مکرمی مجیب الرحمن شامی صاحب کی خدمت میں ایک سوال


کچھ روز قبل سینئر صحافی مکرم مجیب الرحمن شامی صاحب کا ایک پروگرام ’دنیا نیوز‘ پر نشر ہوا۔ اس میں انہوں نے فرمایا

’ایک اقلیت تو ایسی ہے کہ ہم اس کا نام بھی نہیں لے سکتے۔ وہ اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں ہم انہیں قادیانی کہتے ہیں۔ ان کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے۔ آپ کو قربانی نہیں کرنے دیں گے۔ آپ کو نماز نہیں پڑھنے دیں گے۔ آپ بکرے جو ہیں ہم اٹھا کر لے جائیں گے۔ کیا تماشا ہے۔ ہم آپ کو کوئی عبادت گاہ نہیں بنانے دیں گے۔ او بھائی آپ بیٹھیں۔ کوئی خدا خوفی کریں۔ ان کے بھی حدود و قیود طے کر دیں۔ اس طرح نہ کریں کہ پاکستان کو ہندوستان بنا دیں۔ اور یہ جو قادیانی حضرات ہیں۔ ان سے بھی بیٹھیں۔ ان کی باتیں سنیں۔ ان کو آپ نے دستوری طور پر اقلیت قرار دیا ہے۔ ان کے اپنے حقوق ہیں۔ ان کا احترام کریں۔ اس لئے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم خوف کی چادر ہے اس کو اتار پھینکیں۔ اور جو بات حقیقت ہے اس کو بیان کریں۔ اور اس سے ڈریں نہ۔ نہ ہجوم سے ڈریں۔ نہ بے لگام مذہبی راہنماؤں سے ڈریں بلکہ قانون جو ہے اس میں طاقت ہونی چاہیے اسے ڈرا سکے اور ان کو زندگی کے آداب سکھا سکے۔

بڑی بڑی پارٹیوں کے راہنما دن رات دندناتے ہیں جلوس نکالتے ہیں کوئی حکومت کو للکارتا ہے کوئی اپوزیشن کو للکارتا ہے۔ اور بھائی یہ نفرت کے جو تاجر ہیں ان کی سرکوبی کرو۔ لوگوں کو مکالمہ کے ذریعہ سے بات چیت کے ذریعہ سے استدلال کے ذریعہ سے لوگوں کو اپنا ہم خیال بناؤ اپنے مخالفوں کے ساتھ مکالمہ کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے جو تبلیغ کا حق عطا کیا ہے وہ ادا کرو۔ اس طرح نہ کرو لوگوں کو زندہ جلا کر ان کی زندگی اجیرن بنا کر ان کی عبادت گاہوں کو ڈھا کر ۔ ان کے قبرستانوں پر حملہ کر کے ان کے دینی شعار کا مذاق اڑا کر ۔ ایسا نہ کریں۔ ”

اس کے ایک دو روز بعد میرے محترم شامی صاحب نے اسی پروگرام میں کہا کہ میرے اس پروگرام میں یہ کہنے کی وجہ سے ہمارے کئی دوستوں نے ہنگامہ کر دیا اور کہا کہ یہ تو قادیانیت کا تحفظ کیا جا رہا ہے اور بہت سے علماء اور دوستوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور سینکڑوں کالیں آئی ہوں گی۔ لیکن جو تحریک لبیک ہے سعد رضوی صاحب کو اس پر توجہ دینی چاہیے ان کے جو نوجوان تھے ان کی بد اخلاقی اور بد تمیزی پر مجھے بہت صدمہ ہوا۔ اور شامی صاحب نے کہا کہ ہم قادیانیت کے خلاف بڑے بڑے علماء اور اکابرین کے ساتھ تحریک میں شامل رہے۔ الیاس چنیوٹی صاحب کا مجھے خط آیا کہ آپ اس کی وضاحت کر دیں اس سے غلط فہمی پیدا ہو رہی ہے۔ میں نے کہا کہ اس میں وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم ان کو غیر مسلم سمجھتے ہیں۔ لیکن پاکستانی شہری کی حیثیت سے اور غیر مسلم کی حیثیت سے ان کے حقوق کی بات ہو رہی ہے۔ میں نے تو لاکھوں کی تعداد میں قادیانیت کے بارے میں اپنے رسالہ کا نمبر شائع کیا تھا۔ لیکن پاکستانیوں کے جو حقوق ہیں انسانی اس پر ہم بات کرتے رہیں گے۔ اور ہمارے علماء کا اور سپریم کورٹ کا فرض ہے کہ اس کی حدود متعین کر دیں۔ اس کے بعد انہوں نے علماء کا شکریہ ادا کیا۔

