غیر سیاسی باتیں: جانب پردیس


پطرس بخاری بے بدل ادیب اور مزاح نگار تھے، وہ پیدا تو پشاور میں ہوئے لیکن زندگی لاہور میں بسر کی، وہ لاہور سے دیوانگی کی حد تک لگاؤ رکھتے اور عشق کرتے تھے شاید اسی لئے انہوں نے نیویارک میں قیام کے دوران صوفی تبسم کے نام ایک خط میں یہ سوال کیا کہ کیا لاہور اب بھی مغلوں کی یاد میں آہیں بھرتا ہے؟ یہ ان کی لاہور سے دیوانہ وار عاشقی کا والہانہ اظہار تھا دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ لاہور اپنے عاشقوں کے اعصاب پر ایسا سوار ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی ہوں انہیں اپنے محبوب شہر کی یاد ستاتی رہتی ہے۔ لاہور میں بسنے والے کسی مجبوری کی وجہ سے لاہور چھوڑ جائیں لیکن لاہور انہیں نہیں چھوڑتا۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد لوگ لاہور سے مجبوری کی حالت میں ہجرت تو کر گئے لیکن لاہور ان کے اندر سے نہ نکل سکا مشہور افسانہ نگار کرشن چندر بھی لاہور کی یاد میں آہیں بھرتے رہے احمد ندیم قاسمی کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ لاہور کا ذکر تو کجا اس محبوب شہر کے بارے میں سوچتا بھی ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔ مشہور ادیب اے حمید لاہور کو طلسم و اسرار کی الف لیلہ سے تشبیہ دیتے تھے۔ لیکن یہ وہ لاہور تھا جو برصغیر میں علم و ادب اور ثقافت کا مرکز تھا اس شہر میں ایسی ایسی نابغہ روزگار شخصیات بستی تھیں جن کا ڈنکا پورے ہندوستان، لندن، برلن اور روم تک بجتا تھا۔ آج کے پر ہنگم لاہور سے اس کا دور دور تک کا واسطہ نہ تھا سنتے ہیں کہ ہر شام کو لاہور کی مرکزی شاہراہوں پر چھڑکاؤ کیا جاتا تھا۔

قارئین یہ جانتے ہیں کہ میرے والد محترم عبدالقادر حسن مرحوم کوہستان نمک کے پہاڑوں سے ہجرت کر کے تعلیم اور روز گار کے سلسلے میں لاہور آئے اور پھر یہیں کے ہو رہے یوں میں بھی لاہور میں ہی رہا ہوں اور اس خوبصورت شہر میں گزشتہ چار دہائیوں سے مقیم ہوں۔ اپنے جد امجد حضرت میاں اطہرؒ کے مرشد حضرت علی ہجویری ؒالمعروف داتا صاحب کا عقیدت مند ہوں جن کے نام سے شہر لاہور پہچانا جاتا ہے اور داتا کی نگری کہلاتا ہے۔ مجھے اس بات پر فخر ہے کہ لاہور شہر نے مجھے پہچان دی، مجھے قبول کیا کیونکہ لاہور کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ہر ایک کو قبول نہیں کرتا۔ اس شہر نے مجھے دوست احباب کے ایک وسیع حلقہ سے نوازا۔ گو کہ اب لاہور میں ماضی کی طرح ادبی بیٹھکیں نہیں رہیں اور نہ ہی وہ لوگ رہ گئے جن کے دم قدم سے یہ بیٹھکیں آباد رہتی تھیں۔ ادب نواز شہر سے سیاست بھی روٹھ گئی اور سیاسی ڈیرے یا تو مفقود ہو گئے یا پھر اقتدار کے شہر اسلام آباد منتقل ہو گئے۔

اس طویل تمہید کا مقصد یہ ہے کہ میری ایک اور ہجرت کا وقت آن پہنچا ہے اور ہجرت جسے برکت کہا گیا ہے اب یہ ہجرت اسلام آباد کو ہے جہاں پر مجھے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں تا کہ ہوشرباء مہنگائی کے اس دور میں دال دلیہ چلتا رہے۔ لاہور میں بطور افسر تعلقات عامہ پی آئی اے ماہ و سال گزرتے رہے قومی ائر لائن کے نشیب و فراز کو میڈیا کے دوستوں کے ساتھ مل جل کر کام چلتا رہا اور جس طرح میڈیا کے دوستوں نے میرا ساتھ نبھایا میں ہمیشہ ان کا ممنون رہوں گا۔ میری حتی الوسع یہ کوشش رہی کہ پاکستان بھر میں پی آئی اے کے توسط سے جن دوستوں کے ساتھ تعلق استوار ہوا ان کی بہتر رہنمائی اور خدمت کروں۔

ملازمت کے دوران جس دفتر میں آپ کا ایک طویل وقت گزرتا ہے اس دفتر کے در و دیوار آپ سے اور آپ ان سے مانوس ہو جاتے ہیں۔ میرے دفتر کے دوستوں نے اس طویل رفاقت میں میرا ساتھ نہایت خندہ پیشانی سے دیا۔ شعبہ تعلقات عامہ کے وہ ساتھی جو ریٹائر ہو گئے ہیں جن سے میں نے تعلقات عامہ کی شد بد سیکھی ان میں کراچی میں چوہدری بشیر صاحب، یوسف خان صاحب، مرحوم جاوید صاحب، حاجی طالب صاحب جو لاہور کے اخبار نویسوں کی خدمت کے لئے ہمہ وقت دستیاب ہوتے تھے اور محترمہ یاسمین ہارون صاحبہ جن کے ساتھ دفتری تعلق کے علاوہ میرے والد کے دیرینہ خاندانی تعلقات بھی تھے ہم دونوں نے اپنے بزرگوں کے اس خوبصورت رشتے کو کامیابی سے نبھایا۔ میں خالد بٹ مرحوم کا خاص طور پر ذکر کرنا چاہوں گا جو کہ جنرل مینیجر تعلقات عامہ رہے ان کی رہنمائی ہمیشہ شامل حال رہی۔ سید سلطان حسن مرحوم سے بھی سیکھنے کا موقع ملا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ میری پی آئی اے کے ساتھ طویل رفاقت کا سفر گو کہ ابھی جاری ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بشرط زندگی ابھی ایک دہائی باقی ہے لیکن لاہور سے اب کوچ کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ میری اگلی ذمہ داری بابوؤں اور اقتدار کی غلام گردشوں والے خوبصورت شہر اسلام آباد میں ہے وہاں بھی اپنے صحافی دوستوں کی خدمت کا نیا سفر شروع ہو گا۔ نیا شہر نئی ذمہ داریاں ہیں لیکن میری خوش قسمتی ہے کہ وہاں پر میرے اعلیٰ افسران بھی کمال مہربان ہیں اور میرے منتظر ہیں۔ یعنی اجنبیت والا معاملہ ہر گز نہیں ہے البتہ لاہور سے بچھڑنے کا قلق ضرور ہے کیونکہ داتا کی نگری میں زندگی بسر کرنے کا اپنا ہی نشہ اور مزہ ہے۔ دوست احباب ہیں رشتہ دار ہیں جن سے زندگی بھر کا رشتہ ہے وہ سب فکر مند ہیں کہ ملاقاتیں اور محفلیں کیسے ہوں گی ان کو یقین دلایا ہے کہ ہر ہفتہ لاہور کے درشن ہوں گے۔

میں اگر اپنے اہل خانہ کا ذکر نہ کروں تو جان کی امان نہ پا سکوں گا۔ میری زوجہ محترمہ نے گزشتہ چوبیس برس مجھے برداشت کیا ہے اور بچوں کی ذمہ داریوں سے مجھے مبرا رکھا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک ہی مقصد بچوں کی تعلیم اور تربیت کا رکھا اور اپنے اس مقصد اور کردار کو وہ بخوبی نبھا رہی ہیں۔ میرا بیٹا نوشیروان لمز سے گریجوایشن، میری بیٹی ضحیٰ سی ایم ایچ سے ڈینٹل سرجری اور سب سے چھوٹی حلیمہ سعدیہ میٹرک کے رزلٹ کا انتظار کر رہی ہے میں اپنے بچوں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ میری پیشہ ورانہ مصروفیات میں میرا ساتھ دیتے ہیں۔

پی آئی اے نے معاشرے میں مجھے شناخت دی۔ دنیا بھر کا سفر کیا، حج کیے ، عمرے کیے یہ سب کچھ پی آئی اے کی بدولت ہی ممکن ہوا، ورنہ لاہور سے دور دراز وادی سون کے پہاڑوں میں گھرے ایک گاؤں کا نوجوان کہاں اس قابل ہوتا کہ وہ اللہ اور اس کے نبیﷺ کے گھر کی بار بار سعادت کا شرف حاصل کرتا۔ گو کہ پہلی بار عمرہ کی سعادت والد محترم کے ساتھ پی آئی اے کی ملازمت میں آنے قبل ہی حاصل ہو چکی تھی لیکن اس کے بعد اپنی والدہ اور اہل خانہ کے ساتھ حج اور عمرہ کی سعادت پی آئی اے کی بدولت ہی ممکن ہوئی۔ جاوید جدون کہتے ہیں۔

رزق کی خاطر رواں ہیں جانب پردیس ہم
کون جاتا ہے وگرنہ اپنے پیارے چھوڑ کر

Facebook Comments HS