مسلمان اپنی موجودہ حالت کے خود ذمہ دار ہیں
مسلمانوں کی موجودہ ذہنی پسماندگی کے بارے میں بعض سابقہ و موجودہ مسلمان رہنماؤں کا خیال یہ ہے کہ یہ پسماندہ تب ہوئے جب اسلام کی بنیادی تعلیمات سے دور ہو گئے۔ ان کے خیال کے مطابق جب تک مسلمان اسلام کے ساتھ سختی کے ساتھ جڑے ہوئے تھے تب تک وہ دنیا پر راج کر رہے تھے۔ اور وہ مسلمانوں کا عہد زریں یا بالفاظ دیگر شاندار دور تھا۔ جو بدقسمتی سے ماضی کے اندھیروں میں کہیں کھو گیا ہے۔ اور جسے مسلمان آج تک یاد کر کے موٹے موٹے آنسو گراتے ہیں اور بے حد افسوس کرتے ہیں۔
مسلمانوں کا یہ شاندار دور کب شروع ہوا۔ اس بارے میں اختلاف موجود ہے۔ کچھ لوگ اسے اسلام کی ابتدا سے جوڑتے ہیں۔ جہاں مسلمان مشرکین پر فتح پا کر جزیرہ نمائے عرب کو زیر نگین کر کے خلافت راشدہ کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ اور جلد ہی اپنے علاقوں سے نکل کر پڑوسی ریاستوں پر دھاوا بول دیا۔ ان کو اسلامی ریاست کا حصہ بنایا اور ان ممالک سے مال غنیمت بٹور کر ابتدائی اسلامی ریاست کو مستحکم کیا۔ جس سے مسلمانوں کے عروج کا آغاز ہو گیا۔
یہ مسلمانوں کا شاندار دور اس لیے بھی تھا کہ سلطنت کے پھیلاؤ اور مال غنیمت کی رسد نے خوشحالی کا آغاز کیا جس سے معاشرہ میں دولت کی ریل پیل اور فراوانی شروع ہوئی اور ایک ایسا وقت آیا جب ریاست اس قدر امیر ہوئی کہ اس کے اندر رہنے والا کوئی بھی بندہ غریب نہیں رہا۔ نتیجہ کے طور پر زکٰوۃ لینے والے ناپید ہو گئے۔ اب مندرجہ بالا قول تاریخی کسوٹی پر پورا اترتا ہے یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ جب بدویت کی سادہ زندگی گزارنے والے تپتے ریگستان عرب کے پرعزم صحرائیوں نے تلوار اٹھا کر فتوحات کا سلسلہ قائم کیا تو اس سے ابتدائی مسلم ریاست قائم اور مضبوط ہوئی۔ اگرچہ ریاست کے خالص اسلامی خد و خال بہت دیر تک اس کا خاصہ نہ رہے اور پھر وہ اسلامی ریاست ایک عرب ملوکیت میں تبدیل ہو گئی۔
خلافت راشدہ میں سربراہ مملکت کا منصب نسبی نہیں تھا۔ لیکن جب امویوں نے اقتدار سنبھالا تو سربراہ مملکت کا منصب خونی وراثت کا حامل ہو گیا یعنی اب جب سربراہ ریاست فوت ہو جاتا تھا تو اس کا بیٹا یا اس کا دوسرا قریبی رشتہ دار تخت سنبھالتا تھا۔ بظاہر لگنے لگا کہ خلافت کی نسبت ملوکیت معاشرے کی استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ کیونکہ اس کے آنے سے ان جھگڑوں کا خاتمہ ہو گیا جو خلافت کے سربراہ کے منصب کو پانے کے لیے کیے جاتے تھے۔ اور جس کے نتیجے میں خلیفہ باغیوں کے ہاتھوں شہید ہوجاتا تھا اور سیاسی عدم استحکام مستقل قائم رہتا تھا۔
مسلمانوں میں خلافت کے خاتمے اور ملوکیت کے قیام نے درپیش سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ کیا اور مسلمانوں کی ساری جدوجہد آپس میں لڑنے کے بجائے بیرونی فتوحات پر مرکوز ہو گئی۔ یہی وہ دور تھا جب اسلامی ریاست چار سو پھیلتی گئی اور ریاست طاقتور سے طاقتور ہوتی گئی عرب کا بدو معاشرہ مال و دولت سے مالا مال ہو گیا بادشاہ وقت کے پاس اضافی دولت جمع ہو گئی جس کا ایک حصہ علم و فضل کے حصول کے لیے مختص ہو گیا۔ دنیا بھر سے مخطوطات کی شکل میں علم دانش کے خزینے منگوائے گئے اور عربی زبان میں ڈھالے گئے۔ جس سے پرشوق عربوں کو عقلی علوم سیکھنے کا موقع ملا اس سے معاشرے میں یہ تبدیلی آ گئی کہ لوگ منطقی اور تنقیدی سوچ اپنانے لگے۔ یہیں سے فلسفہ اور سائنس کا بیج بو دیا گیا۔ جو جلد ہی تناور درخت بن گیا اور سرزمین عرب اور اس کے مسلم مضافات سے علم و فضل کے ایسے نایاب نگینے برآمد ہوئے جو کمال کے علمی فضائل سے لیس تھے۔ اور جو معاشرے میں زبردست تبدیلی لا سکتے تھے۔ مگر افسوس کہ یہ سلسلہ دیر تک جاری نہ رہ سکا جلد ہی مسلمانوں کو فرقہ ورانہ ٹکڑوں میں بانٹنے والے کذب و ریا کے سوداگروں نے بھانپ لیا کہ اگر لوگ باشعور ہوئے تو ان کی دکانداری بند ہو جائے گی۔ پھر عقلی و فلسفی علوم کے خلاف بہت منظم طریقے سے نفرت انگیزی دکھائی گئی۔ حاکم وقت کو خبردار کیا گیا ان کے بقول اگر اس گمراہی کو مزید طول دیا گیا تو گویا گلشن اسلام اجڑ جائے گا۔
