فرانز فینون: افریقی ممالک کی نوآبادیات سے آزادی کا محرک
فرانز فینون پیشے کے لحاظ سے ماہر نفسیات تھے۔ وہ فرانس میں پیدا ہوا تھا اور اس نے دوسری جنگ عظیم فرانسیسی فوج سے لڑی تھی۔ بعد ازاں وہ ڈاکٹر کے طور پر اپنے فرائض انجام دینے کے لیے الجزائر منتقل ہو گئے۔ وہاں اس نے اپنا ارادہ بدلا اور فرانس سے الجزائر کی آزادی کے کٹر علمبردار بن گئے۔ وہ الجزائر کی آزادی کی تحریک (ایف ایل این ) کا رکن بن گیا اور الجزائر کی آزادی کے لیے جدوجہد شروع کی۔ فرانز فینون کے نظریات نے نوآبادیات کو ختم کرنے اور افریقی ممالک کی استعمار کے جبر سے آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ان کی کتاب ’The Wretched of the Earth‘ نے نہ صرف افریقی آزادی تحریکوں بلکہ دنیا کی بین الاقوامی آزادی کی تحریکوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ ان کا خیال تھا کہ نوآبادیاتی باشندے اپنے بدترین سلوک سے مقامی لوگوں کو غیر انسانی بنانے اور ان کی قومی ثقافتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آبادکار نوآبادیات کو جانوروں کی حیثیت سے نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں احساس دلاتے ہیں کہ ان کی زبان، ثقافت، رسوم و رواج آبادکاروں سے کمتر ہیں۔
کالونائزرز نوآبادیات کی اصلیت کو اپنی مرضی سے تبدیل کر کے ان کے بنیادی تشخص کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ الجزائر کے بلیدہ قصبے میں ماہر نفسیات کے طور پر پریکٹس کر رہے تھے جب اس نے الجزائر کی آزادی کی تحریک میں دلچسپی لینا شروع کر دی۔ انہیں فرانسیسی استعمار اور سامراج کی برائیوں اور نوآبادیاتی ریاستوں پر اس کے بد ترین اثرات کا احساس تھا۔ اس نے الجزائر اور تیونس میں فرانس کے خلاف اپنی فیلڈ آپریشنز میں ایف ایل این کی طبی اور فکری مدد کے ذریعے ان کی مدد شروع کی۔
انہوں نے افریقی ممالک کی تمام افریقی آزادی تنظیموں کے ساتھ روابط قائم کرنے کے لیے ایف ایل این سفیر کے طور پر گھانا، مالی کا دورہ کیا۔ فینون نے الجزائر کی جنگ اور اس کی آزادی کی تحریک کو سپرنگ بورڈ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے افریقی کالونیوں کی آزادی کے لیے ایک بر اعظمی مسلح فورس بنانے کا مشورہ بھی دیا۔ فینون افریقی قوم پرست تحریکوں کی مدد کے لیے سب صحارا افریقہ سے بیس کیمپ بنانے کی تجویز کے ساتھ ایف ایل این کے نمائندہ کے طور پہ کرا گئے تھے۔
انہوں نے الجزائری جمہوریہ کی عارضی حکومت کے نمائندے کے طور پر متعدد کانفرنسوں میں شرکت کی۔ الجزائر کی آزادی کے لیے فینون کی خدمات اور افریقہ بھر میں نوآبادیات مخالف چھیڑی گئی کئی آزادی کی تحریکوں پر اس کے اثر و رسوخ کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ فینون کا تشدد کا نظریہ، جو اس نے اپنی کتاب ”The Wretched of the Earth“ میں پیش کیا جس میں وہ تشدد کے خلاف تشدد کی حمایت کرتے ہیں، اس کی بڑے پیمانے پر تعریف کی گئی ہے اور اسے تمام افریقی آزادی کی تحریکوں نے اپنی ”حکمت عملی“ کے طور پر اپنایا ہے۔
فینون کا خیال ہے کہ نوآبادیات کا تشدد مقامی لوگوں میں مزاحمت اور جارحیت کو فروغ دیتا ہے جو تشدد کا باعث بنتا ہے۔ اس کا استدلال ہے کہ پوری نوآبادیاتی دنیا تشدد پر استوار ہوئی ہے لہذا بالآخر تشدد ہی وہ واحد زبان ہے جو آباد کاروں کی سمجھ میں آتی ہے۔ فینون کا خیال ہے کہ نوآبادیات جان بوجھ کر مقامی لوگوں کی قومی ثقافت، زبان اور شناخت کو نشانہ بناتے ہیں۔ نوآبادیاتی باشندے مقامی لوگوں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی زبان، ثقافت اور ان کی روایات کمتر ہیں اور انہیں آباد کاروں کی بہتر ثقافت اور روایات سے بدلنا چاہیے۔
وہ سمجھتا ہے کہ یورپی ریاستیں ان کے وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے نوآبادیاتی ریاستوں پر جبر مسلط کرتی ہیں۔ فینون کا خیال تھا کہ یورپ تیسری دنیا کے وسائل پر بنا ہے۔ ان نو آبادیاتی باشندوں اور ان کی ثقافت اور روایات کو ایک مشہور برطانوی شاعر، ناول نگار رڈیارڈ کپلنگ نے اپنی مشہور زمانہ نظم میں ”White Man Burden“ کہا ہے اور اپنی مذکورہ بالا نظم میں اس چیز کی بھرپور وکالت کی ہے کہ یہ آبادکاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان نو آبادیاتی باشندوں کی زبان، ثقافت، روایات کو اپنی بہتر اور برتر زبان، ثقافت اور روایات کے ساتھ بدل ڈالیں


