ایک دن کابل میں


گزشتہ دنوں اپنے پڑوسی اور اسلامی ملک افغانستان میں ایک قریبی دوست کی بیمار پرُسی کے لئے کابل جانا ہوا۔ وہاں میں نے طالبان کی اماراتِ اسلامی کا طرزِ حکومت اور اپنے ملک اور عوام کے لئے ان کے اقدامات دیکھے تو سوچا کیوں نہ اپنے خیالات و مشاہدات اپنے قارئین کے ساتھ شیئر کروں۔ لنڈی کوتل تک میں اپنی گاڑی میں گیا جسے میں نے لنڈی کوتل میں اپنے دوست حفیظ اللہ خان کے ڈیرے پر چھوڑ دیا اور ان کے ہم راہ طورخم کی راہ لی۔ تین دن بعد چوں کہ عیدالاضحٰی کا بابرکت دن آنے والا تھا، اس لئے تورخم بارڈر پر آج غیر معمولی رش نظر آ رہا تھا۔ ایک بات ہم بتاتے چلیں کہ افغانستان جیسے شان دار ملک تک رسائی اتنی آسان ہے کہ ہمیں وہاں پہلے ہی جانا چاہیے تھا لیکن چلیں آج موقع ملا ہے تو اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ میں نے پشاور میں افغان کونسلیٹ سے ارجنٹ ویزہ لیا جو معمول کے ویزے کی فیس کی نسبت اسی دن دگنی فیس پر مل جاتا ہے۔ متعلقہ ونڈو میں پاسپورٹ دیا اور ایک گھنٹے کے اندر مجھے ویزہ جاری کر دیا گیا۔

طورخم بارڈر کے دونوں اطراف سے ہزاروں لوگوں کا براہ راست روزگار وابستہ ہے۔ اس بارڈر پر روزانہ کی بنیاد پر اربوں کی تجارت ہوتی ہے۔ چوں کہ میرے دوست حفیظ اللہ خان افغانستان میں بچپن سے تجارت کر رہے ہیں، اس لئے لنڈی کوتل میں رہتے ہوئے وہ طورخم کے پیچ و خم سے خوب واقف ہیں، اس لئے ہمیں یہاں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہوا۔ اپنے پاکستان کے امیگریشن سے ہوتے ہوئے افغانستان کے امیگریشن کاؤنٹر کو ہم نے بڑی آسانی سے پار کیا اور اس طرح ہم امارت اسلامی میں داخل ہو گئے۔

طورخم کے بس سٹینڈ پر ہر قسم کی گاڑیوں کی سہولت موجود تھی۔ یہاں پر بھی لاری اڈہ والوں کی روایتی کھینچا تانی کے بعد ہم ایک رجسٹرڈ ٹیکسی میں کابل کے لئے روانہ ہوئے۔ افغانستان میں ٹیکسی کا مخصوص رنگ ہے جو کہ طالبان کی حکومت نے عوام کی سہولت اور حفاظت کے لئے منظم انداز میں وضع کیا ہے۔ ٹیکسی گاڑیوں کا ہلکا نیلا رنگ ہے اور باقاعدہ نمبر پلیٹ کے ساتھ اسے سڑکوں پر رواں دواں رکھنے کی سہولت حاصل ہے۔ چھ بجے کے وقت ہم نے ایک جگہ رک کر عصر کی نماز پڑھی اور پھر اپنی منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ پبلک اور پرائیویٹ گاڑیوں کے لئے راستے میں جگہ جگہ پٹرول پمپ بنائے گئے ہیں جن میں ڈیزل اور پٹرول کے علاوہ ایل پی جی کی سہولت بھی موجود ہے۔ وہاں معلوم ہوا کہ افغانستان میں گیس سستی ہے، اس لئے اکثر چھوٹی گاڑیوں میں گیس استعمال کی جاتی ہے جو کہ پڑوسی ملک تاجکستان سے نہایت کم ریٹ پر منگوائی جاتی ہے اور سستی قیمتوں پر ہی پٹرول پمپس کو وافر مقدار میں فراہم کی جاتی ہے۔

طورخم سے کابل دو سو پچاس کلومیٹر دور ہے جس کا راستہ عام طور پر چار گھنٹے میں طے کیا جاتا ہے۔ اس حساب سے ہمیں دس بجے کابل پہنچنا چاہیے تھا۔ مغرب کی نماز کے بعد اندھیرا چھا گیا تھا۔ راستے میں ڈھاکہ، مار کوہ، بٹی کوٹ، ثمر خیل، جلال آباد، لغمان، سروبی، نغلو اور ماہی پر کے پہاڑوں سے ہوتے ہوئے ہم رات کے ساڑھے گیارہ بجے بخیریت کابل پہنچ گئے۔ راستے میں جگہ جگہ طالبان کی چیک پوسٹوں پر رُکے لیکن ہر جگہ تحفظ کا احساس رہا۔ ان کا رویہ عام لوگوں کے ساتھ انتہائی دوستانہ اور افغانوں کی روایتی مہمان نوازی کا مکمل آئینہ دار تھا۔

صبح اُٹھتے ہی فاختاؤں کی آوازوں سے اندازہ ہوا کہ افغانستان میں واقعی امن ہے، اگرچہ کچھ معاملات میں افغان لوگ دوسری دنیا کے مقابلے میں کمزور ہوں گے لیکن درحقیقت وہ ایک نہایت پرامن ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ سویرے آنکھ کھلتے ہی کانوں میں فاختاؤں کی سریلی آوازوں سے صبح کا آغاز نہایت اچھا لگا۔ ہمارے ہاں تو پرندوں کے دُشمن رہتے ہیں، یہاں تک کے مہمان پرندوں کو بھی زندہ نہیں چھوڑا جاتا۔

جمعہ کا دن تھا اس لئے پورے افغانستان میں چھٹی تھی، جب کہ زندگی کی بنیادی ضروریات کی اشیا کی دکانیں کھلی تھیں۔ ہمارے میزبان کی روایت ہے کہ وہ جمعہ کا دن اپنے باغ واقع سبز اولس والی میں گزارتے ہیں جو کہ کابل سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہ ہمیں بھی اپنے ساتھ باغ لے جانے لگے۔ راستے میں ضرورت کا سامان سبزی اور گوشت وغیرہ لے کر ہم روانہ ہو گئے۔ معمول کے مطابق دوپہر کے کھانے میں آس پاس کے لوگ جو اس باغ میں کام کرتے ہیں، کے علاوہ یار دوست بھی شریک ہوتے ہیں۔ افغانوں کی روایتی خوراک اور مختلف قسم کے فروٹ کھانے کے لئے موجود تھے۔ ہمارے میزبان جن کی بیمار پُرسی کے لئے ہم گئے تھے، افغانستان کی بہت بڑی کاروباری شخصیت ہیں۔ ہمارے ہم سفر اور مہمانوں میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے بچن سنگھ بھی موجود تھے جن کے باپ دادا افغانستان کے شہر کابل میں مقیم تھے، جب کہ بچن سنگھ کا بچپن بھی کابل میں گُزرا ہے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اماراتِ اسلامی کی حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ وہ لوگ جو اصل میں افغانی ہیں اور کشیدہ حالات میں ملک چھوڑ چکے ہیں، واپس اپنے ملک آ جائیں اور جن لوگوں نے ان کی جائیدادوں پر ناجائز قبضہ کیا ہے، اماراتِ اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ ان کی جائیداد اصل مالکوں کو لوٹا دے۔ بچن سنگھ آج کل دہلی میں رہتے ہیں، وہ اس سلسلے میں افغانستان آئے تھے تاکہ وہ اپنے باپ دادا کی جائیداد واپس لے سکیں۔ بچن سنگھ بھی ہمارے میزبان کے مہمان تھے جو بچن سنگھ کے والد کے دوست ہیں۔

کابل بازار میں جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں جو امن و امان کے سلسلے میں امریکن فوجیوں نے لگائے تھے۔ اماراتِ اسلامی نے امن و امان کی بحالی کے سلسلے میں بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں جس کی وجہ سے جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔

شہر بھر میں مخصوص ہلکے نیلے رنگ کے ٹیکسیوں کے لئے سٹینڈ بنائے گئے ہیں اور ان میں باقاعدہ طور پر ہر جگہ کے لئے کرائے مقرر ہیں جن پر سختی سے عمل درآمد ہوتا ہے۔ طالبان جگہ جگہ اس کو مانیٹر کرتے ہیں اور کوئی بد نظمی دیکھنے میں نہیں آتی۔ اس کے علاوہ پیلے رنگ کے پرانے ٹیکسی بھی شہر میں موجود ہیں جن میں ٹاٹا انڈیا کے بنے ہوئے رکشوں کی ایک بڑی تعداد بھی گردش میں ہے۔

بازاروں اور دکانوں میں ساٹھ فیصد اشیا ایران کی بنی ہوئی ہیں۔ افغانستان کی معیشت اور اقتصاد پر ایران کا مکمل قبضہ ہے۔ پہلے زمانے میں یہی اشیا جو کہ زیادہ تر خورونوش پر مشتمل تھیں، پاکستان سے منگوائی جاتی تھیں لیکن ہماری ناقص پالیسیوں کی وجہ سے یہ مارکیٹ اب ہم کھو چکے ہیں۔

ہمارے میزبان دوپہر کے بعد ہمیں کابل کے بازار میں لے گئے تاکہ ایک تو ہم سیر کرسکیں اور دوسرا شہر کے خد و خال بھی سمجھ سکیں۔ ہم نے بازار میں دیکھا کہ دکانوں کے سامنے اور روڈ کے کنارے ایک بڑی تعداد میں چھوٹی چھوٹی ہتھ ریڑھیوں میں خرید و فروخت جاری تھی۔ دو دن بعد بقر عید کی وجہ سے مال مویشی بھی ہر جگہ نظر آ رہے تھے۔ ہم اپنے میزبان کے ملکیتی شادی ہال گئے جو ملین ڈالرز کے سرمایہ سے بنا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ وہاں ایک شادی کی تقریب جاری تھی۔ دو ہزار لوگوں کے کھانے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ یہ شادی ہال دو حصوں میں تقسیم تھا، زنانہ اور مردانہ۔ ہم مردانہ حصہ میں گئے۔ چوں کہ افغانستان میں گانا بجانا منع ہے، اس لئے اسلامی ماحول اور رواج کے مطابق شادی ہو رہی تھی۔ سٹیج پر تلاوت، نعت اور دوسرے اسلامی پروگرام جیسے اللہ پاک کے صفاتی نام نہایت میٹھی آواز میں سنائے جا رہے تھے۔ اس دوران ہمارے سامنے ایک قاری صاحب کو بُلایا گیا جنہوں نے اللہ پاک کے سو صفاتی اسماء نہایت موثر اور سکون بخش آواز میں سنائے۔

ہمیں بتایا گیا کہ اس وقت حکومتی مناصب پر زیادہ تر پختون تعینات ہیں۔ سرکاری طور پر اگرچہ افغانستان میں پختونوں کی آبادی چالیس فیصد بتائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود دوسری مختلف اقوام جیسے ہزارہ وغیرہ مجموعی طور پر ساٹھ فیصد ہیں جن کو حکومتی معاملات میں نظر انداز کر دیا گیا ہے جو افغانستان کے مستقبل کے لئے کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔

افغانستان کو چوں کہ رسمی طور پر کسی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے، اس لئے بین الاقوامی طور پر وہ انٹرنیشنل بینکنگ سسٹم کے ساتھ وابستہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا پورا مالیاتی سسٹم کیش پر چل رہا ہے، البتہ افغانستان کے اندر بنک کی سہولیات موجود ہیں لیکن بیرون ممالک سے کاروبار حوالہ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

شہر میں جگہ جگہ دکانیں برائے کرایہ خالی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امن و امان کی بہتر صورت حال کے باوجود ملک کی معیشت کم زور ہے۔ اس لئے بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ اس سلسلے میں امارات اسلامی کوشش کر رہی ہے کہ بے روزگاری میں کمی آ جائے اور عام لوگوں کو زیادہ سے زیادہ زندگی کی بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں لیکن ایک منظم حکومت کے لئے ہر شعبہ کے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے لیکن طالبان کے پاس ریاستی امور بہتر انداز میں چلانے کے لئے ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ماہر ٹیم موجود نہیں ہے، مگر طالبان ان شعبوں کی طرف توجہ دے رہے ہیں اور اس وقت وہ سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہیں۔ عام لوگوں کو کامل یقین ہے کہ افغانستان جلد یا بہ دیر ترقی کی پٹری پر چڑھ جائے گا۔ مگر اس وقت طالبان پچھلی حکومتوں کے بنائے ہوئے اداروں کو جوں کے توں چلانے پر مجبور ہیں جن میں اصلاح کی بڑی گنجائش ہے۔

ایک اہم مسئلہ جس کی طرف پوری دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں چوکوں، بازاروں اور دیگر مقامات پر افغان بچے کچرا اٹھاتے اور بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، طالبان کو اس جانب خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان افغان بچوں کو اگر جدید تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جائے تو اس سے افغانستان کا مستقبل محفوظ ہو جائے گا۔ میرا خیال ہے کہ جب تک لوگوں کو باعزت روزگار اور بچوں کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولتیں فراہم نہ کی جائیں، اس وقت تک کوئی انقلاب، اسلامی امارات یا جمہوری حکومت بے معنی ہوگی۔

ایک بات جو اطمینان بخش ہے وہ یہ ہے کہ افغانستان توانائی کے معاملے میں ہم سے بہتر ہے۔ جگہ جگہ پٹرول پمپ میں ایل پی جی پاکستان کے مقابلے میں بہت سستی ہے کیوں کہ گیس اور پٹرولیم مصنوعات پڑوس میں ایران اور ترکمانستان سے نہایت کم قیمت پر خریدی جاتی ہیں۔ پاکستان کے پڑوسی کی حیثیت سے افغانستان بھر کے بازاروں اور تجارتی مراکز میں پاکستانی مصنوعات کی بڑی گنجائش ہے لیکن اس کے لئے جس پالیسی کی ضرورت ہے، وہ ہماری مقتدر قوتیں دانستہ طور پر سول حکومت کو بنانے کی اجازت نہیں دیتیں۔ وہ افغانستان کو اپنی مخصوص تزویراتی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھتی ہیں جس کا ہمیں ابھی تک کوئی فائدہ نظر تو نہیں آیا لیکن اس ناقص پالیسی کی وجہ سے افغان عوام ہمارے دشمن بن چکے ہیں اور موجود اماراتِ اسلامی نے ٹی ٹی پی کے ناراض کارکنوں کو پناہ دے رکھی ہے جو وقتاً فوقتاً پاکستان میں دہشت گردی کرتے ہیں جس کی حالیہ مثال بشام میں چینی انجنیئرز اور ورکرز پر خود کش حملہ ہے جس میں کئی جانوں کا نقصان ہوا اور اس واقعہ نے چین کی ناراضی کے علاوہ عالمی سطح پر پاکستان کو ہزیمت سے دوچار کر دیا تھا۔

