کعبہ کی کلید برداری: یہ منصب بلند ملا جس کو مل گیا


دنیا کے مسلمانوں کے لئے خانہ کعبہ سب سے زیادہ مقدس مقام ہے۔ ہر سال لاکھوں کروڑوں افراد حج و عمرہ کے لئے بیت اللہ کا رخ کرتے ہیں، بیت اللہ کا دیدار، گنبد خضریٰ کی حاضری اور حرم میں عبادت بہت بڑی سعادت ہے۔ اس کی خدمت کا فریضہ خوش قسمتوں کو نصیب ہوتا ہے۔ خانہ کعبہ کی خدمت کا آغاز حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے زمانے سے شروع ہوا جب انہوں نے بیت اللہ کی تعمیر کی۔ خانہ کعبہ کو کھولنا، بند کرنا، صاف کرنا، غسل دینا، غلاف چڑھانا، اور غلاف پھٹ جانے یا ادھڑ جانے کی صورت میں اس کو درست کرنا اور بیت اللہ کی نگرانی ان کے فرائض میں شامل تھا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو کعبے کی خدمت کے علاوہ حجاج کو پانی پلانے کی ذمہ داری بھی سونپی تھی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی وفات کے بعد ”قبیلہ جرہم“ نے ان کی اولاد سے یہ ذمہ داری چھین لی۔ جسے ”خزاعہ قبیلے“ نے حاصل کیا۔ اولاد اسماعیل ہونے کے ناتے ان سے رسول اللہ کے جد امجد قصی بن کلاب نے واپس لیا۔ قصی نے یہ ذمہ داری بڑے بیٹے عبدالدار کے حوالے کردی جو موروثی طور پر عثمان بن طلحہ تک پہنچی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے ہم عصر تھے۔ دور جاہلیت میں پیر اور جمعرات کے روز خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا کرتے تھے۔ فتح مکہ ( 8 ہ) کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کے ذریعے عثمان بن طلحہ سے بیت اللہ کی چابی لے کر خانہ کعبہ کو کھولا اور تمام بتوں کو توڑ ڈالا، پھر اسے آب زم زم سے دھویا اور دو رکعت نماز پڑھی، یہیں سے غسل کعبہ کی سنت کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر سورت النساء کی 58 ویں آیت نازل ہوئی۔

”اللہ حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل لوگوں کو لوٹا دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو، اللہ تمہیں نہایت اچھی نصیحت کرتا ہے، بے شک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔“

حضور نے اس آیت کو دہراتے ہوئے عثمان بن طلحہ کو چابی دی اور فرمایا: ”یہ چابی، ہمیشہ کے لیے لے لو اور کسی ظالم کے سوا یہ چابی تم سے کوئی نہیں چھینے گا“ بقول محمد علی رشکی:

یہ منصب بلند ملا جس کو مل گیا۔

’تقریباً پندرہ سو سال سے نسل در نسل یہ روایت جاری ہے۔ عثمان بن طلحہ نے تو کلمہ طیبہ پڑھا اور پھر اپنے بعد والی شخصیت کو چابی دے کر خود اللہ کے نبیﷺ کے ساتھ مدینہ آ گئے۔ ان کی وفات مدینہ منورہ میں ہوئی اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔

زمانہ قدیم میں خانہ کعبہ کی کلید (چابی) پراسرار طریقہ سے غائب بھی ہوئی اس کا انکشاف اس وقت ہوا جب عباسی دور کی قدیم کلید خانہ کعبہ کو لندن کے ایک سٹور کو 9 اپریل 2008 ء میں کسی نامعلوم شخص کو 9.2 ملین پاؤنڈ ( 18.1 ملین ڈالر ) میں فروخت کیا۔ خانہ کعبہ کی چابیوں کی تعداد 58 ہے۔ ان میں سے 54 ٹوپ کاپی پیلس استنبول میوزیم میں، نہاد السعید کلیکشن میں 2، پیرس کے لوور اور قاہرہ کے اسلامک آرٹ میوزیم میں ایک ایک موجود ہیں۔ اسلامی تہذیب و تمدن اور ثقافت سے وابستہ نوادرات اور فن پارے ہر دور میں کشش کا باعث رہے۔ مسلمان کاریگروں کے کمال ہنر سے مغربی ممالک آج بھی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ اسی لیے وہ کسی بھی قدیم فن پارہ کے حصول کی جستجو میں رہتے ہیں۔ ایک گمنام شخص کے ذریعے خانہ کعبہ کی کلید کا حصول بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

کچھ عرصہ پہلے خانہ کعبہ کی 13 ویں صدی کی دو کلیدوں کی واشنگٹن میں Smithsomian انسٹیٹیوٹ کے آرتھرا ایم سیکلر گیلری کی نمائش میں رکھی گئیں ان میں سے ایک کلید لبنانی تاجر مرحوم نہاد السعید کے کلیکشن سے لی گئی تھی۔ نہاد السعید کی دونوں کلیدوں کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ یہ مکہ معظمہ میں ہی تیار کی گئی تھیں اور ان پر قرآن مقدس کی سورہ آل عمران کی یہ آیات کندہ تھیں۔

