حرکت تیز تر ہے


حالیہ ورلڈ کپ میں قومی کرکٹ ٹیم کی ناکامی پر پوری قوم سیخ پا ہے۔ الیکٹرانک پرنٹ اور سوشل میڈ تبصروں اور پوسٹوں سے اٹا ہوا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ہم ایک بہت بڑا معرکہ سرانجام دیتے رہ گئے ہیں۔ تبصرہ نگاروں کے منہ سے مارے غصے کے جھاگ نکل رہی ہے۔ بلاشبہ کسی زمانے میں ہماری کرکٹ ٹیم کی دھوم مچتی تھی۔ کرکٹ کے میدانوں میں بہترین کارکردگی کبھی ہمارا طرہ امتیاز ہوا کرتی تھی۔ لیکن اب ہم امریکہ کی نوزائیدہ ٹیم سے ہی نہ جیت سکے۔ کبھی ہم کرکٹ، ہاکی، سنوکر، سکوائش میں کامیابی کے جھنڈے گاڑا کرتے تھے۔ دنیا ہماری معترف تھی۔ آج ان کھیلوں میں ہمارا کوئی نام لیوا ہی نہیں ہے۔

لیکن کیا زوال صرف کھیل کے میدان میں ہمارا مقدر بن رہا ہے؟ کون سا شعبہ ایسا ہے جہاں ہم حسن کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں؟ کیا کوئی شعبہ ہے جہاں سرخروئی ہمارا نصیب ہو؟ جدھر آنکھ اٹھا کر دیکھیں زوال ہی زوال ہے۔ کبھی دنیا ہماری پی آئی اے کی طرز پر اپنی ائر لائیز کھڑی کر رہی تھیں۔ آج ہماری پی آئی اے سفید ہاتھی بن کر اپنی بربادی کی داستان سنا رہی ہے۔ پاکستان سٹیل ملز، ریلوے، پی آئی اے جو کبھی ہماری امتیازی پہچان ہوا کرتے تھے اب زوال کی عبرتناک داستان کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔ میرٹ کی دھجیاں اڑ چکی ہیں۔ سفارش، اقرباپروری، نا اہلی اور نالائقی جیسی بیماریاں دیمک کی طرح ہر شعبہ کو چاٹ رہی ہیں۔ میرٹ ایک لفظ کے سوا کچھ نہیں رہ گیا ہے۔ ہر شعبہ ابتری کا شکار ہے۔ ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے۔ دنیا عالم میں ہم محض ایک بھکاری اور ناکارہ قوم کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ ہمارے کرتا دھرتا سوٹڈ بوٹڈ ہو کر کشکول لیے قافلوں کی شکل میں بھیک مانگنے نکل جاتے ہیں۔ جہاں بھی ہم جاتے ہیں، کشکول ہمارے گلے میں لٹک رہی ہوتی ہے۔ ہماری موٹرویز، ہائی ویز، ریڈیو سٹیشن وغیرہ سب گروی پڑے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب ہمارے قبرستان بھی گروی رکھے جائیں گے اور ہمیں مردے دفنانے کے لیے بدیشی مالکوں کے اجازت نامے کا انتظار کرنا پڑا کرے گا۔ عالمی ساہوکاروں سے قرضے لیتے وقت عوام کی ہڈیوں کا گودا تک نکال لینے کی انھیں یقین دہائی کرائی جاتی ہے۔ اور پھر وہ گودا نکالا بھی جاتا ہے۔ سسکتی بلکتی عوام کی پرواہ کسے ہو! صرف بجلی کے بلوں میں بجلی کی قیمت کے علاوہ 35 فیصد مختلف ناموں سے ٹیکس کی صورت میں وصول کیا جا رہا ہے اور جلد ہی بجلی اوسطاً 65 روپے فی یونٹ ہونے والی ہے۔ اندازہ کریں یہ صرف ایک بجلی کے بل کی صورتحال ہے۔ باقی چیزوں پر ٹیکس اور پھر ٹیکس اور پھر ٹیکس جو لگے گا وہ ہمیں ملکی و غیر ملکی آقاؤں کی خوشنودی کے لیے ادا کرنا ہی ہو گا۔ لیکن بولنے کی یا احتجاج کی اجازت نہیں کیوں کہ یہ حب الوطنی کے تقاضوں کے خلاف ہے۔