اس کے اگلے روز مجیب الرحمن شامی صاحب نے اسی پروگرام میں کہا کہ آج میری علماء کے ایک وفد سے ملاقات ہوئی الیاس چنیوٹی صاحب کی قیادت میں۔ کیونکہ جو قادیانیوں کی شکایات تھیں قربانی کے حوالے سے جس کا ہم نے تذکرہ بھی کیا۔ قادیانیت کے علیحدہ مذہب کے ہونے کے بارے میں کوئی بحث نہیں تھی۔ بحث یہ تھی کہ قادیانیوں کے اقلیت کے طور پر حقوق کیا ہیں اور ان کی مذہبی آزادی کی حدود کیا ہیں؟ ان علماء نے فرمایا کہ پہلی بات یہ ہے کہ قادیانی حضرات اپنا سٹیٹس تسلیم کریں اور اسلامی شعائر کا استعمال نہ کریں۔ اور قربانی نماز روزہ حج یہ الفاظ استعمال نہ کریں۔ اس کے بعد اپنی عبادت گاہیں بنائیں اپنے طریق پر ہمارے ساتھ خلط ملط نہ کریں۔ اس کے حق میں دلائل موجود ہیں۔ ایک دوسرا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ اپنی چاردیواری کے اندر اپنے طریق کے مطابق اپنی عبادت کر سکتے ہیں۔ لیکن ان علماء کا کہنا یہ ہے کہ نہیں۔ شعائر اسلام جو ہیں ان کا نام چار دیواری کے اندر استعمال نہیں کر سکتے۔ میرے خیال میں اسلامی نظریاتی کو اس پر غور کر لینا چاہیے لیکن اس کے پاس قوت نافذہ نہیں۔ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ آ جائے تو یہ طے ہو جائے کہ ان کی حدود و قیود کیا ہیں؟ تا کہ نہ ان کو پریشانی ہو نہ ہمارے مسلمان بھائیوں کو ہو۔ اگر اس پر اعتراض ہے ہمارے قادیانی دوستوں کو تو وہ عدالت میں جا سکتے ہیں۔ اور سپریم کورٹ فیصلہ کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت مفید گفتگو ہوئی اور علماء کا شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ سپریم کورٹ کو اس کی حدود و قیود طے کر دینی چاہئیں۔

چونکہ مکرم شامی صاحب نے ایک بہت عمدہ بات فرمائی ہے کہ خوف کی چادر اتار کر مکالمہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے بہت سے معاملات کا ذکر فرمایا ہے۔ ایک کالم کی حدود ہوتی ہیں اس لیے اس کالم میں صرف ایک پہلو کا ذکر کر کے اس مکالمہ کا آغاز کیا جائے گا۔ محترم شامی صاحب نے فرمایا ہے کہ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ ان کی حدود و قیود طے کریں۔ ادب سے عرض ہے کہ جن معاملات کا انہوں نے ذکر فرمایا ہے ان میں سے کم از کم ایک کو تو سپریم کورٹ حتمی طور پر طے کر چکی ہے لیکن جن علماء نے شامی صاحب سے ملاقات کی اب بھی اس کو متنازعہ مسئلہ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ پاکستان کی سپریم کورٹ یہ طے کر چکی ہے کہ احمدیوں کو اس بات کی مکمل آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی چاردیواری کے اندر اپنے عقائد کے مطابق اپنے مذہب کا اظہار اور اس کے مطابق عبادت کر سکتے ہیں۔ اس کیس کا حوالہ نوٹ فرما لیں یہ مقدمہ طاہر نقاش بامقابلہ سرکار تھا اور سپریم کورٹ نے 12 جنوری 2022 کو یہ فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلہ میں گزشتہ فیصلوں کا حوالہ دے کر لکھا ہے

Thus, neither Zaheeruddin nor Majibur Rehman imposes any prohibition or restriction on Ahmadis to profess and practice their religion in their place of worship according to their faith.

