نفاذِ اردو کی راہ میں دیوار کون؟


فن لینڈ کی آبادی 5.5 ملین ہے زبان فینش ہے ناروے کی آبادی 5.4 ملیں ہے زبان نارویجین ہے سویڈن کی آبادی 10 ملین ہے اور زبان سویڈش ہے یاد رہے کہ یہ سب ممالک یورپین ہیں جہاں انگریزی کا غلبہ ہے اور یہ سب ممالک ترقی میں پاکستان سے کئی گنا آگے ہیں جبکہ پاکستان کی آبادی 235 ملین ہے یعنی ناروے جیسے 47 ممالک سے زیادہ آبادی ہے مگر اپنی زبان کے نفاذ میں ابھی ہم شرما رہے ہیں پھر ہم دنیا سے یہ پوچھتے پھرتے ہیں کہ آپ کی ترقی کا راز کیا ہے؟

ہم ترقی میں پیچھے کیوں رہ گئے ہیں؟
کیا اس سے بھی بڑا کوئی لطیفہ ہو سکتا ہے؟
دنیا کا کوئی بھی ملک کسی غیرملکی زبان کو اپنا کر ترقی نہیں کر سکتا تو ہم کیسے کر سکتے ہیں؟
پاکستان کی قومی زبان اردو ہے،

جو نہ صرف قومی یکجہتی کی علامت ہے بلکہ ملک کے ہر حصے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ تاہم، عملی طور پر اردو کا نفاذ بہت سی رکاوٹوں کا شکار ہے

آخر ایسے کون سے عوامل ہیں جو پاکستان میں اردو کے نفاذ میں رکاوٹ بن رہے ہیں؟ اور ان مسائل کو حل کیسے کیا جاسکتا ہے؟

مولانا مودودی لکھتے ہیں کہ ”اُردو زبان کے راستے میں اصل رکاوٹ صرف یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کا بالائی طبقہ چونکہ خود انگریزی ماحول میں پلا ہوا ہے، اور اُردو لکھنے بولنے پر قادر نہیں ہے، اس لیے وہ چاہتا ہے کہ اس کے جیتے جی ساری قوم پر انگریزی زبان مسلط رہے۔ پھر یہ لوگ اپنی اولاد کی بھی انگریزیت ہی کے ماحول میں پرورش کر رہے ہیں، اور اس بات کا انتظام کر رہے ہیں کہ حکومت کی باگ ڈور آئندہ انھی کی نسل کے قبضے میں رہے۔“

اب تو یہ سرطان ہر ہر شعبے اور ملک کے ہر ہر حصے تک پھیل چکا ہے اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ اس وقت پاکستان کا تمام تر تعلیمی نظام انگریزی کے زیر اثر آیا ہوا ہے

پاکستان کے تعلیمی نظام میں انگریزی زبان کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ خود والدین صرف انگریزی کو ہی حقیقی تعلیم سمجھتے ہیں اپنے بچوں کے لیے اسی کا انتخاب کرتے ہیں۔

اسی ضرورت کو بھانپتے ہوئے ابن زر لوگوں نے زیادہ تر نصابی کتب اور تدریسی مواد کو انگریزی میں ہی ترتیب دیا ہے، جس کی وجہ سے طلباء کو اردو کے بجائے انگریزی پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جو نہ صرف ہمارے ماہرین تعلیم کی کاہلی اور اردو دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ ہماری نسل نو کو بھی اردو کا باغی بنانے کے مترادف ہے۔ انگلش میڈیم اسکولوں کی بھرمار بھی اردو کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بنتی جا رہی ہے اب یہ بھی ایک بہت بڑا مافیا بن چکا ہے جو صرف انگریزی میڈیم کے نام پر اپنی دکان سجائے بیٹھے ہیں اور ہماری نسل نو کو روز افزوں اپنی مادری زبان سے دور کیے جا رہے ہیں۔

اردو میں معیاری نصابی کتب کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے آہستہ آہستہ سائنس کی تمام کتب اردو میں ناپید کی جا رہی ہیں تاکہ طلبہ مجبوراً انگریزی کا ہی انتخاب کریں۔

جدید تعلیم اور سائنسی مواد کی زیادہ تر کتب انگریزی میں ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے طلباء کو اردو میں مطلوبہ مواد حاصل کرنا قدرے مشکل رہتا ہے۔ اس کمی کو دور کرنے کے لیے اردو میں اعلیٰ معیار کی نصابی کتب کی تیاری از حد ضروری ہے۔

سرکاری دفاتر انگریزی زبان کی آماجگاہ بن چکے ہیں یوں لگتا ہے یہ پاکستان کے نہیں انگلستان کے دفاتر ہیں بیچارے کلرک کو ٹھیک سے انگلش میں دو جملے لکھنے اور بولنے نہیں آتے مگر تمام امور انگریزی میں سر انجام دینے پر مجبور ہے کیونکہ صاحب جی کا یہیں حکم ہے۔