اور ہمارے ذہنی زوال اور پستی تو شاید آخری حدوں کو پار کرچکی ہے۔ ہمارے ذہنی زوال کی تو یہ حالت ہے کہ ہم آج بھی یہ اعتراف کرنے پر تیار نہیں کہ ہم اور ہمارے ووٹ کا غلط استعمال ہی ہماری مذکورہ بالا پستی و بربادی کا ذمہ دار ہے۔ ہم آج بھی اپنے فیصلوں پر پچھتانے اور ان کی درستی پر آمادہ نہیں۔ ہماری ذہنی پسماندگی کی ایک اور مثال ہمارا عدم برداشت کا رویہ ہے۔ ہمارے ہاں مخصوص لوگوں کو مخصوص مفاد ات کے نام پر مذہب و سیاست کے میدانوں میں لانچ کیا گیا۔ وہ لوگ جتھوں کی صورت میں تھے اور آج اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ ریاست ان کے سامنے بے بس ہے۔ ان جتھوں نے ہمارے لوگوں کے ذہنوں کو اس قدر قابو کر لیا ہے کہ ہم مذہب کے نام پر بغیر تحقیق و تفتیش دوسروں کو جان سے مار دیتے ہیں اور عالمی برادری میں اپنے ملک اور مذہب کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں۔ دنیا بھر میں بیسیوں مسلم ممالک ہیں لیکن مذہب کے نام پر کسی بھی فرد کو قتل کر دینا صرف ہماری ہی ریت ہے۔ دشمنی نکالنے کا یہ ایک آسان اور ”محفوظ“ راستہ بن چکا ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو قاتل کو ہار پہنا کر فتح کا جلوس بھی نکالا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کے ”غازی“ ہونے پر بشارتیں بھی دی جاتی ہے۔ جبکہ ہمارے مذہب کے حکم کے مطابق تو کسی فرد کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے آگے پھیلا دے۔ اور قرآن تو واضح طور پر ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔ اگر کسی پر توہین مذہب کا الزام لگتا ہے تو اس کی تفتیش ہونی چاہیے اور اگر جرم ثابت ہو جائے تو اسے اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے لیکن سزا دینا ریاست کا کام ہے۔ یہاں ہمارے نزدیک نہ ریاست کی کوئی اہمیت ہے اور نہ اس کے قوانین کی۔ ہماری مسجدوں میں دوسرے فرقے یا مسلک کا آدمی داخل نہیں ہو سکتا جبکہ رسول اللہ ﷺ نے نجران کے عیسائی وفد کو مسجد نبویﷺ میں ٹھہرایا تھا۔ ہم حالیہ برسوں میں واقعی درندے بن چکے ہیں۔ برداشت، رواداری اور صبر ہماری صفوں سے غائب ہوچکے ہیں۔ ہم تاتاریوں کی طرح خون کی پیاسے ہوچکے ہیں۔ ہم مجموعی طور پر ڈریکولا بن چکے ہیں۔

کس کس چیز کا رونا رویا جائے؟ کس کس چیز کا ماتم کیا جائے؟ کس کس چیز کا افسوس کیا جائے؟ ٹریفک اشارے پر رکنے کو ہم تیار نہیں۔ قانون کی بالادستی کے ہم قائل نہیں۔ اسلاف کے کارناموں پر دن رات فخر کرتے ہیں لیکن ان جیسا بننے کی ہماری خواہش نہیں۔ وطن عزیز کی ناؤ ڈوب رہی ہے اور ہم خاموش تماشائی بنے دیکھ رہے ہیں۔ ہم بانیان پاکستان پر اعتراض کرنا شروع ہو گئے ہیں لیکن اپنی اداؤں پر غور نہیں کرتے کہ ہم اس ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں؟ انھوں نے یہ ملک بنا کر اپنا فرض ادا کر دیا تو کیا ہم اپنا فرض ادا کر رہے ہیں؟

بقول منیرنیازی:
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

Facebook Comments HS