اور عید کے موقع پر پٹاخے اور ہوائی گولیاں چلانا بہت ہی بے ہودہ بات ہے۔ بچے تو بچے ہوتے ہیں لیکن اُن کی اس کام میں سہولت کاری یعنی رقم ان کو بڑے دیتے ہیں۔ کئی دفعہ آپ نے ایسی بھی خبریں سنی ہوں گی کہ بچے پٹاخے پھوڑتے ہوئے جھلس کر زخمی ہو گئے یا کسی بچے کی آنکھ پٹاخے سے پھوٹ گئی تو وہ عمر بھر کے لیے معذور ہو گیا۔ اول تو روز ہی دہشت گردی اور قتل غارت گری کے واقعات پیش آتے ہیں تو اُن کی بھی بڑی دھماکے دار آواز آتی ہے تو یہ مصنوعی دھماکوں کی کیا ضرورت ہے۔
دوسری یہ کہ ماحولیاتی و صوتی آلودگی اتنی بڑھ چکی ہے کہ اس کی شدت میں محض تفریح کے لیے اضافہ کرنا انتہائی اعلٰی درجے کی بیوقوفی ہے۔
ٹھیک ہے پہلے زمانوں میں لوگ عید، دیوالی وغیرہ پر پٹاخے پھوڑتے تھے مگر اُن دنوں نہ تو دہشت گردی ہوتی تھی اور نہ صوتی و فضائی آلودگی تھی۔ جس طرح پہلے زمانوں میں بہت ساری چیزیں استعمال ہوتی تھیں جیسے کہ پتھر کی ہاتھ سے آٹا پیسنے والی چکی لیکن اب اس کا استعمال متروک کر دیا گیا ہے تو پٹاخوں کو متروک کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ پہلے زمانے میں تو لوگ بیل گاڑیوں پر سفر کرتے تھے، ہوائی جہاز، گاڑیاں، موٹر سائیکل نہیں ہوتے تھے، اگر پرانی روایات پر عمل کرنا اتنا ہی ضروری ہے تو پھر اِن جدید چیزوں کا استعمال بھی نہ کریں۔
اگر آپ کو اس کام پر رقم خرچ کرنا اتنا ہی اچھا لگتا ہے تو اُن نوٹوں کو آگ میں جلا دیا کریں۔
لوگ عید و شادی کے موقع پر ہوا میں گولیاں چلاتے ہیں، دور کہیں کوئی چھت پر کوئی کام کر رہا ہوتا ہے تو اندھی گولی اُس کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ کئی دفعہ ایسے مواقع پر دولہا، دلہن کے رشتہ داروں کے مرنے کی خبر آتی ہے یا خود دولہا دلہن گولی لگنے سے مر جاتے ہیں تو اچھی بھلی خوشی کے موقع پر اپنے یا کسی دوسرے کے گھر میں ماتم برپا کرنے کی کیا ضرورت ہوتی ہے۔ اول تو گولیاں چلانے کی ضرورت ہی کیا ہے اور اگر بہت ضروری ہے تو بلینک گولیاں بھی ملتی ہیں، وہ کیوں استعمال نہیں کرتے۔
لوگ خود چیزیں مہنگی کرنے کا موجب بنتے ہیں، اور پھر الزام حکومت پر دھرتے ہیں۔ عید کے دنوں میں دکاندار فریج و ڈیپ فریزر کی قیمت بھی بڑھا دیتے ہیں اور یوں قربانی کرنے والے مہنگائی میں اضافے کا موجب بنتے ہیں۔ اگر فریج و ڈیپ فریزر ہی لینے ہیں تو قربانی سے دو تین مہینے پہلے کیوں نہیں خرید لیے جاتے تاکہ دکانداروں کو ناجائز آمدن کا موقع نہ مل سکے۔ اسی طرح عید کے کپڑے عین عید سے چند دن پہلے بنوانے کی کیا ضرورت ہے، کیونکہ اس طرح درزیوں کو ناجائز منافع خوری کا موقع مل جاتا ہے، عید سے دو تین مہینے پہلے عام نرخوں پر کپڑے بنوا کر رکھ لیا کریں۔
آج ہم نے جانوروں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک پر بھی قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ کوئی اور اس جانب توجہ نہیں دے رہا۔
قربانی کے بکروں، دنبوں گائیوں، اونٹوں کی خوب دیکھ بھال کی جاتی ہے، اُن کو بہترین چارہ، پھل اور دیگر اچھی خوراک جیسے کہ بادام اور دودھ تک دیے جاتے ہیں۔ وہ اتنے صحتمند ہو جاتے ہیں کہ ہزاروں کا جانور لاکھوں میں بکتا ہے۔
جبکہ عام جانوروں کی خوراک پر کوئی دھیان نہیں دیتا، باسی گھاس اور خراب خوراک اُن کا مقدر بنا دی جاتی ہے۔ کوئی دیکھ بھال نہیں ہوتی، بھینسیں، گائے بکریاں میل و کیچڑ میں لتھڑی ہوئی ہوتی ہیں، اسی وجہ سے اُن کی جلد پر زخم بھی بن جاتے ہیں لیکن کوئی انہیں نہلانے پر توجہ نہیں دیتا۔ کیا یہ جانوروں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں۔
لوگ قربانی کے جانوروں پر بہت خرچہ کرتے اور ناز نخرے اٹھاتے ہیں مگر عام جانور سردی کے دنوں میں ٹھنڈ کی شدت سے سکڑے سمٹے بیٹھے ہوتے ہیں مگر مالک ان کو دھوپ پر لانے کی زحمت نہیں کرتے۔ اسی طرح گرمی کے موسم میں جانور گرمی اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہوتے ہیں مگر مالک اُن کو سایہ دار جگہ پر منتقل کرنے اور پانی پلانے پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ وہ بیمار پڑتے ہیں تو مالک علاج کروانے کی بجائے قصائی کے ہاتھ اونے پونے داموں بیچنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ پھر قصائی انہی بیمار جانوروں کا گوشت مہنگے داموں عوام کو فروخت کر کے انہیں بیمار کرتے ہیں۔
ذرائع ابلاغ والے بھی اس ظلم میں برابر کے شریک ہیں، وہ قربانی کے خوب موٹے پلے جانور تو بار بار دکھاتے ہیں مگر اُن بے چارے لاغر و کمزور ہڈیوں کے ڈھانچے جانوروں کو نہیں دکھاتے جن کی مالک کوئی پرواہ نہیں کرتے۔
اگر عام جانوروں کی بھی اچھی دیکھ بھال اور خوراک دی جائے تو وہ بھی بہت صحت مند ہو سکتے ہیں اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہو گا کہ گاہک سے زیادہ اچھی قیمت مل سکے گی۔
عید کے دنوں میں قربانی کے جانور چوری کرنے والوں کی بھی خبریں آتی رہتی ہیں تو اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں، چور وہی چیز چراتے ہیں جس کی طلب ہوتی ہے اور قربانی کے دنوں میں جانوروں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔
اگر عید کے گوشت سے فریج اور ڈیپ فریزر ہی بھرنے ہیں تو پھر قربانی کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔


