دُنیا داری سے دلداری کا سفر- سفرنامہِ ٹورانٹو ( 1 )
کینیڈا میں رہتے ہوئے مجھے اب ایک سال ہونے کو ہے۔ میں صوبہ ’البرٹا‘ کے شہر کیلگری میں رہتا ہوں۔ ایک مترجم، کتاب دوست اور لکھاری ہونے کے ناتے تخلیقی اور ہم خیال شخصیات کے ساتھ میری نسبت و قربت رہتی ہے۔ کیلگری میں ادبی تنظیمیں تو موجود ہیں مگر ابھی تک ان میں شمولیت نہیں ہو سکی۔ البتہ چار گھنٹے کے ہوائی فاصلے پر موجود ٹورانٹو کی ادبی تنظیم : ’فیملی آف دی ہارٹ‘ کے ساتھ منسلک ضرور ہوں۔ ”فیملی آف دی ہارٹ“ سے میرا رشتہ اس وقت سے استوار ہے جب میں ”درویشوں کا ڈیرہ“ نامی کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت کے لیے جولائی 2019 ءمیں ٹورانٹو گیا تھا۔ یہ کتاب نہ صرف ڈاکٹر خالد سہیل اور رابعہ الرباء کے ادبی و فکری مکالمے پر مبنی ہے بلکہ دراصل مغرب و مشرق کی تہذیبوں کے دو نمائندوں کا مکالمہ بھی ہے۔ راقم کی خوش بختی کہ اس کو کتاب کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کا موقع ملا۔ میں نے کتاب کا انگریزی نام:DERVISHES INN رکھا تھا۔
’فیملی آف دی ہارٹ‘ کے روحِ رواں نامور طبیب، ادیب اور شاعر ڈاکٹر خالد سہیل کے ساتھ میرا نیاز مندی کا رشتہ ہے۔ اس دفعہ ڈاکٹر خالد سہیل اور فیملی آف دی ہارٹ سے ملاقات کا بہانہ ہمارے تخلیقی دوست، شاعر اور فرزندِ شاعر امیر حسین جعفری بنے۔ جو فالج کے حملے کا مردانہ وار مقابلہ کر کے رُوبہ صحت ہو کر گزشتہ دنوں گھر لوٹے ہیں۔ اس موقع پر ”فیملی آف دی ہارٹ“ ان کی صحت یابی کی تقریب کا اہتمام کر رہی تھی۔ جس میں راقم کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی۔ یہ تقریب، اتوار 9 جون 2024 ء کو منعقد ہونا طے پائی۔ چنانچہ ہم نے 7 جون سے 14 جون تک کے آٹھ دن ٹورانٹو میں گزارنے کے لیے رختِ سفر باندھ لیا۔
ٹورانٹو جانے کے لیے ہماری فلائٹ کیلگری سے صبُح سات بج روانہ ہوئی۔ اپریل، مئی اور جون کے مہینوں میں کیلگری کا موسم اگرچہ بہار کے جوبن پر ہوتا ہے۔ مگر جمعے کے روز سویرے سویرے کیلگری ائرپورٹ پہنچے تو موسم اور بھی حسین لگا۔ شاید اس لیے بھی کہ فیملی آف دی ہارٹ اور رفیقِ دیرینہ ڈاکٹر خالد سہیل جو ٹورانٹو میں ہمارے پہلے میزبان بھی تھے، سے ملنے کی خوشی میں ہمارے دل کا موسم بھی سہانا تھا۔
ہمیں دوپہر ایک بجے ٹورانٹو پہنچنا تھا۔ مگر شاید ہمارے کپتان کو سازگار ہوائیں ملی ہوں گی اس لیے اس نے چار گھنٹے کی ہوائی مسافت ساڑھے تین گھنٹے میں طے کر لی۔ ہمارا جہاز جب ٹورانٹو ائرپورٹ کے رن وے پر دھیرے دھیرے رینگتا ہوا عمارت کی طرف بڑھ رہا تھا تو میں نے اپنے میزبان ڈاکٹر خالد سہیل کو ٹورانٹو پہنچنے کی اطلاع برقی پیغام کے ذریعے دی۔ چند لمحوں کے بعد ہی ڈاکٹر صاحب کی کال موصول ہوئی۔ اپنی ترو تازہ اور ہشاش بشاش آواز میں بڑے رسان سے بولے : ”قبلہ و کعبہ ٹورانٹو خوش آمدید۔
