”جستِ فکر“ پر طائرانہ نظر
ڈاکٹر حسن فاروقی سے اپنا تعلق اتنا پرانا تو نہیں لیکن اس کے باوجود ان کی شخصیت میں کشش ایسے محسوس ہوتی ہے جیسے ہم صدیوں سے ایک ساتھ ہوں۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا بہتر جواب تو پیرا سائیکالوجی کے ماہرین ہی دے سکتے ہیں لیکن میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ قلم قبیلے کے افراد میں یہ کشش، فطرت نے ازل سے رکھی ہوئی ہے۔ جب بھی مجھے حرف و سخن سے جڑا ہوا کوئی شخص ملتا ہے، میں اسے اپنے دل کے قریب سمجھتا ہوں۔ یوں ڈاکٹر صاحب بھی ہمارے قلب و ذہن کے نزدیک ہیں۔
جب ان سے میری پہلی ملاقات ہوئی تو انھوں نے مجھے اپنے افسانوی مضامین کی کتاب ”جستِ فکر“ عطا کی جو کافی عرصہ دیگر کتب کے ہمراہ میری توجہ کی طالب رہی لیکن پھر ایک دن میں نے روز مرہ کے امور سے جان چھڑا کر ، اسے اٹھا ہی لیا اور پھر کیا تھا، ایک ہی بیٹھک میں اس کے کئی صفحات پڑھ ڈالے۔ کتاب کی نثر چغلی کھا رہی تھی کہ تخلیق کار کا تعلق فن اور فلسفے سے آج کا نہیں کئی دہائیوں کا ہے کیوں کہ جس طرح کی روانی اور سلاست ان کی تحریر میں موجود تھی، اس طرح کی نثر تخلیق کرنے میں طویل ریاضت اور حد درجہ جانکاری کی ضرورت ہے۔
ان کی نثر شاعرانہ انداز میں فلسفیانہ افکار کو اپنے دامن میں سمیٹے، قاری کے لیے بالکل بوجھ نہیں بنتی۔ ورنہ اردو دان طبقہ فلسفے کو بیان کرتے ہوئے احمد جاوید کی طرح، اس طرح کی جناتی زبان استعمال کرتا ہے کہ بقول غالب ”کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی“ ۔ کئی صفحات کی ورق گردانی کے بعد ، کام کی بات محنت سے کشید کرنا پڑتی ہے۔ اسی لیے فلسفے کے قارئین کی تعداد دن بہ دن کم ہوتی جا رہی ہے۔ دوسرا ہمارے ہاں لوگ فلسفہ اس لیے بھی نہیں پڑھتے کہ یہ ملازمت اور روز گار کی تلاش میں مدد گار ثابت نہیں ہوتا۔ ہمارے سماج میں تو فلسفہ پڑھنے والوں کو دماغی مریض بھی خیال کیا جاتا ہے ۔ ایسی صورتِ حال میں فلسفے کو آسان بنا کر پیش کرنا ایک طرح کی انسانی خدمت ہے جسے ڈاکٹر حسن فاروقی نے بہ خوبی انجام دیا ہے اس کا ذکر ان کی کتاب ”جستِ فکر“ کے دیباچے میں بھی موجود ہے :
”ان تحریروں میں، میں نے اپنی سوچوں کو فکر کے پیرائے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ اس کوشش میں رومانس کی آمیزش میں نے دانستہ طور پر کی ہے جس کی وجہ قارئین کی دلچسپی کو قائم رکھنا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فلسفے کو آسان اور دلچسپ بنا کر پیش کرنا میرا مشن ہے۔“
مذکورہ کتاب میں انھوں نے فلسفے، رومانس اور ادب کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے، اس طرح کا تجربہ 1991 ء میں ناروے کے ادیب جاسٹن گارڈر نے اپنے ناول ”صوفی کی دنیا“ میں کیا تھا جسے پوری دنیا میں قبولیت ملی اور لگ بھگ ساٹھ زبانوں میں اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس ناول میں البرٹو ناکس نامی شخص سوفی آمونڈ سین پر فلسفیانہ بھید کھولتا ہے۔ کہانی رومانس اور فلسفیوں کے افکار کے مابین آگے بڑھتی ہے۔ ڈاکٹر احسن فاروقی کے تقریباً تمام افسانوی مضامین میں بھی ایک خوب صورت لڑکی موجود ہے جو نام بدل بدل کر ظاہر ہوتی ہے۔
کبھی شہلا، شازیہ اور نوشین کی صورت میں تو کبھی فوزیہ، رضیہ اور نیلم کے روپ میں۔ ان میں سے ہر لڑکی کا کردار خوب صورتی اور کشش میں کمال ہے۔ ممکن ہے کہ یہ تخلیق کار کا آئیڈیل تصورِ حسن ہو جسے اس نے تمام عمر اپنے معروض میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہو جو اَب اس کی افسانوی کائنات میں ظہور پذیر ہوا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کرداروں میں سے ایک بھی فلسفیانہ گفتگو اور علم و ادب سے دلچسپی نہیں رکھتا جب کہ مرد کا کردار جو نام بدل بدل کر ان افسانوی مضامین میں ظاہر ہوا ہے اور ان لڑکیوں پر فریفتہ دکھایا گیا ہے، وہ فلسفی کردار ہے جو مختلف انسانی کیفیات اور حالات کی فلسفیانہ تعبیرات کرتا نظر آتا ہے۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر افسانوی مضمون کا مرد کردار مصنف کا Mouth Piece ہے اور اس کے نقطہ نظر کی ترجمانی کر رہا ہے۔ اس مرد کردار کے توسط سے کئی فلسفے ان کے افسانوی مضامین کے متن کا حصہ بنے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ مرد کردار مصنف کے جبر کا شکار ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ڈپٹی نذیر احمد کے کردار اس کے اخلاقی نظام کی نمایندگی کرتے نظر آتے ہیں اور اس کے اخلاقی نظام سے سرِ مو بغاوت نہیں کرتے۔ اس کے برعکس قرۃ العین حیدر کے کردار مصنف کے جبر کا شکار نہیں ہیں۔
