میکسم گورکی کا افسانہ: میرا ہم سفر
میری اس سے پہلی ملاقات اوڈیسا کی بندرگاہ پر ہوئی تھی۔
متواتر تین دن تک اس کا وہ کسا ہوا بدن، لمبوترا جسم اور نفاست سے ترشی ہوئی داڑھی والا خوبصورت مشرقی چہرہ میری توجہ اپنی طرف کھینچتا رہا۔ مجھے نہیں پتہ کب مگر وہ یونہی اچانک کہیں سے نمودار ہو کر میری نگاہوں کے سامنے آ گیا تھا۔ وہ گھنٹوں سمندر کے سنگی پشتے پر کھڑا بندر گاہ کے گدلے پانیوں کو گھورتا رہتا تھا۔ اس کی آنکھیں بادام جیسی اور بے حد سیاہ تھیں۔ وہ کئی مرتبہ میرے قریب سے یوں ٹہلتا ہوا گزر جاتا کہ جیسے اسے دنیا جہان کا کوئی غم یا فکر نہ ہو۔ ’لیکن یہ شخص آخر ہے کون؟‘ میں نے کئی مرتبہ خود سے یہ سوال کیا تھا۔ اب میری نظریں باقاعدہ اس کا تعاقب کرنے لگیں تھیں۔ اور وہ جیسے جلد ہی اس بات کو تاڑ گیا تھا اور اب مزید تواتر کے ساتھ میرے سامنے آنے لگا تھا۔ اب میں اسے دیکھنے کا عادی ہو چلا تھا۔ اس کا وہ جدید فیشن کا ہلکے رنگ کا چیک سوٹ، سیاہ ہیٹ، اس کی وہ ذرا سی مخمور چال اور وہ اس کی بوریت سے بھری نظریں۔ اب میں دور سے پہچاننے لگا تھا۔ اس کی شخصیت بندرگاہ کے اس ماحول سے ذرا بھی میل نہیں کھاتی تھی۔ وہ ہر وقت بھاری زنجیروں کے آپس میں ٹکرانے کی آوازیں، بندر گاہ کے مزدوروں کی مخصوص تند و تیز گفتگو اور شور بھری مسلسل گہما گہمی۔ وہاں کچھ بھی تو اس کے خاموش اور بیزار سراپے سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ اس کے ہر طرف شدید مصروف لوگ تھے۔ ہر وقت دوڑ بھاگ میں جتے ہوئے، تھکے، گرد و غبار میں اٹے ہوئے، پسینے میں شرابور ایک دوسرے پر چلاتے ہوئے، یونہی بے تکی ہانکتے ہوئے۔ اور ان سب کے بیچ میں وہ ایک بالکل الگ تھلگ کردار تھا۔ اس سارے شور اور ہنگامے سے بے تعلق اور بیزار ایک شخص۔
آخر ایک روز دوپہر کے کھانے کے وقفے کے دوران وہ میری دسترس میں آ ہی گیا۔ میں نے طے کر رکھا تھا کہ یہ جان کر ہی چھوڑوں گا کہ یہ بندہ آخر ہے کون؟ میں نے اپنی روٹی اور تربوز کی قاش لی اور ایک ایسی جگہ بیٹھ گیا جو اس سے زیادہ دور نہ تھی۔ میں کھانا کھاتا رہا اور یہ سوچتا رہا کہ اس سے گفتگو کا آغاز کیسے کیا جائے اور اس کا سب سے زیادہ مہذب طریقہ کیا ہو سکتا ہے۔ اس وقت وہ جہاز سے اتاری جانے والی چائے کی پیٹیوں کی بلند دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا اور خالی خالی نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ اس کی انگلیاں ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی پر یوں حرکت کناں تھیں کہ جیسے وہ اس میں سے سر برآمد کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ میری اپنی حالت اس وقت ایک بے گھر فقیر جیسی ہو رہی تھی۔ بندر گاہ کے مزدوروں والی مخصوص پیٹی میری کمر پر کسی ہوئی تھی اور لباس کوئلے کے برادے میں سنا ہوا تھا۔ اس حالت میں ایک خوش لباس انسان سے گفتگو کا آغاز کرنا میرے لئے ایک مشکل مرحلہ تھا۔
