تن نا درستے


اصولاً تو اسے مر جانا چاہیے تھا مگر نہیں معلوم کیسے بچ گیا۔ ہجوم سے اسے نکالا گیا۔ نکالنے والے کی ہمت کو داد دینی چاہیے کہ اس نے پولیس کی لاٹھی چارج اور عوام کی طرف سے برستے پتھروں، اینٹوں اور ڈنڈوں سے اسے نکال لیا۔

جیسے ہی اسے نکالا گیا تو پھر چیخنے چنگھاڑنے لگا۔
” تن نا درستے۔ تن نا درستے۔ تن نا درستے۔“

اٹھنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔ بھلا اٹھ کیسے سکتا تھا دونوں ٹانگیں چُور ہو چکی تھیں اور ایک بازو بھی جسم سے الگ ہوا چاہتا تھا۔ خیر چیختے چیختے ہی وہیں بے ہوش ہو کر گر گیا۔ بس! جسے خدا رکھے اسے کون چکھے۔ ایدھی والوں کی نظرِ التفات ادھر بھی ہو گئی انھوں نے اٹھایا تو اسپتال پہنچا دیا۔ اس لیے محترم اب اسپتال کے بیڈ پر خاموش لیٹے ہوئے ہیں، خاموش اس لیے کہ ابھی تک ہوش نہیں آیا۔

میں خاموش بُت بنا کمرے میں بیڈ کے ساتھ کھڑا تھا کہ محترم کو ایک دم ہوش آ گیا اور پھر چیخنے لگے۔
” تن نا درستے۔ تن نا درستے۔ تن نا درستے۔“

میں نے ڈاکٹر کو بلانے کی بجائے آگے بڑھ کر اسے دلاسا دیا تو وہ ایک دم چپ اور خاموش ہو کر مسلسل رونے لگا۔

میں نے اس سے پوچھا۔ ”او! تیری ریڑھی کدھر ہے؟ اور تو کیوں اس ہجوم میں گھُس گیا تھا۔ آرام سے فروٹ کیوں نہیں بیچتا؟“ میری یہ بات سن کر تو اس کے بدن میں سنسناہٹ سی آنے لگیں، آنکھیں انگارہ ہو گئیں، رخسار بالکل احمری، ہونٹوں کو بھی بھینچ رہا تھا جیسے زبر دستی خود کو بولنے سے روک رہا ہو۔ مگر وہ ایسا نہ کر پایا اور آنسوؤں سے تر آنکھیں لیے اونچا اونچا کہنے لگا۔

”مر جاؤ، اے ذلیل لوگو! مر جاؤ۔ ذلالت تمھارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ ضمیر تمھارے مر چکے ہیں۔ مردے تمھارا مضحکہ اڑاتے ہیں۔ تم بھی تن نا درستے ہو۔ او! تن نا درستو! تن نا درستو! سنبھل جاؤ، سنبھل جاؤ۔“

اس کے لہجے میں جیسے خدا بول رہا تھا۔ یہ کہتے ہوئے وہ چھت کی طرف دیکھنے لگا جب کہ آنسو مسلسل سفر پر تھے۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کے آنسو پونچھنے چاہے تو شیر کے جیسے دھاڑ کر بولا۔

”اے تن نا درست، کم بخت، ذلیل آدمی! یہ بدن کی آنکھ سے نکلے آنسو نہیں جنھیں تُو اس ادنٰی سے دو روپے کے ٹشو سے صاف کر لے گا۔ یہ چشمِ روح سے پھٹنے والا لاوا ہے جو بدن کو چیر دے گا، بھسم کردے گا بدن کو ۔ کاش! تم لوگ اس لاوے کی شدت کو محسوس کر سکتے، مگر کہاں؟ تم توتن نا درستے ہو۔ تمھیں خود سے فرصت کہاں؟ تم سب کے سب بدن سنوارنے میں مبتلا ہو بلکہ سجنے سنورنے کا خبط ہو گیا ہے تم لوگوں کو ۔ مردہ ضمیروں کی پختہ قبریں تیار کر رہے ہو اور وہ بھی رنگین۔“

” کیا اول فول بکے جا رہے ہو؟ کوئی سیدھی بات بھی کرو۔“ اس نے میری بات پہ بالکل بھی دھیان نہ دیا تو میں پھر چلایا۔ ”آخر تم کہنا کیا چاہتے ہو؟“ تو غصے سے آنکھیں پھاڑتا ہوا بولا۔ ”سب تن نا درستے ہیں، سب ہی ذلیل ہوں گے، سب ہی مریں گے اور تم بھی مرو گے اے تن نا درستے!“

مجھے بھی غصہ آ گیا تو میں نے بھی کہہ دیا۔ ”تم ہو تن نادرست، دونوں ٹانگیں تڑوا کے بیٹھے ہو، بازو بھی بالکل چُور ہو گیا ہے اور ہم صحیح سلامت لوگوں کو تن نا درستے تن نا درستے کہے جا رہے ہو۔“

”ہاہاہا۔“ وہ چھوٹتے ہی مجھے پڑ گیا ”ارے کم ظرف! تمھیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ تن نا درستا ہوتا کون ہے؟“

”تو کون ہوتا ہے تن نا درستا؟“ میں نے پوچھا تو کہنے لگا۔

”میرے پاس ریڑھی پر دو پڑھے لکھے جوان لڑکے آئے اور وہ ہارس ٹریڈنگ پہ بات کر رہے تھے کہ آخر یہ ہارس ٹریڈنگ کیا ہوتی ہے؟ تو دوسرے نے کہا بھئی! کوئی گھوڑے وغیرہ خریدنے اور بیچنے کی بات ہے۔ پہلے نے سن کر اثبات میں سر ہلایا۔ تو مجھے سن کر بہت غصہ آیا کہ ان پڑھے لکھے لوگوں کو اتنا بھی نہیں پتا تو میں نے کہا بھائی جان! ہے تو یہ گھوڑے، گدھے بیچنے اور خریدنے کا کاروبار، مگر یہ گھوڑے، گدھے عام مارکیٹ یا اصطبل میں نہیں بلکہ سینٹ میں بکتے اور نیلام ہوتے ہیں۔ وہ میری بات سن کر ہلکا سا متبسم ہوئے اور دبے لہجے میں مجھے پاگل کہہ کر چلے گئے۔“

”تمھیں کیسے معلوم ہیں یہ ساری باتیں؟“ میں نے اسے کریدا تو کہنے لگا۔

”بھئی اس دورِ جہالت میں واحد ریڑھی والا ہوں جس نے اپنی ریڑھی پر اخبار لگوایا ہوا ہے۔ روزانہ مکمل اخبار پڑھتا ہوں اور ساتھ ہی ساتھ فروٹ بیچتا ہوں۔“

”تم اخبار کیوں پڑھتے ہو اور تمھیں اخبار پڑھنے کا کیا فائدہ ہے؟“ میں نے پوچھا تو نم دیدہ آنکھوں سے بولا۔

”میں اپنے ملک سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میرا ملک میرا محبوب ہے اور اپنے محبوب کے اچھے برے حالات جاننے کے لیے اخبار پڑھتا ہوں۔ ساتھ ساتھ عالمی حالات سے بھی باخبر رہتا ہوں تاکہ معلوم ہوتا رہے میرا محبوب ملک کہاں تک پہنچا ہے اور دنیا کہاں تک پہنچ گئی ہے۔ اب محبت میں فائدے اور نقصان تو نہیں دیکھے جاتے۔ ایک دن جب میں نے پڑھا کہ ہمارا وزیرِ اعظم نا اہل ہو گیا ہے تو میں بہت رویا اور اپنی ریڑھی بند کر کے خود سے ناراض ہو کر سارا دن بھوکا رہا۔“

