مہنگائی مار گئی؟ پہلی قسط
ہم نے اکثر لوگوں کو مہنگائی بڑھنے کا رونا روتے ہوئے دیکھا ہے لیکن سچی بات ہے کہ
ان کے طرز رہائش، بود و باش اور کھانے پینے کے اطوار سے کہیں غربت نہیں جھلکتی۔ لوگ کہتے ہیں کہ چیزیں بہت مہنگی ہو گئی ہیں لیکن ساتھ ہی وہی چیزیں مقدار میں کمی لائے بغیر خرید بھی لیتے ہیں۔
دروغ بہ گردن راوی۔ ہم راجہ بازار پنڈی گئے تو وہاں ایک دکاندار سے مہنگائی پر بحث ہونے لگی اور ہم نے کہا کہ ہم نے آج تک سچ مچ کا کوئی غریب نہیں دیکھا ہے تو اُس نے کہا کہ یہ کون سی بڑی بات ہے، ایک غریب تو میں تمھارے سامنے بیٹھا ہوں۔ ہم نے کہا کہ تم اتنے معروف بازار میں یہ کروڑوں کی دکان کے مالک ہو، تم کہاں سے غریب ہو گئے تو اُس نے کہا کہ میں نے اِس عید پر نئے کپڑے نہیں خریدے تھے۔ اس پر ہم اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔
اسی طرح ہم نے اسلام آباد میں گھروں میں کام کرنے والیوں کو بھی دیکھا کہ وہ دن بھر لوگوں کا کام کرتے اور شام کو خوب مہنگے کپڑے پہن کر کسی مہنگی سی تفریح گاہ جیسے دامن کوہ، شکر پڑیاں یا مری وغیرہ بچوں کو سیر کرانے لے جاتے اور انہیں انہی مہنگے مقامات سے خریداری بھی کراتے۔ وہ اپنے بچوں کو دس بار ہزار کے ایسے کھلونے بھی لے دیتے کہ جو امیر لوگ اپنے بچوں کو دلاتے تھے۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اپنا پیٹ کاٹ کر بچوں کو یہ کھلونے وغیرہ دلاتے تھے۔ لیکن چھوٹے بچے تو معمولی سے کھلونے سے بھی بہل جاتے ہیں، تو اُن کو مہنگے کھلونے دلانے کی کیا ضرورت تھی۔
اب عام دیہاڑی دار مزدور اور کلرک کے گھر والے بھی ایسے دس بارہ ہزار کے کھلونے بھی خریدیں، روزانہ ایک دو کلو دودھ اور دہی بھی خریدیں، روزانہ گوشت بھی پکائیں، بیکری سے مہنگے بسکٹ، ٹافیاں اور آئس کریم بھی خریدیں، عید، شادیوں اور دیگر تقریبات میں بھی بھرپور خریداری کریں تو وہ غریب کیسے ہو گئے۔
اسی طرح گھریلو ملازمین کے بچے مہنگے سکولوں جیسے کہ بیکن ہاؤس میں بھی اپنے خرچے پر پڑھتے دیکھے۔
لوگ خود اتنے اضافی اخراجات اور فضول خرچیاں کرتے ہیں، مہنگائی کا رونا بھی روتے جاتے ہیں اور حکومت سے امداد کے بھی خواست گار ہوتے ہیں۔
ایسے لوگ بھی دیکھے کہ جو اپنی گاڑی، کاروبار کے مالک ہوتے ہیں لیکن اُن کی عورتیں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں دوسری طرف واقعتاً غریب عورتوں کو نوکری نہیں مل پاتی۔
غریبوں نے امیروں سے مقابلے کی دوڑ لگا لی ہے کہ خواہ قرض لیں یا کچھ بھی کریں لیکن امیروں جیسے اخراجات کریں گے۔ یہ کام وقتی طور پر تو چل جاتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ کیسے مرسیڈیز اور فراری کا مقابلہ ریڑھے والا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پھر ایسے غریبوں کی خود کشی کے واقعات بھی سامنے آتے ہیں۔
کچھ دن پہلے خبر پڑھی کہ ایک شادی کے موقع پر دولہا کے دوستوں نے بارات پر ایک کروڑ روپے کی ملکی و غیر ملکی کرنسی اور موبائل فون نچھاور کر دیے۔ اب اگر غریب اس معاملے میں بھی امیروں کی پیروی کرنے لگے تو کیا ہو گا؟ دوسری طرف یہ بھی سوچیں کہ اس کروڑ روپے سے کتنے غریبوں، بیمار، ناداروں کی زندگیاں بدل سکتی تھیں، کاش! کہ بارات پر یہ رقم نچھاور کر کے تھوڑی دیر کی شہرت حاصل کرنے کے خواہش مند خود غرض اس حوالے سے بھی سوچ لیتے۔
پی ٹی وی کا مشہور زمانہ ڈرامہ ”استانی راحت کی کہانی“ معاشرے کی اسی خود غرضی کی نشاندہی کرتا تھا۔ لیکن آج تو ہر طرف یہی کچھ ہو رہا ہے۔
پہلے لوگ چائے کے سٹالوں پر موسیقی بجایا کرتے تھے، آج وہ ناپید ہو گئے ہیں اور شہروں کے بازار، گلیاں کوچے اس حوالے سے شہر خاموشاں کا سا منظر پیش کرتے ہیں لیکن دوسری طرف شادیوں پر ڈیک کرائے پر لے کر خوب موسیقی بجائی جاتی ہے، یعنی یہ بھی غریب کے لیے ایک ایسی شے بنا دی گئی ہے کہ جس کا اہتمام کرنا اس کے لیے بھی ضروری کر دیا گیا ہے۔
لوگ جب نمود و نمائش کے لیے ایسی خریداریاں کرتے ہیں تو دکاندار بھی قیمتیں بڑھا دیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے۔ مثلاً ہم نے آج سے کوئی تیس سال پہلے سالم بکرا دو سو میں لیا تھا، آج بکرے کے گوشت کا چھٹانک بھی دو سو روپے کی نہیں ملتی۔ اُسی سال ایک دودھ دینے والی بکری معہ دو چھوٹے میمنے چار سو روپے کی خریدی تھی۔ اب اس سال ہمارے ایک پڑوسی نے دودھ والی بکری چالیس ہزار میں خریدی ہے۔ چند سال پہلے اسلام آباد میں دنبے کا گوشت پانچ سو روپے فی کلو میں خریدا تھا۔ آج وہ دو ہزار سے بھی اوپر کا ملتا ہے۔ آج ایک روٹی کم سے کم پندرہ اور زیادہ سے زیادہ تیس کی ملتی ہے لیکن آج سے کوئی بائیس پچیس سال پہلے ہم نے وہ دور بھی دیکھا ہے کہ جب ہم دو روپے کا ایک افغانی نان خریدا کرتے تھے اور ایک وقت میں ہم گھر کے تین افراد اُسے ختم نہیں کر پاتے تھے۔ اب تو ڈبل روٹی اتنی چھوٹی ہوتی جاری ہے کہ پوری روٹی ایک نوالہ بمشکل ہو پاتی ہے۔ لیکن قیمت ہے کہ بڑھتی جاتی ہے۔ بسکٹ، ٹافیوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔
ایسے چند افراد کو ہم جانتے ہیں جو واقعی غریب ہیں، جو موسم آنے پر ایک کلو پھل بھی نہیں خرید سکتے، نہ عید پر نئے جوتے یا کپڑے خریدتے ہیں لیکن ایسے لوگوں کو غریب سے زیادہ ”بدقسمت“ کہا جا سکتا ہے کہ جنھیں ان کی قسمت اتنی تنگ دستی کی طرف لے گئی ہے۔
ہاں ایسے غریب بہت دیکھے جنھوں نے خود پر غربت طاری کر رکھی ہوتی ہے مگر واقعتاً غریب نہیں ہوتے۔ یا استاد محترم سہیل وڑائچ کے الفاظ میں ”کھلے تضاد“ کا نمونہ ہوتے ہیں۔
ایک صاحب تھے جو چربی میں گوشت پکاتے اور مٹی کی رکابیوں میں سالن گھر والوں میں تقسیم کرتے۔ وہ سالن چند ہی منٹوں میں جم جاتا اور یوں سالن بھی زیادہ دیر تک چلتا اور اُسی چربی میں پھر سالن پکایا جاتا یوں ایک سالن کی چربی کئی مہینوں تک چلتی رہتی۔ وہ خود جو کی سخت روٹی کھاتے تھے لیکن دوسری طرف اپنے کتوں کی بہت اچھی دیکھ بھال کرتے اور اُنہیں گندم کی روٹی دیتے اور اُن پر بہت خرچہ کرتے۔ اُس خاندان کا ایک لڑکا بہت بیمار ہوتا اور سخت لاغر اور کمزور ہو جاتا لیکن اپنی ماں سے خوش ہو کر پشتو میں کہتا اب میں بیمار پڑنے والا ہوں تو اب تو مڑئی ہپام۔ یعنی اب میں کتے والی (گندم کی ) روٹی کھاؤں گا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ بے چارہ اتنا سخت بیمار پڑتا کہ روٹی کھانے کا زیادہ موقع ہی نہ مل پاتا۔
ایک آدمی خاصا کھاتا پیتا تھا، سال کے سال فصل بیچنے کے بعد بھی ایک بڑا کمرہ گندم کا بھرا رہتا۔ خود تو وہ ہر کھانے کے وقت دو گندم کی روٹیاں کھاتا لیکن گھر کی عورتوں کو خالص گندم کی بھوسی کی روٹیاں کھلاتا جس میں صرف ایک مٹھی آٹا شامل ہوتا تھا۔ اور یہ روٹیاں بھی بہت چھوٹی جیسے عام طور پر دیہات میں میٹھے آٹے کے گول چھوٹے ٹکڑے تلے جاتے ہیں، کے برابر ہوتی تھیں۔ یا اتنی چھوٹی کہ جتنی ہندو برادری کے ہاں چھوٹی چھوٹی روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔ ساتھ ہی وہ کہتا کہ میں بہت غریب ہوں۔ چنانچہ گھر کی عورتیں اُس سے چھپ کر اپنے لیے آٹے کی روٹی پکاتیں اور بغیر سالن کے کھا جاتیں۔ ایک دن وہ اپنے لیے روٹی پکا رہی تھیں تو کسی بچے نے اطلاع دی کہ چاچا گلی میں آ رہا ہے تو اُن میں سے ایک نے اپنی روٹی چھپانا چاہی جلدی میں اُسے کوئی اور جگہ نہ ملی تو اُس نے اپنی روٹی مرغی کے ڈربے میں مرغیوں کے پانی پینے والے گندے برتن کے اوپر رکھ دی کہ پھر موقع ملنے پر اٹھا کر کھا لوں گی۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بنک قرضے پر سائیکل دینے کا ایک منصوبہ شروع ہوا تھا۔ ایک صاحب جو بہت امیر تھے لیکن بہت ہی کھٹارا قسم کی سائیکل استعمال کرتے تھے، دوست، جاننے والے روز کہتے کہ تم اتنے امیر ہو، کوئی نئی سائیکل خرید لو۔ جب سائیکل بنک قرضے پر لینے کا منصوبہ آیا تو اپنے دوستوں کے بہت مذاق اڑانے اور مجبور کرنے پر اُنہوں نے نئی سائیکل قسطوں پر لی۔
اسی طرح صدر ایوب کے دور میں ایک بہت امیر عورت تھی، جس کی بہت ساری بھینسیں، ذاتی گھر اور شہر میں زمین تھی، وہ ایک رات نالی میں ہاتھ ڈال کر دُہائی دے رہی تھی کہ ہائے میری رقم نالی میں گر گئی ہے۔ کئی راہگیر اکٹھے ہو گئے اور اُس کی مدد کرنے لگے۔ ایک راہگیر نے نالی میں ہاتھ ڈالا تو اُس کے ہاتھ میں ڈیڑھ آنہ یا چھے پیسے ہاتھ آئے۔ اُس نے اُس عورت کے ہاتھ میں ڈیڑھ آنے رکھتے ہوئے کہا کہ خالہ مجھے تو بس صرف یہی ڈیڑھ آنے مل سکے ہیں۔ تو اُس عورت نے کہا کہ ہاں میرے یہی ڈیڑھ آنے کی رقم ہی تو نالی میں گر گئی تھی۔ اور اُس کو خوب دُعائیں دینے لگی۔
ایک عورت تھی کہ جو اپنی بہوؤں کو بہت کم روٹی دیا کرتی۔ وہ بے چاریاں اُس سے چھپ کر روٹی کھایا کرتیں۔ وہ عورت گرمی کی وجہ سے خود باورچی خانے میں زیادہ نہیں جاتی تھی۔ اور صحن میں بیٹھی رہتی لیکن اُس نے بہوؤں کی چوری پکڑنے کا یہ طریقہ اختیار کر رکھا کہ مسلسل اُن کو بولنے پر مجبور کرتی رہتی اور جو بہو بروقت جواب نہ دے پاتی تو وہ سمجھ جاتی کہ وہ بہو روٹی کھا رہی ہے چنانچہ بہوؤں نے بھی یہ ترکیب نکالی کہ اگر اُن کے منہ میں نوالہ ہوتا اور ساس مخاطب کرتی تو وہ نوالہ نکال کر اُسے جواب دیتی اور پھر وہی نوالہ منہ میں ڈال لیتی۔
کچھ عرصہ پہلے ایک صاحب کو دیکھا جو چارپائی پر سبزیاں، آلو، پیاز وغیرہ رکھ کر بیچ رے تھے، بہت ترس آیا، ہم سوچنے لگے کہ کتنے غریب ہیں کہ ایک ریڑھی بھی کرائے پر نہیں لے سکتے۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ صاحب اپنے کوئی دس بارہ مرلے کے تین منزلہ گھر کے سامنے یہ کاروبار کر رہے تھے۔ گھر کے ساتھ سڑک پر واقع تین دکانیں بھی اُن کی تھیں جو کرائے پر چڑھی ہوئی تھیں اور گھر کی اوپری منزل بھی کرائے پر دی ہوئی تھی۔ اور وہ صاحب سرکاری پنشنر بھی تھے۔ لو کر لو بات۔