لیکن پھر ایک عجیب بات ہوئی۔ وہ خود میری جانب دیکھ رہا تھا۔ اس لمحے مجھے اس کی آنکھوں میں بیزاری کی جگہ کسی وحشی جانور جیسی لالچ بھری چمک دکھائی دی۔ بلاشبہ وہ بھوکا تھا۔ میں نے ایک نظر اپنے آس پاس دوڑائی اور پھر اس سے کہا۔ ’کچھ کھاؤ گے؟‘
فوراً ہی اس کا منہ پورا کھل گیا اور میں نے اس کے چمکتے ہوئے صحتمند دانتوں کا مکمل سیٹ پہلی بار دیکھا۔ اس نے بھی ایک نظر اپنے اطراف میں دیکھا۔ کوئی بھی اس کی جانب متوجہ نہ تھا۔ میں نے اپنی گندم کی روٹی کا ایک ٹکڑا اور تربوز کی آدھی قاش اس کی جانب بڑھائی۔ اس نے دونوں چیزیں میرے ہاتھ سے جھپٹ لیں اور بھاگ گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ چائے کی پیٹیوں کی دیوار کی اوٹ لے کر زمین پر پھسکڑا مار کر بیٹھا تھا اور دھڑا دھڑ کھانے میں مصروف تھا۔ ذرا ذرا دیر بعد اس کا سر پیٹیوں کے پیچھے سے نمودار ہوتا۔ اس نے اپنا ہیٹ پیچھے کو کھسکا دیا تھا اور اس کی پسینے سے بھری ہوئی پیشانی دور سے دیکھی جا سکتی تھی۔ غذا چباتے ہوئے وہ بیچ بیچ میں رک کر میری جانب دیکھتا تھا اور ذرا ذرا سا مسکراتا بھی تھا۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ وہ آہستہ آہستہ کھائے۔ میں اپنا کھانا ختم کر کے اٹھا اور گوشت کا ایک پارچہ خرید لایا اور اسے دیا۔ اس نے گوشت کو لے کر جس وحشیانہ انداز میں اسے بھنبھوڑا وہ مجھے اچھا نہیں لگا اور میں وہاں سے پلٹ آیا۔
’ شکریہ۔ بہت بہت شکریہ‘ اس نے اچانک پیچھے سے آ کر مجھے کندھے سے آن پکڑا اور پھر اس زور کے ساتھ مجھ سے مصافحہ کیا کہ مجھے تشکر سے زیادہ درد کا احساس ہوا۔ یہ وہ پہلے الفاظ تھے جو اس نے مجھ سے کہے۔ اس کی زبان اور لہجہ مجھے قطعی اجنبی اور نامانوس لگا تھا۔ پانچ منٹ کے بعد وہ مجھے اپنی کہانی سنا رہا تھا اور میں سن رہا تھا۔
مختصراً۔ وہ جارجیا کا رہنے والا تھا۔ نام تھا پرنس شاکرو پادزے۔ وہ کوٹیسی کے ایک کھاتے پیتے زمیندار کا اکلوتا لڑکا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے تک وہ ٹرانس کاکیشین ریلوے میں کلرک کے طور پر کام کر رہا تھا اور اپنے ایک دوست کے ساتھ مقیم تھا۔ پھر ایک روز یوں ہوا کہ اس کا وہ دوست اس کی تمام نقدی اور دیگر قیمتی اشیا لے کر رفو چکر ہو گیا۔ وہ اب اسی دوست کی تلاش میں نکلا ہوا تھا۔ کسی نے اسے بتایا تھا کہ اس کے دوست نے باٹومی کا ٹکٹ لیا تھا۔ وہ باٹومی پہنچا تو کسی نے بتایا کہ اس کا مفرور دوست اب اوڈیسا میں تھا۔ چنانچہ شاکرو نے اپنے ایک حجام دوست سے اس کا پاسپورٹ ادھار لیا اور اوڈیسا آ گیا تھا۔ یہاں اس نے مقامی پولیس کے پاس اپنے مفرور دوست کے خلاف رپورٹ درج کروائی تھی۔ پولیس نے اس کے دوست کو ڈھونڈنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی تھی۔ اس دوران وہ جیب میں موجود تمام رقم خوراک پر خرچ کر چکا تھا اور آج مسلسل دوسرا دن تھا کہ اس نے ایک نوالہ بھی حلق سے نیچے نہ اتارا تھا۔
میں نے اس کی یہ ساری کتھا بہت دلچسپی سے سنی۔ کہیں کہیں بیچ میں ٹوک کر اس کی حماقتوں پر اسے ملامت بھی کی مگر آخر کار میرا جذبہ ترحم میرے غصے اور رنج پر غالب آ گیا۔ یہ لڑکا شاکرو مشکل سے بیس بائیس برس کا ہو گا۔ اپنی بعض باتوں کی وجہ سے وہ اتنا سادہ اور بیوقوف لگتا تھا کہ آپ اسے اس بھی کم عمر تصور کر سکتے تھے۔ مگر پتہ نہیں کیوں اس نے جو بھی کہا میرے دل نے اس کے حق میں گواہی دی۔ دوران داستاں وہ کبھی تاسف اور کبھی غصے میں اپنے اس مفرور دوست کے ساتھ اپنی ’پکی یاری‘ کا ذکر کرتا رہتا تھا جو اب اس کی تمام متاع لے کر فرار ہو چکا تھا۔ کبھی وہ اپنے باپ کا ذکر خوف زدہ انداز میں کرتا کہ اگر وہ اپنا چوری شدہ مال واپس حاصل کرنے میں ناکام رہا تو اس کے سخت گیر باپ نے تو ’خنجر سے میرا گلا ہی کاٹ دینا تھا‘ ۔ میں نے سوچا کہ اگر اس وقت کسی نے اس لڑکے کی مدد نہ کی تو یہ بے مروت شہر اسے نگل جائے گا۔ میں جانتا تھا کہ اکثر اوقات یہاں بہت معمولی وجوہات کی بنا پر مفلسوں اور مجبوروں کی تعداد اضافہ ہوتا رہتا تھا۔ اور اس بات کا ہر امکان موجود تھا کہ شہزادہ شاکرو اس بڑے مگر ناقابل عزت سماجی دھارے میں شامل ہو جائے۔ میں نے تھوڑا سوچا اور پھر یہ تجویز اس کے سامنے رکھی کہ ہم دونوں کوتوال شہر کے پاس چلتے ہیں اور اس سے شاکرو کے سفر کے لیے ٹکٹ کی درخواست کرتے ہیں۔ میری یہ بات سن کر شاکرو سراسیمہ ہو گیا اور زور زور سے انکار میں سر ہلانے لگا۔
مگر کیوں آخر؟ ’میں نے حیران ہو کر پوچھا۔
جواب میں شاکرو نے جو کہانی مجھے سنائی تھی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ وہ جس مکان میں رہتا تھا اس کا پچھلے کئی ہفتوں کا کرایہ اس نے ادا نہیں کیا تھا۔ آج صبح جب اس کے مالک مکان نے پھر کرایے کا مطالبہ کیا تو تلخی ہو گئی تھی اور شاکرو نے مالک مکان کو اوپر تلے تین چار کرارے ہاتھ جڑ دیے تھے اور پھر وہاں سے بھاگ گیا تھا۔ اسے یہ بھی یاد نہیں تھا کہ اس نے مالک مکان کو کل کتنے ہاتھ جڑے تھے چار یا پانچ۔ بس اسی دن سے وہ یہاں بندر گاہ میں دبکا بیٹھا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ان حالات میں اس کا خود پولیس کے پاس چل کر جانا تو خود کشی کرنے کے مترادف ہو گا۔
