فرانز کافکا اور اردو فکشن


3 جون 1924 ء کو جب فرانز کافکا، تپِ دق کی تاب نہ لاتے ہوئے، ویانا کے سینی ٹوریم میں، مادی عالم سے ماورائی عالم میں منتقل ہوا تو ادبی دنیا میں کوئی ہلچل محسوس نہ ہوئی۔ اس لیے کہ وہ اس وقت جرمن زبان کا ایک غیر معروف فکشن نگار تھا۔ جس لمحے وہ فوت ہوا اس کی کئی تحریریں غیر مطبوعہ تھیں جن کے بارے میں اس نے سخت نصیحت کی تھی کہ ان کو جلا دیا جائے لیکن اس کے دوست میکس براڈ (Max Brod) نے اس پر عمل نہیں کیا اور اس کی وفات کے بعد ، تین ناول، ”مقدمہ“ (The Trial) ، ”قلعہ“ (The Castle) اور ”امریکا“ ، (Amerika) شائع کر کے کافکا کی وصیت کی صریح خلاف ورزی کی۔ یہ خلاف ورزی کافکا کو گمنامی کے گھپ اندھیروں سے شہرت کے روشن دیار میں لے آئی۔ دلچسپ امر ہے کہ ہٹلر کے دور میں اس کی تحریریں حکومتی ایوانوں کے لئے خطرہ محسوس ہونے لگیں، یہی وجہ ہے کہ انھیں اشاعت کے لیے ممنوع قرار دے دیا گیا۔

اس کی زندگی میں محض دو افسانوں کے مجموعے شائع ہوئے جنھیں خاطر خواہ توجہ نہ مل سکی، اور پھر یوں ہوا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ قارئین کو ان کی تحریروں میں تکمیلیت کی کمی کے باوجود، اپنی کوتاہیاں اور کجیاں دکھائی دینے لگیں اور وہ قبولیت اختیار کرتے چلے گئے، سو سال گزر جانے کے باوجود یہ سلسلہ ہنوز قائم و دائم ہے۔ اب تک ناقدین نے ان کی تحریروں کو متنوع تناظرات میں پرکھا ہے اور ہر بار ان کے متن سے نئے معنی کا خروج ہوا ہے، جس نے انھیں بیسویں صدی کے پیچیدہ اور ذہین دماغوں کی صف میں لا کھڑا کیا۔

ایک بڑا فنکار زندگی کو جیسے دیکھتا ہے ویسے اس کا اظہار نہیں کرتا بلکہ وہ زندگی کو جیسے دیکھنا چاہتا ہے ویسے اس کا اظہار کرتا ہے۔ یوں زمانہ شناس ہونے کے ساتھ ساتھ، وہ اپنے عہد کا عکاس بھی ہوتا ہے۔ فرانز کافکا نے نہ صرف اس دور کے ماحول کے اثرات کو قبول کیا بلکہ بعد کے فکشن نگاروں پر اثرات بھی مرتسم کیے۔ اسے بالزاک اور دو ستووسکی سے بطورِ خاص دلچسپی تھی۔ وہ اپنے عہد کا رمز شناس تھا اسی لیے اس نے اپنے عہد کی بے اعتدالیوں اور کوتاہیوں کو پُر اثر انداز میں اپنے فن پاروں میں پیش کیا ہے۔

اس نے معاصر عہد کو متاثر کیا ہو یا نہ کیا ہو لیکن مابعد عہد کے مصنفین کو یوں متاثر کیا جیسے نفسیات میں سگمنڈ فرائیڈ نے، اقتصادیات میں مارکس نے، ارتقا میں ڈارون نے، سماجیات میں ایمائیل درخیم نے اور لسانی فلسفے میں ژاک دریدا نے کیا۔ کافکا نے اپنے فن پر خوب محنت کی ہے، اس کے جذبے کی شدت اور خلوص اس کے فن پارے میں روح پھونک دیتے ہیں اور قاری اس کا فکشن پڑھنے کے بعد اس تذبذب کا شکار ہوجاتا ہے کہ اس کے خارج کی دنیا افسانوی ہے یا کافکا کے تخیل کی دنیا؟

اس خوبی کی بنا پر، اِسے فرانز کافکا کی کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کافکا کا کمال ہے کہ وہ دنیا کو مانوس زاویے سے نہیں دیکھتا بلکہ غیر مانوس زاویے سے دیکھنے اور دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ حسین سے حسین تر شے کو تلخ سے تلخ تر بنا کر پیش کرتا ہے اور تلخ چیز کو حسین اور شیریں بنا کر پیش کرتا ہے۔ اس کا فن غیر معمولی جزئیات نگاری سے ہوتا ہوا ماورائی حدود میں جا کر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ ایک ایسی ماورائی دنیا جس پر حقیقت کا گماں ہونے لگتا ہے۔

ماورائی فضا تخلیق کرنے میں دیگر جرمن ادیبوں کی نسبت، کافکا کو کمال حاصل ہے۔ اس رجحان نے بیسویں صدی کے ادب میں رواج پایا اور کئی فکشن نگار اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس کا اس ضمن میں اہم کام ”میٹا مارفوسز“ (The Metamorphosis) ہے جسے زیادہ تر ناقدین بیسویں صدی کے عظیم کارناموں میں شمار کرتے ہیں۔