”وہ کیوں؟ میں نے پوچھا تو گویا ہوا۔

”وہ اس لیے کہ مجھے بڑا دکھ تھا کہ ستّر سال گزر جانے کے باوجود بھی ہم صفر پہ کھڑے ہیں اور آج بھی ہمارا وزیرِ اعظم کرپٹ یعنی تن نا درستا نکلا ہے اور عدالت نے اس کی کرپشن ثابت کر دی ہے۔“

”تم یہ باتیں کیوں سوچتے ہو؟“ میرا یہ سوال کرنا تھا کہ وہ پھر بھڑک اٹھا کیوں کہ میری ہی غلطی تھی کہ ایک عاشق سے پوچھ رہا تھا کہ تُو اپنے معشوق کے بارے میں کیوں سوچتا ہے۔

”ارے او فضول شخص! مجھ سے پوچھتے ہو کہ میں ایسا کیوں سوچتا ہوں اور میں یہ کہتا ہوں کہ تم ایسا کیوں نہیں سوچتے۔ میں ایسا اپنے ملک کی بہتری کے لیے سوچتا ہوں جہاں ایک بچے سے لے کر وزیر، مشیر سبھی تن نا درستے ہیں۔ خدا قسم!“ وہ بڑے انہماک سے بول رہا تھا اور بالکل اپنا درد بھول چکا تھا۔ ”ایمان داری سے دیکھا جائے تو ملک کا ہر آدمی کسی نہ کسی بے ایمانی اور شاطر بازی میں مبتلا نظر آئے گا اگر ان سب کو بے ایمانی سے روک دیا جائے تو سارا ملک بند ہو جائے۔ ایک ریڑھی والا کیا، ایک دفتر والا کیا، سب ہی اپنی اپنی جگہ تن نا درستے ہیں۔“

”تو کیا تم بھی تن نا درستے ہو؟“ میرے اس سوال سے اس کی آنکھوں میں پانی کی ایک تازہ لہر نے بل کھایا۔
”الحمدللہ! نہیں۔ کیوں کہ میں اپنی جگہ پر ملک و قوم کی خدمت کرتا ہوں۔“
”ایک فروٹ بیچنے والا ریڑھی بان ملک و قوم کی بھلا کیسے خدمت کر سکتا ہے؟“

”فرق سوچ کا ہے۔ ہر شخص ملک و قوم کی خدمت کر سکتا ہے اگر وہ اپنا کام وقت پر اور معیار پر کرے۔ مجھے دیکھو؛سستا اور صاف ستھرا فروٹ بیچتا ہوں۔ اس لیے میرے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں۔ ہاں! جس دن مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میرے ضمیر پر بوجھ ہے تو میں جینے سے زیادہ موت کو ترجیح دوں گا۔“

”کیا تم ملک کی بہتری کر سکتے ہو؟“

” کیوں نہیں! ہم ملک کی بہتری کر سکتے ہیں مگر استاد، ملا، صوفی یا بزنس مین بن کر نہیں بل کہ سیاست دان بن کر ۔ اگر ملک کی تقدیر بدلنی ہے تو ہمیں سیاست میں آنا ہو گا ایک اچھا فیصلہ، ایک بہتر قانون قوموں کی زندگی بدل سکتا ہے۔“

”ہاہاہا! تم اقتدار کے خواب دیکھتے ہو اور وہ بھی ایک ریڑھی والے ہو کر ۔“

”نہیں نہیں! او تن نا درستے، نہیں۔ نئی نسلیں، نئے جوان آگے آئیں اس ملک کو سنبھالیں یہ خاندانی سیاسی نظام ختم ہو گا تو خود بہ خود تبدیلی آتی جائے گی۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ حکمران برے لوگ ہیں تو بھائی ہم خود کیوں نہیں آئے میدان میں، حالاں کہ ہم تو اچھے ہیں۔ بس یہی مسئلہ ہے ہمارے ساتھ، ہمیں سوچنا چاہیے۔ سیاست ایک نیکی کا کام ہے ہم لوگ اس کی اہمیت سے ناواقف ہیں۔“

