سندھی دانشوروں کا کردار


سندھ کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتا چلتا ہے کہ سندھ کے دانشوروں کا سندھی ادب اور سیاست میں ایک اہم کردار رہا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے ون یونٹ کے دور میں تو سندھ کا نام لکھنا بھی جرم تھا۔ لیکن سندھ کے دانشوروں، ادیبوں، قوم پرستوں اور فنکاروں نے ون یونٹ کے خلاف بڑی جدوجہد کی تھی۔ سندھ کے قوم پرست بھی بڑے دانشور اور تخلیق کار تھے جس میں سائیں جی ایم سید، ابراہیم جویو اور رسول بخش پلیجو سرفہرست ہیں۔ ان لوگوں نے سندھ کے لوگوں میں سیاسی شعور پیدا کیا۔ ان بڑے لوگوں کی کتابیں آج بھی سندھ میں پڑھی جاتی ہیں۔ آج بھی سب سے زیادہ بکنے والی کتابیں سندھ میں سائیں جی ایم سید کی ہے۔ سائیں جی ایم سید کی سالگرہ اور و رسی پر جی ایم سید کی ہزاروں کی تعداد میں کتابیں بک جاتی ہے۔

ان سندھ کے بڑے سیاسی دانشوروں پر یہ الزام کبھی نہیں لگا کہ انہوں نے حکومت کو بلیک میل کر کہ اپنے ذاتی فائدے لیے ہوں لیکن آج کل یہ عام ہو گیا ہے سندھ کے اکثر دانشور اپنے ذاتی فائدوں کے لیے بک جاتے ہیں۔ وہ حکومتی اداروں کے خلاف کالم لکھتے ہیں اور کچھ وقت کہ بعد پتا چلتا ہے وہ ہی دانشور اسی ہے ادارے میں بڑی نوکری پر لگ جاتے ہیں۔ وہ دانشور جو سندھی اخباروں میں اکثر حکومت کے خراب کارگردگی پر کالم لکھتے تھے انہوں نے حکومت کے قصیدے لکھنا شروع کر دیے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے پچھلے دور میں ایک تعلیم کے وزیر نے سندھ کے دانشوروں کی منڈی لگا دی تھی۔ اور اس میں سارے دانشور، اور فنکار اس منڈی میں موجود تھے۔ کسی کو میلوں کا ٹھیکہ ملا، کسی کو کتابوں کی چھپائی کا ۔ کسی کو کوئی پروجیکٹ ملا، کسی کے بیٹے یا بیٹی کو نوکری ملی۔ کسی دانشور کو باہر جانے کا موقع ملا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ وزیر جس نے سندھی دانشوری کی منڈی لگائی تھی اس کی پرفارمنس پر دانشوروں نے لکھنا بند کر دیا۔ اور اس و زیر کی پانچ سال کارگردگی صفر رہی۔ سندھ کے 8 ہزار اسکول بند ہو گئے، آؤٹ آف اسکول چلڈرن 70 لاکھ تک پہنچ گئے، 20 لاکھ بچوں کو کتابیں نہیں مل سکی۔ اسکول ایجوکیشن کی سابق سیکریٹری اکبر لغاری نے کورٹ کو بتایا، ہم اپنا کام نہیں کر سکے۔ ان پانچ سال میں وزیر تو ارب پتی ہو گیا مگر اس پر سندھ کے کسی دانشور نے کالم نہیں لکھا، جو دانشور تعلیم پر اکثر آرٹیکلز لکھا کرتے تھے انہوں نے پانچ سال پر ایک تعلیم پر آرٹیکل نہیں لکھا۔

اب ہمارے سندھ کے نوجوان امید کرتے ہیں، سندھ میں شیخ ایاز، نیاز ہمایوں یا علی بابا پیدا کیوں نہیں ہوتے ان کے لیے عرض ہے کہ اب سندھ میں مدد علی سندھی جیسے دانشور پیدا ہوتے ہیں، جو ارباب رحیم کے ساتھ بھی ہوتے ہیں، پی پی پی کی حکومت میں بھی کام کرتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کی بنائی ہوئی نگران حکومت میں و فاقی وزیر بھی بن جاتے ہیں۔

اب سندھ کے نوجوان یہ بھی شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ سندھ میں سرمد سندھی جیسے فنکار پیدا نہیں ہوتے ان کے لیے عرض ہے اب سندھ میں سیف سمیجو جیسے فنکار پیدا ہوتے ہیں، جس کو حکومت ہر سال 14 ملین سے زیادہ فنڈ دیتی ہے جس سے وہ لاہوتی میلا سجاتے ہیں، حکومت کی واہ واہ کرتے ہیں۔ باہر ملکوں کے وزٹ کرتے ہیں۔ اور اپنے ایکس کے اکاؤنٹ پر ایک وزیر کی تعریفیں کرتے ہیں۔ جس کو پیپلزپارٹی کے میڈیا سیل ری پوسٹ کرتا ہے اور اس کی مشہوری میں اضافہ ہوتا ہے۔

اب سندھ کے نوجوان یہ بھی پوچھتے ہیں سندھ میں نصیر مرزا اور ممتاز مرزا جیسے براڈ کاسٹر کیوں پیدا نہیں ہوتے ان کے لیے عرض ہے اب سندھ میں یاسر قاضی اور بخشن مہرانوی جیسے براڈکاسٹر موجود ہیں جو ہر سرکاری پروگرام کو ہوسٹ کرتے نظر آتے ہیں۔ یاسر قاضی تو اب سرکاری خرچوں پر باہر ملکوں کے وزٹ بھی کرتا رہتا ہے۔ جب تک یاسر قاضی کے حکومت کے ساتھ معاملات سیدھے نہیں ہوئے تھے وہ حکومت پر سخت تنقید کرتے تھے لیکن اب ان کی کوئی تنقید نظر نہیں آتی۔

اب سندھ کے کچھ لوگ یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ، پی پی پی سندھ میں بار بار کیوں جیت جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے سندھ میں اب سندھ پیپلز پارٹی کیسی بھی کارگردگی دکھائے لیکن اس کو سندھ کے دانشور سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں۔ اور سندھ کے لوگوں کو بتاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی بری ہے مگر جو ان کے مخالف ہیں وہ ان سے بھی برے ہیں۔ اس لیے ووٹ پی پی کو ہی ملنا چاہیے۔ اور اب سندھ کے اکثر لوگ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ ووٹ پیپلز پارٹی کو دینا چاہیے کیوں کہ وہ باقی سیاسی پارٹیوں سے اچھی ہے۔ اس لیے سندھ میں پیپلز پارٹی سے اب کوئی بھی جیت نہیں سکتا۔ اس کامیابی پر پیپلز پارٹی کو سندھ کے دانشوروں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔

Facebook Comments HS