کافکا سے جہاں پوری دنیا کے ادیب متاثر ہوئے وہیں اردو ادیبوں نے بھی اس کے اثرات قبول کیے۔ کا فکائی ادب کی تقلید میں بیشتر اردو ادیبوں نے الجھی ہوئی علامتوں اور بے ترتیبی کو اپنایا جس سے اردو فکشن میں ابلاغ کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ اس حوالے سے انتظار حسین، انیس ناگی، سریندر پرکاش، مظہر الاسلام، انور سجاد، بلراج کومل، خالدہ حسین اور نیر مسعود کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ کافکا نے جن موضوعات کو تخلیقات کا حصہ بنایا ان میں بیگانگی، فرد کا احساسِ شکست، سماجی، اقتصادی اور جنسی استحصال، داخلی شکست و ریخت، اعترافِ جرم کی پیچیدگیاں اور طاقت ور کا اختیار ات کو استعمال کرنے کا جنون، نمایاں ہیں۔

اس کی تخلیقات کے مرکزی کردار عام انسان ہیں جو زندگی کے نا مختتم مسائل کا سامنا کرتے کرتے اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اس کی نمایاں مثال گریگر سمسہ ہے جو ایک روز سو کر اٹھتا ہے تو اس کی جون بدل چکی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں اس کی زندگی اتھل پتھل ہوجاتی ہے۔ اس کے خاندان کے افراد تک اس سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں یوں بیگانگی، بے وقعتی اور تنہائی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اس نے جدید انسان کے مسائل کو فکشن کے بیانیے میں یکتا اور اچھوتے انداز میں پیش کیا۔

وہ جدید انسان جو بیسویں صدی کے آغاز میں عالمی جنگ کا شکار ہوا، اس نے صنعتی دور کے نتیجے میں، سماجی اقدار کی شکست و ریخت دیکھی، انسانی تعلقات کی سطحیت اور لغویت کو محسوس کیا۔ کافکا نے اس کا ادراک کیا اور اس کے مسائل کو تخلیقات کا حصہ بنایا۔ ان ہی موضوعات کو اُردو ادیبوں نے کافکا کے تتبع میں جب پیش کیا، تو وہ ابہام اور عدم ابلاغ کے مسئلے سے دوچار ہوئے۔ کافکا کو حقیقت اور خواب کے مابین موجود کیفیت کو بیان کرنے میں مہارت حاصل ہے لیکن اُردو ادیب اس قدر کامیاب نہ ہو سکے جس قدر کافکا۔

نیر مسعود پہلا افسانہ نگار ہے جس نے کافکا کے افسانوں کو ستر کی دہائی میں نہ صرف ترجمہ کیا بلکہ اس کے خواب ناک منظر نامے، واقعات کا غیر یقینی پن اور حیران کن فضا کو مستعار بھی لیا۔ انتظار حسین نے انسان کی باطنی تبدیلی کو اس کے ظاہر میں وقوع پذیر ہوتے ہوئے دکھانے کی رسم کافکا سے قبول کی اور اس میں داستانوی رنگ، ہندی دیومالا اور ملفوظات شامل کر کے مقامی بنا لیا جس سے اس کے فکشن میں کا فکائی اثرات کو براہِ راست نشان زد کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

سریندر پرکاش اور انور سجاد کی ماورائی فضا، خوابناک مناظر اور حیران کرنے والے واقعات کا فکائی فکشن کے اثرات کا نتیجہ ہیں۔ جہاں بھی ماورائی ادارے اور انسانوں پر انسانوں کی حکومت قائم کرنے کے جنون میں مبتلا قوتیں، انسانوں پر ہر لمحہ نظر رکھنے والی ٹیکنالوجی اور انھیں اپنے تابع رکھنے کے اقدامات، موجود ہوں گے، وہاں کافکا کے فکشن کی تعبیر آسان اور عام فہم ہوتی جائے گی۔ انور سجاد کے خوشیوں کے باغ کو اس انداز سے پڑھنے کے بعد صاف دکھائی دیتا ہے کہ بیانیہ کا یہ انداز انہوں نے کافکا سے قبول کیا ہے۔

رشید امجد، بلراج کومل اور مظہر الاسلام کے ہاں بھی اس سے ملتی جلتی کیفیات موجود ہیں جن پر کافکا کی کہانی ”In the Penal Colony“ اور ان کے ناولوں ”مقدمہ“ اور ”قلعہ“ کے اثرات کو تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اُردو کے بہت سے فکشن نگاروں کے ہاں معمہ سازی (Enigmatism) ، ابہام (Obscure) وجودیت (Existentialism) ، مہملیت (Absurdity) اور ماورائے حقیقت (Surrealism) عناصر کافکا کے فکشن کے راستے اردو میں داخل ہوئے، جن کی نشان دہی سفیر حیدر نے اپنے تحقیقی مقالات میں کی ہے۔ اس کے علاوہ عاصم بٹ نے بھی ایک مضمون میں اس طرف توجہ دلائی ہے۔ اس طرز تحریر کے اثرات کو کوئی باریک بین محقق، اردو فکشن میں تلاش کرنے کا جتن کر کے، اس کی تصدیق یا تردید کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS