مسجد کا پانچواں بینر


مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یوں بھی ہو سکتا ہے مگر ایسا ہو چکا تھا جو اتنا خوفناک تھا کہ میں لرز اٹھا۔ وہ پانچواں بینر تھا جس نے مجھے ہلا ڈالا اور کڑوی حقیقت کا روپ دھارے میرے سامنے دیوار پر چسپاں تھا، جس سے مجھے نہایت خوف آ رہا تھا کیونکہ اس کی کلر سکیم جتنی وحشتناک تھی الفاظ اس سے بھی زیادہ۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ پانچواں بینر کیا ہے؟ پوری بات سمجھنے کے لیے آپ کو میرے ساتھ ذرا ماضی تک چلنا ہو گا۔

جی، تو یہ بات ہے 2017 کی جب میرے معصوم شہر میں عرصہ سے دبی دہشت گردی کی چنگاریاں پھر سے سلگنے لگی تھیں۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ دہشت گردی کے عفریت نے جتنا خون میرے شہر کا پیا تھا، ملک بھر میں کہیں بھی نہیں چوسا ہو گا۔ کتنی ہی کٹی پھٹی لاشیں میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا بلکہ میرے نثری نظم کے سفر کا آغاز بھی ان ہی خون کی بارشوں سے ہوا جس میں میرے شہر کے خون کی باس رچی ہوئی تھی اور ادھڑے ہوئے انسانی اعضا فضاؤں میں چاروں طرف اڑتے پھرتے تھے۔

خیر تو میں بات کر رہا تھا ماضی کے خون آشام سال 2017 کی۔ ماہِ رمضان کا چھبیسواں روزہ تھا اور لوگ افطاری کر کے گھروں سے نکل کر خراماں خراماں چلتے مسجد کی طرف رواں تھے۔ میں قدرے تاخیر سے گھر سے نکلا تھا اس لیے لمبے لمبے ڈگ بھرتا خانہِ خدا کی طرف چل پڑا، ابھی کچھ ہی فاصلے پر تھا کہ مسجد کے دروازے پر کچھ لوگ دکھائی دیے جو دائرے کی شکل میں کسی پر جھکے ہوئے تھے۔ میں تجسس کے مارے تیز تیز قدم اٹھاتا مسجد کی طرف تقریباً دوڑ پڑا، ہانپتے ہوئے قریب جا کے دیکھا تو دھک سے رہ گیا اور مجھ پر جیسے سکتہ طاری ہو گیا۔ مسجد کی دہلیز کے بیچوں بیچ میرا پولیس مین جوان کزن خون میں لت پت پڑا تھا جسے کچھ ہی دیر قبل دہشت گردوں نے سینے پر تین فائر کر کے عین اس وقت شہید کر دیا تھا جب اس کا ایک قدم مسجد میں اور دوسرا باہر تھا۔ پل بھر میں کہرام مچ گیا اور محلے کے ہر گھر پر جیسے موت مورچہ سنبھال کر بیٹھ گئی۔

2017 سے اب تک وہ خونی منظر میری آنکھوں میں سفر کر رہا ہے اور میرے کزن کا چہرہ کبھی بھی میری آنکھوں کو الوداع نہ کہہ سکا۔ اُس کی والدہ یعنی میری خالہ اپنے بیٹے کی یاد میں ہر سال چھبیسویں روزے کو اسی مسجد میں اہلِ علاقہ و رشتہ داروں کا روزہ افطار کروا کے اپنے شہید بیٹے کی ناقابلِ فراموش شہادت کو یاد کرتی ہیں اور پورے سماج کو اکٹھا کر کے بتاتی ہیں کہ کیسے جوان بیٹے اپنے وطن اور اپنی مٹی پر قربان کیے جاتے ہیں۔