”اولین عبادت خانہ، لوگوں کے لئے مکہ میں مختص کیا گیا۔ جو کہ بابرکت اور تمام بنی نوع انسان کی راہنمائی کرنے والا ہے۔ اس میں واضح نشانیاں ہیں۔ مقام ابراہیم ہے جو بھی اس میں داخل ہو گا۔ اسے تحفظ ملے گا۔ صاحب استطاعت لوگوں پر یہاں کی زیارت فرض ہے۔

کعبے کے انتظام میں اسے کھولنا، بند کرنا، صاف کرنا، دھونا اور غلاف کو نقصان پہنچنے پر اس کی مرمت کرانا بھی شامل ہے۔ کعبہ کو آبِ زم زم اور گلاب کے عرق سے دھویا جاتا ہے۔ کعبے کی چابیاں سینیئر نگران کے پاس ہوتی ہیں ان چابیوں کو سونے اور سبز رنگ کے ریشم سے تیار کردہ ایک مخصوص بیگ میں رکھا جاتا ہے۔ کعبہ کا کلید بردار وہ ہوتا ہے جو خاندان کا سربراہ، ایمان دار اور اچھے اخلاق کا حاملِ ہو۔ کلید اس طرح تیار کی جاتی ہے کہ سوائے نگران کے کسی کو معلوم نہ ہو کہ اسے کیسے استعمال کیا جاتا ہے۔

موجودہ زمانے کے تمام کلید برداروں کا تعلق شیخ محمد بن زین العابدین بن عبدالمعطی الشیبی سے ہے۔ وہ 43 برس تک بیت اللہ کے کلید بردار رہے اور 1253 ہجری میں وفات پائی۔ ان کے بعد کلیدِ کعبہ ان کے سب سے بڑے بیٹے عبدالقادر، پھر ان کے بھائیوں سلیمان، احمد اور عبداللہ کے پاس رہی۔

اس کے بعد کلید برداری اگلی نسل میں منتقل ہو کر شیخ عبدالقادر بن علی بن محمد بن زین العابدین الشیبی تک پہنچی۔ ان کی وفات 1351 ہجری میں ہوئی۔

پھر کلید کعبہ محمد بن محمد صالح الشیبی کو ملی تھی۔ وہ بالعموم بیمار رہتے تھے۔ لہذا انہوں نے کلید برداری شیخ عبداللہ بن عبدالقادر الشیبی کے حوالے کر دی۔ شیخ کے بعد ان کے بیٹے امین، طہ اور پھر عاصم بالترتیب اپنے والد کے جاں نشیں بنے۔ ان کے بعد کلید کعبہ شیخ عبداللہ کے بھتیجے طلحہ بن حسن الشیبی کو ملی۔ ان کے بعد شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن عبدالقادر الشیبی کے ہاتھوں میں آئی جو ذوالحجہ 1431 ہجری میں وفات پا گئے۔ اس کے بعد چار برس تک کلیدِ کعبہ شیخ عبدالقادر بن طہ بن عبد اللہ الشیبی کے پاس رہی۔ اس عرصے میں سابق فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے حکم پر بیت اللہ کا قُفل (تالا) بھی تبدیل کیا گیا۔ شیخ عبدالقادر 1435 ہ میں انتقال کر گئے۔

خانہ کعبہ کے موجودہ کلید بردار شیخ ڈاکٹر صالح الشیبی 79 سال کی عمر میں 22 جون 2024 انتقال کر گئے۔ نماز جنازہ مسجد الحرام میں ادا کرنے کے بعد المعلیٰ قبرستان میں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔ شیخ صالح الشیبی سال 1366 ہجری میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ جامعہ ام القری سے اسلامک اسٹڈیز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی بعد ازاں کئی برس تک یونیورسٹی میں تدریس کی خدمات انجام دیں۔ شیخ صالح کو بیت اللہ الحرام کے کلید برداروں کا سربراہ 1980 میں اس وقت مقرر کیا گیا، جب ان کے چچا شیخ عبدالقادر الشیبی کا انتقال ہوا اور وہ اس منصب پر آخری عمر تک فائز رہے۔ غلاف کعبہ کی تبدیلی کے عمل کی سربراہی کرتے تھے۔ خانہ کعبہ کے کلید بردار ’السادن ”بھی کہا جاتا ہے۔ کلید کعبہ 35 سینٹی میٹرلمبی ہوتی ہے جو فولاد سے بنی ہے۔

ایک عرصے سے خانہ کعبہ کے خدمت گزار کی ذمہ داری اس کا قفل کھولنے اور بند کرنے تک محدود ہو گئی ہے۔ ہر سال ذوالحجہ کے آغاز میں بیت اللہ کا نیا غلاف ”کسوہ“ کعبے کے سینئر کلید بردار کے حوالے کیا جاتا ہے تاکہ وقوف عرفہ کے روز بیت اللہ پر ڈالا جا سکے۔ اس موقع پر مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے امور کے سربراہ جناب شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس، کمپلیکس کے ڈائریکٹر جناب محمد بن عبداللہ اور خدمت گاروں اور ذمہ داروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے۔

سعودی خاندان کے افراد یا کسی بھی اعلیٰ مہمان کی آمد پر کعبے کا دروازہ کھلوانے کے لیے کلید بردار کو طلب کیا جاتا ہے۔ شاہی فرمان کے تحت ہر سال 15 محرم الحرام کو کلیدبردار غسل دینے کے لیے کعبے کا دروازہ کھولتے ہیں۔

شیخ صالح الشیبی ایک بار پاکستان آئے تو ان سے ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین!

Facebook Comments HS