”چھوڑو! تم سٹھیا گئے ہو، درد سے بے حال ہوئے جاتے ہو۔“

میں نے بات بدلنے اور اسے درگزر کرنے کے لیے پہلو بدلنا چاہا مگر وہ پھر گویا ہوا جیسے واقعی سیاست کی بات اس کے لیے عبادت و ذکر ہو۔

”سنو! ایک عورت اپنے تین بچوں کو اسکول سے لے کر آ رہی تھی کہ فروٹ خریدنے کی غرض سے میرے پاس رکی۔ تو میں نے اس سے پوچھا:بہن! بچوں کو پڑھا لکھا کر کیا بنانا چاہتی ہو؟ تو جھٹ سے بولی : انجنیئر، ڈاکٹر، انشاءاللہ۔ تو میں نے کہا:آپ انھیں لیڈر کیوں نہیں بناتیں، سیاست دان کیوں نہیں بناتیں۔ تو غصے اور حقارت سے بولی؛تم ہمیں بے وقوف سمجھتے ہو، منافق اور دھوکے باز سمجھتے ہو۔ میں نے فروٹ پکڑاتے ہوئے کہا:بہن! انھیں نوکری کے لیے پڑھا رہی ہوتو یہ نوکر ہی بنیں گے اور نوکر ہی رہیں گے۔ وہ غصے سے پیسے پھینک کر چلتی بنی۔“

”تو کیا وہیں کھڑی تمھاری بکواس سنتی رہتی؟“ میں نے بھی نفرت سے کہا مگر وہ اپنی عبادت و ذکر میں مشغول تھا۔

”ایک دن کالج کے تین چار لڑکے آ گئے۔ میں نے ان سے پوچھا:بھائی! پڑھ کے کیا کرو گے؟ تو کہنے لگے : ڈاکٹر بنیں گے، انجنیئر بنیں گے یا بزنس مین۔ تو میں نے آگے سے کہا:آپ میں سے کوئی سیاست دان نہیں بننا چاہتا؟ تو ایک لڑکے نے جلدی سے کہا:بھائی جان! آپ ہمیں گالی تو نہ دیں۔ وہ تو یہ کہہ کر چلے گئے لیکن میرا صدمہ ابھی تک کم نہیں ہوا کہ کیسی ہوا چلی ہے کہ کوئی بھی لیڈر نہیں بننا چاہتا اور ہر کوئی اپنے موجودہ لیڈر سے بیزار بھی ہے۔ سیاست کو ہماری قوم گالی سمجھتی ہے۔ پتا نہیں کیا ہو گیا ہے میں تو سوچ سوچ پاگل ہوا جاتا ہوں۔“

”تم نہ سوچا کرو اور آرام سے فروٹ بیچا کرو۔“ میں نے مشورہ دیا تو پھر بھڑک اٹھا۔

”اس کا مطلب ہے میں بھی تن نا درستا بن جاؤں اور اپنے ضمیر کو مار دوں۔ میں اپنے ضمیر کو مرنے نہیں دوں گا، یہ الگ بات ہے کہ ضمیر مجھے مار دے۔ اقبال بھی کہہ کہہ مر گیا مگراس قوم کے جوانوں کے بحر میں اضطراب پیدا نہیں ہوا۔ ان کو کچھ اثر ہوتا ہی نہیں۔ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے، کب زرخیز ہے؟ سب جھوٹی تسلیاں ہیں ادھر دریا کے دریا بہہ گئے مگر اس قوم کے کان پر جُوں تک نہیں رینگی۔“

