علم کا سمندر اور دائرہ معارف: عبید اللہ بیگ


muhammad salim gujranwala

پی ٹی وی کو بہت سے با صلاحیت چہرے ملے جنھوں نے اپنی، ملک اور ٹی وی کی شہرت کو چار چاند لگا دیے۔ عبیداللہ بیگ انہیں میں سے ایک ہیں۔ ان کی وفات پر ملک کے ایک بڑے اخبار نے انہیں گوگل، علم کا سمندر اور دائرہ معارف قرار دیا تھا۔ وہ اردو زبان و ادب کا حسین مرقع تھے۔ اردو کو اس کے اصل اور صحیح لب و لہجہ میں بولنا ان پر ختم تھا۔

یکم اکتوبر، 1936 ء کو رام پور ہندوستان میں پیدا ہونے والے عبیداللہ بیگ، قیام پاکستان کے بعد 1950 ء میں کراچی آ گئے۔ پی ٹی وی کے چیئرمین اسلم اظہر نے انہیں ٹی وی پر متعارف کرایا۔ عبیداللہ بیگ ایک اعلی دانشور، ڈرامہ اور ناول نگار، کالم نگار، صداکار اور دستاویزی فلمساز تھے۔ ان کی تعلیم صرف انٹر تھی لیکن وہ علم و اگہی کا بحر بیکراں اور دائرہ المعارف تھے۔

1970 ء میں انہوں نے ٹی وی پر علم و آگہی کا پروگرام کسوٹی شروع کیا جس میں ان کے ساتھ افتخار عارف اور غازی صلاح الدین تھے۔

عبیداللہ بیگ کسی شخصیت، عمارت، جگہ یا واقعہ کو اخفا میں رکھتے اور افتخار عارف اور غازی صلاح الدین ان سے 20 سوال پوچھتے جن کی مدد سے وہ شخصیت، عمارت، واقعہ یا جگہ کا نام معلوم کر لیتے۔ 1990 ءکی دہائی میں قریش پور کے ساتھ یہ پروگرام دوبارہ شروع کیا گیا۔ ٹی وی ناظرین میں یہ پروگرام بہت مقبول ہوا اور اس نے لوگوں کے علم و اگہی میں بہت اضافہ کیا۔ پہلے پہل جب کوئی گوگل، نیٹ یا علم جاننے کے موجودہ ذرائع نہیں تھے تو کتابیں اور استاد ہی علم حاصل کرنے کا ذریعہ تھے، استاد کی اہمیت کتب سے اس لیے زیادہ تھی کہ کتاب سوال پیدا کرتی ہے جواب نہیں دیتی۔ جب کہ استاد سوال کا جواب بھی دیتا ہے۔ یہ ہی حقیقت عبیداللہ بیگ پر ہوبہو صادق آتی ہے۔ عبید اللہ بیگ کا علم شخصیات، واقعات، جغرافیہ، سائنس، مذہب، تہذیب و تمدن سمیت زندگی کے ہر شعبہ پہ محیط تھا۔

عبیداللہ اللہ بیگ کو دستاویزی فلمیں بنانے میں خصوصی ملکہ حاصل تھا۔ اپنے 48 سالہ عرصہ خدمات فن میں انہوں نے 300 دستاویزی فلمیں بنائی جن میں سے کچھ کو بین الاقوامی انعام سے بھی نوازا گیا۔ ان کی چند مشہور دستاویزی فلمیں تاریخ پاکستان، جنگلی حیات، سندھ کی جھیلیں، سندھ جنگلی حیات، گیم وارڈن اور پتھر میں زندگی، ہیں۔ 6 برس تک وہ قدرت اور قدرتی وسائل کے ادارے سے منسلک رہے اور جریدہ کے نام سے بہلا ماحولیاتی رسالہ نکالا۔ چند سال تک پی ٹی وی کا دستاویزی پروگرام سیلانی کے ساتھ کرتے رہے۔ ریڈیو پاکستان کراچی سے بھی وابستگی رہی۔ روزنامہ اشجار اور حریت کے مدیر بھی رہے۔ مشہور تشہیری ادارے اشیائٹک کے کاپی رائٹر بھی رہے۔ عبیداللہ بیگ نے دو ناول انسان زندہ ہے اور راجپوت بھی لکھے۔ ان کی اہلیہ کا نام سلمیٰ بیگ ہے جنہوں نے پی ٹی وی کے بہت سے پروگرامز کی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔ وہ ایک اعلی ماہر تعلیم بھی ہیں۔ عبید اللہ بیگ کی تین صاحب زادیاں ہیں۔ بڑی مریم بیگ، امریکہ میں ٹی وی اور تھیٹر سے وابستہ ہیں، دوسری آمنہ فاطمہ آدرش پاکستان میں ہیں اور ایک۔ نجی ٹی وی سے وابستہ ہیں اور تیسری بیٹی آمنہ بیگ دی انٹرنیشنل نیوز اخبار سے وابستہ ہیں۔

علم و فن کا یہ درخشندہ ستارا 22 جون، 2012 ء کو کراچی میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ وہ کراچی ڈیفینس قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “علم کا سمندر اور دائرہ معارف: عبید اللہ بیگ

  • 28/06/2024 at 12:20 شام
    Permalink

    کیا چھانٹ کر نام لائے ہیں آپ۔
    میری بیگ صاحب سے ملاقاتوں کی یاد کے سنہرے پل آپ نے یاد کرادیئے۔

    • 29/06/2024 at 3:02 شام
      Permalink

      سید رضی الدین صاحب ۔۔۔تبصرے کا بہت شکریہ

Comments are closed.