حاکم وقت جب تک دانایان عقل و خرد کا محافظ تھا۔ تب تک صورتحال قابو میں تھی۔ لیکن کب تک یہ سلسلہ چلتا آخر حاکم وقت نے مذہبی پیشوائیت کی طاقت کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔ اور ان کی ناگزیر خوشنودی کے حضور کے لیے فلاسفہ و حکماء کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لیا اور نہ صرف ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا بلکہ ان پر طرح طرح کی سختیاں کی گئیں۔ ان کے کارناموں کو مذہب اور دین و ایمان اور عقائد کے لیے خطرہ مان لیا گیا اسلام کو چھوڑ کر فرقوں میں بٹی ہوئی پیشوائیت کے آپس میں متصادم دھڑے ایک دوسرے کے ساتھ تکفیریت کا کھیل کھیل رہے تھے۔ لیکن صاحبان عقل و دانش کے مقابلہ میں ان کی سوچ ایک جیسی تھی۔ حاکم وقت کی ہمنوائی نے ان کو جیت دلا دی۔ عقلیت کو ہار ہو گئی۔ مسلمان ذہن میں تنقیدی سوچ کی روشنی پھیلانے والا جو شعلہ بھڑکا تھا اس کو پھونکیں ماری گئیں۔
مسلمانوں نے سوچنا بند کر دیا۔ سوچنے کی اہلیت پیدا کرنے والی اور ذہن میں سوالات اٹھانے والی کتابیں یا تو جلا دی گئی یا پھر طاق نسیاں کی نذر ہو گئیں۔
تاریخ عالم کے قرطاس پر ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا بلکہ ماضی میں پاپائیت نے بھی فلاسفہ یونان کے ساتھ ایسا ہی کیا تھا اور ایسا گمان گزرا کہ تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا ہے۔ حالانکہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی نہیں ہے۔ مسلمانوں کی عقل و خرد سے بیزاری کے بڑے افسوسناک نتیجے برآمد ہوئے۔
مسلمان تقلیدی سوچ سے نکل نہ سکے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ آج تک مسلمان منطقی اور سائنسی سوچ اپنا نہ سکے۔ کیونکہ ایسا کرنے کی ان کی تقلیدی اور منجمد سوچ اجازت نہیں دیتی۔ فرسودہ اور اذکار رفتہ قصے کہانیوں سے مسحور و مجبور ذہن سوچنے پر تیار ہی نہیں ہے۔ یہی تقلیدی سوچ مسلمانوں کی ذہنی پسماندگی کی بنیادی وجہ ہے۔ جب تک اس محدود سوچ سے باہر نہیں نکلیں گے اور جب تک منطقی اور سائنسی انداز میں نہیں سوچیں گے۔ تب تک ان سے کسی ذہنی و فکری انقلاب کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ چاہے ہزار سال اور گزر جائیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مسلمانوں میں تنقیدی اور سائنسی سوچ کیسے پیدا ہو۔ تو اس سلسلہ میں سب سے پہلے مسلمان ریاستوں کو کام کرنا ہو گا۔
ان کو اپنے آپ کو جدید بنانا ہو گا۔ اور وقتی مصلحت کے تحت مذہب اور ریاست کو الگ کرنا ہو گا۔ تبدیلی کا یہ عمل اوپر سے آئے گا۔ یعنی حاکم وقت کو علوم و فنون کو لے کر متعصبانہ رویہ ترک کرنا ہو گا۔ انتہائی سنجیدگی اور خلوص نیت سے مل بیٹھ کر فیصلہ کرنا ہو گا کہ بس ہو گئی۔ ایک ہزار سال ضائع کیے گئے ہیں اب مزید ایک سال بھی ضائع نہیں کریں گے۔ اور مزید علم دشمنی ہمارے مفاد میں ہرگز نہیں۔ اب قوم و ملت کو صحیح راہ دکھانا ہوگی۔ ورنہ آنے والے ہزار سالوں میں بھی مستقل ذلت و رسوائی ہمارا مقدر بنی رہے گی۔ اس مقصد کے لیے اپنی تاریخ کا تنقیدی جائزہ لینا ہو گا۔ اور ایک ایسا لٹریچر لوگوں کو پڑھانا ہو گا جو صحیح راہ دکھائے نا کہ جھوٹے خواب دکھا کر گمراہ کرے۔ اور جدیدیت کو اس طرح اپنانا ہو گا کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کو یکساں نگاہ سے دیکھے۔ ان میں تفریق نہ کرے۔ رنگ و نسل اور مذہب کو لے کر امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے۔ دین و سیاست کو فی الحال الگ کیا جائے۔ وسیع النظر نصاب تشکیل دیا جائے۔ فرقہ واریت پیدا کرنے والے لٹریچر کو اتفاق رائے پیدا کر کے دریا برد کیا جائے۔ سائنسی و سیاسی نظریات کو عقائد کی کسوٹی پر نہ پرکھا جائے۔ فرقہ واریت کو ہوا دینے والی مقدس شخصیات اور ان سے منسوب جھوٹ کو نامقدس قرار دیا جائے۔ اور اس کی تنقیدی اور علمی بنیادوں پر جانچ پڑتال اور تحقیق کی اجازت دی جائے۔ یقین جانیں ایسا جرات مندانہ اقدام اٹھانے سے آنے والی چند دہائیوں میں ایک تعمیری انسانی معاشرہ وجود میں آ جائے گا۔


