پاکستان کا پہلا ہیومن ملک بنک اور غلط فہمیاں
کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پر مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک کے حوالے سے ہنگامہ مچا رہا۔ زیادہ تر عوام نے کم علمی یا لا علمی کی بنیاد پر ایک مخصوص طبقے کی طرف سے اڑائی گئی یک طرفہ افواہ کی بنیاد پر اس پراجیکٹ یا آئیڈیے کی مخالفت میں کشتوں کے پشتے لگا دیے۔
مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک بنانے کا بنیادی آئیڈیا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان/ سندھ میں بھی وہی تھا کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین غذا ہے۔ جو نہ صرف انفیکشن فری ہوتا ہے بلکہ ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچے کو غذائیت کے علاوہ اینٹی باڈیز بھی فراہم کرتا ہے جو بچے کی قوت مدافعت کی تشکیل کرتی ہیں۔
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں متعدد سماجی اور معاشی وجوہات کی بنا پر خواتین اور بچیوں یعنی ماؤں کی اکثریت خود غذائیت کی کمی کا شکار ہوتی ہے۔ پھر کم عمری کی شادی اور بار بار حمل اور بغیر وقفے بچوں کی پیدائش میں ان کی رہی سہی غذائیت بھی ضائع ہوجاتی ہے۔ لہذا ایسی خواتین کے بچوں کے لیے خصوصاً اور پیٹ کے کچھ مخصوص امراض میں مبتلا نوزائیدہ بچوں کو عموماً صحت مند اور غذائیت سے بھرپور ماں کے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو ان کی اپنی ماں کا دودھ پوری نہیں کر سکتا۔ فارمولہ ملک ماں کے دودھ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کے لیے جو فارمولہ ملک دیا جاتا ہے وہ عام فارمولہ ملک کے مقابلے میں بہت مہنگا ہوتا ہے جسے عام آدمی افورڈ نہیں کر سکتا۔
ایسے بچوں کے لیے بشمول مسلم ممالک دنیا بھر میں مدرز ملک بنک یا ہیومن ملک بنک قائم ہیں۔ جہاں سے ضرورت مند بچوں کو صحت مند ماؤں کا دودھ فراہم کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلا ہیومن ملک بنک ویانا آسٹریا میں 1909 میں قائم کیا گیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت 66 ممالک میں 756 ملک بنک قائم ہیں جن میں سب سے زیادہ تعداد برازیل میں 217 ملک بنک ہیں۔ ہمارے پڑوسی ممالک میں انڈیا میں نوے ہیومن ملک بنک ہیں اسلامی ممالک میں دیکھیں تو ایران میں 07، ملائشیا میں 01 ہیومن ملک بنک ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تعداد کم ہے امریکہ میں 28 اور برطانیہ میں اس قسم کے 17 بنک ہیں۔
سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹولوجی سندھ میں نوزائیدہ بچوں کے علاج کا ایک اعلیٰ ترین ادارہ ہے جہاں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں، کم وزن یا غذائیت کی کمی کا شکار بچوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ بچوں کی صحت کے حوالے سے ریسرچ کی جاتی ہے اور ڈاکٹروں کو پیڈیاٹرکس میں اپ ٹو ڈیٹ ٹیکنالوجی، تعلیم اور علاج کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ ہیومن ملک بنک کا قیام بھی بچوں کے علاج کے سلسلے میں چاروں صوبوں میں اولین اگلا قدم تھا۔
انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر کے مطابق انسٹی ٹیوٹ میں داخل ہونے والے ہر پچاس بچوں میں سے 30۔ 35 بچے وہ ہیں جو قبل از وقت پیدا ہو جاتے ہیں۔ ان بچوں کو ماں کے صحت مند اور غذائیت سے بھرپور دودھ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے لیکن بدقسمتی سے ان کی ماؤں کا دودھ کم ہوتا ہے یا پھر ان کی اپنی صحت اس قدر خراب ہوتی ہے کہ ان کا دودھ غذائیت کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔
یونیسیف کے ایک سروے کے مطابق ہر سات میں سے ایک [ 14 فیصد] خواتین غذائیت کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 18 فیصد خواتین آئرن کی کمی اور 42 فیصد خون کی کمی کا شکار ہیں۔ پاکستان کے قومی غذائیت سروے 2018 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 40 فیصد بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں جبکہ 28 فیصد بچے اپنی عمر کے مقابلے میں وزن کی کمی کا شکار ہیں۔ یہی وجوہات ہیں جو آج بھی پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر ایک ہزار زندہ بچوں میں سے 62 بچے پہلی سالگرہ سے پہلے مر جاتے ہیں جبکہ 74 بچے پانچویں سالگرہ منانے سے پہلے فوت ہو جاتے ہیں۔
