شاہد آفریدی کی وائرل تصویر: ’اگلی مرتبہ تصویر بنوانے سے قبل پلے کارڈز کی تحریر غور سے پڑھیں‘


پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور آل راؤنڈر شاہد آفریدی ہمیشہ سے ہی خبروں کی زینت رہے ہیں، کبھی اپنے کھیل کو لے کر تو کبھی اپنے متنازع بیانات کو لے کر۔

لیکن اب ان کی ایک متنازع تصویر سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے جس میں وہ برطانیہ میں اسرائیل حامی تنظیم کے ایک گروپ کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔

بدھ کے روز شاہد آفریدی کے مداحوں کو اس وقت شدید دھچکا لگا جب لندن میں اسرائیل حامی گروپ نارتھ ویسٹ فرینڈز آف اسرائیل (این ڈبلیو ایف او آئی) نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شاہد آفریدی کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی۔

اپلوڈ کی گئی تصویر میں شاہد آفریدی نارتھ ویسٹ فرینڈز آف اسرائیل کے دو مظاہرین کے ہمراہ کھڑے نظر آرہے ہیں۔ ان میں سے ایک نے اپنے ہاتھ میں ایک پمفلیٹ پکڑا ہوا ہے جس میں لوگوں کو برطانوی حکومت پر غزہ میں قید اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مانگ کرنے کے لیے اپیل کی گئی ہے۔

اس تنظیم کے ایکس اکاؤنٹ سے کی گئی اس متنازع پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’گذشتہ اتوار پاکستانی بین الاقوامی کرکٹر شاہد آفریدی این ڈبلیو ایف او آئی کے تحت مانچسٹر میں منعقد احتجاج میں آئے اور یرغمالیوں کی رہائی کے ہمارے مطالبے کے لیے اپنی حمایت کی۔‘ اسرائیل حامی گروپ کے مطابق پوسٹ میں لکھا گیا ’شاہد آفریدی کے ساتھ اس تصویر میں این ڈبلیو ایف او آئی کے شریک چیئرمین رافی بلوم اور ڈپٹی چیئرمین برنی یاف موجود ہیں۔

’آپ کی حمایت کا شکریہ، شاہد!‘

19 جون کو اپلوڈ کی جانے والی اس پوسٹ کو ایکس پر تقریباً 18 لاکھ مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔

https://twitter.com/NorthWestFOI/status/1803328396878884968

شاہد آفریدی کی وضاحت

شاہد آفریدی

این ڈبلیو ایف او آئی کی متنازع پوسٹ کے بعد شاہد آفریدی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انھوں نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ ’براہ کرم اپ لوڈ کی گئی ہر چیز پر یقین نہ کریں۔‘

انھوں نے اپنی اس تصویر پر وضاحت دیتے ہوئے لکھا کہ ’تصور کریں کہ آپ مانچسٹر (برطانیہ) کی ایک گلی میں ٹہل رہے ہیں اور کچھ نام نہاد پرستار سیلفی لینے کے لیے آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ ان کی بات مان لیتے ہیں۔ چند لمحوں بعد وہ اس کو صیہونیت توثیق کی شکل دے کر اپ لوڈ کردیتے ہیں۔‘

شاہد آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ’فلسطین میں معصوم جانوں کی تکلیف کو دیکھنے سے دل کو صدمہ پہنچاتا ہے۔ لہذا مانچسٹر میں کسی ایسی تنظیم کی جانب سے شیئر کی گئی تصویر کو میری کسی قسم کی حمایت نہیں سمجھا جا سکتا جہاں انسانی جانیں خطرے میں ہوں۔‘

سابق کپتان نے مزید کہا کہ ’میں پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے شائقین کے ساتھ تصویریں کھنچواتا ہوں، اور یہ صورتحال بھی مختلف نہیں تھی۔ میں اس جنگ کے خاتمے کی دعا کرتا ہوں، میں آزادی کی دعا کرتا ہوں۔‘

دوسری جانب این ڈبلیو ایف او آئی کا دعوٰی ہے کہ آفریدی نے اپنے اور ان کے فون سے تصاویر لی تھی اور ’وہ جانتے تھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔‘

https://twitter.com/SAfridiOfficial/status/1803473155710988335

سوشل میڈیا پر ردعمل

اس پوسٹ کے شائع ہونے کے بعد شاہد آفریدی کو سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ کچھ نے ان کی حمایت میں بات کی۔

مہوش علی نامی صارف نے شاہد آفریدی کی وضاحتی ٹویٹ پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پہلی بات یہ جنگ نہیں بلکہ نسل کشی ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اگر یہ محض ایک فین مومنٹ تھا تو اس تنظیم کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے، اس کی شروعات اس تنظیم کی عوامی سطح پر مذمت کر کے اور انھیں ٹیگ کر کے کی جائے۔ اس ضمن میں ایک سادہ ٹویٹ اس سنگین غلطی کا ازالہ کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ اگلی مرتبہ تصویر بنوانے سے قبل یہ سوچنے کی بجائے کے لوگ آپ کے لیے دیوانے ہیں، پلے کارڈ کی تحریر کو غور سے پڑھیں۔‘

https://twitter.com/GMehvishali/status/1803495568511037902

ڈاکٹر وقاص نامی ایک صارف نے ان کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب کچھ شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ اس پر یقین کرتا ہوں کیونکہ کوئی پاکستانی اور مسلمان اس نسل کشی کی حمایت نہیں کر سکتا۔ لیکن زیادہ تر لوگ اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک کہ آپ (شاہد آفریدی) اس تنظیم کے خلاف مقدمہ درج نہیں کروائیں گے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ سچ کہہ رہے ہیں تو قانونی مقدمہ دائر کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔‘

https://twitter.com/WaqasnawazMD/status/1803509163613626793

ایک صارف نے شاہد آفریدی پر سخت تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’ ٹہلنا؟ کیا آپ اندھے ہیں کہ ان کے پوسٹروں پر کیا لکھا ہے آپ پڑھ نہیں سکتے؟ آپ جھوٹے ہیں اور اندرون و بیرون ملک ظلم کے حامی ہیں۔‘

https://twitter.com/AghajaffarPTI/status/1803481872816586831

جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’آپ لاکھ اختلاف رکھیں آفریدی سے لیکن وہ کبھی بھی مسلمانوں سے غداری نہیں کرسکتے، تنقید سیاسی نظریات تک محدود ہونی چاہیے، مجھے سو فیصد یقین ہے کہ یہ تصویر محض ایک اتفاق ہے اور کچھ نہیں، باقی اسرائیل میں کرکٹ کا کوئی تصور نہیں تو یہ فین کہاں سے آئے یہ بھی ایک سوال ہے.‘

جبکہ ایک اور صارف نے لکھا کہ ’آپ کی عزت میرے دل سے ختم ہو گئی ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33282 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments