لکشن بی بی کا خواب اور ڈیڑھ لاکھ کتابیں


لکشن بی بی کا تعلق چترال کے علاقے رمبور سے ہے یہ وادی ان تین وادیوں میں سے ہے جہاں دنیا کی ایک قدیم زندہ ثقافت و مذہب کے لوگ ابھی بھی اپنے حقیقی مذہب، ثقافت اور بود و باش کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ لکشن بی بی اس قبیلے کی ایک معروف خاتون ہیں۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ پہلی کالاش پائلٹ بھی بنیں۔ اپنے قبیلے اور لوگوں کے لیے آج سے بیس برس پہلے انہوں نے کافی ترقیاتی اور رفاہی کام کیے، اپنے علاقے میں تعلیم کے لیے کام کیا اور سکولوں کو جدید بنانے میں مدد دی۔ کیلاش قبیلے کے بچیوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا مگر ہمارے ملک اور معاشرے میں تعلیم دینے والوں اور تعلیم کی بات کرنے والوں کو کون چین سے جینے دیتا ہے۔

لکشن بی بی بھی روتی دھوتی یہ ملک چھوڑ گئیں اور امریکہ کے شہر نیویارک میں آباد ہو گئیں۔ وہاں انہوں نے اپنی تعلیمی قابلیت کو بہتر سے بہتر تر کیا اور پالیسی سازی میں اعلی ترین تعلیم حاصل کی اور اب وہ وہاں اپنے شعبہ میں ایک بہت ہی معتبر نام ہے۔ لکشن بی بی جہاں رہتی ہیں وہاں ان کے ہمسائے ایک سماجی تنظیم چلاتے ہیں۔ جس کا نام افریقہ چلڈرنز فیلو شپ ہے۔ جو کہ 2005 سے کام کر رہی ہے۔

اس سماجی تنظیم کا بنیادی کام یہ ہے کہ یہ نیویارک اور امریکہ بھر سے کتابیں اور سکولوں میں استعمال ہونے والی تمام اشیا جمع کرتی ہے اور پھر یہ ساری چیزیں افریقہ کے ممالک بھجواتی ہے۔ اس طرح کی سینکڑوں تنظیمیں امریکہ میں اور بھی ہیں۔ یہ سماجی تنظیم اب تک افریقہ کے بارہ سو سکولوں کو بیس لاکھ سے زیادہ کتابیں بھجواچکی ہے۔ یہ کتابوں کے ساتھ ساتھ بچوں کے کھلونے، ڈیجیٹل گیمز، سکول فرنیچر، وائٹ بورڈز، کھیلوں کے آلات، کھیلوں کے لباس، بچوں کے لیے جوتے، کپڑے، کمپیوٹر، موسیقی کے آلات اور بے شمار دیگر چیزیں بھی جو سکولوں اور بچوں کے کام آ سکیں وہ امریکہ بھر سے جمع کر کے افریقہ بھجواتے ہیں۔

لکشن بی بی برسوں سے ان کو یہ محنت کرتے ہوئے دیکھتی رہتی تھیں۔ آخر کار پچھلے برس ہمت کر کے اپنے ہمسایوں کے ہاں گئی اور ان سے درخواست کی کہ ہمارا ملک بھی بہت غریب ہے وہاں کے بچوں کو بھی کتابوں اور ان دیگر اشیا کی ضرورت ہے مگر ان کو یہ سب دینا والا وہاں کوئی نہیں ہے۔ کئی مہینوں کی مسلسل محنت کے بعد وہ ان کو قائل کرنے میں کامیاب ہوئیں کہ وہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات بھی کتابیں بھیجیں گے۔ اس مقصد کے لیے اس سماجی تنظیم نے کام کا آغاز کیا اور چھ ماہ پہلے انہوں نے اسی اسی ہزار کتابوں کے دو کنٹینر تیار کر لیے۔

یہ ساری وہ کتابیں ہیں جو نیویارک کے ایجوکیشن کے شعبہ نے سکولوں کے لیے منظور کی ہیں۔ درسی کتابوں کے ساتھ ساتھ سائنس، تاریخ، جغرافیہ غرض ہر موضوع پر چنیدہ کتابیں جن کا پاکستان کے مرکزی شہروں میں بھی ملنا محال ہے۔ اس کے بعد لکشن بی بی نے ان کتابوں کو چترال اور شمالی علاقہ جات پہنچانے کا ذمہ لیا۔ کتابیں بھجوانے والی سماجی تنظیم کتابوں کو پاکستان پہنچانے کے تمام اخراجات بھی ادا کرنے کو تیار ہے۔ اور پشاور کے ڈرائی پورٹ سے چترال اور شمالی علاقہ جات تک لے جانے کا خرچہ بھی لکشن بی بی اپنے جیب سے دینے کے لیے تیار ہے۔

مگر پاکستان کا سرخ فیتہ اس سلسلے میں رکاوٹ ہے۔ لکشن بی بی نے کئی مرتبہ نیویارک میں پاکستان کے ہائی کمشنر سے بات کی۔ ہائی کمشنر نے پاکستان خطوط ارسال کیے مگر چھ ماہ گزر گئے پاکستان میں بیٹھے حکام نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ لکشن بی بی نے سوشل میڈیا پر آ کر درخواست کی اور ان کتابوں کے کنٹینروں کی ویڈیوز شیئر کیں کہ کوئی اس سلسلے میں ان کی مدد کرے تاکہ یہ کتابیں ان کے آبائی علاقے کے سکولوں میں پہنچیں۔

صرف یہ نہیں اس کے بعد یہ سماجی تنظیم ان کی مدد سے دیگر اشیا جو افریقہ کے ملکوں میں بھیج رہی ہے ان کی ترسیل بھی پاکستانی سکولوں کو شروع کردے گی۔ مگر اس ملک میں علم کی بات کرنا، کتابوں کی بات کرنا ہمارے بیوروکریسی کو کار فضول لگتا ہے۔ ہم علمی طور پر اتنے بدحال ہیں کہ دنیا میں ہماری جیسی بدحال قوم ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملے گی۔ یہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کتابیں اگر ان علاقوں کی سکولوں کو مل گئیں اور ان کی لائبریریاں بن گئیں تو اس سے کیا ہو گا اس کا اندازہ لگانا بہت آسان ہے۔

بچے جدید علوم، تاریخ، سائنس، جغرافیہ، ریاضی، فلسفے اور معلومات تک رسائی حاصل کر لیں گے اور ان کی ذہنی تشکیل دنیا کے ترقی یافتہ لوگوں کی طرح ہونا شروع ہو جائے گی۔ شمالی علاقہ جات اور چترال میں اب بھی کتب بینی کا رواج موجود ہے۔ یہ کتابیں جب چترال بھر اور شمالی علاقہ جات کے سکولوں میں جائیں گی تو ان سکولوں کے اساتذہ بھی پڑھنے لگ جائیں گے۔ دنیا کتابوں نے بدلی ہے۔ اندلس کی ترقی اور یورپ و امریکہ کی جدید ترقی کے پشت پر تلوار نہیں کتاب ہے۔

ہمارے سکولوں میں لائبریری موجود ہی نہیں ہوتیں۔ بچے گھسی پٹی فٹ پاتھی کتابیں رٹ لیتے ہیں اور ہم ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کتابوں سے حاصل کردہ علم کی بنیاد پر پاکستان کو ترقی کی راستے پر ڈالیں گے۔ چین کی جدید ترقی کے پیچھے بھی کتاب ہی ہے۔ چین نے دنیا بھر سے کروڑوں کتابیں خریدی ہیں اور اپنے لوگوں کو ترقی یافتہ دنیا میں علوم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس لیے آج چین دنیا کے دیگر ممالک سے آگے جا رہا ہے۔

USACF نامی یہ تنظیم افریقہ میں ڈیجیٹل لائبریریاں بھی بنا رہی ہے۔ لکشن بی بی اور ان جیسے جانے کتنے محب وطن پاکستانی امریکہ اور یورپ میں موجود مواقعوں کو پاکستان لانے چاہتے ہیں۔ اور پاکستان کے غریب لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں مگر پاکستان کا سڑا ہوا نوآبادیاتی بابو کنٹرول نظام انہیں ایسا کرنے نہیں دیتا۔ اس کی ایک مثال دیکھیں۔ میں 2012 میں پشاور یونیورسٹی کا ڈائریکٹر پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ تھا۔ ہم نے جنوبی کوریا کی یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور پانچ برس کے لیے ایک ادارے کی بنیاد رکھی جس کا نام کوپک رکھا گیا یعنی ”کوریا پاکستان“ اس کا دفتر ہم نے یونیورسٹی میں کھولا۔

اس ادارے کا مقصد پاکستان اور کوریا کے طلبا، اداروں، تاجروں اور کمپنیوں کو قریب لانا تھا۔ اس کی ساری فنڈنگ کوریا نے کی اور اس مقصد کے لیے کوریا سے طالب علم پاکستان آتے، پشاور یونیورسٹی میں کوریائی زبان سیکھنے کا ایک ادارہ بنا جس سے زبان مفت میں سیکھ کر پشاور یونیورسٹی کے بچے سمیسٹر ایکسچینج پروگرام میں کوریا کی یونیورسٹیوں میں جاتے جہاں وہ ایک سمیسٹر یا دو سمیسٹر تک فری تعلیم و رہائش و خوراک و سہولیات حاصل کرتے۔

کوریائی طلبا اپنے خرچے پر یونیورسٹی آتے اور یہاں قیام کر کے اردو سیکھتے اور واپس جاتے تھے۔ اس پروگرام کے معاملات دیکھنے مجھے کئی مرتبہ کوریا جانے کا اتفاق ہوا۔ کوریا میں ایک بہت بڑے خیراتی ہسپتالوں کی چین ہے۔ یہ چین اپنے ہسپتالوں میں استعمال ہونے والی مشینوں اور آلات کو ہر تین برس بعد تبدیل کرتی تھی اور یہ مشینیں اور آلات قریبی غریب ممالک جیسے ویتنام، لاوس، کمبوڈیا اور دیگر ممالک کو دیتی تھی۔ ہم نے ان سے درخواست کی کہ یہ آلات اور مشینیں پاکستان کو بھی دی جائیں جسے انہوں نے خوش دلی سے قبول کیا اور اس سلسلے میں ان کی ایک ٹیم پاکستان آئی۔

ہم اس ٹیم کو لے کر ہسپتالوں میں گئے، محکمہ صحت کے بڑے افسروں کے پاس گئے۔ وزیر صحت کے پاس گئے اور اس وقت کے وزیر اعلی تک کے پاس گئے کہ یہ صوبہ کے ہسپتالوں کے لیے یہ ڈونیشن دینا چاہتے ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ اپنے خرچے پر یہ سارے آلات اور مشینیں یہاں لائیں گے اور نصب بھی کریں گے اور ان کی دیکھ بھال بھی تین سال تک کریں گے اور ساتھ ہی مقامی ٹیکنیشنوں کو تربیت بھی فراہم کریں گے۔ مگر مجال ہے ڈاکٹروں سے لے کر افسروں اور وزیروں تک کسی ایک نے بھی اس میں دلچسپی دکھائی ہو۔

ہر ایک کا پہلا سوال یہی ہوتا تھا کہ مجھے کیا ملے گا۔ میرا حصہ کتنا ہو گا۔ کوریا والے پہلے شپمنٹ میں دو سو سے زیادہ مختلف سکین مشینیں اور چار ہزار کے قریب دیگر آلات اور ان کے ساتھ استعمال میں آنے والے تمام اشیا اور کیمکلز دے رہے تھے جن کی مالیت کروڑوں ڈالروں میں بنتی تھی۔ مگر ہماری لاکھ کوششوں کی باوجود ہم اس کام کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے۔

کوریا کے اس خیراتی ہسپتال، چین کا وفد چار مرتبہ پاکستان آیا۔ مگر بے سود یہاں کسی کو اپنے ہسپتالوں کی بہتری کی فکر نہیں تھی۔ ہر اہلکار اور ذمہ دار شخص اپنا حصہ چاہتا تھا۔ آخری دفعہ جب وہ وفد آیا اور مایوس ہو گیا تو ان کے سربراہ جو اس خیراتی ہسپتالوں کے سلسلے کے نائب صدر تھے انہوں نے پشاور یونیورسٹی کے گیسٹ ہاؤس میں کہا تھا۔ کہ یہاں کے ہسپتال اس قابل بھی نہیں ہیں کہ کسی مریض کو وہاں لے جایا جائے اور ان کا انتظام سنبھالنے والے بھی اس قابل نہیں ہیں کہ انہیں ہسپتال کے عمارت کے اندر جانے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ لوگ کوریا میں ہوتے تو اب تک ان کو پھانسی دی جا چکی ہوتی۔

یہ ہے ہمارا نظام اور اپنے اردگرد دیکھیں آپ کو اس جیسی ہزاروں آپ بیتیاں مل جائیں گی۔ ہماری بدحالی کسی خارجی مداخلت کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس گلے سڑے نظام اور بے ضمیر لوگوں کی وجہ سے ہے جو اس ملک کو روز بروز تباہی کے طرف لے کر جا رہے ہیں اور ہمارا یہ سڑا ہوا نظام انہیں سہولت دیتا ہے ایسا کرنے میں۔ لکشن بی بی بھی اس سڑے ہوئے نظام کی وجہ سے گزشتہ چھ ماہ سے سخت اذیت میں ہیں اس لیے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے سامنے روز شرمندہ ہوتی ہے۔

وہ کنٹینرز جو اس مقصد کے لیے حاصل کیے گئے ہیں اس کا روز کا کرایہ انہیں ادا کرنا پڑتا ہے۔ مگر ہمارا نظام اس بچاری خاتون کو اپنے ملک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ کتابیں لے جانے کی سہولت نہیں دیتا۔ ان کتابوں سے چترال اور شمالی علاقہ جات کے لاکھوں طالب علم اور اساتذہ مستفید ہوں گے۔ ان کو بقول لان جائنس ترفع حاصل ہو گا۔ کہ آج سے دو ہزار برس پہلے اس نے کہا تھا کہ کتاب پڑھنے سے پڑھنے والے کی ذہنی سطح بھی کتاب لکھنے و الے کی ذہنی سطح تک آجاتی ہے اور اسے ترفع یعنی سبلیمٹی کہتے ہیں۔

اگر ان کتابوں کی رسائی چترال اور شمالی علاقہ جات تک ممکن بنا دی جاتی ہے تو لان جائنس کے بقول ہم ان علاقوں کے لاکھوں بچوں اور سکول اساتذہ کو نیویارک کے بچوں اور اساتذہ کے سطح تک لے جانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اس نیک کام میں کون ان کی مدد کر سکتا ہے۔ ان تک صدقہ جاریہ سمجھ کر یہ تحریر پہنچا دیں۔ اگر آپ نے لکشن بی بی کی یہ کوشش دیکھنی ہو تو ان کے فیس بک وال پر جاکر دیکھ لیں آپ کو سب کچھ نظر آ جائے گا۔

پھر آپ خود فیصلہ کریں کہ ہم کیوں دنیا سے اتنے پیچھے رہ گئے ہیں اور دنیا ہم سے کیوں اتنی آگے نکل گئی ہے۔ امریکہ کے لوگ دنیا بھر کے تمام ممالک سے چھ گنا زیادہ رفاہی اور سماجی کام کرتے ہیں یا ان کاموں کے لیے چندے دیتے ہیں۔ امریکہ کے اس پہلو پر پھر کبھی ایک مفصل کالم تحریر کروں گا۔ ہمیں بھی امریکہ کے لوگوں کی اس فیاضی سے مستفید ہونا چاہیے جیسا کہ پوری دنیا مستفید ہو رہی ہے۔ اور اس سلسلے میں رفاہی اور فلاحی کاموں میں جو حکومتی اور قانونی مشکلات ہیں انہیں دور کرنا ہو گا۔

اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو جو کام حکومتیں نہیں کر سکتیں وہ امریکی مخیر حضرات اور سماجی رفاہی تنظیموں کی مدد سے ہم کرسکیں گے۔ اس ملک میں کتابیں آنے دیں جنہیں پڑھ کر لوگ انسانیت اور احترام سیکھیں گے۔ ورنہ لاؤڈ سپیکر پر جلاؤ، گھیراؤ، پکڑو، مارو جیسے اعلانات سن سن کر یہ قوم باولی ہو جائے گی اور ایک دوسرے کو کاٹ کھائی گی۔

Facebook Comments HS

One thought on “لکشن بی بی کا خواب اور ڈیڑھ لاکھ کتابیں

  • 26/06/2024 at 11:54 صبح
    Permalink

    Sad indeed.
    Pls mention where is the bottleneck and what are the problems
    I can bring them to Pakistan, there are always shortcuts and need some dramay baazi
    .
    pls email : xyzrazi@gmail.com

Comments are closed.