سوات کے مشتعل ہجوم کا پسِ منظر


دہشت گردی کے زخموں سے چُور سوات کے زخم ابھی پوری طرح مندمل نہیں ہوئے ہیں کہ مدین واقعہ کی شکل میں ایک بار پھر سوات کی مقدس مٹی کو لہولہان کر دیا گیا۔ سوات کی مٹی کو میں مقدس اس لئے کہتا ہوں کہ یہاں قدیم وقتوں میں کئی مذاہب نے جنم لیا، کئی تہذیبوں نے آنکھ کھولی اور اس کے پرامن اور پرسکون ماحول میں پرورش پائی جن کے قدیم آثار اب بھی سوات بھر میں اس کے تقدس کی گواہی دیتے ہیں۔

یہ امن و آشتی کے داعی مہاتما بدھ کے پیروکاروں کا پُرامن مسکن رہا ہے۔ یہاں ہزاروں بدھ بِھکشو مقیم تھے اور سیکڑوں خانقاہیں آباد تھیں۔ یہاں بدھ مت کی تعلیمات پھیلانے کے لئے یونی ورسٹیاں قائم تھیں اور دوسرے ممالک سے بدھ مذہب کے پیروکار یہاں آ کر بدھ تعلیمات سے بہرہ مند ہوتے تھے اور اپنے ممالک واپس جاکر بدھ تعلیمات پھیلاتے تھے۔ اس وادی میں ہندو شاہی کا دور گزرا ہے جس کے قدیم آثار اس کی مذہبی رواداری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہ بدھ مت کی تقدس مآب ہستی بدما سمبھاوا کی جائے پیدائش ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا کے بدھ مذہب کے پیروکاروں کے لئے وادیٔ سوات ایک مقدس سرزمین کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایک وقت تھا جب بدھ مت کے ماننے والے سوات میں داخل ہوتے تو احتراماً اپنے جوتے تک اتارتے تھے اور اب بھی سوات میں موجود سٹوپاز کی زیارت کے لئے جب بدھ مت کے مذہبی رہنما اور پیروکار آتے ہیں تو وہ سٹوپا کی حدود میں داخل ہوتے ہوئے احتراماً اپنے جوتے اتارتے ہیں۔ گیارہویں صدی عیسوی میں محمود غزنویؒ کی افواج باجوڑ کے راستے سوات میں داخل ہوئیں تو یہاں اسلام کی تعلیمات نے دلوں کو مسخر کر دیا۔

بدقسمتی سے ریاستِ سوات کو جب 28 جولائی 1969 ء میں ایک ضلع کی حیثیت سے پاکستان میں ضم کر دیا گیا تو سوات اور اہلِ سوات کی بدقسمتی کا دور شروع ہو گیا۔ اس سے قبل سوات میں مذہبی شدت پسندی کا تصور تک موجود نہیں تھا۔ اندرون ملک اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کو عزت اور احترام دینے کے علاوہ ایسا تحفظ حاصل تھا جو انھیں اپنے علاقوں اور ممالک میں بھی شاید حاصل نہ تھا۔ عام طور پر چوری چکاری اور قتل و غارت نامی چیز سے لوگ ناآشنا تھے۔ کسی خاص موقع پر علاقے میں چوری ہوجاتی تو والی سوات کے حکم پر متعلقہ علاقے کے لوگ چور خود ڈھونڈ نکالتے اور ریاست کے حوالے کرتے۔ ریاستی دور میں بہت کم قتل ریکارڈ پر موجود ہیں لیکن ہر قتل کے مقدمے کا فیصلہ فوری طور پر کیا جاتا۔ قاتل کو سیدو شریف میں واقع ایک خاص مقام تک لے جایا جاتا اور مقتول کے لواحقین کو اختیار دیا جاتا کہ وہ قاتل کو خود گولی مار دیں۔

ریاستی ادغام کے بعد دوسری بدقسمتی سوات اور اہلِ سوات کے ساتھ یہ روا رکھی رکھی گئی کہ نوے کے عشرے میں یہاں صوفی محمد کو مالاکنڈ ڈویژن میں ”نفاذِ شریعتِ محمدی“ کا ٹاسک دیا گیا جس نے بعض ریاستی اداروں کے ایما پر لوگوں کے ذہنوں میں مذہبی شدت پسندی کو خوب ابھارا اور جلسوں اور دھرنوں کے لئے خصوصی طور پر سوات کو مرکز بنا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد 2006 ء میں یہاں بعض ریاستی اداروں کی سرپرستی میں صوفی محمد کے داماد ملا فضل اللہ کے ذریعے طالبانائزیشن کی تخم ریزی کی گئی۔ ریاستی اداروں نے باقاعدہ طور پر امریکا اور یو ایس ایڈ کے ذریعے ڈالر کمائے اور سوات اور اہلِ سوات کو آگ اور خون کے ایک جھلستے ہوئے دریا سے گزارا۔ آخر میں قیامِ امن کے نام پر سوات کے لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا اور انھیں آئی ڈی پیز کی حیثیت سے ملک کے مختلف علاقوں میں در بہ در ہونا پڑا اور جب بہ ظاہر قیامِ امن کے بعد وہ واپس سوات آئے تو اپنے ساتھ پاکستان کے دوسرے علاقوں سے کئی سماجی برائیاں بھی لے کر آئے۔ یہ ایک الگ تفصیل طلب موضوع ہے جس پر کسی دوسرے موقع پر قلم اٹھایا جائے گا۔

اس وقت ہمارا موضوع مدین میں سوات آنے والے ایک مہمان سیاح کے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں اندوہ ناک قتل اور اس کے ممکنہ پسِ منظر کا ہے۔ سوات میں طالبانائزیشن تخلیق کرنے سے قبل سوات پاکستان کا حصہ ہوتے ہوئے بھی نہایت پرامن تھا۔ یہاں مذہب کے نام پر کسی قسم کا تشدد موجود نہیں تھا۔ سیاحوں کو ہر طرح کا تحفظ حاصل تھا۔ ہم اہلِ سوات گرمی کے موسم میں خود اس بات کا مشاہدہ کرتے کہ اگر سوات کے سیاحتی مقامات پر کسی سیاح کو ہوٹل میں جگہ نہ ملتی تو عام لوگ اسے مہمان بنا کر اپنے مہمان خانوں میں ٹھہراتے تھے۔ اس کے علاوہ سیاح سوات میں دریا کے کنارے کہیں بھی رات گزارنے کے لئے کیمپنگ کر سکتے تھے۔ اس پر نہ کوئی پابندی عائد تھی اور نہ ہی اس کے لئے سیاحوں کو کوئی کرایہ ادا کرنا پڑتا تھا۔

مدین کے موجودہ واقعے پر ہمارے ایک قریبی دوست اور سوات کے ممتاز صحافی فیاض ظفر نے مدین جاکر وہاں ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ فائل کی ہے جس کے تحت سوات میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قرآن مجید کی بے حرمتی کے الزام میں قتل ہونے والے سیال کوٹ کے سیاح کے بارے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کا کوئی واضح ثبوت نہیں مل سکا ہے۔ ہوٹل کے مالک کے مطابق سلیمان نامی شخص نے 18 جون کو اس کے ہوٹل میں کمرہ کرایہ پر لیا تھا۔ 20 جون کو لوگوں کے شور پر ہوٹل کا مالک جب موقعے پر پہنچا تو بعض لوگوں کے ہاتھوں میں قرآن پاک کے جلے ہوئے اوراق تھے۔ لوگ سلیمان کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے مگر وہ دروازہ نہیں کھول رہا تھا۔ پولیس کے آنے پر اس نے دروازہ کھولا اور پولیس عوام کی طرف سے نامزد ملزم کو پولیس سٹیشن لے گئی۔ بعد ازاں مسجدوں میں اعلانات ہوئے اور لوگوں کا ہجوم پولیس سٹیشن پہنچ گیا۔ پولیس نے ملزم کو تحفظ دینے کی کوشش کی لیکن بپھرے ہوئے عوامی ہجوم کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور یوں ملزم کو حوالات سے نکال کر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ ہمارے دوست فیاض ظفر کے مطابق یہ پہلے سے بنا بنایا کھیل تھا جس کے لئے سٹیج کئی دن قبل تیار کیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں اس کی مکمل تفصیلات درج کی ہیں۔

بہرحال وطن عزیز میں مذہب کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کوئی آخری واقعہ ہو گا۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں اس طرح کے واقعات عام ہیں جو سب کو معلوم ہیں۔ البتہ سوات جیسے پُرامن وادی میں یہ پہلا واقعہ ہے اور یہ اب سوات کی مقدس سرزمین کے خوب صورت ماتھے پر ایک بدنما داغ کی طرح ہمیشہ کے لئے موجود رہے گا۔