’ اچھاآآآ۔ ہوں۔ ‘ میں نے گہری سوچ میں کہا۔ ’یہ معاملہ تو اور بھی پیچ دار ہو گیا۔‘ میرے ذہن میں اس مسئلے کا دوسرا حل یہ آ رہا تھا کہ میں بندر گاہ پر اپنی موجودہ ملازمت اس وقت تک جاری رکھوں جب تک کہ میرے پاس اتنے پیسے جمع نہ ہو جائیں کہ میں جارجیا کے شہزادے کے لیے باٹومی کا ٹکٹ خرید سکوں۔ میرے اس دوسرے حل سے شہزادے نے فوری طور پر اتفاق کر لیا۔ اور یوں ہم دونوں ساتھی بن گئے۔

میں نے اپنے اس منصوبے پر عملدرآمد کا آغاز فوری طور پر کر لیا۔ مگر مجھے بہت جلد اس بات کا ادراک ہو گیا کہ میرا یہ منصوبہ خاصا طویل المیعاد ثابت ہونے والا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ شہزادہ پادزے صاحب روزانہ کم از کم تین آدمیوں کے برابر خوراک نوش فرماتے تھے۔ وہ دن کچھ ایسے تھے کہ قریبی ریاستوں میں پڑنے والے قحط کے باعث اوڈیسا کی بندر گاہ پر مزدوری کرنے والوں کی تعداد میں اچانک خوفناک حد تک اضافہ ہو گیا تھا روزانہ ملنے والی اجرت کی شرح بھی اسی تناسب سے نیچے چلی گئی تھی۔ میں سارے دن میں بمشکل 80 کوپیک کما پاتا تھا۔ اس میں سے 60 اب صرف خوراک کی نذر ہونے لگے تھے۔ شہزادہ شاکرو سے ملاقات ہونے سے پہلے بھی میں اوڈیسا میں کوئی بہت طویل عرصے تک رہنے کا خواہشمند نہیں تھا اور میرے ذہن میں کرائمیا ہجرت کر جانے کا منصوبہ موجود تھا۔ موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے میں نے ایک نئی تجویز شاکرو کے آگے رکھی جس کے مطابق ہم دونوں کو پیدل اوڈیسا سے کرائمیا تک سفر کرنا تھا۔ اگر میں طفلس تک شاکرو کو کوئی اور ہم سفر ڈھونڈ کر دینے میں ناکام رہا تو میں اس کے ساتھ کرائمیا تک سفر کروں گا لیکن اگر طفلس میں کوئی اور ہم سفر دستیاب ہو جاتا ہے تو وہیں سے میری اور شاکرو کی راہیں جدا ہو جائیں گی۔
میرا یہ نیا منصوبہ سن کر شہزادے شاکرو نے ایک گہری اطمینان بھری سانس لی، ایک نظر اپنے نفیس جوتوں پر ڈالی، اپنے ہیٹ کو انگلیوں سے چھو کر دیکھا، اپنی عمدہ پتلون پر ہاتھ پھیرا، چیک کوٹ کو پیار سے تھپتھپایا۔ کچھ دیر تک وہ سوچ میں رہا۔ پھر سر اٹھایا کچھ گہری سانسیں لیں اور بالآخر میرے منصوبے پر صاد کر دیا۔
اور یوں ہم دونوں کا اوڈیسا سے طفلس کا پیدل سفر شروع ہوا۔
جب تک ہم دونوں اپنے سفر کے پہلے پڑاؤ یعنی خیرسون شہر میں پہنچے تو میں اپنے ہم سفر کو بہت اچھی طرح جان چکا تھا۔ وہ قطعی طور پر ایک سادہ لوح، منہ زور اور تہذیب ناآشنا نوجوان تھا۔ جب تک اس کا پیٹ بھرا ہوا ہوتا وہ بڑے خوشگوار موڈ میں ہوتا لیکن جب وہ بھوکا ہوتا تو بالکل ایک وحشی درندے کا روپ دھار لیتا تھا۔
