اکیسویں صدی، انٹرنیٹ اور گلگت بلتستان
پہیے کی ایجاد سے قبل کی انسانی زندگی کے برعکس مابعد میں ہر گئے روز کسی نئی انسانی ایجاد نے حیات کو آسان سے آسان تر بنایا ہے۔ شومئی تقدیرِ انٹرنیٹ جیسی جدید سہولت سے بہرہ ور ہونے کے لئے گلگت بلتستان کے رہنے والے ابھی بھی تگ و دو کر رہے ہیں۔
گزرے چار دن ہوئے ہیں، گھر آ کر ہی آن لائن LMS Based ٹیسٹ تھا، مجال ہے کہ انٹرنیٹ چلے اور ٹیسٹ کیا جا سکے۔ انٹرٹینمنٹ کے لئے استعمال تو دور کی بات ہے۔ یہاں پر کچھ جگہوں پر یہ سہولت ہے کہ گھر کی چھت پر چڑھ جاؤ تو سگنل بڑے فِٹ آتے ہیں ہنوز ہم تو اس آسائش سے بھی محروم ہیں۔
گھر کا کوئی فرد دور کسی شہر میں ہو اور عید کا پر مسرت تہوار ہو تو ویڈیو کال بھی نہیں کی جا سکتی ہے۔ انٹرنیٹ سے پڑھنے کے لئے، ویڈیو لیکچرز کے لئے، کوئی مووی انٹرٹینمنٹ کے لئے دیکھنی ہو رات بھر جاگ کر بھی سپنا پورا نہیں کیا جاسکتا۔
وٹس ایپ سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنا ہو یا کوئی نوٹیفکیشن دیکھنا ہو تو دن بھر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ عید کے روز ایک سٹیٹس چار مرتبہ اپ لوڈ کرنے کی تپسیا کی، وہ بس لوڈ ہی ہوتا رہا، اپ لوڈ نہ ہو سکا۔ وائس نوٹ صبح بھیجو تو ڈاک کی طرح شام تک منزلِ مقصود تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔
اب تو یہی لگنے لگا ہے کہ یہاں کے جغرافیائی عوامل (گگن چومتے پہاڑ، سرسبز وادیاں، نیلے پانیوں کی جھیلیں، جھرنے ) ہی اس بات کے ذمے دار ہیں جن کی اگر تشہیر ہو گئی تو باہر والوں کی نظرِ بد لگ جائے گی۔ کیونکہ یہاں پر ہر چیز کو تسلی بخش طریقے سے خراب کیا جاتا ہے۔
ایک اور وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ انٹرنیٹ کی وجہ سے نوجوانوں میں اخلاقی امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔ "جی بی” کے صاحبِ نظر لوگوں کو غریب کے بچوں کی اخلاقی تربیت کی فکر بہت ہے، مگر معاشی پستی کی فکر قدرت کے خانے میں ڈال دی ہے۔ فری لانسنگ اور دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی آمدنی کو اسی پہلو کی وجہ سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔
تمام جگہوں پر صورت حال یہی ہے اب ہر بندہ ’شیرازی ویلج ولاگ‘ کی طرح شہرت کما کر اپنے گھر میں وائی فائی، گاؤں میں صاف پانی اور سکول کی سہولت اور صحت کے لئے الخدمت فاؤنڈیشن کا کیمپ تو نہیں لگوا سکتا۔