یہ چند گنتی کے صاحبان جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہوتے ہیں یہیں صاحبان نفاذ اردو کے راستے کی سب سے بڑی دیوار بھی ہیں۔ ایک طرف یہ ملک کو دونوں ہاتھ سے لوٹ رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف اسے اغیار کی زبان مسلط کر کے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے رکھتے ہیں۔

عدالتی نظام میں بھی انگریزی کا مکمل غلبہ ہے۔ بیشتر عدالتی فیصلے اور قانونی دستاویزات انگریزی میں تیار کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے ان فیصلوں کو پڑھنا اور سمجھنا مشکل رہتا ہے۔ عدالتی نظام میں اردو کے نفاذ کے لیے قانونی اصطلاحات اور دستاویزات کا اردو میں ترجمہ ضروری ہے۔ یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ عدالت نے خود نفاذ اردو کا فیصلہ سنایا ہے اور خود ہی اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے لیے تیار نہیں۔

عدالتوں کا رونا ہم کیا روئیں ہمارا معاشرہ خود انگریزیت کا مرید بن چکا ہے، زن مرید، زرد مرید اور اب انگریزیت مرید۔

پاکستانی معاشرے میں انگریزی کو ایک اعلیٰ مقام حاصل ہے جو کہ بذات خود ہماری پسماندہ سوچ کا عکاس ہے کیونکہ کسی غیر کی زبان کی برتری کا بھوت اپنے دماغ میں بٹھانے کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ اس کی غلامی کا اعتراف کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں انگریزی بولنے والوں کو زیادہ تعلیم یافتہ اور مہذب تصور کیا جاتا ہے بھلے وہ معاشرے کے سب سے پرلے درجے کے لوگ کیوں نہ ہوں۔ یہیں بھوت اب والدین کے دماغ میں بھی بیٹھ چکا ہے جس کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو اردو کے بجائے انگریزی میڈیم اسکولوں میں داخل کروانا پسند کرتے ہیں۔ اس رویے کی تبدیلی کے بغیر اردو کا نفاذ یقیناً ممکن نہیں ہے۔

میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کی صنعت میں بھی انگریزی کا رجحان زیادہ ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ میڈیا انگریزی کے سب حربے استعمال کر کے ناکام ہو چکا ہے کیونکہ عوام الناس تو اردو ہی سمجھتے ہیں اور عوام میں اردو کو ہی پذیرائی ملتی ہے اس لیے ان کے ٹی انگریزی وی چینلز، اخبارات، اور میگزین کو گھاس تک نہیں ڈالا گیا اب مجبوراً اردو میں شائع کیے جا رہے ہیں، فروغ اردو کے لیے میڈیا میں اردو زبان کو زیادہ سے زیادہ جگہ دینا ضروری ہے کیونکہ میڈیا کا لوگوں کی ذہن سازی میں نہایت کلیدی کردار ہے۔

تعلیمی نصاب میں اردو کی اہمیت بڑھانے کے لیے نصابی کتب کا اردو میں ترجمہ اور تیاری ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد بڑھائی جائے اور اساتذہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔

سرکاری دفاتر اور عدالتی نظام میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر اپنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ سرکاری دستاویزات اور عدالتی فیصلوں کا اردو میں ترجمہ کیا جائے اور سرکاری ملازمین کو اردو میں کام کرنے کی تربیت دی جائے۔

میڈیا میں اردو زبان کو زیادہ جگہ دی جائے۔ ٹی وی چینلز، اخبارات، اور میگزین میں اردو کا استعمال بڑھایا جائے تاکہ عوام کا رجحان اردو کی طرف بڑھے۔

جدید تکنیکی اور سائنسی اصطلاحات کا اردو میں ترجمہ اور تیاری کی جائے۔ اس کے لیے ماہرین لسانیات اور سائنسدانوں کی مدد لی جائے تاکہ اردو میں بھی جدید معلومات کی فراہمی ممکن ہو۔

بین الاقوامی سطح پر اردو کو ایک معیاری زبان کے طور پر تسلیم کرانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ بین الاقوامی کانفرنسوں اور تجارتی معاملات میں اردو کا استعمال بڑھایا جائے تاکہ اقتصادی میدان میں بھی اردو کا نفاذ ممکن ہو سکے۔

پاکستان میں نفاذ اردو میں بہت سی رکاوٹیں ہیں، لیکن ان رکاوٹوں کو دور کرنا ناممکن نہیں ہے۔ تعلیمی نصاب کی اصلاحات، سرکاری امور میں اردو کا نفاذ، میڈیا میں اردو کا فروغ، تکنیکی اصطلاحات کی تیاری، اور بین الاقوامی سطح پر اردو کی ترویج جیسے اقدامات سے ان رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اردو کا نفاذ نہ صرف قومی یکجہتی کو مضبوط کرے گا بلکہ عوام کی علمی اور معاشرتی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

Facebook Comments HS