سرحدیں، سلاخیں اور عشق کی کینجھر جھیل


ہماری وہ پہلی ملاقات تھی جب تم نے چند دنوں کا ویزہ لے کر اس آنگن میں قدم رکھے تھے، ہم اجنبی تھے لیکن کچھ ہی وقت میں ہی اتنا قریب سا رشتہ بن گیا تھا کہ جو لوگ عمر بھر ساتھ رہ کر بھی نہیں بنا سکے۔ ہم اجنبی نہیں ہوتے زمانہ ہمیں اجنبی بناتا ہے، دنیا کی ساری تنگ دستیوں اور ستم ظریفیوں کا محور اور موجد زمانہ ہے۔ چلو زمانہ پر پھر کبھی بات کریں گے جب دنیا میں مصنوعی سرحدیں آتما ہتیا کریں گی اور ہر انسان کا وطن یہ دنیا ہوگی۔

اور ایسے باتوں کا سلسلہ چلتا رہا، تم نے مسکرا کر میرا ہاتھ پکڑا تھا اس وقت دو زندگیوں کہ بیچ ایسا مضبوط بندھن تعمیر ہو گیا تھا کہ جسے دنیا کی ساری عالمی طاقتیں مل کر بھی توڑ نہیں سکتی۔ تم نے سیاحت کہ سارے اصولوں پر چھلانگ لگا کر اپنے انداز سے اس دھرتی کی مٹی کو جھانکا تھا، دھرتی کو اپنے لبوں پر رکھتے ہوئے پھر ہاتھ پکڑ کر کہا تھا کہ کیا یہ مٹی اور میرے وطن کی مٹی مختلف ہیں؟ میں نے کہا ارضیات کہ نگاہ میں مٹی کی خصوصیات الگ ہو سکتی ہیں لیکن جہاں تیرے وطن اور میرے وطن کہ بیچ سرحد ہے وہاں دونوں خطوں کی مٹی آپس میں ایک ہے، جیسے کرشن چندر نے کہا ہے کہ ”دنیا کی ساری مائیں الگ ہیں لیکن ممتا میں کوئی فرق نہیں بھلے دنیا کہ جنگل الگ ہوں لیکن مٹی ایک ہے“ ۔

ہماری دھرتیاں بھی صدیوں سے طویل ملاپ کی زد میں ہیں اور ان کہ بیچ موجود درختوں کا سایہ صبح کو میری دھرتی اور شام کو تیرے آنگن پر گرتا ہے صبح کو پرندے ہماری سرحد پر کھڑے درختوں پر موسیقی گاتے ہیں اور شام کو تمہاری ہاں بولتے ہیں۔ میں فطرت کہ اس عمل کو دیکھ کر کہتا ہوں کہ یہ ساری دنیا ہمارا وطن ہے، ساری مٹی ہماری دھرتی ہے اور ساری انسانیت ہماری برادری ہے۔ تم نے گہری سانس لی اور پھر میرے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر اک زوردار قہقہہ مارا میرے اندر کی کائنات لرز اٹھی جیسے کسی خاموش سمندر میں کوئی طوفان آیا ہو اور ساحل سے دور کشتیاں اپنی زندگی کہ اداس نوحے گنگنا رہی ہوں۔

تمہاری ویزہ کہ دن ختم ہوتے جا رہے تھے لیکن تم نے شاید خود کو میرے اندر کی کائنات میں قید کر دیا تھا کہ تم اس وطن کی سیاحتی مقامات سے زیادہ میرے اندر کی کائنات کہ سارے مقامات گھوم رہی تھی۔ میں نے بہت اسرار کیا تھا کہ چل کینجھر کنارے جہاں نوری کی خوبصورتی پر کینجھر کی لہریں عاشقی کہ نغمے گا رہی ہیں، اور آبی پرندے کینجھر کہ پانی سے اپنے جسم پر موجود سماج کی غلاظت کو ختم کر رہے ہیں، سورج کہ آخری کرنیں ساحلِ کینجھر پر ماہی گیروں کہ گھروں کہ آنگن پر دوڑ رہے ہیں جہاں بیٹھی عورتیں سندھ کی پر مسرت فضا میں کینجھر کہ پانی سے بھیگے ہوئے اپنے زلف سنوار رہی ہیں اور چاند کی دھیمی سی روشنی میں محبت کہ طویل داستان مسکرا رہے ہیں۔

تم نے یہ سن کر کچھ عجیب ہی ری ایکٹ کیا تھا، میں نے تیرا ہوش سنبھالتے ہوئے کہا یہ سندھ کی وہ جھیل ہے جس سے عشق کا اک طویل اور مشہور داستان منسوب ہے۔ تم نے یہ کہانی سنتے سنتے کہا کہ میں نے تمہاری آنکھوں میں کینجھر دیکھ لی سچ میں تمہاری آنکھیں عشق کی کینجھر جھیل ہیں جو نوری جیسی حسیناؤں کو اپنے سینے میں سمائے رکھنے کے لیے بیتاب ہیں اور لب دھرتی کے بدن کو چومنے کے لیے ترس رہے ہیں۔ میں نے مسکرا کر تمہاری طرف دیکھا کہ سرحد کہ اس پار دور دراز علاقے سے آئی اپسرا فطرت اور چہرے پڑھنے میں کتنا آگے ہے، اور ہم جو سائنس میں تو پیچھے ہیں لیکن فطرت کہ رومانوی داستانوں سے بھی بہت دور ہیں۔

تم نے کہا سب باتیں چھوڑو چلو وہاں چلتے ہیں جہاں تیرے وطن اور میری وطن کی مٹی خود کو چوم رہی ہے، ہم وہاں پہنچے اور حسرت بھری نگاہوں سے دونوں طرف کھڑے بڑے بڑے درختوں کو دیکھ رہے تھے جن پر پرندے بیٹھے ہوئے تھے جو کبھی اس طرف کبھی اس طرف آزادی سے گھوم رہے تھے۔ اور ہم جو دنیا کہ غلیظ اصول میں جکڑے ہوئے ہیں نہ اِدھر آ سکتے تھے نہ اُدھر جا سکتے تھے۔

تمہارے ویزہ کا وقت پورا ہونے کو تھا تیرا گاؤں سرحد کے قریب تھا لیکن بیچ میں سلاخیں اور دہشتگرد دور کے مصنوعی اصول تھے۔ تم اپنے وطن سے اتنا قریب ہوتے ہوئے بھی کتنا دور تھی۔ تم نے ائرپورٹ کا رخ کیا اور وہاں سے اپنے وطن لوٹ گئی، لیکن میری آنکھوں کی کینجھر میں تم نے اپنی صورت اور سیرت کی مزار بنا دی تھی۔ اب میری دل کی مزار میں تم ایسے رقص کر رہی ہو جیسے قلندر کہ آنگن پر ملنگ وجد میں آ کر ناچتے ہیں۔ اب آنکھوں میں تیری مزار لیے پھرتے میرا داستان اس سرحد سے شروع ہونا ہے جس کہ اُس طرف تمہارا گاؤں ہیں اور اِس طرف ادھوری حسرتیں۔

تم سڑک کہ اُس پار میں سڑک کہ اِس طرف بیچ میں سماج کی سلاخیں ہیں اور ہوائیں ہماری چاہت کی خوشبو اور تصورات میں لپیٹی ہوئی خیالی ملاقاتوں کو لے کر ہمارے آگے رقاصہ بن کر ناچ رہی ہیں۔ کیا تمہیں پتا ہے! خیال، آواز، قہقہے، محبت اور عشق لافانی اور آفاقی ہیں یہ روحانیت کی چادر میں سمیٹی ہوئی توانائی ہے اور توانائی کی بقا کا قانون اس بات کا ضامن ہے کہ توانائی کبھی مرتی نہیں۔ یہ پس منظر صرف فزکس کہ ریاضیاتی اصولوں کی گرد نہیں گھومتا لیکن یہ محبت کا محور ہے فزکس مطالعہِ فطرت ہے اور فطرت محبت ہے۔

جب وجد میں تیرے وجود سے قہقہہ ابھرتا ہے وہ سماج کی ساری مصنوعی سرحدیں، تنگ نظریات کی تاریک دیواریں اور رسومات کے سارے بندھن توڑ کر اس دھرتی پر آ گرتا ہے جو دھرتی تمہاری محبوب ہے جس کی دہلیز پر نئے رنگ اور پیار کہ پودے اگلنے لگتے ہیں۔ جہاں ہم نے محبتوں کی سڑک بنائی تھی اب اس کے بیچ اک سرحد ہے، سڑک کہ اک کنارے تم اور اک کنارے میں ہوں اور بیچ میں سماج کی سلاخیں ہیں، غلامی کہ بندھن ہیں، اک قید ہے جہاں دھرتی کی خصوصیات، ماحول کا موسم نہیں بدلتا، محبت نہیں بدلتی لیکن زبانیں اور ثقافتیں اپنا رخ بدل دیتی ہیں۔

ہم اس سڑک کہ کناروں پر چلتے آ رہے ہیں جس کہ بیچ آہنی سلاخیں گھسیٹ کر انسانی تفاوت اور مساوی نظام کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے، ہم اپنی نگاہوں اور محبت کہ اڑتے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اک طویل سفر میں ہیں جس کی تکمیل آپس کہ وجود ہیں جس دن مصنوعی سرحدوں کی ساری بندشیں توڑ کر ہم دونوں اک ہو جائیں گے اس دن ہم دونوں کا اس سڑک پر سفر تمام ہو جائے گا۔ زندگی کی تکمیل صرف کامیابی میں نہیں کامیابی تو تخلیقات کہ سارے دروازے بند کر دیتی ہے، ہم جو نامکمل کہانی لے کر کتنی ہی نئی کہانیوں کی طرف دوڑتے ہیں، یقیناً یہ کہانی بھی آنے والے نسلوں کہ ذہن میں اک ساز اور آواز بن کر گونجتی رہے گی اور نسل در نسل نت نئی کہانیاں ابھرتی رہیں گے۔

 

Facebook Comments HS