افغانستان کے عام لوگ پاکستان کے عوام اور حکومت سے نفرت کرتے ہیں۔ ہم نے کرکٹ کے حوالے سے جوانوں کو باتیں کرتے ہوئے سُنا تو ان کے رویے میں تلخی اور نفرت کا اظہار بہت نمایاں نظر آیا۔ اگرچہ میں نے کئی نوجوانوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ جو بھی ٹیم اچھا کھیلے گی، وہی جیتے گی لیکن وہ پاکستان سے ہارنے کے لئے قطعاً تیار نظر نہیں آ رہے تھے۔ بہرحال ماضی کے تلخ تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اچھے پڑوسی اور اسلامی بھائی کی حیثیت سے ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ افغانستان ہمارا صوبہ نہیں، بلکہ یہ ہزاروں سالوں سے قائم ایک آزاد مملکت ہے۔

افغانستان میں ایک بہت بڑی نہر کھودی جا رہی ہے جو تقریباً تین سو کلومیٹر پر مبنی ہے۔ اس کا زیادہ تر حصہ مکمل ہو چکا ہے جس کی وجہ سے افغانستان کی بنجر زمینوں کو سیراب کیا جا سکے گا جس سے افغانستان کی زرعی ضروریات پوری ہو سکیں گی۔ اس نہر کی بہ دولت وہ زرعی اجناس برآمد بھی کرسکے گا۔ عام لوگوں کو یقین ہے کہ آئندہ کچھ سال میں افغانوں کی مشکلات کم ہوجائیں گی اور افغانستان ایک مستحکم معیشت کے طور پر دُنیا میں ابھر سکے گا۔

میرا مشاہدہ اور تجزیہ ہے کہ بے روزگاری اور دیگر مشکلات کے باوجود افغانستان کے عوام مطمئن ہیں کہ اماراتِ اسلامی کے عدل اور انصاف سے افغانستان کا مستقبل وابستہ ہے، اس لئے وہ اپنی حکومت سے محبت کرتے ہیں۔ افغانستان میں جگہ جگہ نئے باغات اور عمارات بنتے نظر آ رہے ہیں۔ خاص طور پر جلال آباد کے آس پاس بہت بڑی سرکاری زمینوں کو لیز پر دیا گیا ہے جنہیں پرائیویٹ لوگ آباد کر رہے ہیں۔

پورے افغانستان کو دیکھنے کے لئے کافی وقت چاہیے، ہم نے تو صرف تورخم بارڈر سے لے کر کابل تک روڈ پر سفر کیا ہے اور ایک دن میں بہت بڑا جہان دیکھا ہے۔ یہ ہماری زندگی کا ایک بہترین تجربہ تھا۔ دوسری بات یہ ہے کہ پشاور شہر اور طورخم بارڈر کے درمیان صرف 45 منٹ کا فاصلہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب پختونوں کے درمیان تجارت اور آنے جانے پر اگر کوئی پابندی نہ ہو، تو اس سے پورے خطے کی ترقی اور خوش حالی ممکن ہو سکے گی۔

اگلے روز صبح کابل میں ناشتہ کرنے کے بعد ہم پل چرخی کے لاری اڈہ سے طورخم کے لئے روانہ ہوئے اور نمازِ عصر کے وقت اپنی جنم بھومی سوات پہنچ گئے۔

طورخم بارڈر کراس کرنا پل صراط یا قیامت کا منظر ہوتا ہے۔ ہر طرف افراتفری، دھول مٹی، سامان کی بے ترتیبی اور بے انتہا شور و غُل بارڈر کے دونوں اطراف میں ایک عجیب منظر پیش کرتے ہیں جن کو بیان کرنے کے لئے الفاظ کافی نہیں ہوں گے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس بارڈر کو جدید کمپیوٹرائزڈ طریقے سے بنایا جائے اور دونوں اطراف سے بے ہنگم ہجوم کو نظم و ضبط کا پابند بنایا جائے۔ اس سے ہم دنیا کو اپنے مہذب متمدن ہونے کا احساس بھی دلا سکیں گے۔

Facebook Comments HS