”کس پر چیخ رہے ہو اور کیوں چیخ رہے ہو؟“ مجھے بھی غصہ آ گیا۔ ”اقبال کی بات کرتے ہو! او بھئی جس نے اقبال کی بات مانی ہے اس دھرتی پہ ذلیل ہی ہوا ہے اور جس نے بھی اپنی خودی بیچی ہے وہ مزے کر رہا ہے، عیاشی کر رہا ہے۔ کون اقبال؟ کہاں کا اقبال؟ چھوڑو یہ سب کتابی باتیں ہیں جنھیں اب کتابوں میں بھی دیمک چاٹ چکی ہے۔ اقبال کی بات کرتا ہے اسی لیے تو ریڑھی پہ فروٹ بیچ رہا ہے تُو۔ یہاں لوگ خدا اور پیغمبر کو بھول گئے ہیں اور تُو اقبال کی بات کرتا ہے۔“

”مایوسی کفر ہے۔ دیکھنا! نئے لوگ آئیں گے جو ان موروثی سیاسی لوگوں کو اکھاڑ باہر پھینکیں گے۔“ اب اس کا چہرہ اتر چکا تھا۔

”خواب دیکھنے پہ کون سی پابندی ہے۔“

میں نے اتنا کہا ہی تھا کہ اسپتال کا ایک ادنیٰ سا ملازم کمرے میں داخل ہوا جس نے منھ میں تِیلی دابی ہوئی تھی اور گلے میں مفلر تھا۔ مفلر گھماتے ہوئے بولا:حضور! بقایا پیسے؟ تو میں نے کہا:ہاں ہاں مل جاتے ہیں باہر آ کر دیتا ہوں اور وہ میرے دوست کا حال پوچھ کر باہر چلا گیا۔

”کس لیے آیا تھا یہ اور کس چیز کے پیسے مانگ رہا تھا؟ بول۔ بولتا کیوں نہیں؟“
”تیری سمجھ میں نہیں آئیں گی یہ باتیں۔ “

”میرے یار! سچ سچ بتا کس چیز کے پیسے مانگ رہا تھا وہ؟“ اب اس کی آنکھوں میں پانی آ رہا تھا۔ ”کہیں ایسا تو نہیں کہ تُو نے کمرے کے حصول کے لیے رشوت دی ہے۔“ میں چپ تھا اور اب میرا سر بھی جھک چکا تھا۔ ”او یار! یہ کیا کیا تُو نے، مجھے بھی اسی صف میں لا کھڑا کیا۔ میں بھی تن نا۔“ اس کی زبان اٹک گئی اور آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگے۔

”تو کیا کرتا میں۔ ہاں کیا کرتا؟“ میں بھی پھٹ پڑا۔ ”جب تُو اس سیاسی آدمی کے خلاف پولیس والوں سے جھگڑا تو مار مار کر دونوں ٹانگیں اور ایک بازو توڑ دیا انھوں نے۔ ایدھی والے اسپتال ایمرجنسی میں پھینک گئے تھے تجھے، ظاہری مرہم پٹی بھی ٹھیک طرح سے نہیں کی تھی انھوں نے۔ جب میں پہنچا تو تُو درد سے کراہ رہا تھا اور نیم بے ہوش بھی تھا۔ بہت منتیں کیں ان مسیحاؤں کی مگر کسی نے میری ایک نہ سنی۔“ میں نے آنسو چھپانے کے لیے اپنا منھ دوسری طرف پھیر لیا۔ ”آخر ایک بھڑوا آیا ڈاکٹروں کا ، آ کے کہتا ہے پانچ ہزار کا ٹوکن دو تو کمرا مل جائے گا۔ دو ہزار پاس تھے دے کر لے لیا اور وہ بقایا تین ہزار لینے آیا تھا۔ اب تُو ہی بتا کیا کرتا میں؟“

میں یہ کہتے ہوئے جب مُڑا تو بیڈ پر میرے دوست کا سانس لینا مشکل ہو رہا تھا اس کے نتھنے بار بار سکڑ اور پھیل رہے تھے۔ میں جلدی سے اس کے پاس آیا اس کا بلڈ پریشر بھی بڑھ چکا تھا، وہ میرے ہاتھوں میں ہی بے سُدھ ہو گیا۔ ڈاکٹر کو بلانے کی غرض سے مَیں بھاگ کر کمرے سے نکلا۔

Facebook Comments HS