میں ہر سال باقاعدگی سے افطاری میں شریک ہوتا رہا ہوں کہ کزن کے ساتھ برسوں کا ایک یارانہ بھی تھا۔ آج چونکہ چھبیسواں روزہ تھا تو مجھے اسی مسجد میں افطار کے لیے جانا تھا۔ میں اپنے جانباز شہید کزن کو یاد کرتا ہوا مسجد پہنچ گیا تھا جو روزہ داروں سے بھری ہوئی تھی۔ میں بھی مسجد کے صحن میں ایک مناسب سی جگہ پر بیٹھ گیا۔ ادھر ادھر نگاہ دوڑائی، تقریباً سبھی شناسا چہرے روزہ کھلنے کے انتظار میں دستر خوان کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے اور چند ہی منٹ رہ گئے تھے۔

میں آنکھوں میں چہرے تولتا یہاں وہاں دیکھ رہا تھا کہ اچانک میری نظریں صحن کی دیوار پر جا پڑیں اور وہیں پتھر کی ہو کر رہ گئیں، ایک دم سے میرے چہرے پر پریشانی کے نوکیلے کانٹے اگ آئے۔ یہ کب ہوا؟ کتنی ہی سوچوں نے مجھ پر حملہ کر دیا اور بلا کی بے چینی مجھ سے چمٹ گئی تھی، خدا جھوٹ نہ بلوائے تو مجھ سے سکون سے نہیں بیٹھا جا رہا تھا۔ مسجد کی دیوار سے مجھے ایک خون سا رستا محسوس ہوا جو مسجد کے صحن میں پھیل رہا تھا۔

میں خوف میں ایسا گرفتار ہوا کہ مجھے روزہ کھلنے کا بھی احساس نہ رہا کہ کب افطاری کا وقت ہو چکا تھا اور روزہ دار سر جھکائے کھانے پینے میں مصروف تھے۔ جیسے تیسے کر کے میں نے ایک دو نوالے حلق میں اتارے اور عجیب سے وسوسوں اندیشوں میں گھرا فوراً گھر لوٹ آیا۔ میری شریکِ سفر حیران تھی کہ میں کیوں اتنی جلدی واپس آ گیا؟ اس نے پوچھا بھی، میں نے خرابیِ طبیعت کا بہانہ کر کے بات کو ٹالنے کی کوشش کی مگر بے چینی اور بے سکونی میرے چہرے سے پسینے کی طرح رس رہی تھی۔

اب میں اسے کیسے بتاتا کہ میرے جلدی واپس آنے کی وجہ وہ پانچواں بینر تھا جو مسجد کے صحن میں آویزاں تھا جس کی کلر سکیم اتنی وحشتناک تھی کہ مجھے اس سے سچ مچ کا خون ٹپکتا ہوا محسوس ہوا اور مجھ پر وحشت طاری ہو گئی تھی، بالکل ویسی ہی جیسے آٹھ سال قبل خون میں نہائے کزن کی لاش دیکھ کر طاری ہوئی تھی۔ وہ پانچواں بینر واقعی بڑا خوفناک تھا جو صحن کی دیوار پر لگایا گیا تھا۔ چار بینر محمد کے دوستوں کے تھے جن کے نام بچپن سے ہی مسجدوں کے دیوار و در پر لکھے ہوئے دیکھ رہے تھے مگر یہ پانچواں بینر میرے لیے بالکل نیا اور اجنبی تھا، میں نے آج تک ایسا دہشت انگیز بینر کسی مسجد کے احاطے میں لگا ہوا نہیں دیکھا تھا جس پر متشدد رنگوں کے ساتھ بڑا بڑا لکھا ہوا تھا:

”گستاخِ رسول کی ایک ہی سزا،
سر تن سے جدا سر تن سے جدا ”

مجھے یوں لگا جیسے یہ وحشت کی سرخیوں میں لپٹے الفاظ نہیں بلکہ خوف کے وہ گولے ہیں جو مسجد کے صحن میں کسی نے پھوڑ دیے ہیں اور سب کے چہروں سے خون بہہ رہا ہے جبکہ چاروں طرف بارود کی بو پھیل چکی ہے۔

