انسان رے انسان، تیری کون سی کل سیدھی!


ظلم اور بربریت کی ایک نئی داستان رقم ہو گئی ہے۔
اونٹ اپنی جسامت کے برعکس ایک نہایت شریف النفس جانور تصور کیے جاتے ہیں۔

صدیوں سے انسان اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے آ رہے ہیں اور یہ اونٹ سر جھکائے ان کی خدمت پر معمور رہتے ہیں۔

محمد عربی ﷺ کے بھی محبوب ترین جانوروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔
قصویٰ نامی اونٹنی آپ ﷺ سے منسوب ہے۔

لیکن یہ بے زبان جانور کبھی سوچ بھی نہیں سکتا ہو گا کہ اُس سے اِس قدر جان سوز اور دردناک رویہ بھی روا رکھا جا سکتا ہے۔

سندھ میں ناسمجھی میں جو ایک وڈیرے کی زمینوں میں ایک اونٹنی داخل ہو گئی تو وہ اس قدر طیش میں آیا کہ جیتی جاگتی کی ٹانگ کاٹ کر ہی رکھ دی۔

یہاں ایک لمحہ عنایت کیجیے گا، اونٹنی کی جگہ خود کو رکھ کر سوچئے گا تو شاید صحیح طور پر جان سکیں گے کہ اس بے زبان کو کس کرب سے گزرنا پڑا۔

ٹانگ کٹی، بلکتی، سسکتی، بلبلاتی، آنسو بہاتی اونٹنی کی تصویر دنیا بھر کے لوگوں نے دیکھی اور دنگ رہ گئے کہ انسانیت اس حد تک بھی گر سکتی ہے۔ (خود راقم نے بھی پہلے بار کسی جانور کی آنکھوں میں آنسو دیکھے! )

دنیا والے بہت سے یہ بھی سوچتے، پوچھتے ہوں گے کہ اس ملک میں کوئی جزا سزا کا نظام بھی موجود ہے کہ نہیں، اور پھر یہ کہ نظام موثر ہے کہ طاقتور افراد!

اقوامِ عالم میں ہمارا سر پہلے ہی جھکا رہتا ہے، اگر سوچیں تو مزید چھاتی سے جا لگا ہے۔

سنا ہے میڈیا میں خبر وائرل ہو جانے پر قانون حرکت میں آ گیا ہے، فکر مگر اس بات کی ہے کہ ملکِ عزیز میں تو بریکنگ نیوز اس تواتر سے آتی ہیں کہ یہ خبر ہماری یادداشتوں سے محو ہوا ہی چاہتی ہے۔ سوموٹو تو دور کی بات بس کسی روز ملزمان ضمانت پر رہا ہو جائیں گے۔ اونٹ بے چارے تو سوشل میڈیا پر کوئی ٹرینڈ بھی نہ چلا پائیں گے۔ اب اس کا سرسری ذکر اسی وقت آئے گا جب خاکم بدہن اس سے بھی زیادہ وحشتناک واقعہ وقوع پذیر ہو گا۔

ہاں ایک اعلان ضرور ہوا ہے، اونٹنی کے مالک کو دو اونٹ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ یار لوگ مگر بھول گئے ہیں ظلم تو بے چاری اونٹنی پر کیا گیا تھا، اس کو انصاف کس طور ملے گا!

Photo courtesy: BBC

Facebook Comments HS