اس ملک کے ساتھ سب سے بڑا ظلم جنرل ضیاء الحق نے کیا ہے۔ اس نے اپنے آمرانہ دور میں پاکستان میں مذہب کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ اس نے ملک کے ہر ادارے اور ہر تہذیبی قدر کو زبردستی سے مذہب کا لبادہ پہنا دیا تھا۔ وہ اسلامی نظام نافذ کرنے کا داعی تھا لیکن اس نے اسلامی نظام کے نفاذ کی آڑ میں اپنے غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر اخلاقی حکومت کو دوام بخشا۔ جہاد کے نام پر مذہبی جتھے بنائے جس کے لئے امریکا، یورپ اور سعودی عرب نے مالی مدد فراہم کی۔ آج سعودی عرب میں کوئی ایک مدرسہ بھی موجود نہیں لیکن پاکستان میں ہزاروں مدرسے موجود ہیں اور پھل پھول رہے ہیں جہاں ایسے مذہبی اذہان جنم لے رہے ہیں جو دنیا بھر میں کسی بھی اسلامی ملک میں موجود نہیں ہیں۔ ان مدرسوں کے ذریعے مذہبی جنونیت کو خوب ہوا دی گئی اور اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں نے اپنے اپنے مقاصد کے لئے مذہبی جنونیوں کا خوب استعمال کیا۔ افسوس کہ یہ سلسلہ اب بھی تھما نہیں ہے۔

مدین کے واقعہ میں ملوث چند باریش لوگ سوشل میڈیا پہ وائرل اپنی ایک ویڈیو میں بڑے فخر سے کِہ رہے ہیں کہ ”انھوں نے حوالات سے ملزم کو کیسے نکالا، کس طرح اس کا سر کچل کر اس کا قیمہ بنایا اور ایک پولیس کا سپاہی جب اس کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا تو اس پر الزام لگاتے ہوئے وہ لوگ ویڈیو میں کہتے ہیں کہ پولیس کا ایک سپاہی ہمیں حوالات کے اندر جانے نہیں دے رہا تھا، حالاں کہ اس کی داڑھی بھی تھی لیکن اس میں ایمان کا جذبہ نہیں تھا، لیکن جس طرح خادم رضوی اور ممتاز قادری شہید نے ہمارے اندر ایمان کا جذبہ ڈال دیا ہے، وہ ہمارے بھائی تھے، اور قیامت تک یہ جذبہ ہمارے دلوں میں موجود رہے گا لیکن سپاہی کے اندر یہ جذبہ موجود نہیں تھا۔ ویڈیو میں دو باریش بھائی اور ایک اور باریش صاحب بڑے فخر سے ملزم کے قتل اور پھر اسے بازاروں میں گھسیٹنے کا واقعہ بتا رہے ہیں۔ وہ اسے مدین کے غیرت مند پختونوں کا کارنامہ قرار دے رہے ہیں۔ آخر میں وہ کہتے ہیں کہ ہم خادم رضوی کے پیروکار ہیں اور یہاں ہمارے ساتھ تحریک لبیک کے ساتھی موجود ہیں۔ ویڈیو میں وہ یہ بھی کہ رہے ہیں ہمارا یہ جذبہ تاقیامت زندہ رہے گا۔ آخر میں وہ اپنے سننے والوں کو پیغام دیتے ہیں کہ آئندہ جو بھی قرآن کی بے حرمتی کرے گا، اس کا یہی انجام ہو گا۔“

تحریک لبیک کی بنیاد کس نے رکھی تھی اور خادم رضوی کو سہولتیں کون فراہم کرتا تھا، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ یہ بعض ریاستی اداروں کا بیانیہ ہے جس کے تحت وہ اپنے مذموم مقاصد کے لئے مذہبی گروہ اور جتھے بناتے ہیں، انھیں پنپنے دیتے ہیں اور آخر میں جب وہ ان کے لئے مسئلہ بن جاتے ہیں تو ان کے رہنماؤں کو قید اور قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ لیکن ان کے زہریلے اثرات عوام کے ذہنوں میں گھر کرلیتے ہیں جس کا عملی مظاہرہ ہمیں مدین میں دیکھنے کو ملا۔

یوں لگتا ہے جیسے مدین کے واقعے کی آڑ میں سوات کے لوگوں کی آزمائش مقصود تھی کہ نام نہاد طالبائزیشن، اس کے نتیجے میں قتل و غارت سہنے اور آئی ڈی پیز بننے کے بعد ان میں کتنا ”جذبۂ ایمانی“ باقی ہے۔ مدین کے واقعے کی حد تک شاید ان کی آزمائش کام یاب رہی ہے لیکن اہلِ سوات کی فطرت میں شاید یہ بات شامل ہے کہ وہ اجتماعی نقصان اٹھانے کے بعد سوچ بچار سے کام لیتے ہیں۔ اب بھی سوشل میڈیا پہ سوچ سمجھ کے حامل سوات کے فہمیدہ لوگ اس اندوہ ناک واقعے کی سخت مذمت کر رہے ہیں اور اسے سوات کے حوالے سے بہت بڑی بدشگونی قرار دے رہے ہیں۔ تاہم جن مخصوص قوتوں کو سوات کے لوگوں کی آزمائش مقصود تھی، وہ سوات میں مذہب کے نام پر دوبارہ دہشت گردی پیدا کرنے اور اسے فروغ دینے میں ہرگز کام یاب نہیں ہو سکیں گے۔

