راستے کا فلسفہ اور سکندر اعظم


استاد اور مرشد بتاتے ہیں کہ منزل تک پہنچنے کے لیے راستہ بہت امپورٹ اہم ہوتا ہے راستے کے بارے میں دو باتیں اہم ہیں نمبر ایک یہ کہ اگر راستہ اپ کو صاف صاف دور تک دکھائی دے رہا ہے تو شاید وہ راستہ اپ کا نہیں بلکہ اپ کو کسی اور نے بتلایا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر اپ بہت لمبا عرصہ ایک طویل مدت تک کسی دوسرے کے بتلائے ہوئے راستے پہ چلتے رہیں گے تو اپنے من چاہے راستے تک واپس انا نہایت دشوار ہو جائے گا شاید اپ کو راستہ ہی نہ ملے جو اپ کو اپنے من چاہے راستے تک لے جا سکے راستے کے بارے میں تیسری حقیقت یہ ہے کہ اگر اپ خود اپنا راستہ نہیں چن سکتے بلکہ اپ اس راستے پہ چلتے ہیں جو کسی دوسرے نے بتایا ہے تو اپ کو منزل بھی وہی ملے گی جو کہ کسی دوسرے کے ذہن میں طے کی ہوگی اپ کبھی بھی دوسروں کے بتائے ہوئے راستے پہ چل کے من چاہی منزل حاصل نہیں کر سکتے۔

میرا فلسفی دوست کہتا ہے کہ زندگی کا راستہ ایسا ہے کہ اپ کو شاید دو قدم یا تین قدم نظر آئیں، مگر مکمل راستہ نظر نہیں آ رہا ہوتا۔ جوں جوں آپ اگے بڑھتے جاتے ہیں، اپ کو راستہ صاف اور بہتر دکھائی دیتا رہتا ہے۔ لیکن اگر کوئی اور آپ کو راستہ دکھا رہا ہو گا، تو آپ کو راستے کے آنے والے ہر ایک گام اور ہر ایک ٹھوکر پہلے سے بتائی جائے گی۔ اس طرح کا راستہ دراصل کوشش یا جدوجہد کا راستہ نہیں ہوتا بلکہ ایک غلامانہ راستہ ہوتا ہے۔

راستے اور منزل پہ اگر نگاہ کی جائے تو لوگوں کی دو اقسام ہیں۔ ایک وہ جنہیں منزل یا مقصد عزیز ہوتا ہے لیکن وہ راستہ یا اس منزل تک پہنچنے کے عمل پہ توجہ کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ جبکہ دوسرے وہ لوگ ہیں، جو کہ راستے یا عمل سے محبت کرتے ہیں۔ وہ اس راستے کو انجوائے کرتے ہیں جو منزل تک لے کے جاتا ہے۔ سو ایسے لوگ منزل کو بھی پسند کرتے ہیں اور اس منزل تک جانے والے راستے سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہی لوگ ہوتے ہیں جن کے کامیاب ہونے کی زیادہ آثار ہوتے ہیں۔

پہلی قسم کے لوگ جو صرف منزل کی محبت میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ اس منزل تک جانے والی راہ پہ سفر کرنے کو تیار نہیں ہوتے، ”منزل محب“ کہلاتے ہیں۔ منزل محب منزل کا خواب تو دیکھتے رہتے ہیں، مگر اس منزل تک جانے کی کوشش، جدوجہد اور راستے کی تلاش کرنے کو ذہنی طور پہ تیار نہیں ہوتے۔ وہ چاہتے ہیں ان کو پکی پکائے کھیر مل جائے۔ کوئی ان کو بنی بنائی ہانڈی دے دے۔ کوئی ان کو راستہ پر نشان لگا کے ان کے ہاتھ میں تھما دے کہ بیٹا اس راہ پہ چلتے چلے جاؤ۔ کہیں نہ کہیں پہنچ جاؤ گے۔ وہ راہ کی صعوبتیں سہنے کو تیار نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے ان کا منزل تک پہنچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ جبکہ دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے

جو راہ محب ہوتے ہیں۔ یعنی وہ راستے یا عمل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کو وہ کام کرنے میں مزہ اتا ہے جو کام ان کو ان کے مقصد تک لے جاتا ہے۔ وہ اس راہ کو لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں جس راہ پہ چلتے چلتے آخر وہ کسی جگہ پہ پہنچ کے اپنی منزل کو حاصل کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ یعنی کہ راہ محب لوگ دراصل کامیاب لوگ ہوتے ہیں۔

میرے دوست ”ف س“ کا قول ہے کہ ”وہ راستہ ہی کیا جس پہ منزل نہیں اور وہ منزل ہی کیا جس پہ لڑکی نہیں“ ۔

اسے یوں دیکھتا ہے کہ شاید واحد اچھی اور قابل محنت منزل لڑکی ہی ہے۔ میں نے اس کو سمجھایا کہ زندگی کا مقصد لڑکی حاصل کرنے کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ مگر اس کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہے۔ اصل میں یہ تمام جدوجہد صرف ایک لڑکی حاصل کرنے کے لیے ہی ہے۔ آج تک تاریخ میں مرد جو کچھ بھی کرتے رہے ہیں وہ صرف ایک اچھی لڑکی کے حصول کے لیے کرتے رہے ہیں۔

وہ کہتا ہے کہ تم کیا سمجھتے ہو، سکندر اعظم بھرپور جوانی میں اپنا ملک یونان چھوڑ کے، اپنی بادشاہت چھوڑ کے، آدھی دنیا فتح کرتے ہوئے ہندوستان تک کیسے پہنچ گیا؟ یہ سب دراصل اس کے مردانہ ہارمون، ٹیسٹیرون کی اس کے ذہن پہ اثر اندازی تھی۔ شروع میں مرد ایک لڑکی کو فتح کرنا چاہتا ہے۔ پھر اس کا یہی فتح کا جذبہ اتنا بڑھتا ہے کہ وہ ہزاروں لڑکیوں کو فتح کرنا چاہتا ہے۔ اور پھر یہاں تک کہ وہ پوری دنیا کو فتح کرنا چاہتا ہے۔

میں نے ف س کو بتایا کہ تمہاری بعض باتیں بہت سادہ ہیں۔ سکندر اعظم کے بارے میں تمہارا خیال ہے کہ اسے صرف لڑکیاں پسند تھیں؟ تاریخ بتاتی ہے کہ وہ تو مردوں یا مخنث سے بھی شغل فرما لیتا تھا۔ سو اہم بات یہ نہیں ہے کہ اپ کے ساتھ ہم سفر لڑکی ہو یا مخنث، اہم بات یہ ہے کہ جس راستے پہ آپ چل رہے ہوں، اس راستے کو اپ پسند کرتے ہووں۔ جس راستے کو اپ پہ اپ چل رہے ہوں اس راستے کو آپ نئے خود چنا ہو۔

آنٹی چھمک چھلو کہتی ہیں کہ راستے ہمیشہ بہترین چنو۔ ایسا راستہ، جو نہ تو اتنا پتھریلا ہو کہ آپ ٹھوکریں کھاتے پھریں۔ اور نہ ہی خشک، صحرائی۔ جہاں مزہ نہیں، وہ راستہ نہیں۔

منزل کی فکر چُھوڑیں، خوبصورت اور پُر لطف راستہ اپنائیں۔

Facebook Comments HS