بظاہر تو پانچویں بینر سے میں جان چھڑا کے آ گیا تھا مگر مجھے یوں لگا جیسے مسجد کی پوری دیوار میرے ساتھ گھر میں داخل ہو گئی تھی جس پر پانچواں بینر لگا ہوا تھا، اس لیے گھر آ کر بھی میرا خوف کم نہ ہوا بلکہ میری پریشانی و بے چینی مزید بڑھ گئی کہ خدا کے رحمتوں بھرے گھر میں آخر یہ کانٹوں بھرا پانچواں بینر کہاں سے اگ آیا؟ میں ششدر تھا کہ میرے پڑوس یعنی خدا کے گھر میں اتنے خوفناک رویے پنپ رہے ہیں اور مجھے پتہ ہی نہیں؟

مسجد تو بیت اللہ ہے یعنی اللہ کا گھر جہاں داخل ہونے والا غیر بھی خدا کی رحمت و سلامتی کا مستحق ہو جاتا ہے اور وہ اس کی پناہ میں آ جاتا ہے، کوئی بھی شخص اسے میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا مگر یہاں تو پانچواں بینر لگا کے خدا کی رحمت کی بجائے نمازیوں میں کھلم کھلا خون بانٹا جا رہا تھا اور انہیں قتل و غارت کی ترغیب دی جا رہی تھی کہ سوسائٹی میں سر کس طرح قلم کرنے ہیں۔ یہ سب بہت خوفناک تھا۔

سوچیں تھیں کہ مجھے مسلسل پچھاڑے جا رہی تھیں اور میری حالت غیر ہو رہی تھی۔ آخر یہ کیسے لوگ مسجد میں گھس آئے ہیں جو اس طرح کا خونخوار پانچواں بینر لگا کر ہمارے فرشتوں جیسے معصوم بچوں کی آنکھوں میں اسلام کا وحشتناک چہرہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں؟ ہم کس طرح کی وحشی نسل اپنے سماج کو دینا چاہتے ہیں؟ یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ اسلام، کعبہ اور قرآن کی حفاظت کی ذمہ داری خود خدا نے لے رکھی ہے جن کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے تو پھر ہم کون ہوتے ہیں خدا کے خیر و برکت اور سلامتی والے گھر سے اس طرح کے جنونی پیغام جاری کرنے والے؟

کیا اپنی نسلوں میں اس طرح کی جنونیت پیدا کرنا ہی مضبوط ایمان کا پیمانہ ہے؟ اگر آج کے دور کا یہی پیمانہ ہے تو پھر سوچنے کی بات ہے یہ پیمانہ کس کا مقرر کردہ ہے؟ کیا دونوں جہانوں کے رحمت اللعالمین نے مسجد نبوی کے کچے صحن میں بیٹھ کر یہ فرمان جاری کیا تھا کہ میرے گستاخ کا سر تن سے جدا کر کے لے آؤ؟ ہر گز نہیں بخدا ہرگز نہیں، کم از کم مرقعِ اخلاق میرے پیارے نبی ﷺ کا یہ فرمان کسی صورت نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ان کی یہ سنت رہی ہے ورنہ آپ پر روزانہ کوڑا پھینکنے والی یہودی عورت کی سربریدہ لاش مدینہ کی گلیوں میں ملتی جن پر گھوڑے دوڑائے جاتے۔ تو پھر ہم کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں؟

سوچنے کا یہی وہ مقام ہے جہاں سے ہمقری سوچوں کا دھارا بدل سکتا ہے مگر کمال تو یہ ہے کہ ایسی حرکتوں پر ایک دوسرے کو کوئی روکنے ٹوکنے والا بھی نہیں ہے۔ کیونکہ میں نے افطار پر آئے ہوئے سبھی روزہ داروں کو کھانے پینے میں اتنا مشغول دیکھا تھا کہ کسی کی بھی نگاہیں دیوار پر لگے اس خوفناک پانچویں بینر سے ٹپکتے خون کو نہیں دیکھ رہی تھیں جو میں دیکھ رہا تھا مگر بے چینی ایسی کہ بیان سے باہر۔ میں گھر آ کر بھی بے سکون رہا۔