سوات میں طالبانائزیشن کے بنانے، اسے فروغ دینے اور اسے آخری حد تک پہنچانے کے مقاصد یوں تو بہت سے ہیں لیکن ایک بڑا مقصد یہ حاصل کر لیا گیا ہے کہ سوات میں ایک بہت بڑی چھاؤنی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کے لئے سوات کے لوگوں سے قیمتی زمینیں اونے پونے نرخوں پر ”چھین“ لی گئی ہیں۔ ملم جبہ اور کالام میں بہترین مقامات پر فوج نے زمینیں ہتھیا لی ہے۔ اس کے علاوہ سوات ائرپورٹ کو وسعت دینے کی آڑ میں عام لوگوں کو معمولی قسم کا معاوضہ دے کر انھیں اپنے گھروں بلکہ کوٹھیوں تک سے محروم کر دیا گیا ہے۔ سی گرام نامی علاقے میں چھاؤنی کے ہیڈ آفس کے لئے وسیع قطعہ اراضی قبضے میں لے لی گئی ہے۔ کانجو ٹاؤن شپ میں فوجی حکام کے لئے مبینہ رہائشی کالونی کا قیام، سیدو شریف سرکٹ ہاؤس، پیتھام اور کبل گالف کورس پر طویل عرصے تک ناجائز قبضہ فوجی چھاؤنی کے ناخوش گوار نتائج میں سے ہے۔ فارسٹ کی زمین جو آئینی طور پر کسی کو بھی کسی بھی حالت میں نہیں دی جا سکتی، عمران خان کی سابق صوبائی حکومت نے 2018 ء میں قوانین میں تبدیلی کرتے ہوئے 19 کنال اور 14 مرلہ فارسٹ کی زمین فوج کے حوالے کردی تھی۔ یہ وہی چھاؤنی ہے جس کی موجودگی میں سوات میں ٹارگٹ کلنگ، 2022 ء میں طالبان کی واپسی، اپریل 2023 ء میں مٹہ پولیس سٹیشن پر بم دھماکہ اور اس طرح کے کئی دوسرے بدامنی کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سوات میں فوجی چھاؤنی اگرچہ مذہبی شدت پسندی کے خاتمے اور مستقل امن و امان بحال رکھنے کے نام پر قائم کی گئی ہے لیکن وہ سوات میں پائیدار امن قائم کرنے میں کام یابی کی ضمانت نہ بن سکی ہے بلکہ یوں لگتا ہے جیسے سوات میں چھاؤنی کا قیام سوات جیسی قدرتی خوب صورتی کے حامل وادی میں محض اپنے مستقل قیام اور اپنی عسکری زمینوں کو وسعت دینے کے سلسلے میں عمل میں لایا گیا ہے۔

پاکستان میں کئی دہائیوں سے مذہبی شدت پسندی کو ریاست کی چھتری تلے فروغ دیا گیا ہے۔ بلاسفیمی کے قوانین کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے مذہبی شدت پسند گروہ کسی پر بھی مذہب کے توہین کا الزام لگاتے ہیں اور اس کی آڑ میں عیسائیوں کے گاؤں کے گاؤں جلا دیتے ہیں۔ سیال کوٹ میں جس طرح سری لنکن شہری کو ہجوم نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا، اگر اس میں ریاست سخت سزائیں دیتی تو آج مدین کا واقعہ ظہور پذیر نہ ہوتا۔ مشال خان کا واقعہ، سرگودھا کی مجاہد کالونی میں 75 سالہ نذیر مسیح کا مبینہ طور پر قرآن کے توہین پر قتل اور اس طرح دوسرے کئی واقعات میں عدم ثبوت کے باوجود بے گناہ لوگوں کو اپنی صفائی کا موقع دیے بغیر جانوں سے محروم کر دینا مذہبی شدت پسندی کو مزید فروغ دینے کا باعث بن گیا ہے۔

