وقت: گناہگار یا بے گناہ مجرم
وقت کو ظالم کہنے والے نے یونہی تو تاریخ کے اوراق پر اسے ثبت نہیں کیا ہو گا یقیناً مؤرخ نے ثبوت مانگا ہو گا۔
اس نے بھلا کیا ثبوت دیا ہو گا؟ دیا بھی تھا یا رشوت دے کر کام چلوایا تھا؟ ہاں شاید اس الزام کے بعد ہی وقت نے خود کو ظالم بنا کر ثبوت دیا ہو گا۔ کیا ظالم کہنے والا بھی اس کا محبوب تھا جس کو وہ جھوٹا نہیں کہلوانا چاہتا تھا اس لیے سب کی نظروں میں خود کو ظالم بنا لیا اور اب دیکھو غموں سے چور بس دوڑتا رہتا کہیں رکتا نہیں۔
وہ تاریخ کا نیا مؤرخ آیا تھا اور آتے ہی اسے لگا تھا وقت ظالم کیوں ہے؟ اگر ہے بھی تو تاریخ میں ثبت کیوں کیا گیا؟ اس نے وقت سے سوال کیا تھا مگر اس کی خاموشی پر ایک پورا دن اس کے ساتھ بیتانے کے لیے چل پڑا تھا تاکہ وقت کا ظالم چہرہ خود دیکھ سکے۔
وہ چھوٹا سا بچہ جس نے شاید ابھی چلنا سیکھا تھا ابھی پہلا لفظ ماں کہا بھی تھا یا نہیں سڑک پر نکل آیا ہے۔ سامنے تیز رفتار ٹرک آ رہا ہے اور ڈرائیور نشے میں دھت ہے۔ وقت نے اک پل کو دیکھا تھا اگر وہ رک جائے تو بچہ بچ سکتا ہے کیونکہ بے چین ماں پیچھے بھاگتی آ رہی ہے مگر محبوب کی رسوائی کا خیال اور ایک اور الزام تمغے کی طرح خود پر سجائے آگے زن سے بڑھ گیا اور بچے کے خون کے چھینٹے چپکے سے اپنی پوٹلی میں سمیٹ لیے۔
مؤرخ نے جب یہ دیکھا تو اسے یقین ہو چلا کہ وقت ظالم نہیں مظلوم ہے جو ایک محور کے پیچھے سب کیے چلا جا رہا ۔ اس نے وقت کو پوٹلی دکھانے کو کہا تھا اور وقت نے ایک اذیت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اسے تھما بھی دی تھی کیونکہ وہ مؤرخ کو سب دکھانے کا پابند تھا اسی محور کے لیے کہ کہیں وہ اس کے محور کو غلط نہ لکھ دے۔
اس پوٹلی میں بہت کچھ تھا ایک اسی سالہ بڑھیا کی ٹوٹی عینک جس کا بیٹا چالیس سال بعد اس سے ملنے آیا تھا۔ ایک شوخ کی لال ٹوٹی چوڑی جس کے عشق نے اسے دنیا کے لیے فاحشہ بنا دیا تھا۔ ایک خاکی رنگ کا ٹکڑا جو ایک باپ کا تھا جس نے ابھی اپنے جگر گوشے کو ایک بار دیکھا بھی نہیں تھا۔ کانچ کے چند ٹکڑے جو اس گاڑی کے تھے جس میں چار دوست عہدِ تجدیدِ وفا دہرا رہے تھے۔
وقت کی پوٹلی میں اور بھی بہت کچھ تھا مگر شاید اس سے زیادہ وہ دیکھ نہیں سکتا تھا ایک آخری جھٹکا اور وقت تیزی سے آگے بڑھ گیا تھا اور وقت کو بے گناہ ثابت کرنے کی تگ و دو میں لگا ایک اور مؤرخ وقت کی گناہوں کی پوٹلی میں قید ہو گیا تھا۔


