غلام حسین ساجد کے مجموعے ”تجاوز“ میں آئینے کا شعری اظہار

اردو شاعری میں مختلف لفظوں کا استعاراتی، علامتی اور تلمیحاتی استعمال خیال کو وسعت عطا کرنے کا بہترین نمونہ سمجھا جاتا ہے۔ اپنے لغوی مفہوم سے قطع نظر شعری پیرائے میں لفظ خاص معنی کو اجاگر کرتا ہے تو خیال میں ندرت، وسعت، رعنائی اور رفعت پیدا ہوتی ہے۔ شاعری میں کثیر الفاظ اپنے لغوی معنی کے بجائے خاص معنوں میں جلوہ گر ہیں۔ آئینہ حیرت انگیز طور پر اردو کے تمام شعراء کا مشترکہ پسندیدہ لفظ قرار دیا جاسکتا ہے۔ میری رائے میں آئینے سے زیادہ معنوی وسعت شاید کسی دوسرے لفظ میں موجود نہیں ہے۔ کلاسیکی شاعری میں حقیقی و مجازی دائرے میں خم و پیمانہ اور ساغر و مینا سمیت میکدے کے تمام لوازمات کا شعری اظہار ملتا ہے۔
میراخیال ہے کہ غالب پہلا شاعر ہے۔ جس کی شاعری میں اس دائرے کے ساتھ ساتھ لفظ آئینہ کثرت سے موجود ہے اور اس میں معنیاتی سطح پر حد درجہ بوقلمونی ملتی ہے۔ غالب کے بعد حالی کی جدید شاعری اور اقبال کی انقلابی شاعری میں بھی آئینہ جلوہ گر ہے۔ راشد، فیض، میرا جی سمیت مختلف شعراء نے بھی اس لفظ سے استفادہ کیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد نئے شعراء نے اس لفظ کو اس کثرت سے شعری اظہار کا ذریعہ بنایا ہے کہ شاید کوئی دوسرا لفظ اس کے مقابل دکھائی نہیں دیتا ہے۔ ستر کی دہائی کے شعراء نے بھی اس لفظ کی معنیاتی جہتوں کو دریافت کیا ہے۔ ان شعراء میں ایک اہم نام غلام حسین ساجد کا ہے۔ ان کے درجن بھر شعری مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ تازہ شعری مجموعے ”تجاوز“ کا مطالعہ فکری و فنی اعتبار سے اہل نقد کی توجہ کا طالب ہے۔ مجھے اس مجموعے میں بطور خاص آئینے کے حیرت انگیز شعری اظہار نے بے حد متاثر کیا ہے۔ وہ علامتی، استعاراتی، تشبیہی اور تلمیحاتی پیرائے میں نئے نئے خیالات سامنے لاتے ہیں۔ ان میں اکثر خیالات پہلی بار اردو شاعری کی زینت بنے ہیں۔ یہ حد درجہ کمال ہنر مندی کا اظہار غلام حسین ساجد کی فنی پختگی کا غماز ہے۔ تین ابتدائی غزلوں کے مطلعے دیکھیے :
مختلف میری بصیرت ہے نہ بینائی الگ
ہے وہی آئینہ خانہ، کار فرمائی الگ
آب آئینہ الگ ہے، آنکھ کا پانی الگ
سادگی اپنی جگہ ہے، حشر سامانی الگ
قیس کا قصہ الگ ہے، میرا افسانہ الگ
آئینہ خانہ الگ ہے اور پری خانہ الگ
تینوں غزلوں کی بحر اور ردیف ایک ہے۔ قوافی الگ استعمال کیے گئے ہیں۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ تینوں مطلعوں میں آئینہ کا لفظ خاص معنی کا حامل ہے۔ پہلے شعر میں آئینہ خانہ کائنات کی غمازی کرتا ہے۔ دوسرے شعر میں آئینہ سادگی اور سچائی کا مظہر ہے۔ تیسرے شعر میں مجاز سے حقیقت کی طرف نشاندہی کرتا ہے۔ یوں تینوں اشعار الگ الگ معنیاتی جہتوں کو سامنے لاتے ہیں۔ مزید شعر ملا حظہ کیجیے :
دکھائی دیتا ہے اب آئینے میں اپنا آپ
کسی سے عشق کی توفیق دے خدا مجھ کو
یہاں آئینہ محض آئینہ نہیں ہے بلکہ ذات بن گیا ہے۔ جب ذات شناسی کا مرحلہ انجام پاتا ہے تو موجودات سے تعلق خاطر بڑھنے لگتا ہے۔ یوں عشق کا مرحلہ انجام پاتا ہے اور یہ صرف توفیق خدا سے ممکن ہوتا ہے۔ شاعری واقعاتی اور حسیاتی دونوں سطحوں پر شاعر کو نئے زاویے سے خیال باندھنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہمارے گزشتہ میں خیالات و مضامین کا لا متناہی سلسلہ موجود ہوتا ہے۔ ان سے مختلف اور جدا ہونے کی خواہش امکانات کے در وا کرتی ہے۔ شعر ملاحظہ کیجیے :
محسوس کر رہا تھا اُسے انگلیوں سے میں
تھی دھوپ آئنے کے برابر جمی ہوئی
دھوپ کو انگلیوں سے محسوس کرنا تو عام تجربہ قرار دیا جائے گا مگر عکس کو انگلیوں سے چھونے کا تصور اردو شاعری میں شاید پہلی بار باندھا گیا ہے۔ محسوساتی سطح پر اس شعر نے عجیب کیفیت پیدا کی ہے۔ اسے صرف وہی جان سکتا ہے۔ جو ایسے تجربے سے گزرا ہے۔
کائنات میں قبول و گریز کا عمل ازلی و ادبی سچائی کا حامل ہے۔ موجودات میں کشمکش ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ مگر عکس کا آئنے سے گریز قانون فطرت سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔ غلام حسین ساجد نے اس گریز کو یوں بیان کیا ہے :
یہ آئینہ ہے تو کیوں عکس سے گریزاں ہے
یہ باغ ہے تو یہاں خار و خس ضروری ہے
شعر پڑھ کر بے ساختہ سبحان اللہ کہنا پڑتا ہے۔ عکس کو آئینے کا خار و خس قرار دے کر باغ سے مشابہت پیدا کرنا کمال خیال آفرینی کا غماز ہے۔ مجھے میر درد کا ایک شعر یاد آ رہا ہے :
مٹ جائیں ایک آن میں کثرت نمائیاں
ہم آئینے کے سامنے جب آ کے ہو کریں
وحدت الوجود کے تناظر میں یہ شعر مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مجھے غلام حسین ساجد کا شعر اس خیال کی ایکسٹینشن دکھائی دیتا ہے۔ شعر وہی ہوتا ہے۔ جو گزشتہ خیال میں اضافہ کر کے امکان کی صورت دکھاتا ہے۔
ایک غزل کی ردیف ”مرے آئینے میں ہے“ خاص توجہ کی متقاضی ہے۔ پہلے چند اشعار دیکھیے :
جب سے وہ چاند سی صورت مرے آئینے میں ہے
سر چھپائے ہوئے حیرت مرے آئینے میں ہے
دیکھ سکتا ہوں اندھیرے میں بھی اس گل کو میں
جب تلک شمع بصارت مرے آئینے میں ہے
اک ستم گر نے کیا ہے مجھے ساجد مخمور
ایک بھرپور قیامت مرے آئینے میں ہے
آئینے کو دل قرار دینا اردو شاعری کا مشترکہ تجربہ ہے اور اس بات میں ہر قدیم و جدید شاعر نے خیال باندھا ہے۔ غلام حسین ساجد نے آئینے کی ردیف کے ذریعے اس میں تنوع پیدا کیا ہے۔ مزید دیکھیے :
یہ کس کے واسطے وا ہو رہا ہے دروازہ
یہ کس خیال میں آئینہ مسکرانے لگا
