کیا ”آگ کا دریا“ ایک مشکل اور بے کار ناول ہے؟


چار برس پہلے جب میں نے ”آگ کا دریا“ ناول اپنے موبائل پر پڑھنا شروع کیا تو اس سے پہلے میں قدرت اللہ شہاب، محمد حسین آزاد اور مولوی عبدالحق جیسے اردو میں اچھے اسلوب کے حامل مصنفین کا مطالعہ کر چکی تھی اور میں نے قرۃ العین حیدر ہی کا ناول ”آخر شب کے ہمسفر“ بھی پڑھ رکھا تھا اس لیے میری اردو اتنی اچھی ہو چکی تھی کہ اس ناول نے ابتدا ہی میں مجھے اپنے سحر میں مبتلا کرنا شروع کر دیا تھا۔ ابھی ناول نصف کو بھی نہیں پہنچا تھا کہ میرا موبائل گر کر ٹوٹ گیا اور یہ ناول بیچ میں ہی رہ گیا۔ شادی کے بعد یہ ناول میرے صاحب کی ذاتی لائبریری میں موجود چند کتابوں میں شامل تھا اور اسے میں نے شادی کے بعد دوبارہ پڑھنا شروع کیا۔

ناول ڈھائی ہزار سال پہلے کے ہندوستان سے شروع ہوتا ہوا تقسیم پاکستان تک آتا ہے اور اس کا کینوس پورا برصغیر پاک و ہند ہے۔ بنیادی طور پر کہانی کے چار ادوار ( یا جنم) ہیں پہلے دور کی جڑیں قدیم ہندوستان کی تاریخ اور فلسفے میں پیوست ہیں اور دوسرا دور ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے یادگار ہے جبکہ تیسرا دور انگریزوں کی آمد اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت کا زمانہ ہے۔ چوتھا اور سب سے اہم دور تحریک آزادی اور خوابوں کے ٹوٹ کر بکھرنے سے متعلق ہے۔ ہر دور کی کہانی ایک ناول ہے یا یوں کہہ لیں کہ یہ ایک ناول چار اچھے ناولوں پہ بھاری ہے۔ ناول کے اختتام پر مغربی ناولوں کی طرح ناتمامیت کا احساس ہوتا ہے اور آپ مہینوں اس کے سحر میں گرفتار رہتے ہیں۔

دو سال پہلے میں نے اسے تیسری بار پڑھنا شروع کیا اور پہلے سے زیادہ مزہ آیا۔ وہی نیا پن اور جادوئی دلچسپی برقرار رہی۔ اس دوران میں فیسبک پر بھی پسندیدہ اقتباسات شیئر کرتی رہی تھی۔ میں نے زیادہ ناول نہیں پڑھے شاید بیس پچیس اردو اور اتنے ہی عالمی ادب سے ترجمہ شدہ پڑھے ہوں گے مگر کوئی بھی مجھے اتنا متاثر نہیں کر سکا جتنا ”آگ کا دریا“ پسند آیا۔

میں نے اس ناول پر کبھی تبصرہ نہیں کیا کیونکہ مجھے لگتا تھا یہ اتنا اچھا ناول ہے کہ میں اس کے شایانِ شان کچھ لکھ ہی نہیں سکوں گی مگر آج ایک فیسبک پوسٹ میں اس ناول پر بھونڈی اور بیہودہ قسم کی تنقید دیکھنے کو ملی۔ ایک بہن نے یہ ناول پڑھنا شروع کیا اور انہیں کچھ بھی سمجھ نہیں آیا تو انہوں نے اسے مہمل اور بیکار ناول قرار دے کر درمیان میں چھوڑ دیا۔ ان کی پوسٹ کے کمینٹس میں سینکڑوں لوگوں نے کمینٹ کیے جیسے کوئی عدالت لگی ہوئی ہو اور ”آگ کا دریا“ کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہو، ایک گروہ محترمہ سے سو فیصد متفق تو دوسرا گروہ مخالف۔ بعض تبصرے پڑھ کر مجھے بہت برا لگا، اس لیے تبصرے سے زیادہ یہ تحریر ان لوگوں کے لیے ہے جو اس ناول کو درمیان میں چھوڑ چکے ہیں یا اس سے متعلق بری رائے رکھتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ بری رائے رکھنا یا تنقید بری شے ہے لیکن اس ناول کے مطالعے کے کچھ لوازمات ہیں یا کہہ لیں کہ اسے پڑھنے کے لیے آپ میں اسے پڑھ کر لطف اندوز ہونے جتنی صلاحیت ہونا ضروری ہے۔

یہ ناول سطحی ذہن کے لوگوں کے لیے نہیں ہے جو پاپولر فکشن کے عادی ہیں۔ اسے پڑھنے کے لیے آپ کی اردو بہت اچھی ہونی چاہیے، فلسفے کی سمجھ بوجھ اور ہندی الفاظ سے جان پہچان بھی ضروری ہے۔ آپ نے عالمی ادب اور کلاسیک اردو ادب پڑھ رکھا ہے تو بہت اچھے ورنہ آپ کو علامت و تجرید کے متعلق بھی آگاہ ہونا پڑے گا۔ قرۃ العین حیدر اپنے پیچیدہ اور منتشر خیالی والے اسلوب کے لیے مشہور ہیں اس لیے یہ ناول پڑھنا اور سمجھنا شروع میں پہاڑ پہ چڑھنے جتنا دشوار ہو سکتا ہے اور اگر آپ نے پہلے کبھی کوہ پیمائی نہیں کی تو آپ کے لیے یقیناً یہ اور بھی دشوار ہو گا لیکن چوٹی پہ پہنچ کر کیسا شاندار ویو نظر آتا ہے اس کا اندازہ چوٹی پہ پہنچ کر ہی لگایا جا سکتا ہے۔

یہ اردو کے ان چار پانچ ناولوں میں سے ایک ہے جو عالمی معیار کے حامل ہیں۔ بعض ناقدین کا تو یہ تک کہنا ہے کہ اردو میں ایک ہی ناول ہے اور وہ قرۃ العین حیدر کا ناول ”آگ کا دریا“ ہے

جیسے نورانی قاعدہ پڑھنے والا بچہ سورہ یوسف سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا اور پریپ میں اے فار ایپل پڑھنے والے کے لیے شیکسپیئر کے ڈرامے بے کار ہیں ویسے ہی پاپولر فکشن اور سیدھی سیدھی کہانی پڑھنے کی شوقین خواتین و حضرات کے لیے یہ مشکل، بے کار، بے ہنگم اور بے معنی ہو سکتا ہے۔

اسے پچاس فیصد نئے قارئین درمیان میں ہی چھوڑ دیتے ہیں اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ عام قاری کے لیے ایک مشکل ناول ہے۔ لیکن اگر یہ آپ کو پسند نہیں آ رہا تو کوئی زبردستی تھوڑی ہے! نہ پڑھیں، مگر آپ اچھی خوراک ہضم نہیں کر پاتے تو یہ آپ کے معدے کی کمزوری ہے کھانے کو برا بھلا کہنا ہرگز مناسب نہیں!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments