مقبوضہ فلسطین کے بارے میں قرآن کریم اور بائبل کی پیش گوئیاں (2)
بائبل میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ ارض مقدس پر کس کا قبضہ ہو گا۔ چنانچہ ملاکی نبی کی کتاب میں یوں ملتا ہے۔
”دیکھو میں اپنے رسول کو بھیجوں گا۔ اور وہ میرے آگے میری راہ کو درست کرے گا۔ اور وہ خداوند جس کی تلاش میں تم ہو۔ ہاں عہد کا رسول جس سے تم خوش ہو وہ اپنے ہیکل میں ناگہاں آئے گا۔ دیکھو وہ یقیناً ًآئے گا۔ رب الافواج فرماتا ہے پر اس کے آنے کے دن کون ٹھہر سکے گا اور جب وہ نمودار ہو گا کون ہے جو کھڑا رہے گا۔“ (ملاکی نبی کی کتاب باب 3 آیت 2۔ 1 )
عیسائی حضرات اس پیشگوئی کو حضرت عیٰسی کے حق میں بتلاتے ہیں مگر طالب حق پر مخفی نہیں کہ یہ پیشگوئی ان کے حال پر منطبق نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ پیشگوئی کے اخیر کے دو جملے صاف بتا رہے ہیں کہ اس آنے والے کے سامنے کسی اور کی طاقت نہیں ہوگی۔ کہ مقابلہ میں ٹھہر سکے۔ مجبوراً اس کے آگے ہتھیار ڈال دیے جائیں گے۔ اور تخت حکومت سے دستبردار ہو کر فرش محکومیت میں بیٹھ جانا پڑے گا۔ کیا کوئی شخص کہہ سکتا ہے۔ کہ اس کامیابی کا سہرا حضرت عیسٰی کے سر باندھا جاسکتا ہے۔ حضرت عیٰسی علیہ السلام اپنے آپ کو نہ بچا سکے۔ کجا کوئی ان کے آگے ٹھہر تا یہ سہرا آنحضرت ﷺ کے سر پر باندھا گیا۔ تاریخ نے ثابت کر دیا کوئی بھی ان کے آگے نہ ٹھہر سکا۔
حضرت موسٰی علیہ السلام اپنی قوم کے مختلف فرقوں کو جمع کر کے وعظ فرماتے ہیں تو اس اثناء میں انہیں یہ الہام الٰہی بھی سناتے ہیں۔
”اے گروہو اس کی قوم کے ساتھ خوشی سے گاؤ۔ اس لئے کہ وہ اپنے بندوں کے خون کا بدلہ اور اپنے دشمنوں سے انتقام لے گا اور اپنی سرزمین پر اور اپنی قوم پر رحم کرے گا۔“
(استثناء باب 32 آیت 43 )
ان فقروں میں یہ امر قابل غور ہے کہ یہ انتقام لینا اور اپنی قوم پر رحم کرنا کس کی معرفت ہو گا۔ سیاق کلام صاف بتلا رہا ہے کہ یہ اس ذات گرامی کے ذریعہ ہو گا جو فاران کے پہاڑ سے جلوہ گر ہو کر داہنے ہاتھ میں آتشیں شریعت لائے گا۔ چنانچہ چند فقروں کے بعد حضرت موسٰی علیہ السلام اس شخص کا یوں پتہ دیتے ہیں۔
”اور اس نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر طلوع ہوا فاران ( مکہ کے پہاڑ کا نام ہے ) ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔ دس ہزار قد و سیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشیں شریعت ان کے لئے تھی۔ استثناء باب 33 آیت 2 )
حضرت یسعیاہ علیہ السلام الہام الہٰی سناتے ہیں۔
”دیکھو میں نئے آسمان اور زمین کو پیدا کرتا ہوں اور جو پہلی چیزوں کا پھر ذکر نہ ہو گا اور وہ خیال میں پھر نہ آئیں گی بلکہ تم میری اس نئی خلقت سے ابدی خوشی اور شادمانی کرو۔ کیونکہ دیکھو میں یروشلم کو خوشی اور اس کے لوگوں کو خورمی بناؤں گا۔ اور میں یروشلم سے خوش اور اپنے لوگوں سے مسرور ہوں گا۔ اس میں رونے کی صدا کرنے کی آواز پھر کبھی سنائی نہ دے گی۔“
(کتاب یسعیاہ باب 65 آیت 19۔ 17 )
تاریخ گواہ ہے کہ آنحضرت ﷺ سے قبل یروشلم کو کبھی بھی چین نصیب نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ کے خدام میں سے خلیفۃ المسلمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یروشلم میں داخل ہو کر اسے ہمیشہ کے لئے امن کا پیغام دے دیا۔ اور پھر یروشلم کو حقیقی معنی میں امن کا گہوارہ بنا کر حضرت مسیح کی اس پیشگوئی کو پورا کیا۔ جس کا ذکر انجیل لوقا میں یوں ہے۔
”جب تک غیر قوموں کی میعاد پوری نہ ہو یروشلم غیر قوموں سے پامال ہوتی رہے گی۔“ (لوقا باب 21 آیت 24 )
غیر قوموں سے یہاں مراد قوم عرب (بنی قیدار) ہے۔ جو بنی اسرائیل کے حریف ہونے کے باعث غیر کہلائی جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ جب تک بنی قیدار کا دور تنزل ختم ہو کر اس کی ترقی کا زمانہ شروع نہ ہو یہاں تک کہ اس میں فاتحانہ قدم نہ رکھ لیں۔ یروشلم غیر قوموں (بابلی، آشوری، مصری وغیرہ کے مظالم سے نجات نہیں پا سکتی۔ اس بات کی تصدیق یسعیاہ نبی کے اس الہام سے ہوتی ہے جو عرب کی بابت ان پر نازل ہوا۔
”خداوند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ ہنوز ٹھیک ایک برس ہاں مزدور کے سے ٹھیک ایک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی“ ۔ (کتاب یسعیاہ باب 2 آیت 16 )
ایک برس سے مراد الہامی کلام میں ایک ہزار برس ہوا کرتا ہے جس طرح ایک دن کا اطلاق ہزار سال پر ہوتا ہے۔ حضرت یسعیاہ کے زمانہ سے قبل از اسلام عہد جاہلیت کا ایک ہزار سال کا عرصہ بنتا ہے۔ جو ٹھیک عرب کی تاریکی و تنزل کا زمانہ ہے۔ اس کے بعد اس قوم کا دور ترقی اس وقت سے شروع ہوتا ہے۔ جب اس قوم میں جناب فخر عالم سید المرسلین ﷺ مبعوث ہوتے ہیں اور آپ کی بدولت نیّر اسلام مطلع عرب سے طلوع کر کے تمام عالم پر ضیا پاشی کرنے لگتا ہے۔ اور سب سے پہلے اس مردہ اور وحشی قوم عرب کو زندہ کر کے اس میں ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ قوم اپنے مختصر آشیانہ حجاز سے نکل کر فتح و ظفر کا پہلا قدم اس مرکز اسرائیلی (بیت المقدس) میں رکھتی ہے۔ جس کے متعلق کتب سابقہ میں پیشگوئی کی گئی تھی۔
ارض فلسطین پر کس کا حق ہے اور کیوں؟
حضرت حزقیل کی کتاب میں ہے۔
”اور تو اے مجروح شریر شاہِ اسرائیل جس کا زمانہ بد کرداری کے انجام کو پہنچنے پر آیا ہے۔ خداوند یوں فرماتا ہے کہ کلاہ دور کر اور تاج اُتار۔ یہ ایسا نہ رہے گا۔ پست کو بلند کر اور اُسے جو بلند ہے پست کر ۔ میں ہی اسے الٹ الٹ الٹ دوں گا۔ پریوں بھی نہ رہے گا۔ اور وہ آئے گا جس کا حق ہے اور میں اُسے دوں گا۔“ ( حزقیل باب 21 آیت 27۔ 25 )
اس پیشگوئی میں قبضہ یروشلم کو مسلمانوں کا حق بتایا گیا ہے۔ یروشلم چونکہ ایک مذہبی مقام ہے اس کی محافظ و قابض وہی جماعت ہو سکتی ہے جو پوری طرح اس کا مذہبی احترام قائم رکھ سکے اور تاریخ گواہ ہے کہ اس غرض کی تعمیل نہ قوم یہود کر سکی اور نہ قوم نصاریٰ (غیر اقوام کا تو کیا پوچھنا) حالانکہ انہیں دو قوموں کا یہ مذہبی قبلہ اور مقدس مقام تھا۔ ہر ایک قوم نے اپنے دور عروج میں بے دینی اور الحاد کے علاوہ وہ وحشیانہ جرائم سفاکانہ اعمال کا ارتکاب کیا ہے کہ تاریخ اس کے ذکر سے پر ہے۔ اسی یروشلم میں یہود نے متعدد انبیاء کو قتل کیا پرستاران حق کو اس خطۂ پاک سے جلاوطن کر کے اسے ملجا و ماویٰ فسق و فجور بنایا۔ اس کے بعد جب قوم عیسوی کا دور آیا تو اس کی مخالفت و احترام مذہبی کا یہاں تک ثبوت دیتی ہے کہ تیسری صدی عیسوی میں جب کہ عیسائیت گوشہ عزلت سے نکل کر تخت حکومت پر قدم رکھتی ہے فلسطین اول بیت المقدس پر قابض ہو کر تمام نشانات سابقہ کو آگ سے تباہ کر دیتا ہے اور ہیکل سلیمان کی جگہ صرف بیت اللحم (حضرت عیسٰی کی ولادت گاہ) کی تعظیم کو کافی قرار دیتا ہے۔ اور قوم یہود کو پکڑ پکڑ کر یا تو جبراً عیسائی بناتا یا تہہ تیغ کر دیتا ہے۔ مگر برخلاف اس کے جب مسلمانوں کا دور آتا ہے۔ تو کس طرح اس خطہ مقدس میں نظام اصلاح قائم کر کے اس کو عزت و احترام کا کیسا اعلیٰ ثبوت دیتے ہیں۔ وہ قوم یہود جس کو عیسائی حکومت کے عہد میں جائے پناہ نہیں ملتی تھی اور وہ قوم نصاریٰ جس کو یہود کے دست ظلم نے اپنے زمانہ اقبال میں حق زندگی سے محروم کر رکھا تھا دونوں قومیں نہایت آزادی اور امن سے مسلمانوں کے عہد میں زندگی بسر کرتی اور فرائض مذہبی بجا لاتی ہیں اور نہ فقط اس قدر بلکہ اس خطہ مقدس کی عظمت کو ان کے ہاں ایسا وزنی بنایا جاتا ہے کہ اسے جز و مذہب اور شعائر اسلام قرار دیا جاتا ہے چنانچہ قرآن مجید اس تقدس کا یوں اظہار فرماتا ہے۔ یعنی یہ وہ مقدس جگہ پرستش گاہ خدائے قدوس ہے جو کہ اپنے ملک یروشلم کے برکات مادی اور روحانی کا مرکز اور محور ہے۔ اسی بناء پر آنحضرت ﷺبھی اسے عرصہ تک قبلہ صلوٰۃ قرار دیتے ہیں لیکن جب ان وجوہ حکم کی بناء پر جو تکمیل دین سے وابستہ تھے وہ قبلہ منسوخ ہو کر اس کے بجائے بیت العتیق قبلہ ٹھہرتا ہے تو پھر شاید کسی کو یہ شبہ گزرے کہ اس کی برکات و فضائل بھی کلی طور پر محو ہو گئیں۔ اس کا دفعیہ آنحضرت ﷺ یوں فرماتے ہیں۔ (ابن ماجہ ) مسجد اقصی میں ایک نماز کا ثواب پچاس ہزار نماز کے برابر ہے۔ آنحضرت ﷺ مسجد اقصیٰ کی اہمیت کو یوں اجاگر فرماتے ہیں۔
(ابن ماجہ ) یعنی تین مسجدوں کے سوا اور کسی جگہ کی طرف (بغرض عبادت کے ) سفر نہ کیا جائے، مسجد حرام، مسجد اقصی اور میری یہ مسجد مدینہ۔
اسی فرمان کا اثر تھا کہ شیدایان ارشادات نبوی ﷺ اپنے وطن عزیز کو خیر باد کہہ کر اس خطہ مقدس کے فیوض و برکات کو حاصل کرتے۔ یہی وہ نئی خلقت ہے جس کا ذکر یسعیاہ نبی کی پیشگوئی میں تھا۔ کیونکہ انہیں کے ذریعہ یروشلم کی نالہ و بکا کی آواز ختم ہوئی تھی۔ انہیں کے ذریعہ اہل یروشلم کو ابدی خوشی اور شادمانی حاصل ہوئی۔ ہم دنیا کو چیلنج دیتے ہیں کہ کوئی شخص اس امر کو ثابت کر دے کہ کسی قوم نے غیر قوم کے مقامات مقدسہ کا احترام بلکہ واجب الاحترام ہونا ایسے طریق سے پیش کیا ہو جس طرح اسلام نے۔ اور اس کو مذہبی شعائر بنا کر ایسے فضائل بیان کیے ہوں جیسے شریعت محمدی نے۔ پس ثابت ہوا کہ قبضہ یروشلم کا استحقاق فقط جماعت مسلم کو ہے۔ کیونکہ جب اس کے قبلہ کو ماننے والی جماعتوں ( یہود و نصاریٰ) کا باہم تصادم و تقابل ہے حتیٰ کہ ہر ایک دوسری کو بے دخل کرنا چاہتی ہے تو اس کے اس باہمی تنازع کے فیصلہ کرنے اور ان کے اشتعالی قویٰ کے توازن قائم رکھنے اور ان کی حفاظت و نگرانی کے لئے ایک تیسری ایسی قوم کی ضرورت ہے جوان ہر دو اقوام سے مساوی سلوک رکھنے کے علاوہ اس خطۂ مقدس کا احترام بھی ویسے ہی ملحوظ رکھتی ہو جیسے خود اس کی معتقد جماعت۔ اور وہ لامحالہ امت مسلمہ ہے۔
مسلمانوں کا یروشلم میں ورود
635 ء میں حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ نے بیت المقدس کا محاصرہ کیا اور سرداران یروشلم کو شہر حوالہ کرنے کے لئے خط لکھا۔ جس کے جواب میں پادری رومینس خط کا یوں جواب دیتا ہے کہ یروشلم پاک جگہ ہے اس کو میں خلیفہ کے سوا کسی کے سپرد نہیں کر سکتا۔ چنانچہ ابوعبیدہ اہالیان یروشلم کی خواہش کے مطابق امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اطلاع دے کر تشریف آوری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ خط پہنچنے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ معزز صحابہ کی مجلس مشاورت منعقد فرماتے ہیں۔ آخر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے کو ترجیح دے کر سفر کی تیاری کرتے ہیں اور اونٹ کی سواری کو سفر کے لئے منتخب کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ بیت المقدس کے باہر قیام گاہ حضرت ابو عبیدہ پر تشریف فرما ہوتے ہیں۔ دوسرے روز جب آپ داخلہ ء یروشلم کے لئے تیاری کرتے ہیں تو حسب معمول وہی اونٹ سواری کے لئے منگواتے ہیں مگر عجیب اتفاق ہے کہ تمام احباب با اصرار آپ سے یہ استدعا کرتے ہیں کہ آپ بجائے اونٹ کے گھوڑے پر سوار ہوں۔ نیز لباس فاخرہ زیب تن فرمائیں تا کہ اس کے ذریعہ سے دشمنوں کے قلوب پر آپ کی ہیبت پڑے۔ آپ لباس فاخرہ پہننے کی رائے مسترد فرماتے ہیں۔ البتہ گھوڑے کی سواری قبول فرماتے ہیں لیکن حکمت خداوندی ایسے لطیف پیرایہ میں اس سابقہ پیشگوئی کو پورا فرماتی ہے کہ کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ چنانچہ آپ گھوڑے پر سوار ہو کر تھوڑی دیر میں اتر پڑتے ہیں۔ اور یہ عذر فرماتے ہیں کہ اس وقت تکبر اور غرور کا اثر طبیعت میں محسوس ہو رہا ہے۔ پھر آپ اس اونٹ پر سوار ہو کر جب قلعہ بیت المقدس کے قریب پہنچتے ہیں تو شہر کا پادری اعظم مع اپنی جماعت کے قلعہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے یوں مکالمہ کرتا ہے کہ ہم تمہارے امیر المومنین کے دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ اگر ہم نے اسے ان صفات کے مطابق پایا جن کا ذکر کتب سابقہ میں آیا ہے تو ہم شہر کو تمہارے حوالے کر دیں گے۔ چنانچہ آپ کا جب نظارہ ایسی صورت میں ہوتا ہے۔ کہ آپ اونٹ پر سوار ہیں۔ تو بے اختیار پادری کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں۔ (فتح الشام صفحہ 117 ) خدا کی قسم یہ وہی شخص ہے جس کی تعریف ہم اپنی کتب میں پاتے ہیں۔ اس کے بعد قلعہ کی چابیاں آپ کے حوالہ کر کے امان طلب کرتے ہیں۔ تاریخ کا یہ دلگداز واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ اس وقت کے عیسائی پادری یہ جانتے تھے کہ ہماری کتب سابقہ کے مطابق مسلمان ہی وہ جماعت ہے۔ جو اس مقدس سرزمین کی حقیقی وارث ہو سکتی ہے۔ اور بلا تردد یروشلم کی چابیاں آنحضرتﷺ کے ایک مخلص خادم خلیفۃ المسلمین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حضور پیش کر دیتے ہیں۔
تاریخ نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ ارض مقدس پر جب بھی مسلمان قابض رہے ہمیشہ امن کو برقرار رکھا۔ مذہبی رواداری کو قائم رکھا۔ حضرت عمرؓ نے عیسائیوں کو اپنے گر جاؤں میں آزادی سے عبادت کرنے کی اجازت دی۔ بڑے گرجا گھر میں بڑے پادری سے حضرت عمرؓ مصروف گفتگو تھے کہ نماز کا وقت آ گیا تو آپ نے گرجا گھر کے باہر جا کر نماز ادا کی۔ اسلامی فوج نے بھی بھی مقدس عمارت کو نقصان نہیں پہنچایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں بیت المقدس کے لوگوں سے جو معاہدہ ہوا وہ یہ تھا۔
”یہ وہ فرمان ہے جو خدا کے غلام امیر المومنین نے ایلیا کے لوگوں کو دیا کہ ان کا مال، گرجا، صلیب، تندرست، بیمار، اور ان کے تمام مذہب والوں کے لئے ہیں۔ اس طرح کہ ان کے گر جاؤں میں نہ سکونت کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے نہ ان کو اور ان کے احاطے کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ اور نہ ہی ان کی صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی۔ مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہ کیا جائے گا۔ ایلیا والوں میں سے جو اپنی جان و مال لے کر یونانیوں کے ساتھ منتقل ہونا چاہے ان کو ان کے گر جاؤں اور صلیبوں کو امن ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جائے پناہ تک پہنچ جائے جو کچھ اس تحریر میں ہے اس پر خدا کے رسول کے خلیفہ کا اور مسلمانوں کا ذمّہ ہے۔ بشرط یہ کہ وہ لوگ جزیہ مقررہ ادا کرتے رہیں“ ۔ (الفاروق شبلی جلد 2 صفحہ 137 )
مسلمانوں کے قبضہ فلسطین کے ادوار
مسلمانوں کا پہلا دور فلسطین پر قبضہ کا 635 ء کو شروع ہوا اور 1099 ء تک رہا۔ 1099 ء میں عیسائیوں نے قبضہ کر لیا۔ اور عیسائیوں نے بے دریغ خون بہایا اور مسجد اقصیٰ کو گرجا گھر بنا دیا اور اس پر صلیب لٹکا دی۔ پھر 1187 ء میں صلاح الدین ایوبی نے فتح کر لیا اور تمام شہریوں کو امان دی۔ عیسائی مصنفین اور مورخین بھی اس امر کے معترف ہیں کہ مسلمانوں نے کوئی لوٹ مار نہیں کی۔ پھر 1229 ء میں عیسائیوں نے چھین لیا لیکن 1293 ء میں مسلمانوں نے پھر واپس لے لیا اور اس وقت سے لے کر 1948ء تک قبضہ رہا۔