راہ دکھلاتی ہے جب تک آئینے کی آب و تاب
چل رہا ہے کوئی سایہ دور تک اوڑھے ہوئے
نظر جھکائی تو آئینہ بے چراغ ہوا
زبان پھیر کے ہونٹوں پہ جگمگائے ہونٹ
ایک آئینے کو دینا تھا مجھے اذن کلام
ایک تصویر بنانا تھی، بنائی ہی نہیں
ان اشعار میں آئینے کو دل قرار دے کر محبت کے نت نئے زاویے سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے اور ہر زاویہ مختلف اور جدا ہے۔ سماجی ناہمواری اور سیاسی انتشار سے متعلق مضامین میں بھی آئینہ اپنی تمام آب و تاب کے سامنے معنی آفرینی دکھاتا ہے۔ بہت سے اشعار میں غلام حسین ساجد نے اس بابت واضح اشارے کیے ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر نئی حکومت گزشتہ حکومت سے بدتر ثابت ہوتی ہے اور ہماری زندگیوں کو مزید مشکل بنا دیتی ہے۔
چراغ چھین لیے، آئینے بدل ڈالے
سحر نے کھینچ لی مجھ پر کمان آتے ہی
آئینے کے ذریعے حیرانی کا تصور بھی اردو شاعری کا مشترکہ اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔ اس باب میں بھی غلام حسین ساجد نے نئے نئے پیکر تراشے ہیں۔ ان پیکروں کے جلوے مسحور کن اور جاذب نظر ہیں۔ ذات کائنات، موجودات اور عجائبات میں جابجا حیرانیاں جلوہ گرہیں۔ جنھیں غلام حسین ساجد تصویری شکل دیتے ہیں۔
ایک حیرانی لیے ہے، ایک طغیانی لیے
آئینے کی خو الگ ہے، آب جو کی خو الگ
عکس بنتا ہے نہ میں خود ہی دھواں ہوتا ہوں
آئینہ دیکھ رہا ہے مجھے حیرانی سے
ہاتھ ملتے رہ گئے سب آئینے میری طرح
اس نے ملنے کی ضرورت ہی نہیں محسوس کی
آئنے میں عکس حیرت کو سمانا ہی نہیں
منتظر اس کا ہوں جس کو آج آنا ہی نہیں
غلام حسین ساجد کی شاعری میں چراغ کا لفظ بھی خاص معنویت کا حامل ہے۔ کہیں کہیں چراغ اور آئینہ مل کر خیال کی تزئین کرتے ہیں اور یوں دو استعاروں کی یکجائی شعر کا حسن دوبالا کر دیتی ہے۔
پڑھتے ہی سارے شہر کی آنکھیں چلی گئیں
کیا لکھ دیا تھا آئینے پر اس چراغ نے
نہیں ہے کوئی ضرورت گریز کرنے کی
چراغ پاس ہے اور آئینہ سلامت ہے
صرف آئینہ دیکھ سکتا ہے
روشنی ہے کہاں چراغوں میں
یہ غلام حسین ساجد کے شعری مجموعے ”تجاوز“ میں آئینے کے اظہار کا اجمالی جائزہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی درجنوں اشعار میں آئینہ معنیاتی، حسیاتی، واقعاتی، معروضی اور موضوعی سطح پر نہایت بلیغ استعارے کی صورت میں جلوہ گر ہے۔ یہ مجموعہ مزید شعری تصورات کے جائزے کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ وہ بجا طور پر جدید اردو غزل کے نمائندہ شاعر ہیں اور ان کی یہ تازہ شعری کاوش غیر معمولی قرار دی جا سکتی ہے۔ میں مضمون کا اختتام ان کے اس شعر سے کروں گا:
تجسیم کروں عکس کو آئینے میں ساجد
مٹنے پہ اگر آئے، مٹاتا ہوا گزروں

