کیا اسکول ہماری بیٹیوں کو بدکردار بناتے ہیں؟


تشنہ خواہشات بڑی ظالم ہوتی ہیں جو پارسائی کے مکھوٹے میں سے بھی جھانکنے لگتی ہیں۔ کبھی بھی اور کسی بھی روپ میں بیدار ہو سکتی ہیں، انسانی نفسیات کے گیانی بتاتے ہیں کہ وہ خواہشات جنہیں ہم معاشرتی جبر کی وجہ سے ذہن کے نہاں خانے میں کہیں دفن کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا استغفار و تسبیحات کے ذریعے سے بہلانے یا ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں وہ کبھی جڑ سے ختم نہیں ہوتیں بلکہ زندگی بھر انسان کا پیچھا کرتی رہتی ہیں۔

جیسے ہی انہیں کوئی موزوں یا معتدل سا ماحول میسر ہوتا ہے وہی تشنہ خواہشات بیدار ہونے لگتی ہیں جنہیں کبھی ہم نے زبردستی دبانے یا ان کا گلا گھونٹنے کی سعی کی ہوتی ہے۔ روایتی یا جبری سماج میں کچھ لوگ تو اپنے اندر کے حقیقی سچ کا پوری دیانت داری سے پالن کرتے ہیں اور اپنی حقیقی صلاحیت کی مکمل تربیت کرتے ہیں اور اپنی منزل تک بلاخوف پہنچ جاتے ہیں، کیونکہ وہ اپنی ذات سے مخلص ہوتے ہیں اور ایک منافقانہ زندگی نہیں جینا چاہتے۔

کھلے ڈھلے لفظوں میں کہیں تو یہ لوگ معاشرتی روایات یا جبر کی خاطر اپنی حقیقی قابلیت یا صلاحیت کو قربان نہیں کرتے۔ خالص اور منافقانہ رویوں سے بچ بچا کر چلنے اور جینے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اس طرح کے لوگ اقلیت میں ہوتے ہیں۔

ایک دوسرا طبقہ جو کہ اکثریت میں ہوتا ہے اور روایات کی چھتر چھایا میں پروان چڑھتا ہے، ان کے ارمان ہمیشہ جوان رہتے ہیں لیکن روایتی جبر یا بندوبست کی وجہ سے ایک منافقانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اندر سے پورے شاطر اور چالاک ہوتے ہیں، لبادہ پارسائی میں رہتے ہوئے بھی اپنی ”ٹھرک“ کا پورا خیال رکھتے ہیں۔

یوٹیوب پر درجنوں ویڈیوز موجود ہیں جس میں پیر صاحبان لبادہ تقدیس میں نا صرف خود ڈانس کرتے ہیں بلکہ مریدین کے ڈانس سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ وہی جید علما جن کی نظر میں موسیقی حرام ہے اور آلات موسیقی شیطانی اوزار ہیں وہ خود انہی نعت خوانوں کی نعتوں پر داد دے رہے ہوتے ہیں جو انڈین گانوں کی طرز میں اور آلات موسیقی کی مدد سے حاضرین کا ایمان گرما رہے ہوتے ہیں۔ انہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ یہ فریضہ مذہبی لبادے میں پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ اب یہاں کون جرات کرے بھائی؟ سوشل میڈیا نے تو ان کی رنگینیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

آج کل ایک اور نمونہ مارکیٹ میں آیا ہوا ہے، موصوف کا نام حسن اقبال چشتی ہے جو کہ ایک یوٹیوبر ہے اور اپنی بیمار ذہنیت سے معاشرے کو مزید گدلا کر رہا ہے۔ موصوف کا انداز سخن انتہائی پست اور گھٹیا ہے، مذہبی لبادے میں ”گانے“ کا شوق پورا فرما رہے ہیں۔ ایسا کر کے نا صرف وہ اپنی پست ذہنیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں بلکہ مذہب اور مذہبی طبقے کی تذلیل اور بدنامی کا سبب بھی بن رہے ہیں۔

حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ ابھی تک نا تو مذہبی طبقے کی طرف سے کوئی سنجیدہ ردعمل دیکھنے میں آیا اور نا ہی حکومت نے اس شخص کے خلاف کوئی ایکشن لینے کی زحمت گوارا کی۔

یہ بندہ سرعام اپنی گند زبانی کے ذریعے سے معاشرے میں جہالت پھیلا رہا ہے، مجھے ایک دوست نے اس بندے کی ویڈیو بھیجی

”جس میں موصوف پنجابی زبان میں والدین کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ اگر وہ اپنی بچیوں کو باکردار بنانا چاہتے ہیں تو انہیں سکول مت بھیجیں بلکہ گھر کی چار دیواری میں باپردہ رکھیں۔ آگے مزید اپنی گٹر زدہ ذہنیت کا ڈھکن اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آپ ان کو بد کردار یا کنجری بنانا چاہتے ہیں تو بھلے سکول میں پڑھا لیں لیکن یاد رکھیں یہ وہاں ڈانس کرتی ہیں“

سیم لفظ لکھنے پر معذرت خواہ ہوں، میرا مقصد معزز و محترم والدین کی دل آزاری کرنا نہیں بلکہ اس شخص کی بیمار ذہنیت کو منظر عام پر لانا ہے جو ہماری بیٹیوں پر زبان درازی کر رہا ہے۔ مذہبی طبقے سے سوال ہے کہ کیا یہ بندہ مذہب کی کوئی خدمت کر رہا ہے یا بدنامی کا سبب بن رہا ہے؟

کیا اس طرح کے گھٹیا القابات سے معاشرے کی بیٹیوں کو مخاطب کرنا کوئی درست یا صحت مندانہ رویہ کہلاتا ہے؟ آپ کون ہوتے ہیں دوسروں کی بیٹیوں کو راہ راست پر لانے والے؟

آپ کو ہماری بیٹیوں پر داروغہ کس نے لگایا ہے؟

ہماری بیٹیوں میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ اپنا اچھا برا آپ سے بہتر سوچ سکتی ہیں، وہ باصلاحیت ہیں اور اپنا اپنا میدان منتخب کرنے میں آزاد ہیں، آپ ان پر قدغنیں لگانے والے کون ہوتے ہیں؟

اس بندے کی بیمار ذہنیت کا اندازہ لگائیں ایک ویڈیو میں کہہ رہا ہے
”جدے ہتھ وچ موبائل ٹچ اے
او رن گشتی اے سچ اے ”

مطلب جس خاتون کے ہاتھ میں بھی سمارٹ فون ہے وہ موصوف کی نظر میں ایک طوائف ہے اور یہ سب وہ ایک کامل یقین کے ساتھ کہہ رہا ہے۔ خود کو پاکیزہ اور دوسروں کو نجس و گھٹیا سمجھنے کا یہ اعتماد آپ کے اندر کہاں سے آتا ہے؟

خود کو صاحب تقوی، با کر دار اور دوسروں کو بد کردار اور طوائف تک قرار دینے میں بھی آپ کو ذرا سی عار محسوس نہیں ہوتی حیرت ہے؟

اس قسم کی ذہنیت والے بندے کو تو معاشرے سے ہی الگ کر دینا چاہیے اور جتنی جلدی ممکن ہو سکے اس قسم کے شخص کا نفسیاتی علاج کروانا چاہیے۔

یہ ایک ایسے زعم یا مغالطے کا شکار ہو چکا ہے جسے یہ لگتا ہے کہ جو بچیاں سکول جاتی ہیں وہ بد کردار بن جاتی ہیں اور جس خاتون کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہوتا ہے وہ آوارہ ہوتی ہے۔ اس قسم کی ذہنیت رکھنے والے بندے کو تو گھر میں برداشت نہیں کیا جا سکتا یہ تو پورے سماج میں اپنی ذہنیت کی ترویج کر رہا ہے اور اپنے ایسوں سے داد بھی بٹور رہا ہے۔

دراصل یہ خاتون کو انسان ہی نہیں سمجھتے بلکہ ایک منو رنجن یا لطف اندوزی والی کوئی چیز اور جنسی کھلونا سمجھتے ہیں، جنہیں گھر کی چار دیواری میں پال پوس کر اگلے گھر روانہ کر دیا جاتا ہے اور یہ اسی کو بہت بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS

One thought on “کیا اسکول ہماری بیٹیوں کو بدکردار بناتے ہیں؟

  • 27/06/2024 at 2:45 شام
    Permalink

    جب آپ نے ان کی ویڈیو دیکھ لی تو آپ نے ایک ویو بنوادیا۔
    اور ایسے شخص کی بات دہراکر کیا شان دار مارکیٹنگ کی ہے۔ اب اس شخص کے مزید لاکھوں ویو اور فالورز کا گناہ بھی آپ کو ہی جائے گا۔
    یہ سوشل میڈیا سے کمائی کا دور ہے۔ شاعر کا پرانا شعر تھا۔

    ہم طالب شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام
    بدنام جو ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا

    اگر کسی کو دھیلا برابر عقل ہو اور وہ اسلام کو سمجھتا ہو تو ایسے شرپسندوں سے خود ہی دور رہے گا۔
    ضروری نہیں یہ دل سے بھی ایسا ہی ہوگا۔ ممکن ہے یہ سب ویورشپ کا بہانہ ہو۔

    عرصہ ہوا کسی سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی کلپ یا ویڈیو دیکھے ہوئے۔ چاہے وہ چاہت کی بدو بدی ہی کیوں نہ ہو۔

Comments are closed.