فری سٹائل پولو کا رونالڈو، اظہار علی خان


گلگت اور چترال میں کھیلے جانے والے فری سٹائل پولو کو پوری دنیا میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اسے کھیلوں کا بادشاہ اور بادشاہوں کا کھیل بھی کہا جاتا ہے۔ چترال کے سپوت اظہار علی خان کو اس کھیل کا شہزادہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ اس کھیل کو دیکھنے کے لئے پوری دنیا سے سیاح چترال، گلگت اور شندور کا رخ کرتے ہیں۔ فری سٹائل پولو کا یہ منفرد کھیل صرف ان علاقوں میں ہی کھیلا جاتا ہے۔

اظہار علی خان کے کیریر پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پولو کی دنیا میں آپ کو وہی مقام حاصل ہے جو فٹ بال میں کرسٹیانو رونالڈو کو حاصل ہے۔ منفرد سٹائل، ان گنت گول، حالات جیسے بھی ہوں اکیلے ہی پورے گراؤنڈ میں چھا جانا اور سب سے بڑھ کر انتہا درجے کی اسپورٹس مین اسپرٹ۔

جس طرح رونالڈو تن تنہا پرتگال کی ٹیم کو لے کر دل و جان سے کھیلتا ہے، اسی طرح اظہار بھی لیویز کی ٹیم کو لے کر کئی سالوں سے تن تنہا مقابلہ کرتا آ رہا ہے۔ جس طرح رونالڈو کی ٹیم میں اس کا ساتھ دینے والے کھلاڑیوں کی کمی ہے، اسی طرح اظہار کی ٹیم میں بھی اچھے کھلاڑی نہ ہونے کی وجہ سے جیت نہیں سکے ہیں۔ (تاہم اس سال پہلی بار ان کی اپنی کار کردگی اچھی نہیں رہی)

فین فالونگ کی بات کی جائے تو فٹ بال کی دنیا میں جو پذیرائی رونالڈو کو حاصل ہے، وہی مقام فری سٹائل پولو کی دنیا میں اظہار علی خان کو حاصل ہے۔ اس کی جیت پر پورا گراؤنڈ جھوم اٹھتا ہے اور اس کے ہار پر پورے گراؤنڈ میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ بچے سے لے کر بوڑھے تک کی زبان پر ایک ہی نام ہوتا ہے اور میچ میں اسی کے نام کی گونج آتی ہے۔

فری سٹائل پولو کی دنیا میں شندور پولو فیسٹیول کو وہ مقام حاصل ہے جو فٹ بال میں ورلڈ کپ کو حاصل ہے۔ تاہم میری نظر میں شندور ایک اعلی قسم کا فری سٹائل پولو لیگ ہے۔ جس طرح مختلف فٹ بال لیگز میں مختلف ممالک سے بہترین کھلاڑیوں کو چن کر ایک فٹ بال کلب بنایا جاتا اسی طرح شندور کے موقع پر پورے چترال کی ٹیموں میں سے بہترین کھلاڑیوں کو چن کر ایک ٹیم تشکیل دی جاتی ہے۔ یہی کچھ گلگت میں بھی ہوتا ہے۔ اس کے بعد دنیا کی بلند ترین پولو گراؤنڈ میں گلگت اور چترال کی ٹیموں کا مقابلہ ہوتا ہے۔ اس مقابلے میں اظہار علی خان چترال کی نمائندگی کرتے ہوئے چترال کی جیت میں ہمیشہ سے وہی کردار ادا کرتے رہے ہیں جو کرسٹیانو رونالڈو کسی بھی کلب کو جتوانے میں ادا کرتے رہے ہیں۔ چترال میں چاہے اس کی ٹیم جیتے یا ہارے، شندور میں مقابلہ کرنے کے لئے اظہار کا ہونا لازم و ملزوم ہے۔ اس کے مخالفین بھی اس کے بغیر شندور گراؤنڈ میں اترنے سے گھبراتے ہیں۔ (یہی مقام کئی سالوں تک ان کے والد صاحب کو حاصل تھا)

تاہم ان میں ایک فرق بھی ہے۔ کرسٹیانو رونالڈو اپنے خاندان میں پہلی جنریشن ہیں جنہوں نے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ اظہار اپنے خاندان کی چوتھی نسل ہیں جو اپنے خاندان کی میراث کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

آپ کے والد مقبول علی خان کو اگر کامیاب ترین کیپٹن اور منیجر کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ آپ نے جو بھی ٹیم بنائی اس کو جیت دلوائی۔ چترال پولیس کی ٹیم، جس کا نام و نشان تک نہیں تھا، ان کی نمائندگی کرتے ہوئے چار وزرائے اعلی کی موجودگی میں اپنی ٹیم کو جیت دلوائی۔ اس کے بعد شندور میں چترال کی نمائندگی کرتے ہوئے کئی سالوں بعد گلگت کو ہرا کر چترال کو شندور چیمپئن بنایا۔ اس کے بعد شندور میں چترال کی ٹیم کا عروج شروع ہوا جو کہ ابھی بھی برقرار ہے۔ آج کل جیت میں اظہار علی خان نمایاں کارکردگی ادا کرتے ہیں۔ بڑوں سے سنا ہے کہ مقبول علی خان سے پہلے آپ کے والد (بابائے پولو مظفر علی) اور آپ کے دادا (عمران خان لال) بھی اس کھیل کے سکندر ہوا کرتے تھے۔

پوری دنیا میں مختلف کھیلوں کے ذریعے کھلاڑی معاشی فوائد حاصل کرتے ہیں، لیکن پولو ایک ایسا کھیل ہے جس کے لئے معاشی طور پر مستحکم ہونا چاہیے۔ گھوڑا پالنے سے لے کر میچ کھیلنے تک سارے ذہنی، جسمانی اور معاشی طور پر کٹھن کام ہوتے ہیں۔ جو لوگ گھوڑا پال کر اس کھیل کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ان کو خراج تحسین پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ کھیل و ثقافت کی وزارت کو چاہیے کہ وہ اظہار علی خان اور ان کے خاندان کو فری سٹائل پولو کے کھیل کے فروغ اور اس کے لئے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں جشن شندور کے موقع پر ان کو لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ سے نوازے تاکہ اس منفرد کھیل کو مزید فروغ ملے۔

Facebook Comments HS