ایک کہانی کچھ نئی کچھ پرانی (3)


جنتا نے ایک کان سے سنا دوسرے سے نکالا۔ بیشتر کو تو سمجھ ہی نا آ سکی معاملہ کیا ہے۔ دھارمک اکٹھ کے کرتا دھرتاؤں کے پیٹ میں کچھ دیر کے لیے ٹھنڈ پڑ گئی۔ حلقے والوں کے لیے البتہ ابتلاء اور آزمائش کا نیا دور شروع ہوا۔ رانا جی کی تانا شاہی میں ان کی پکڑ دھکڑ ہونے لگی۔ لوگ سنتے تو دانتوں میں انگلیاں داب لیتے، شبدوں میں بات کرنے پر پکڑا گیا تین سال قید، لباس پہن کر باہر نکلا تین سال قید۔ ان کے مندروں کے کلس توڑے جانے لگے۔

ہولی دیوالی پر پابندی لگ گئی۔ ایسے سب ”جرائم“ کی سزا مقرر تھی۔ حلقے کے مکھ شکشک کو دیس نکالا لے کر پچھمی دیسوں میں پناہ لینی پڑی۔ دھرم واسی پہلے تو جھنجھلائے کہ گرو ہاتھ سے نکل گیا۔ ابھی تو وقت آیا تھا اس پر ہاتھ سیدھا کرنے کا، صاف بچ نکلا مورکھ۔ پھر یہ سوچ کر خوش ہو لیے کہ ہمارا پوتر استھان اس کے وجود سے پاک ہو گیا۔ اس بار وہ رانا صاحب کے دربار میں یہ قرارداد لے کر پہنچے کہ جناب کی جہاں تک عملداری ہے اس کا نام ریاست پوتر استھان رکھ لیا جائے تو کیا خوب ہو۔

رانا صاحب کو بھلا کیا اعتراض تھا؟ سینا پتی وہ تھے، راجہ وہ بنے بیٹھے تھے، اب دھرم کی سیوا کر کے سورگ کمانے کا موقع بھی ہاتھ آ گیا۔ ان کی تو پانچوں گھی میں تھیں۔ لیکن ایک بات پھر بھی ماننی پڑے گی ان کی نوکیلی مونچھوں اور گرجدار آواز کا دبدبہ اتنا تھا کہ اس قدر مضحکہ خیز قانون کے نافذ العمل ہونے کے باوجود ریاست کے طول و عرض میں زیادہ افراتفری دیکھنے میں نہ آئی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جن کے خلاف قانون بنایا گیا تھا وہ حد درجہ پرامن اور دیس بھگت تھے۔ نہ کچھ بولے، نہ تڑپے، نہ پھڑکے، بس سہتے رہے۔ مقدمے بنتے، جن کے فیصلے نچلی پنچایتوں میں تو ان کے خلاف ہی ہوتے البتہ بڑی پنچایت میں آ کر لٹک جاتے اور وہ فیصلے کے انتظار میں مقررہ سزا سے بڑی سزا بھگت لیتے۔

رانا صاحب کی خوب بلے بلے ہو گئی۔ دھرم واسیوں نے انھیں ایسا بانس پر چڑھایا کہ خود کو بھگوان کا اوتار سمجھنے لگے۔ ان کی چھتر چھایا میں دھارمک کٹھ بندھنوں کا کاروبار خوب چمکا۔ ان گروہوں کو دھرم کے نام پر کچھ بھی کر گزرنے کی کھلی چھوٹ تھی۔ جنتا کو ان کے ہتھے چڑھا کے رانا جی شانتی سے اگلے بیس ورشوں کی منصوبہ بندی میں جُٹے تھے کہ انہونی ہو گئی۔ رانا جی مصاحبوں کے ہمراہ دکھنی راجواڑوں کی دیکھ ریکھ کو جا رہے تھے کہ اڑن کھٹولے میں آگ بھڑک اٹھی اور دو درجن نفوس جل کر بھسم ہو گئے۔

ریاست تو جیسے یتیم ہو گئی۔ رانا جی ہی وہ بیل تھے جو دونوں سینگوں پر ریاست کو اٹھائے کھڑے تھے۔ ان کے پروردہ بولائے بولائے پھرتے۔ جنتا کو بھی ایسی دردناک موت کے بعد ان سے ہمدردی سی ہو گئی تھی۔ مگر یہ سب وقتی باتیں تھیں۔ اقتدار کا سنگھاسن کسی کی یاد یا سوگ میں کب خالی رہتا ہے۔ جلد ہی وہ بھلا دیے گئے۔ نہ صرف بھلا دیے گئے بلکہ معتوب ٹھہرے۔ حلقے والوں نے ان کے عبرتناک انجام کو بھگوان کی ناراضگی سے تعبیر کیا مگر لوگوں نے اس بات پر زیادہ دھیان نہ دیا۔

ویسے بھی ان کا مرکز اب مستقل طور پر پچھمی دیسوں میں منتقل ہو چکا تھا جہاں وہ خوب پھل پھول رہے تھے۔ ریاست پوتر استھان میں البتہ صورتحال مختلف تھی۔ یہاں وہ بتدریج راندہِ درگاہ ہوتے چلے گئے۔ ریاست کی شہ اور پشت پناہی سے پنڈتوں نے انھیں بالکل سر نہ ابھارنے دیا بلکہ سر مزید زمین کی طرف جھکانے کے لیے یہ مطالبہ ہونے لگا کہ انھیں دو پاؤں پر چلنے سے روکا جائے کہ یہ انسانوں کا طریقہ ہے۔ یہ چونکہ ریاست پوتر استھان کے قانون اور آئین کی رو سے انسان نہیں ہیں اس لیے ان کے اس عمل سے ہمارے دل پر چھریاں چلتی ہیں۔

راجہ کوئی بھی ہو، ریاست کو اور کسی کا خیال ہو نہ ہو، اس بات کا ہمیشہ خیال رہتا کہ دھرم کے ان ٹھیکیداروں کے نازک دل کو ٹھیس نہ پہنچے۔ لہٰذا پنڈتوں کے چیلے چانٹوں کی منڈلیاں سرکاری پیادوں کے ہمراہ دندناتی پھرتیں اور جہاں کوئی حلقہ بگوش دکھائی دیتا اسے زبردستی چاروں ہاتھ پاؤں کے بل چلنے پر مجبور کرتیں۔ عام جنتا کے دل میں یہ سب دیکھ کے کھد بد تو ضرور ہوتی مگر دھرم واسیوں کے کسی فعل میں دخل اندازی کا تصور ہی محال تھا۔

اس لیے یہ سوچ کر لاتعلق ہو جاتے کہ جو کر رہے ہیں ٹھیک ہی ہو گا، ہم ان باتوں کو کیا جانیں۔ کیوں اپنا دھرم بھرشٹ کروائیں۔ ان کی تو رہی ایک طرف، جو بُدھی وان تھے ان کی بھی مجال نہیں تھی کسی معمولی سے جاہل پنڈت کے مقابل ٹھہر سکیں۔ حلقے والوں کے حق میں اگر کوئی کمزور سی آواز اُٹھ جاتی تو سارا سماج اس پر ٹوٹ پڑتا۔ اسے ان کا ساتھی سمجھ لیا جاتا۔ اس کے اہل و عیال اور رشتہ دار تک اس الزام سے محفوظ نہ رہتے۔

کسی عزت دار یا اہم عہدے پر فائز شخص کو اس کے مخالف نیچا دکھانا چاہتے تو اس پر ملیچھ ہونے کا الزام دھر دیتے۔ وہ بے چارہ پھر اپنی صفائیاں دیتا پھرتا۔ مندر میں ماتھا رگڑتا اور جب تک بھرے مجمعے میں حلقے والوں یعنی ملیچھوں کو گالیاں نہ نکال لیتا اس کی جان بخشی نہ ہوتی۔ بُدھی وانوں کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ بھی تھا کہ دھرم کے معاملے میں بالکل کورے تھے۔ پنڈت کی اندھی تقلید کے سوا ان کے پاس بھی کوئی چارہ نہ تھا۔

اگرچہ اندر سے کڑھتے مگر کچھ کر نہ سکتے تھے۔ یہی حساب بیشتر سرپنچوں کا بھی تھا جن کے روبرو یہ مقدمے پیش ہوتے اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی سزا سنانے پر مجبور ہو جاتے۔ پنچایت میں کوئی حلقہ بگوشوں کے حق میں بولنے والا نہ تھا۔ اگر کوئی ہمت کر بیٹھتا تو اسے جان کے لالے پڑ جاتے۔ بہت سوں نے جب اس کارن جان گنوائی تو رفتہ رفتہ یہ گنی چنی آوازیں بھی خاموش ہو گئیں۔

( جاری ہے )

Facebook Comments HS