آخر کیوں اور کیسے اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ، غیر عقلی و غیر منطقی بینر خانہِ خدا میں جگہ بنا سکتا ہے؟ مسجد تو سکون کی جگہ ہے، پھر مجھے بے سکونی نے کیوں گھیر لیا؟ کیا میرے کزن کے وجود سے بہنے والا خون ہم اپنی نسلوں کے ذریعے پورے سماج میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں؟ جب میری پریشانی مجھ پر حاوی ہو گئی تو میں اس سے چھٹکارے کا راستہ تلاش کرنے لگا کہ آخر یہ پانچواں بینر کیسے وہاں سے ہٹوایا جا سکتا ہے؟ بڑی سوچ بچار کے بعد میرے ذہن میں ایک ترکیب کا نقشہ جاگ اٹھا اور میں نے اس پر عمل کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔

میں نے دوسرے ہی دن مسجد کے ایک ذمہ دار شخص کو بلایا جو مجھ سے مسجد کا ماہانہ چندہ وصول کرنے آتا تھا، حالانکہ میں نماز ایک اور قریبی مسجد میں پڑھتا تھا۔ اس شخص کو بلا کر میں نے اپنا احتجاج کچھ سوالوں کی صورت میں ریکارڈ کروایا اور اس سے تسلی بخش جواب مانگے۔ وہ بڑی تجسس سے میری طرف دیکھ رہا تھا، میں نے اسے مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ خدا کے گھر میں اس طرح کا بدحواس خونی بینر کس نے اور کیوں لگایا؟ آخر لگانے والوں کا اس کے پیچھے مقصد کیا ہے؟ ہم اپنے معصوم بچوں کی معصومیت کو قتل کر کے انہیں کیا سکھانا اور بنانا چاہتے ہیں؟ کیا ہم چھوٹی سی عمر میں انہیں زندگی کا کوئی بڑا مقصد دینے کی بجائے قتل قتال پر آمادہ کرنے کے درپے ہیں؟ آپ کو پتہ ہے کہ مسجد میں چھوٹے چھوٹے بچے سپارہ پڑھنے آتے ہیں وہ بچپن سے ہی اس طرح کا خونی بینر مسجد میں دیکھ کر خدا کے گھر سے کیا سیکھ کر جائیں گے؟ کیا ہمیں شرعی و اخلاقی طور پر کہیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے بچوں کو ایسی تربیت دو کہ وہ معاشرے میں سر تن سے جدا کرتے پھریں؟

اس طرح کے کتنے ہی سوالات تھے جو میں نے اس کی دماغ سے باندھ دیے اور وہ پریشانی میں مبتلا ہو گیا، ساتھ ہی اس نے پانچویں بینر سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ وہ مسجد کا کرتا دھرتا ہو کر کس طرح اتنی بڑی بے قاعدگی سے بے خبر ہو سکتا ہے؟ اس کی اس لاپرواہی پر میں نے بھی صاف کہہ دیا کہ اگر یہ پانچواں بینر مسجد سے نہ ہٹا تو میں آئندہ ماہانہ چندہ نہیں دوں گا۔ اس نے میری باتوں کی مکمل تائید کی اور مسجد سے وہ خونی بینر ہمیشہ کے لیے ہٹوانے کا وعدہ کر لیا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا، میں نے اگلے روز جا کے مسجد کے صحن میں کھڑے ہو کر دیکھا تو وہ پانچواں بینر غائب تھا اور وہاں صرف چار بینر موجود تھے جس پر محمد ﷺ کے سچے دوستوں کے نام کندہ تھے اور مسجد کی دیوار بھی بڑی کھلی کھلی لگ رہی تھی۔ تب سے آج تک وہ پانچواں بینر وہاں سے لاپتہ افراد کی طرح غائب ہے۔

آپ بھی اپنی اپنی مسجد کی دیواروں پر نگاہیں پھیریں، کہیں اس طرح کا وحشت خیز پانچواں بینر وہاں تو نہیں چپکا ہوا؟ اگر چپکا ہوا ہے تو میں دعوے سے کہتا ہوں کہ آپ کے علاقے کے معصوم ذہنوں پر خون کے چھینٹے پڑ رہے ہیں اور یہ سب آپ کی خاموشی کے خنجر کی بدولت ہو رہا ہے۔

 

Facebook Comments HS