تبدیلی کا سفر
معروف دانشور جارج برنارڈ شا کا قول مجھے بہت متاثر کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”جو لوگ اپنی سوچ نہیں بدل سکتے ہیں، وہ زمانے میں کچھ بھی نہیں بدل سکتے ہیں۔“ تبدیلی جہاں بہت خوبصورت ہے وہیں بہت تکلیف دہ عمل بھی ہے۔ جس کا تجربہ مجھے چند ماہ قبل کرنا پڑا ہے۔ میں کراچی سے پنجاب، اپنے گاؤں لوریتو، لیہ میں دوبارہ شفٹ ہو گیا ہوں۔ میرے لیے یہ فیصلہ بہت مشکل تھا، کیونکہ 22 سال سے میں کراچی میں مقیم تھا اور اچانک اپنے صحت کے مسائل کی وجہ سے مجھے کراچی چھوڑ کر گاؤں اپنے والدین کے پاس آنا پڑا ہے۔ شہر کی زندگی چھوڑ کر گاؤں کی زندگی اپنانا میرے لیے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا۔ لیکن ڈاکٹر کے مشورے پر اپنی صحت کی بہتری کے لئے گاؤں میں رہنا میری مجبوری اور ضرورت تھی۔ خیرمیں نے ہنسی خوشی زندگی میں یہ چیلنج سمجھتے ہوئے قبول کر لیا ہے۔ گاؤں آنے کے بعد میں پنجاب کے مختلف شہروں اور جگہوں پر جاتا رہا ہوں، جہاں پر میں نے لوگوں کی طرز زندگی اور سوچنے کے نقطہ نظر کو دیکھتے ہوئے بہت متاثر ہوا، خاص طور پر پنجاب کے لوگ بالخصوص گاؤں ودیہات میں لوگ ذہنی، جسمانی اور معاشی طور پر شہر کی نسبت زیادہ خوشحال ہیں۔ یہاں پر لوگ ذہنی سکون، ڈپریشن، سٹریس جیسی بیماریوں سے بہت حد تک محفوظ ہیں۔ مجھے گاؤں کی سب سے زیادہ، زندگی گزارنے کے انداز نے متاثر کیا، یہاں کی تازہ ہوا سر سبز و شاداب، درخت اور پرسکون ماحول جو انسان کو ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست اور توانا رکھتا ہے۔ لیکن ایک چیز جس کا میں نے مختلف جگہوں اور لوگوں سے ملنے کے بعد مشاہدہ کیا ہے کہ یہاں لوگ ذہنی، جسمانی اور معاشی طور پرخوشحال اور مضبوط ہیں لیکن جس نے مجھے بڑا حیران کیا ہے، وہ یہاں کے لوگوں کی ”محدودسوچ“ ہے، جسے دیکھ کر مجھے بڑی حیرانی ہوتی ہے کہ اس جدید دور میں جہاں لوگ گاؤں میں ہر طرح کی جدید ٹیکنالوجی اور سائشوں سے آراستہ ہیں، اس کے باوجود اُن کی سوچ وہی روایتی اور محدود ہے جو پچھلی کئی دہائیوں سے نسلوں میں چلتی ہوئی آ رہی ہے اور یہی سوچ اس نئی نسل میں منتقل ہو گئی ہے۔ لوگ مالی طور پر تو بہتر ہو گئے ہیں مگر اُن کی سوچ آج بھی پسماندہ ہے۔ وہ لوگ آج بھی اسی نسل در نسل روایتوں اور قبائلی سوچ سے آج بھی آزاد نہیں ہو سکے ہیں۔ جسے دیکھ کر مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے۔ یہاں پر مجھے معروف ماہر نفسیات اور شاعرڈاکٹر خالد سہیل کی غزل کا شہر یاد آ گیا ہے ۔
ؑع: کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستہ ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا
اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں
نسلوں سے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس پسماندہ سوچ کونسلوں اور خاندانوں سے، بلکہ اس روایتی سوچ کو باہر نکلنا ہو گا اور معاشرے میں انسان دوست فلسفے کو پروان چڑھانا ہو گا۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں جہاں ہر نسل، مذہب، قوم، اور زبان کے لوگ رہتے ہیں وہ لوگ کیسے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلق، آپس میں محبت، بھائی چارے سے رہتے ہیں۔ میری نظر میں اس کی بنیادی وجہ اُن کی انسان دوست سوچ ہے۔ اسی سوچ کو ہمیں گاؤں دیہات اور دیگر شہروں میں فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ یہاں پر میں اپنے بڑے بھائی ایاز مورس کا ایک مشہور جملہ بیان کرنا چاہتا ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”قوم روپیوں سے نہیں بنتی بلکہ رویوں سے بنتی ہیں۔“
میں سمجھتا ہوں کہ کہ آج کے جدید دُور کے مطابق خود کو بدل کر، معاشرتی سوچ اور سماجی رُویوں کو بدلا جائے تاکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس ضمن میں خاندانوں، اساتذہ اورنوجوانوں کو سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے شعور اور آگہی دینے کی اشد ضرورت ہے کہ حقیقی تبدیلی، مسلسل تبدیلی کا سفر ہے۔ آئیں سوچ بدلیں تاکہ سماج بدلے۔

