اپنی ذات کے اہرام میں چھپے خزانے کی تلاش


ایک لکھاری کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرنے، اپنے وجود کا مقصد تلاش کرنے اور اپنے دل کی آواز کو قارئین تک پہنچنے کے قابل ہونے کے لئے کن کن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے، اور کیا کیا قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ شاید آپ کو اس کا اندازہ اس فلم Paulo Coelho’s Best Story (2014) سے کسی حد تک ہو سکے۔ یہ فلم اس صدی کے سب سے مقبول اور پڑھے جانے والے ناول الکیمسٹ کے خالق پاؤ لو کوئیلو کی زندگی پر مبنی ہے۔ پاؤلو کوئیلو کے تخلیقی سفر کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اُس کی اپنی صحت اور والد تھے۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر نے پاؤلو سے پوچھا کہ تم زندگی میں کیا بننا چاہتے ہو؟ اس نے جواب دیا۔ لکھاری۔ جس پر ڈاکٹر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا

”Do you think anyone will want to read, the things you write about yourself.“

باقی پھر تاریخ بن گئی۔ میں کافی دیر سے اس فلم کی تلاش کر رہا تھا، گزشتہ سال ملی اور میں نے ایک ہی نشست میں دیکھ ڈالی۔ آج کے مضمون میں ہم اس فلم پر نہیں بلکہ پاؤلو کوئیلو کی کتاب ”The Alchemist“ پر گفتگو کریں گے۔ یہ انٹرنیشنل بیسٹ سیلنگ کتاب بنی اور مختلف لوگوں نے اس کو پڑھا اور اس سے مختلف نقطہ نظر اخذ کیا ہے۔ میں آپ کو بتاتا چلوں کہ میرا، اس مضمون اور دیگر کتب کے بارے میں اظہار خیال لکھنا کا مقصد ہوتا ہے کہ آپ کو ان کتابوں سے متعارف کروایا جائے، آپ کے اندر کتابوں کے مطالعے کی رُوح کو بیدار کیا جائے اور اہم نقطہ نظر یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی کے بارے میں اپنی انڈرسٹینڈنگ خود قائم کریں۔ میں نے اس کتاب سے جو سیکھا ہے، جو مجھے سمجھ آیا ہے، میں آپ کے ساتھ شیئر کروں گا۔ ضروری نہیں کہ جو میرا پوائنٹ آف ویو ہے اور میں نے سیکھا ہے وہ آپ کے لئے بھی اہم ہو۔ اس لیے میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ آپ کو انسپائر کیا جائے کہ آپ خود کتاب پڑھیں اور اس سے آپ کو یہ فائدہ ہو گا کہ آپ اس مرکزی خیال کو بہتر طور پر سمجھ سکیں گے۔ یہ پاولو کوئیلو کی بہترین کتاب ہے جس کے متعلق اُن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کو صرف دو ہفتوں میں لکھا ہے تو اُن سے کسی نے پوچھا کہ اتنی جلدی، انہوں نے یہ کتاب لکھ لی؟ تو انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے یہ ناول میں نے کتابی شکل میں لکھا، یہ میری رُوح میں لکھا جا چکا تھا۔

اس کتاب کا بنیادی نقطہ نظر اور خلاصہ، جو کور فلاسفی کہلاتی ہے کہ انسان کو اپنی منزل کو حاصل کرنے اور اپنی زندگی کے مقصد کو پانے کے لیے ہر حد تک ضرور جانا چاہیے۔ یہ کتاب اس پیغام کو بڑی گہری سے واضح کرتی ہے۔ اس میں ایک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جس کا نام ان تیاگو ہے اور وہ ایک چرواہا ہے جو اپنے خوابوں کی تعبیر اور خزانوں کی تلاش کے لئے اسپین سے سفر شروع کرتا ہے مصر کے اہرام تک جانا چاہتا ہے۔ اس سفر کے دوران اُسے بہت سارے لوگ اور کردار ملتے ہیں جو اس سفر میں اُس کی رہنمائی اور دانائی کی تلاش میں معاونت کرتے ہیں۔ اُسے سفر میں کئی مشکلات اور مسائل سے بھی گزرنا پڑتا ہے لیکن آخر کار اسے احساس ہوتا ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ کائنات کے ان اشاروں، رازوں کی طاقت اور ان نشانات کی زبان اور مفہوم کو سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر لیتا ہے کہ درحقیقت خزانے مصر کے اہرام میں نہیں بلکہ انسان کے اندر پائے جاتے ہیں۔ اگر ہر انسان اپنے اندر جھانکے اور اپنے اندر اس زبان اور اشاروں کو سمجھ لے تو وہ خزانے حاصل کر سکتا ہے۔