حضور! جس طرح آپ اپنے وقت سے پہلے دنیا میں آ گئے تھے اسی طرح آج وقت سے پہلے ٹورانٹو پہنچ گئے ہیں۔ مگر فکر نہ کریں۔ آپ کے برآمد ہونے تک میں ائر پورٹ کی ڈرائیو وے پر پہنچ جاؤں گا۔“ ان کی بات سن کر میں نے جہاز کے اندر ایک زور دار قہقہہ بلند کیا۔ جس پر میرے ساتھ بیٹھی ہوئی خاتون بات سمجھے بغیر مسکرانے لگی۔ میری آنکھیں خوشی سے نم تھیں۔ ٹورانٹو کا موسم بھی خوبصورت تھا۔ بارش ہو رہی تھی جو مجھے بہت پسند ہے اور میں ڈاکٹر صاحب سے ملنے کی خوشی میں تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا۔
ٹھیک پندرہ منٹ کے بعد ائرپورٹ کے باہر گزرگاہ میں ڈاکٹر صاحب کی سرخ سپورٹس کار میں ان کے برابر بیٹھا ان کو دیکھ رہا تھا۔ وہ میرے ہوائی سفر کا حال دریافت کر رہے تھے۔ اور ہماری گزشتہ ملاقات اور اس ملاقات کے مابین دو سالہ وقفے میں مکمل کیے جانے والے تخلیقی پراجیکٹس کی تفصیل سنا رہے تھے۔ اور میں بظاہر تو ان کے سوالات کے جوابات دے رہا تھا مگر دل میں کہیں اور گم تھا :
’یہ کیسا شخص ہے جو سر سے پاؤں تک محبت میں ڈوبا ہوا ہے۔ محبتیں بانٹتا ہے مگر محبتیں ہیں کہ کم ہونے کی بجائے بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔ یہ کیسا شخص ہے جو 80 کتابوں کا مصنف ہے، ایک نفسیاتی معالج ہے اور اس کے مریضوں کی قطار اس قدر طویل ہے کہ اگر میں اس کے کلینک میں فون کر کے اس کی سیکرٹری سے 50 منٹ کی ملاقات کا وقت مانگوں تو مجھے ایک سال بعد کا وقت ملے گا۔ اس کے باوجود ہر وقت ترو تازہ اور چاق و چوبند ہے۔
یہ کیسا شخص ہے کہ جس کی عمر 70 کی دہائی میں داخل ہو چکی ہے اور اتنا کام کرنے کے باوجود تھکاوٹ، کسلمندی اور بے زاری اس کے آس پاس بھی نہیں پھٹکتی۔ یہ کیسا شخص ہے کہ جس کے دنیا بھر میں دوست ہیں اور ہر دوست کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف اسی کا دوست ہے۔ یہ کیسا شخص ہے جو شمالی امریکہ میں ایک نیا نفسیاتی طریقہ علاج ”گرین زون تھراپی“ متعارف کروا چکا ہے۔ لوگوں کی ایک کثیر تعداد اس سے مستفید ہو رہی ہے۔ ہزاروں لوگ اس کی کتب اور کالم پڑھتے ہیں۔
سیمینارز میں اس کو سنتے ہیں اور ایک خاموش اکثریت اس طبیب کے علم تجربے اور دانش سے مستفید ہو رہی ہے اور یہ کسی صلے کا طلبگار نہیں۔ اس کا صلہ انسانوں کے دکھوں کا مداوا ہے۔ یہ کیسا شخص ہے جو اپنی تخلیقی، سماجی اور پیش ورانہ زندگی میں ایک خوبصورت توازن قائم رکھے ہوئے ہے۔ میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ میں بھی ان افراد میں شامل ہوں جو ڈاکٹر خالد سہیل کے دل کے قریب ہیں۔
بارش اور ٹریفک کی وجہ سے دیر تو ہوئی مگر پھر بھی ہم شام چار بجے ڈاکٹر خالد سہیل کے شہر وھٹبی پہنچ گئے۔ جہاں ہمارے لیے پر تکلف دیسی کھانے کا اہتمام سماجی کارکن، مصورہ اور ماہرِ عکس بندی محترمہ عظمیٰ عزیز صاحبہ نے کر رکھا تھا۔ ہم نے ان کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ کھانے کے بعد چائے پر خوب گفتگو ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب حال ہی میں پاکستان کے ایک ماہ کے دورے کے بعد واپس لوٹے ہیں۔ انھوں نے مجھے ادبی دوستوں کی طرف سے بھجوائی گئی کتب پیش کیں۔
جس کی تفصیل اگلے کالم میں بتائی جائے گی۔ کچھ دیر سستانے کے بعد ہماری روانگی جھیل آنٹاریو کی طرف ہوئی۔ جو نام کی تو جھیل ہے مگر دراصل سمندر ہی ہے۔ جھیل کنارے بیٹھ کر ڈاکٹر خالد سہیل نے پشاور میں گزرے اپنے بچپن سے لے کر خیبر میڈیکل کالج تک کی سر گزشت سُنائی۔ پھر ان کے ساتھ ایک طویل چہل قدمی ہوئی جس کے دوران انہوں نے پشاور سے زاہدان اور کینیڈا میں نیو فاؤنڈ لینڈ تک کے سفر کی اپنی سر گزشت سُنائی۔ جو بہت حیران کن، دلچسپ اور دلگیر تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سچ کی ایک قیمت ہوتی ہے اور یہ کہ آپ کے سچ کی قیمت آپ نہیں آپ کا قبیلہ اور معاشرہ طے کرتا ہے۔
اگلے روز صبح ناشتے سے قبل ڈاکٹر صاحب کی بالکونی میں بیٹھ کر چائے کی پیالی پر میں نے تقریب کے حوالے سے اپنا لکھا ہوا ایک مضمون پڑھ کر سنایا۔ جب کہ ڈاکٹر صاحب نے ہم سب کے لیے لکھا گیا اپنا تازہ کالم اور امیر حسین جعفری کے لئے لکھا گیا مضمون مجھے سنایا۔ اس کے بعد ہم نے 465 صفحات پر مشتمل حال میں میری ترجمہ کی گئی کتاب :تخلیقی اقلیت Creative Minority پر بات کی۔
ناشتے کے بعد ہم جھیل سکوگاگ کے کنارے آباد ایک چھوٹے سے قصبے پورٹ پیری پہنچے۔ اس جھیل کے ساتھ ڈاکٹر صاحب کا ایک جذباتی لگاؤ ہے کیونکہ اس کے کنارے بیٹھ کر انھوں نے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ میرا جب بھی ٹورانٹو جانا ہو ڈاکٹر صاحب مجھے یہاں ضرور لے کر جاتے ہیں۔ یہ ایک سر سبز و شاداب زرعی علاقہ ہے۔ جھیل کے کنارے پر ایک خوبصورت پارک بنایا گیا ہے۔ جس کا نام پامیر پارک ہے۔ ڈینیئل ڈیوڈ پامیر ایک طبیب تھے جنہوں نے کائروپریکٹک طریقہ علاج دریافت کیا۔