ہمارے اس طویل سفر کے دوران وہ متواتر مجھے قفقاز کے بارے میں، جہاں کا وہ رہنے والا تھا، بتاتا رہا۔ اس نے مجھے جارجین کسانوں کی زندگی کے مختلف پہلووں کے بارے میں تفصیلاً بتایا جیسا کہ ان کی تفریحات اور ان کے عمومی رویے وغیرہ۔ اس کے سنائے ہوئے قصے دلچسپ تو ضرور ہوتے تھے مگر ان کو سن کر خود سنانے والے کے بارے میں کوئی اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر یہ قصہ جو اس نے مجھے خوب مزے لے لے کر سنایا تھا:
’جارجیا کے ایک امیر کبیر زمیندار شہزادے کے کچھ دوست اس کے گھر کھانے پر مدعو تھے۔ انہوں نے وائن پی، شاشلک اور چیورک نوش کیے، لاواش اور پلاؤ بھی اڑایا۔ کھانے کے بعد شہزادے نے اپنے دوستوں کو اپنا اصطبل دیکھنے کی دعوت دی۔ گھوڑوں پر کاٹھیاں ڈالی گئیں۔ شہزادے نے اپنا سب سے بہترین گھوڑا منتخب کیا اور اس پر سوار ہو کر اسے میدان میں پوری رفتار سے دوڑانے لگا۔ یہ ایک صبا رفتار مضبوط سیاہ گھوڑا تھا۔ تمام مہمانوں نے اس شاندار جانور کی کھل کر تعریف کی۔ شہزادہ پھولے نہیں سمایا۔
اس نے دوسرا چکر لگانے کے لیے گھوڑے کو دوبارہ ایڑ لگائی۔ تقریباً اسی وقت گاؤں کی طرف سے ایک کسان اپنے سفید گھوڑے پر سوار وہاں آ نکلا۔ اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اسے جارجیا کے شہزادے کے سیاہ گھوڑے کے برابر دوڑانا شروع کر دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کو پیچھے چھوڑ گیا۔ جونہی کسان کا گھوڑا شہزادے کے گھوڑے سے آگے نکلا تو کسان نے مڑ کر شہزادے کی طرف دیکھا اور بہت زور سے ہنسا۔ شہزادے نے شدید بے عزتی محسوس کی۔ اس نے اپنا گھوڑا روک دیا اور اشارے سے کسان کو پاس بلایا۔ جیسے ہی کسان قریب آیا شہزادے نے کٹار کے ایک ہی وار سے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ اس کے بعد اس نے اپنا پستول گھوڑے کے کان پر رکھا اور فائر کر دیا۔ اس کے بعد شہزادہ خود مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو گیا اور اسے پورا واقعہ سنا دیا۔ شہزادے کو قید کی سزا ہو گئی۔‘