اگر روسی نقاد میخائل باختن کی زبان میں بات کی جائے تو ڈاکٹر حسن فاروقی کے مرد کر دارPolyphonic یا Dialogic کے بجائے Monologic کردار ہیں جن کی اپنی آزاد حیثیت موجود نہیں بلکہ وہ مصنف کی کٹھ پتلیاں ہیں جو اس کے اشاروں پر قارئین کے سامنے تماشا پیش کر کے غائب ہو جاتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ مصنف نے چوں کہ اسے افسانے خیال نہیں کیا اس لیے فکشن کی شعریات کا ہو بہو اطلاق بھی اس طرح سے ان کی تحریروں پر نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ دیگر فکشن نگاروں کی تحریروں پر ہوتا ہے۔
ان افسانوں کو صدام ساگر کے بقول ڈاکٹر شفیق جالندھری نے ”افکاریہ“ سے موسوم کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اردو ادب میں یہ ایک نیا تجربہ ہے اس لیے اسے نہ تو افسانہ کہا جا سکتا ہے اور نہ مضمون۔ میرا خیال ہے کہ اگر ان کو افسانوی مضامین کہ دیں توبھی غلط نہ ہو گا کیوں شاعری میں ایک صنف نثری نظم موجود ہے جس پر شاعری کے قوانین کا اس طرح اطلاق نہیں ہوتا جس طرح دیگر شعری اصناف پر ہوتا ہے۔ بعینہ ان افسانوی مضامین پر ہم فکشن کے قوانین کا اطلاق نہیں کر سکتے کیوں کہ یہ افسانہ اور فلسفیانہ مضامین کے امتزاج کا ایک منفرد انداز ہے۔
ویسے بھی ہر نئی صنف اپنے قوانین اور شعریات اپنے ساتھ لاتی ہے۔ جیسے جیسے ترقی کی منازل طے کرتی جاتی ہے ویسے ویسے اس کی شعریات نکھر کر سامنے آجاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب اگر اس عمل کو جاری رکھیں تو اسے مقبول عام بنا سکتے ہیں اور ان کی تقلید میں نئے لکھاری بھی اس میں طبع آزمائی کریں گے اور یوں یہ سلسلہ چل نکلے گا۔ کیوں کہ فکشن میں فلسفے کو پیش کرنے کا تجربہ نیا نہیں ہے بلکہ اس کی تاریخ ابن طفیل کی کتاب حئی ابنِ یقزان سے شروع ہوتی ہے جس کا پہلی بار علم 1671 ء میں ہوا اور پھر جلد ہی اس کا شمار دنیا کی مقبول ترین کتابوں میں ہونے لگا۔
اردو ادب میں بھی مختلف اخلاقی، سماجی، تاریخی اور جمالیاتی فلسفوں کو فکشن میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ قرۃ العین حیدر کے ”آگ کا دریا“ سے لے کر مرزا اطہر بیگ کے ”غلام باغ“ تک ایک طویل فہرست ہے جس میں اس طرح کی کوششیں موجود ہیں اور وہ قارئین کے ہاں رد نہیں ہوئیں، اس لیے حسن فاروقی صاحب کی ان کوششوں سے میں پُر امید ہوں کہ سنجیدہ قارئین اس کو بھی سراہیں گے کیوں کہ ان کے ہاں زندگی کی جانب تعمیری اور مثبت رویہ نظر آتا ہے۔
زندگی سے مایوسی، لایعنیت اور اداسی ان کے ہاں مفقود ہے جو امید کا دیا روشن رکھتی ہے۔ ان کا کردار اپنی محبوبہ ”نوشین“ کی موت پر بھی اسے زندگی کا تسلسل قرار دے کر مایوس نہیں ہوتا، اس سے بڑھ کر اور رجائیت کیا ہو سکتی ہے؟ یہی وجہ ہے ان کے فن کو ہم تعمیری، مثبت، توانا اور ارتقا پذیر کہ سکتے ہیں۔ پروفیسر جلیل الرحمان نے تو ان مضامین پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے، ان میں بات سے بات نکالنے کے فن کی بنیاد پر مغرب کے معروف افسانہ نگار ایڈگر ایلن پو کے اثرات کی جانب اشارہ کیا ہے لیکن ایلن کے قاری کو معلوم ہے کہ وہ افسانے میں موضوع کا تجزیہ نہیں کرتا بلکہ افسانہ کسی اہم موڑ پر لا کر ختم کر دیتا ہے۔
اس کے برعکس حسن فاروقی صاحب اپنے مواد کا تجزیہ اپنے مرد کرداروں سے کراتے ہیں جس سے متن افسانے کی اقلیم سے نکل کر مضمون کی اقلیم میں داخل ہو جاتا ہے۔ ان کی فنی مہارت ہے کہ وہ قاری کو بوریت سے بچائے رکھتے ہیں اور افسانہ کے آخر میں کہانی سے رجوع کرتے ہیں جس سے مضمون ایک بار پھر افسانے میں لوٹ جاتا ہے۔


