دو چھوٹی سی باتیں دو بڑے سے حل


پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر نے مجھے چونکا دیا جو ایک حجام کی دکان کی تھی اور جہاں حجامت کے منتظر کئی لوگ کتاب پڑھ رہے تھے اور ساتھ ہی شیلف میں ہمہ قسم کتب نظر آ رہی تھیں۔ تفصیل دیکھی تو پتہ چلا کہ ہندوستان کے تامل ناڈو میں ایک حجام نے کسٹمرز کے لیے ٹیلی ویژن رکھنے کی بجائے ایک مفت لائبریری قائم کی ہے۔ جو شخص وہاں انتظار کے دوران کتاب پڑھے گا اُسے 30 فی صد ڈسکاؤنٹ دیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بڑا فرق پڑتا ہے۔

عوام میں شعور اُجاگر کریں آپ کی ذمہ داری کا ادا کیا ہوا چھوٹا سا حصہ بھی بڑی تبدیلی لا سکتا کوئی انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ اردو کتب کے اس بحرانی قحط کے دور میں جب کتابوں کی دکانیں بند ہو رہی ہیں، کتب ردی میں بک رہی ہیں، کتابوں کی دکانیں بند کر کے جوتوں اور کپڑوں کی دکانیں بنائی جا رہی ہیں، پرانی کتب فٹ پاتھوں پر پڑی کوڑیوں کے بھاؤ بکتی نظر آتی ہیں۔ ایسے میں اس حجام کی یہ چھوٹی سی قابل ستائش بات بہت بڑی لگتی ہے۔

ایک جانب تو کتب بینی پر بڑھتا زوال اور دوسری جانب کاغذ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کتابوں کی مہنگائٰی قاری کی قوت خرید کو متاثر کر ہی ہے۔ کتاب قوم کو تاریخ، تہذیب و ثقافت، دین و معاش، سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ ادبی تشنگی مٹانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ کتابوں سے دوستی رکھنے والا شخص کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ کتاب انسان کا ہر برے اور اچھے وقت میں ساتھ دیتی ہے۔ کتاب سے دوستی شعور کی نئی منزلوں کے راستے کھول دیتی ہے۔

اس کے باوجود کہ ٹی وی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے لوگوں کو اپنا گرویدہ کیا ہوا ہے۔ لیکن کتاب کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں ہو سکتا۔ اس دور میں بڑوں اور بچوں کو کتاب کی جانب راغب کرنا بہت کٹھن ہو چکا ہے۔ میرے والد لفٹیننٹ (ر) محمد ایاز خان مرحوم کتب کے بارے میں بہت حساس تھے ان کے خیال میں کتاب سے دوری نوجوان کو تشدد سے نزدیک کر دیتی ہے۔ فلاح معاشرہ کے لیے کتاب کی اہمیت کے پیش نظر انہوں نے یہاں ایک دیہات مسافر خانہ میں ایک لائبریری کا قیام کیا تھا۔

جس کے لیے ان کے ایک سوشل ورکر ڈاکٹر عبدالرحمان ناصر صاحب کے وا لد گرامی نے ایک کنال زمین بھی عطیہ فرمائی وہ لائبریری ڈاکٹر عبدالرحمان ناصر صاحب کی زیر نگرانی یہ صدقہ جاریہ آج بھی نہ صرف قائم ہے بلکہ پھل پھول رہی ہے۔ ہمارے ان دوست کا خیال ہے کہ اگر صحت کی افادیت کو دیکھتے ہوئے آج دنیا میں مٹی کے برتنوں کا استعمال پھر سے فروغ پا سکتا ہے۔ تو آج بھی معاشرے میں کتاب پڑھنے اور لکھنے کا کلچر رائج کیا جا سکتا ہے۔

جس کے لیے اجاڑ لائبریریوں کو پھر سے آباد کیا جائے اور دور جدید کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے اچھا اور معیاری ادب تخلیق کیا جائے تو قاری اور کتاب کا یہ رشتہ پھر سے جڑ سکتا ہے۔ آج کے بچوں اور جوانوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کر کے اور جدید طرز پر کتابوں کو فروغ دے کر ہی معاشرے کی موجودہ شدت پسندی کا خاتمہ ممکن ہو سکتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم فوڈ سٹریٹ، موبائل سنٹر تو بنا رہے ہیں مگر کتاب سٹریٹ بنانے پر غور نہیں کرتے؟