میں نے محسوس کیا کہ اس واقعے کو بیان کرنے کے دوران شاکرو کی تمام تر ہمدردی قاتل کے ساتھ تھی۔ میں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس معاملے میں اس کا قاتل کی طرفداری کرنا بالکل بلا جواز بلکہ غلط تھا۔ مگر میری حیرت کی اس وقت کوئی انتہا نہ رہی جب شاکرو نے مجھ سے کہا ’دیکھو میکسم! شہزادے بہت تھوڑے سے ہوتے ہیں اور کسان بہت سے۔ تو پھر ایک شہزادے کو ایک کسان کو قتل کرنے پر سزا تو نہیں ملنی چاہیے نا؟ اور کسان۔ کسان کی حیثیت ہی کیا ہے؟‘ شاکرو نے طنزیہ انداز میں مجھ سے پوچھا۔ پھر اس نے زمین سے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھایا اور اسے میری ناک کے عین سامنے لے آیا۔ اور پھر بولا ’یہ۔ یہ ہے کسان‘ اور پھر اس نے ڈھیلے کو اٹھا کر دور پھینک دیا۔ ’اور شہزادے۔ شہزادے تو آسمان کے تارے ہوتے ہیں۔‘ اس نے ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف اشارہ کیا جہاں اب ستارے نمودار ہونے لگے تھے۔
مجھے شاکرو کی اس گفتگو سے بہت کوفت ہوئی۔ ہمارے بیچ زوردار بحث چھڑ گئی۔ جلد ہی شاکرو کا صبر جواب دے گیا۔ اور جب کبھی ایسا ہوتا تو وہ کسی بھیڑیے کی مانند اپنے سارے دانتوں کی نمائش کرنے لگتا تھا۔ اس وقت وہ سچ مچ کوئی درندہ ہی معلوم ہوتا تھا۔
” بس میکسم۔ اپنی بکواس بند کرو تم“ ۔ وہ مجھ پر غرایا۔ ”تم کبھی قفقاز میں نہیں رہے ہو اس لیے چپ ہو جاؤ“ اس لمحے مجھے احساس ہوا کہ شاکرو کے وحشی جوش کے آگے میرے منطقی دلائل کتنے کمزور تھے۔ گفتگو کے دوران جب بھی وہ اپنا کوئی احمقانہ خیال پیش کرتا اور میں اپنے بھاری بھرکم دلائل کے ذریعے اسے لاجواب کر دیتا تو اپنے موقف پر سوچنے کی زحمت کیے بغیر وہ الٹا مجھ سے کہتا ’تم قفقاز جاؤ۔ وہاں کچھ عرصہ قیام کرو تب تمہیں معلوم ہو گا کہ شہزادہ شاکرو ٹھیک ہی کہتا تھا۔ ارے میرے بھائی وہاں پر ہر کوئی ایسا ہی سوچتا اور کرتا ہے جیسا کہ میں۔ تو پھر میں ہی ٹھیک ہوا نا؟ اور پھر میں تمہاری بات کیوں مانوں جب کہ تم اکیلے ہو اور وہاں قفقاز میں ہزاروں لوگ ہیں جو اس طرح نہیں کہتے جیسا کہ تم کہتے ہو۔ تو پھر؟‘ اس دلیل پر مجھے خاموش ہو جانا پڑتا۔ مجھے احساس ہوتا کہ محض دلائل نہیں بلکہ زندگی کے حقیقی واقعات ہی اس شخص کو قائل کر سکتے ہیں جو یہ سمجھتا ہے کہ قفقاز میں جو ہو رہا ہے وہ سب ٹھیک ہے۔
اب میں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ اب جب شاکرو بول رہا ہوتا تو میں خاموشی سے اس کی باتیں سنتا رہتا۔ وہ ہونٹ چٹخا چٹخا کر قفقاز کے لذیذ قصے مجھے سنائے چلا جاتا۔ اس کی تمام کہانیوں میں ایک چیز بڑی واضح تھی جو کہ مجھے بہت تکلیف دیتی تھی۔ اور وہ ان کہانیوں کے کرداروں کا ظالمانہ رویہ تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ لوگ محض وحشیانہ طاقت ہی کو حاکمیت کا معیار تسلیم کرتے ہیں اور یہ کہ وہ صرف دولت کے پجاری ہیں اور اس کے علاوہ ان کی کوئی اور اقدار ہی نہیں ہیں۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں




