سیاسی پناہ گزینوں کے پاکستانی پاسپورٹ روکنے کا حکومتی فیصلہ
پاکستان کی وزارت داخلہ نے پانچ جون کو ایک مراسلہ جاری کیا ہے جس کے تحت اب کسی بھی ایسے اوورسیز پاکستانی کو پاسپورٹ جاری نہیں کیا جائے گا، جو کسی ملک میں سیاسی پناہ کے اسٹیٹس پر مقیم ہیں یا پھر انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی گزشتہ دنوں یورپ کے دورے پر تھے۔ جہاں وہ اپنے ہم منصب یورپین وزرا ء سے ملاقاتوں میں انسانی سمگلنگ روکنے کے بلند و بانگ دعوے کر رہے تھے۔ فرما رہے تھے کہ غیر قانونی بارڈر کراسنگ پر وہ زیرو ٹالیرنس پالیسی بنائیں گے۔ یہ خبریں پڑھ کر ہی ہمیں خطرے کی گھنٹی سنائی دے رہی تھی کہ ان اقدامات کی برق اشرافیہ پر نہیں بلکہ مجبوری میں ملک چھوڑنے والے محنت کشوں پر گرے گی۔
بدقسمتی سے سمندر پار مقیم پاکستانیوں کے بارے میں صرف سیاستدانوں کی ہی نہیں بلکہ ہمارے دانشوروں کے ذہن میں بھی یہی خیال آلتی پالتی مارکر بیٹھ چکا ہے کہ یہ لوگ دیگر ممالک میں جاتے ہیں وہاں جا کر سیاسی پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔ ملک کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ ریاست کو بدنام کرتے ہیں۔ سیاسی پناہ لیتے ہیں اور مزے سے بیٹھ کر بینیفٹس کھاتے ہیں۔ اس لئے ان کے بارے میں جب بھی کوئی سخت پالیسی بنتی ہے تو پاکستان کی اکثریت حکومتی پالیسیوں کی حامی ہی نظر آتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ صورت حال اتنی بلیک اینڈ وائٹ نہیں ہے۔ جتنی پاکستان میں ایک ڈرائنگ روم میں بیٹھا پالیسی ساز یا نیوز ڈیسک کے پیچھے بیٹھا صحافی سمجھتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ کون لوگ ہیں جو کسی دوسرے ملک میں جا کر سیاسی پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ملک میں مہنگائی، لاقانونیت، غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر جب کسی یورپی ملک کا ویزہ اپلائی کرتے ہیں تو انہیں ویزہ نہیں ملتا۔ پھر وہ غیر قانونی طریقے سے جنگلوں،بیابانوں، سمندروں سے آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے موت کی وادیاں پار کرتے کسی یورپی ملک میں پہنچتے ہیں تو ان کے پاس وہاں عارضی قیام کا صرف ایک بہانہ بچتا ہے کہ وہ وہاں پناہ کی درخواست دے دیں۔
ضروری نہیں کہ ہر کوئی یہی کہانی سناتا ہے کہ اس کا ملک اس کے خلاف ہے یا ہر کوئی ریاست کے خلاف ہی زہر اگلتا ہے۔ اپنی کہانیوں میں وہ خاندانی دشمنیوں سے لے کر مذہبی منافرت، اور فرقہ ورانہ فسادات سے لے کر آسمانی آفات جیسے موضوعات کی کہانی بنا کر متعلقہ کمشن کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں کیوں اپنا ملک چھوڑنا پڑا
اسی طرح یورپی ممالک میں موجود پناہ گزینوں کے کمیشن بھی جو انہیں اپنے ملک میں رہنے کی اجازت دیتے ہیں ضروری نہیں کہ وہ اس ریزیڈینس پرمٹ کو سیاسی پناہ کا نام ہی دیں بلکہ صورت حال کے مطابق انہیں انٹرنیشنل پروٹیکشن، سبسڈری پروٹیکشن، اور انسانی ہمدردی سمیت پناہ گزینی کے مختلف ٹائٹل کا رہائشی اجازت نامہ ملتا ہے جس پر انہیں کام کرنے کی اجازت مل جاتی ہے اور ایک سفری دستاویز بھی مل جاتی ہے۔ لیکن انہیں یہ اختیار بھی دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ملک کا پاسپورٹ بھی بنوا لیں۔ انٹرنیشنل ٹریول ڈاکومنٹ پر کسی بھی ملک کا ویزہ ملنا تقریباً ً ناممکن ہوتا ہے اسی لئے یہ شہری اپنے ملک کا پاسپورٹ بنوا لیتے ہیں کہ چلو کم از کم اسی بہانے اپنے ماں باپ، اپنے بیوی بچوں یا پیاروں سے مل آئیں گے۔
وفاقی وزیر محسن نقوی صاحب کو یورپین ممالک کی جانب سے غیر قانونی ہجرت روکے جانے کے اقدامات کرنے کا کہا گیا تو حکومت نے جلدی میں وہی کام کیا جو کسی مرض کا پھیلاؤ روکنے کے لئے کوئی ڈاکٹر یہ حل پیش کر دے کہ ایسے تمام مریضوں کو قتل کر دو جو اس وبا کو پھیلانے کا سبب بن رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ ایسے اقدامات کرتی کہ جن کے تحت ایف آئی اے کی مدد سے انسانی سمگلروں کو پکڑتی، غیر قانونی طور پر بارڈر کر اس کرانے والوں یا سمندری طوفانوں میں انسانی زندگیوں کو جھونکنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرینس دکھاتی اس نے سوچا یہ تو مشکل کام ہی کیوں نہ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق یا پھر بڑے مگرمچھوں کو جال میں لانے کی بجائے چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کو ہی زہر دے کر مار دیا جائے۔ انہوں نے ان پناہ گزینوں کو ہی تختہ مشق بنانے کی راہ لی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سیاسی پناہ کے خواہش مند یا وہاں پہلے سے سیاسی پناہ کے تحت رہنے والے پاکستانی شہریوں کے پاسپورٹ بھی منسوخ کر دیے جائیں گے۔ اور صرف یہی نہیں بلکہ ’ایک مرتبہ پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد دوبارہ جاری بھی نہیں کیے جائیں گے۔ ‘
اور اگر سیاسی پناہ کی بات بھی کی جائے تو پاکستان میں سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائی ہمیشہ سے ایک فیشن رہا ہے۔ ہر حکومت بدلنے پر اکثر سیاسی جماعتوں کے کارکن اور ان کے راہنما اور حکومت بیرون ملک پناہ لیتے رہتے ہیں۔ بہت سے صحافی اور جرنلسٹس کو بھی بیرون ملک حکومت بدلتے ہیں بیرون ملک ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ حیرت ہے کہ حکومت نے اتنے اہم فیصلے سے پہلے اسے نہ تو پارلیمنٹ میں لانے کی زحمت کی، نہ ہی اس پر بحث کروائی نہ اس کے دیگر پہلو جاننے کی کوشش کی اور نہ ہی یہ اندازہ لگایا کہ جو لاکھوں لوگ بیرون ملک ایسے کسی بھی اسٹیٹس پر موجود ہیں ان کا اب کیا بنے گا وہ ایک بیرونی جیل میں قید ہو کر رہ جائیں گے۔ اور یہ کیوں نہ سوچا کہ پاسپورٹ ہر شہری کا بنیادی حق ہے اسے چھیننا ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے۔
میری حکومت سے گزارش ہے کہ اگر آپ واقعی بیرون ملک جانے والوں کا راستہ روکنا چاہتے ہیں توان وجوہات پر غور کریں جن کی بنا پر کسی شہری کو اپنی گلیاں چھوڑنا پڑتی ہیں ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کریں۔ مہنگائی، غربت اور لا اینڈ آرڈر کی صورت حال پر توجہ دیں۔ اگر یہ سب بھی اتنی جلدی ممکن نہیں تو پھر دیگر ممالک سے لیگل امیگریشن اور ہنر مند افراد کو باہر بھیجنے کے معاہدے کریں تا کہ کسی کو غیر قانونی طور پر دوسرے ملک جانا ہی نہ پڑے۔ حال ہی میں انڈیا نے شینگن ممالک سے 5 سال کے ملٹی پل ویزہ کا معاہدے سائین کیا ہے۔ اگر کسی بھی شہری کو چوائس دی جائے کہ وہ قانونی طور پر رزق تلاش کرنے جا سکتا ہے تو وہ کیوں صحراؤں، جنگلوں اور میدانوں میں چھپتے چھپاتے کسی دوسرے ملک جانا چاہے گا۔



میں مہذب طریقے سے اختلاف کروں گا۔
جو پاکستان کو غیر قانونی طور پرچھوڑ کر جارہا ہے وہ تو ویسے بھی مجرم ہے۔
جو غیر ملک میں پہنچ کر آپ کے لئے مزید بدنامی کا سبب بن رہا ہے چاہے اس کی وجہ صحیح ہے یا جھوٹ یہ ریاست کا فیصلہ ہے نا کہ اپنی مرضی سے ملک چھوڑنے والے کا۔
متعدد لوگ جرم کرکے بھاگتے ہیں اور اگر نام میں احمد لگا ہو تو برطانیہ یا یورپ میں بے دھڑک خود کو قادیانی بتاکر سیاسی پناہ حاصل کرلیتے ہیں۔
میں تو اس بات کا بھی سخت مخالف ہوں کہ آپ پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت بھی رکھ سکیں۔ انڈیا والوں سے اس معاملے پر میں مکمل اتفاق رکھتا ہوں۔ آپ یا پاکستان کے شہری ہیں یا نہیں ہیں۔ ہاں اپ کو الگ سے خصوصی اسٹیٹس دیا جاسکتا ہے جس سے آپ کو پاکستان میں آنے کے لئے ویزا یا بنکنگ وغیرہ کی سہولتوں میں آسانی ہوسکے اور بس۔
جب آپ کے پاس امریکہ یا برطانیہ یا لٹویا کی شہریت ہے تو ہرے پاس پورٹ میں اتنی دل چسپی کیوں !