توہینِ مذہب واقعتاً ایک سنگین جرم ہے لیکن اس کی سزا کے لئے باقاعدہ قوانین موجود ہیں۔ اس سلسلے میں قانون کے مطابق عدالتوں کو ہی فیصلے کا اختیار حاصل ہے۔ کسی مشتعل ہجوم کو حق حاصل نہیں کہ وہ توہینِ مذہب کی آڑ میں قانون اپنے ہاتھوں میں لے۔ پاکستان کے عوام بھلے مذہب کی سچی تعلیمات پر خود عمل نہ کریں، جھوٹ بولیں، کسی کو دھوکہ دیں، دوسروں کے حقوق پر ڈاکا ڈالیں، ماں بہن کا حق غصب کریں، خوردنی اشیا میں ملاوٹ کریں، جعلی دوائیاں بیچیں، ایک دوسرے کو ایذا پہنچائیں اور یہاں تک کہ دوسروں کی زندگی عذاب بنائیں لیکن جب ان کے کانوں میں یہ آواز پڑتی ہے کہ فلاں بندے نے توہینِ مذہب کیا ہے تو پھر وہ خدا کا اختیار اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں اور ہجوم جمع ہو کر اسلام کا ”بول بالا“ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔

ریاست کا کام قانون کو سختی سے نافذ کرنا ہوتا ہے۔ وہ اپنی رٹ کے حوالے سے بہت حساس ہوتی ہے۔ عدالتیں مظلوم کو انصاف فراہم کرنے میں لیت و لعل سے کام نہیں لیتیں۔ بعض معاملوں میں انصاف فراہم کرنے میں رات دن لگاتی ہیں تاکہ جلد از جلد فیصلہ صادر کریں اور جرم کرنے اور جرم پر ابھارنے والوں کو پیغام دیں کہ وہ اپنے کیے کی سزا فوری طور پر اور ہر صورت میں پائیں گے لیکن یہاں تو جج بھی توہینِ مذہب کے کیسوں میں خوف زدہ رہتے ہیں۔ جج بھی مشتعل ہجوم کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ وہ اگر ہجوم کو اس کی مرضی کا انصاف نہ دے تو وہ جج کے گھر پر بھی حملہ آور ہوجاتا ہے۔ ملتان کے جنید حفیظ اور اس کے وکیل راشد رحمان کا قتل تاریخ کا حصہ ہے لیکن اس کے باوجود حکومت اور عدالتیں قانون کی عمل داری میں سنجیدگی سے دل چسپی کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔

مدین کے واقعہ میں سوشل میڈیا پر بعض ویڈیوز گردش کرتی نظر آتی ہیں۔ ان میں ان متعلقہ لوگوں کو آسانی کے ساتھ پہچانا جاسکتا ہے جو اپنی درندگی پر خوشی اور فخر کا اظہار کر رہے ہیں۔ انھیں قانون کی سخت گرفت میں لایا جائے اور انھیں سخت ترین سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ ہجوم اکٹھا کرنے اور اس پر اشتعال کا تیل ڈالنے والے شدت پسند لوگ ایسا کرتے ہوئے دس دفعہ سوچنے کی زحمت ضرور گوارا کریں۔

ریاستِ پاکستان روز بہ روز اپنا وقار کھو رہی ہے۔ عالمی سطح پر ہم اچھوت بن چکے ہیں لیکن ہماری عدالتیں مظلوموں کو انصاف فراہم کرنے کی بہ جائے سیاست دانوں کے مقدمات سننے میں زیادہ دل چسپی لے رہی ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ قومی سلامتی کی بہ جائے اپنی مرضی کے سیاسی داؤ پیچ میں لگی ہوئی ہے اور سیاست دان آپس میں مشت و گریباں ہیں۔ جب کہ ریاست کی رِٹ اور اس کی ساکھ آخری دَموں پر ہے۔ کئی دہائیوں پر مشتمل غداری اور حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنے اور مخصوص مذہبی بیانیہ عوام کے دل و دماغ میں راسخ کرنے کا جو تسلسل برقرار رکھا گیا ہے، اب اس کے نتائج ہر روز نئی نئی مہیب شکلوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

Facebook Comments HS

4 thoughts on “سوات کے مشتعل ہجوم کا پسِ منظر

  • 22/06/2024 at 10:28 شام
    Permalink

    فوج مخالف انتہائی زہریلی تحریر جس کا مقصد شاید اپنا کوئی پرانا حساب برابر کرنا ہے۔ لگے رہیں۔

  • 22/06/2024 at 11:37 شام
    Permalink

    سوات واقعہ کے صورت حال پر ایک فکر انگیز،فوری اور مبنی بر حقیقت تحریر۔

Comments are closed.