ترجمہ : چنانچہ نہ تو ظہیرالدین اور نہ ہی مجیب الرحمن کے مقدمہ کا فیصلہ احمدیوں پر کسی قسم کی ممانعت یا پابندی لگاتا ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ میں اپنے مذہب کا اظہار کریں یا اس پر عمل کریں۔

پھر اسی فیصلہ میں سپریم کورٹ نے ان الفاظ میں یہ مسئلہ طے کر دیا

To deprive a non-Muslim (minority) of our country from holding his religious beliefs, to obstruct him from professing and practicing his religion within the four walls of his place of worship is against the grain of our democratic Constitution and repugnant to the spirit and character of our Islamic Republic. It also deeply bruises and disfigures human dignity and the right to privacy of a non-Muslim minority, who like all other citizens of this country enjoy the same rights and protections under the Constitution. Bigoted behaviour towards our minorities paints the entire nation in poor colour, labelling us as intolerant, dogmatic and rigid. It is time to embrace our constitutional values and live up to our rich Islamic teachings and traditions of equality and tolerance.

ترجمہ : ہمارے ملک میں کسی غیر مسلم اقلیت کو اس بات سے محروم کرنا کہ وہ اپنے مذہب کے مطابق عقیدہ رکھے اور اس کو اس بات سے روکنا کہ وہ اپنی عبادت گاہ کی چاردیواری میں اپنے عقیدہ کا اظہار کرے اور اس پر عمل کرے ہمارے جمہوری آئین کی بنیاد کے خلاف ہے اور ہماری اسلامی جمہوریہ کی روح اور کردار اس طریق سے متنفر ہیں۔ اس سے انسانی وقار اور غیر مسلم اقلیت کی نجی زندگی کا تحفظ مجروح اور مسخ ہوتے ہیں۔ انہیں آئین کے مطابق دوسرے شہریوں کی طرح تمام حقوق اور تحفظ حاصل ہیں۔ اقلیتوں کے ساتھ اس متعصبانہ رویہ نے ہمارے ملک کا ایک غلط تاثر پیدا کر دیا ہے اور پوری قوم کو برداشت سے عاری، کٹر اور ایک سخت دل قوم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی آئینی اقدار کو اپنائیں اور مساوات اور برداشت کی عظیم اسلامی روایات کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کریں۔

اس مقدمہ میں یہی معاملہ زیر بحث تھا کہ احمدیوں کی عبادت گاہ کی طرز مسجد کی طرح تھی اور اس عمارت کے اندر کلمہ طیبہ اور بسم اللہ لکھی ہوئی تھی اور قرآن مجید کا نسخہ موجود تھا۔

میں بصد ادب مکرم مجیب الرحمن شامی صاحب اور دوسرے مہربانوں کی خدمت میں اس سوال کے ساتھ اس مکالمہ کا آغاز کرتا ہوں کہ کیا یہ واضح نہیں کہ سپریم کورٹ کم از کم اس بات کا فیصلہ کر چکی ہے کہ آپ احمدیوں کو جو بھی سمجھیں لیکن وہ اپنی چاردیواری کے اندر اپنے عقائد کا اظہار کرنے اور اس پر عمل کرنے کے معاملہ میں مکمل طور پر آزاد ہیں۔ اور جو شخص یا گروہ یا حکومتی ادارہ اس حق میں خلل انداز ہوتا ہے وہ اس فیصلہ کی خلاف ورزی کرتا ہے اور قابل مواخذہ ہے؟ شامی صاحب ایک بزرگ صحافی ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ مجھے اپنی شفقت کا امیدوار سمجھ کر جواب سے نوازیں گے۔ اگر یہ سوال سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں طے کر دیا جائے تو اس قسم کے آدھے مسائل ویسے ہی ختم ہو جائیں گے۔ اس بنیادی سوال کے بعد آئندہ تحریروں میں یہ عاجز دوسرے معاملات پر گزارشات پیش کرے گا۔ اس کالم میں کسی مذہبی بحث کو نہیں چھیڑا گیا اور نہ ہی دوسری آئین ترمیم پر کوئی بحث کی گئی ہے۔ بلکہ اس فیصلہ کی روشنی میں ایک سوال اٹھایا گیا ہے تا کہ اس مکالمہ کا صحت مندانہ آغاز ہو سکے۔

Facebook Comments HS

One thought on “مکرمی مجیب الرحمن شامی صاحب کی خدمت میں ایک سوال

  • 30/06/2024 at 2:38 شام
    Permalink

    Why instead of writer’s image, Mujib ur Rehman Shanmi picture is displayed as profile

Comments are closed.