یہ کتاب 1988 میں سب سے پہلے پرتگالی زبان میں شائع ہوئی، اس کے بعد 1993 میں انگلش میں ترجمہ ہوئی۔ 163 صفحات پر مشتمل یہ کتاب بہت شاندار ناول ہے اور اس کی سٹوری بہت دلچسپ ہے اور اس کا مرکزی خیال، جو اس کی سب سے اہم فلاسفی ہے اور اس کتاب کی بنیاد ہے۔ انسان جب خود کو دریافت کر لیتا ہے تو اپنی زندگی کا مقصد پا لیتا ہے۔ اس کتاب کا ایک جملہ بہت مشہور ہے جو مجھے اس میں سب سے زیادہ پسند ہے اور شاید یہی اس کا مرکزی خیال ہے۔ ”جب تم میں کسی چیز کو پانے کی اتنی شدید جستجو ہو، تو ساری کائنات تمہیں اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے متحرک ہوجاتی ہے۔“ 2007 میں بھارتی فلم اوم شانتی اوم میں شاہ رخ خان نے وہ الفاظ ادا کیے تھے کہ ”اتنی شدت سے میں نے تمہیں پانے کی کوشش کی کہ ہر ذرے نے مجھے تم سے ملانے کی سازش کی۔“

جب انسان کے اندر اپنے مقصد کو پانے کی جستجو پختہ ہوتی ہے تو قدرت آپ کے لیے وہ تمام ذرائع جمع کر دی ہے، آپ کو ایسے راستوں سے واقف کروا دیتی ہے، ایسے لوگوں اور ایسی چیزوں سے ملاتی ہے جو آپ کو اپنا مقصد پانے میں معاونت کرتے ہیں۔ آپ اس کتاب کو پڑھیں اور اپنے تاثرات لکھیں۔ یہ ایک سیلف ہیلپ کی کتاب مانی جاتی ہے اور نیویارک ٹائم کا کہنا ہے کہ یہ لٹریچر سے زیادہ سیلف ہیلپ کی کتاب ہے۔ جواب تک قارئین کو بہت متاثر کرچکی ہے۔ کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہے۔ اس کتاب پر مبنی یوٹیوب پر بہت سارے بک ریویوز مل جائیں گے۔ آپ کو اردو میں یہ کتاب باآسانی مل جائے گی۔ اس پر اسی نام سے فلم بھی بن چکی ہے۔ اگر آپ وہ بھی دیکھنا چاہیں تو آپ کو اس کا مفہوم سمجھنے میں مدد ملے گی لیکن جو کتاب پڑھنے کا اپنا مزہ ہے۔ وہ چسکا شاید، آڈیو بک، ویڈیو سمری اور پی ڈی ایف میں نہیں آئے گا۔ میں آپ کو یہ کتاب پڑھنے کی تحریک اور ترغیب دوں گا کہ آپ یہ کتاب پڑھیں اور اس کو انجوائے کریں۔ یہ ایک زندگی کو بدلنے والی کتاب ہے۔ پاؤلو کوئیلو کا یہ جملہ زندگی بدلنے کے لئے کافی ہے۔ ”زندگی کا انسان کے کردار کو پرکھنے کا ایک طریقہ ہے، یا تو زندگی میں سرے سے ہی کچھ نہ ہونا یا ایک ہی لمحہ میں سب کچھ ہوجانا۔“ کیا آپ بھی اپنی ذات کے اہرام میں چھپے خزانے کی تلاش کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی تلاش کا سفر مبارک ہو۔

Facebook Comments HS