گو مہنگائی اور لوگوں کے معاشی اور مالی حالات بھی اس کی ایک وجہ ہیں لیکن پرانی کتب کی خریداری اس مسلے کا بہترین حل موجود ہے۔ اپنے شیلف میں سجانے کے لیے نئی اور مہنگی کتاب نہ سہی البتہ پڑھنے کے لیے پرانی اور سستی کتاب ضرور خریدیں۔ کتابوں کے جمعہ اور اتوار بازار کو فروغ دیا جائے تاکہ کتاب پڑے پڑے ضائع ہونے کی بجائے کسی کے علم میں اضافے کا باعث بن سکے۔ یہ کتابیں بڑی عرق ریزی کے بعد وجود میں آتی ہیں ان کی قدردانی ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے۔

ہر ایک جزو ہے آئینہ وسعت کل کا
ہر حرف کو ہم ایک کتاب کہتے ہیں

چند دن قبل عالمی دن برائے ماحولیات کے موقع پر میرا کالم ”ہر بشر دو شجر“ شائع ہوا جس میں شجر کاری کی اہمیت و افادیت کے ساتھ شجرکاری کو صدقہ جاریہ سمجھ کر درخت لگانے کی ترغیب دی گئی تھی میرے ہمسائے ذوالفقار صاحب پڑھ کر بہت متاثر ہوئے اور تجویز دی کہ ہر سال ذاتی مکان پر پراپرٹی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اگر ہر گھر میں دو پھل دار درخت موجود ہوں تو اس ٹیکس میں دس فیصد رعایت کا اعلان کر دیں اور جس گھر میں درخت نہ ہو اس کا ٹیکس دس فیصد زیادہ کر دیں تو دیکھیں ہر گھر میں دو سایہ دار درخت دکھائی دیں گے۔

یہ سہولت دیگر ٹیکس پر بھی ہو جائے تو سونے پر سہاگہ ہو جائے۔ ان کی تجویز تو بظاہر بڑی چھوٹی سی تھی مگر ان کی سوچ کا انداز بہت عمدہ اور بڑا تھا۔ میں یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر واقعی حکومت شجر کاری کو فروغ دینے میں دلچسپی رکھتی ہے تو اس طرح کے بے شمار اقدام ہماری ماحولیات کو چند دنوں میں ہی بہتر بنا سکتے ہیں اور ہم موجودہ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ اس پر مجھے یاد آیا کہ ریاست بہاولپور کے مرکزی شہر صادق گڑھ پیلس کے ہر ہر گھر میں پودے اور درخت لگانا اخلاقی فرض سمجھا جاتا تھا۔

گھر گھر بیری، جامن اور آم کے درخت نظر آتے تھے جو سایہ اور پھل دونوں فراہم کرتے تھے۔ ہمارے اپنے گھر میں بے شمار سایہ دار سرس اور برنے کے درخت ہوا کرتے تھے جو اب نایاب ہو کر رہ گئے ہیں۔ یہاں کے لوگ درخت لگانے کو اپنے اجداد کے قرض کی ادائیگی کا طریقہ سمجھتے تھے۔ ان درختوں کی دیکھ بھال کو عبادت کا درجہ دیا جاتا تھا۔ جبکہ بلاوجہ درخت کاٹنے کو ظلم اور جرم تصور کیا اور سمجھا جاتا تھا۔ سڑک کنارے درختوں کی حفاظت ریاستی ذمہ داری ہوتی تھی ان کے تنوں پر سرخ اور سفید رنگ کر کے نمبر الاٹ کیے جاتے تھے تاکہ درخت شماری میں آسانی ہو اور درخت چوری کو بھی روکا جا سکے اور ہر سال باقاعدگی سے ان کی گنتی بھی کی جاتی تھی یہ سب کچھ آج سے ساٹھ سال پہلے ممکن تھا تو اب کیوں نہیں؟

حکومتی سطح پر درختوں کی نشو نما اور شجر کاری کا فروغ اس طرح کی پالیسیوں سے جلد ممکن ہو سکتا ہے۔ میں نے ریاستی سطح پر ان درختوں پر سپرے ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ وجہ تھی کہ ڈیرہ نواب صاحب کا موسم ہمیشہ خوشگوار رہتا تھا۔ یہاں بے شمار بارش ہوا کرتی تھی جو پورے ماحول کو سرسبز و شاداب رکھتی تھی۔ اب یہ سب کیوں نہیں ہو پا رہا ہے؟ یہ ایک سوالیہ نشان ضرور ہے؟ ہمیں ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر دھیان دینے کی ضرورت پہلے سے بہت زیادہ ہے۔

Facebook Comments HS