مدرز ملک بنک حکومت سندھ کے محکمہ صحت کے ایک پراجیکٹ کے تحت سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹولوجی میں قائم کیا گیا تھا جس کے لیے جامعہ دارالعلوم کراچی سے فتوی لیا گیا۔ روزنامہ ڈان بتاریخ 24 جون 2024 کے مطابق جامعہ دارالعلوم کراچی نے مندرجہ ذیل شقوں کی بنیاد پر اس پراجیکٹ کے حق میں فتویٰ جاری کیا کہ :
1۔ ماں کا دودھ ہدیہ کرنے والے خاندان اور دودھ کا ہدیہ وصول کرنے والے خاندان خصوصاً ماؤں سے ایک دوسرے کے نام پتے اور شناختی دستاویز کا تبادلہ کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں رضاعی بہن بھائیوں کے درمیان رشتے کی حرمت قائم رکھی جا سکے۔
2۔ ماں کے دودھ کی فراہمی مفت ہوگی اس میں کسی قسم کی خرید و فروخت نہیں ہوگی۔
3۔ مسلمان بچوں کو صرف اور صرف مسلمان ماؤں کا دودھ فراہم کیا جائے گا۔
4۔ دودھ جراثیم سے پاک صاف ہو گا اور صحت مند ماؤں سے لیا جائے گا۔
5۔ دودھ صرف قبل از وقت [ 34 ہفتوں سے قبل] پیدا ہونے والے ان بچوں کو دیا جائے گا جن کی ماؤں کا دودھ کم ہو گا یا میڈیکل گراؤنڈز پر ماں کا دودھ انہیں نہیں دیا جاسکتا ہو گا، مثلاً دودھ میں ضروری غذائی اجزا ء کی کمی۔
6۔ دودھ کی فراہمی کے ڈیٹا کا دوطرفہ ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا۔
میں پچھلے بیس برس سے پبلک سیکٹر میں ایک ذمہ دار پوسٹ پر کام کر رہی ہوں اور جانتی ہوں کہ کوئی بھی سرکاری پراجیکٹ الل ٹپ لانچ نہیں کر دیا جاتا۔ کسی بھی پراجیکٹ یا منصوبے کو بنانے سے پہلے اس کی ضرورت، مقاصد، اس سے پیدا ہونے والی ممکنہ پیچیدگیاں، مسائل، ان کا ممکنہ حل، فنڈز کی ضرورت اور فراہمی، اس منصوبے سے کتنی جابز تخلیق ہوں گی، اور اس منصوبے سے حاصل ہونے والے فائدے تفصیل سے لسٹ ڈاؤن کیے جاتے ہیں جس کے لیے پلاننگ کمیشن کے مخصوص فارم پی سی ون پر اس پراجیکٹ کا پورا پلان تیار کیا یا لکھا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس سے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم میں کیا کیا فائدے اور نقصانات ہوسکتے ہیں ان کو بھی لسٹ ڈاؤن کیا جاتا ہے، اب تو اس سے ماحول پر کیا اثرات ہوں گے یہ بھی ڈاکومنٹ کیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی کہ مستقبل میں اس منصوبے کے جاری رہنے اور ڈپارٹمنٹ کے روٹین آپریشنز میں شامل ہونے کا کیا طریقہ کار ہو گا۔
سینئیر افسران اس کی دوبارہ جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ اور سارے لوپ ہولز نکال کر اسے پلاننگ اینڈ ڈیویلپ منٹ ڈپارٹمنٹ میں جمع کروایا جاتا ہے۔ پھر پی این ڈی ڈپارٹمنٹ اس پلان کے ایک ایک بال کی کھال اتارتا ہے ایک ایک سطر، ایک ایک آئٹم، اور ایک ایک روپیہ کی جانچ ہوتی ہے۔ کئی کئی مہینوں میں متعلقہ ڈپارٹمنٹ اور پی این ڈی ڈپارٹمنٹ کے درمیان پنگ پانگ میچ چلنے کے بعد پراجیکٹ منظور ہوتا ہے اور کام آگے بڑھتا ہے۔
مدرز ملک بنک پراجیکٹ بنانے والے، اس کا جائزہ لینے والے، جانچ پڑتال کرنے والے 98 فیصد افراد مسلمان ہی ہیں۔ وہ رضاعت کے تصور اور حقیقت سے بہت اچھی طرح آشنا ہیں اور اپنی قوم کی مذہبی جنونیت اور جہالت سے بھی۔ اس لیے انہوں نے اس پراجیکٹ میں اس ضمن میں ضروری شقیں اور اقدامات شامل کیے تھے۔ لیکن سوشل میڈیا پر اٹھائے گئے جہالت کے طوفان کے باعث یہ پراجیکٹ روک دیا گیا ہے۔
جامعہ دارالعلوم کراچی نے بھی عوامی رد عمل کے خوف سے اپنا فتویٰ واپس لے لیا ہے۔ محکمہ صحت نے وزارت صحت کے ذریعے معاملہ اسلامی نظریاتی کونسل میں پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے جس سے مجھے تو کوئی امید نہیں کہ وہ کوئی لاجک یا کامن سینس استعمال کر سکتی ہے کون جانے کتنے بچے اس پراجیکٹ کے چلنے کی صورت میں فوت ہونے سے بچائے جا سکتے تھے اور جانے کتنی مائیں بچوں کو صحت مند دودھ نہ ملنے کے باعث اپنے بچوں سے محروم ہوتی رہیں گی۔
نوٹ: اس سلسلے کے اگلے آرٹیکل میں ہیومن ملک بنک کس طرح کام کرتا ہے اور مسلم ممالک میں یہ کیسے کام کر رہا ہے اس کی تفصیل دی جائے گی۔



ہمارے نام نہاد عالم دین لوگوں کی کسی بھی نئی بات پر فتوی حرام اور ناں سے شروع ہوتا ہے۔
لائوداسپیکر، ٹیلی فون، ریڈیو، ٹی وی، اخباار، کرنسی نوٹ، تصویر، بنکنگ ۔۔۔۔۔ خاندانی منصوبہ بندی، نس بندی، خون دینا، اعضا عطیہ کرنا۔
سب حرام تھے
اور اب کون یاد رکھتا ہے۔
میرا ماننا ہے حرام کبھی بھی حلال نہیں ہوسکتا تو یہ لوگ پہلے غلط تھے یا اب ہیں یا شاید ہمیشہ ہی غلط رہے