سادہ زبان میں، اس طریقہ علاج میں سرجری کے بغیر ریڑھ کی ہڈی اور کھسکے ہوئے مہروں اور انسانی ڈھانچے کو درست کیا جاتا ہے۔ موسم خوشگوار تھا۔ ہم نے وہاں کی مشہور نٹی آئس کریم اور لیک ویو پب میں کھانے پینے سے اپنی تواضع کی۔ شام کو ڈاکٹر صاحب ہمیں وھٹبی میں ہی واقع ایک افغان ریستوراں میں چپلی کباب کھلانے لے گئے۔ جو ہمارے اندازے سے زیادہ لذیذ نکلے۔ کھانے کے دوران پاکستان کی سیاسی صورت حال پر بات چل نکلی۔ میرے اس سوال پر کہ پاکستانی معاشرہ جس سیاسی و سماجی انحطاط کا شکار ہے کیا اس سے کبھی نکل بھی سکے گا؟ ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ ہر معاشرے میں اکثریت مڈل کلاس کی ہوتی ہے۔ جب تک عنانِ اقتدار مڈل کلاس کے نمائندوں کے پاس نہیں آجاتی مسائل کے حل ہونے کے امکانات پیدا نہیں ہوتے۔ بہرحال یہ ایک ارتقائی عمل ہے جس میں برسوں نہیں دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ مگر وہ مایوس نہیں ہیں۔
اگلے دن یعنی اتوار کو وہ گھڑی آ پہنچی جس کا انتظار تھا۔ ادبی تقریب کا انتظام ”ریکس ڈیل کمیونٹی سنٹر“ میں کیا گیا تھا۔ مجلسی انتظامات اور چائے وغیرہ کی ذمہ داری ہمیشہ کی طرح عظمیٰ عزیز، پرویز صلاح الدین اور رفیق سلطان کے ذمے تھی جو انہوں نے بہت محنت سے سر انجام دی۔ تقریب میں امیر حسین جعفری اور صائمہ جاوید کے علاوہ رقام مہمانِ خصوصی تھا۔ جب کہ ڈاکٹر خالد سہیل میزبانی کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ حاضرین کی تعداد پچاس سے تجاوز کر چکی تھی۔
جن شخصیات نے اظہارِ خیال کیا ان میں ڈاکٹر خالد سہیل، شاہد اختر، حسین حیدر، سارہ علی، صائمہ جاوید، زہرہ زبیری، منیر پرویز سامی، حضرت شام، خالدہ نسیم، راقم الحروف اور امیر حسین جعفری شامل تھے۔ خالدہ نسیم نے بتایا کہ وہ کچھ ہی دیر قبل لاہور سے 14 گھنٹے کا ہوائی سفر کر کے سیدھی ائرپورٹ سے تقریب میں پہنچی تھیں۔ امیر حسین جعفری نے احباب کا شکریہ ادا کیا۔ اور سب کی محبتیں سمیٹتے سمیٹتے جذباتی ہو گئے۔ حاضرین نے کھڑے ہو کر ان کو خراجِ تحسین پیش کیا ہو اور مبارک باد دی۔
ایک گھنٹے کی تقریب تین گھنٹے تک چلی مگر احباب ہشاش بشاش تھے۔ یہ ایک یادگار ادبی محفل تھی۔ تقریب کے بعد صائمہ جاوید اور امیر حسین جعفری کے ہاں ڈاکٹر خالد سہیل رفیق سلطان ان کی شریکِ حیات پرویز صلاح الدین اور راقم کے اعزاز میں ظہرانے کی دعوت تھی۔ میں امیر حسین جعفری اور بالخصوص صائمہ جاوید کا گرم جوشی محبت اور اپنائیت سے بھرپور خاطر داری کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔ امیر حسین جعفری اور صائمہ جاوید اور ان کے دو بچوں سے جدا ہو کر بھاری دل کے ساتھ ہم طے شدہ پروگرام کے مطابق شام پانچ بجے ڈاکٹر خالد سہیل کے ہمراہ ہمارے اگلے پڑاؤ ”اسلامک ری پبلک آف تھارن کلف“ روانہ ہو گئے۔ (اگلی قسط میں اگلے چار روزہ سفر کا احوال پیش کیا جائے گا)





