کنبہ پروری کی روایت اور خونی رشتوں کی سفاکی


بزرگوں کی رعونت آمیز عدالت میں گہری خاموشی چھائی تھی، کسی میں ہمت نہ تھی کہ زبان کھول سکے، سبھی ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے، میں بَولا بَولا کر ایک ایک چہرے کو تک رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ یہ چہرے جنھیں میں نے خونِ جگر سے سینچا ہے، آج میرے حق میں گواہی دینے اور میری بے گناہی کو ثابت کرنے کے خلاف یکجا ہو کر کس طرح میری رُسوائی کا سامان کر رہے ہیں۔ خونی رشتے یا خون کرنے والے رشتے یا خون نچوڑنے والے رشتے یا خون کا ایک ایک قطرہ نکال لینے والے رشتے، یہ رشتے جنھیں خونی کہا جاتا ہے اور مثال دی جاتی ہے کہ ماس ناخن سے جُدا ہو سکتا ہے لیکن خون کے رشتے کسی صورت جُدا نہیں ہو سکتے۔

خونی رشتوں کی اہمیت و افادیت اور ان کے تقدس پر دُنیا بھر کے مذاہب اور معاشروں کے مبلغین نے سینکڑوں کتابیں لکھیں، ہزاروں صفحات میں پھیلی خونی رشتوں کے تقدس کی رُوداد سے یہی تاثر دیا گیا ہے کہ جو مرضی ہو جائے، زمین پھٹ جاٰئے یا آسمان ٹوٹ پڑے، یہ رشتے آپ کے ساتھ کھڑے رہیں گے، طوفان اور آندھی کے جھکڑوں میں بھی یہ آپ کو تنہا نہیں ہونے دیں گے۔ کتنی مزے کی بات ہے کہ یہی خونی رشتے آج میرے لیے ناسور بن گئے ہیں، ان رشتوں کو میں نے محبت اور چاؤ سے برس ہا برس پالا پوسا اور تراشا تھا، ان کی بنیادی ضرورتیں پوری کی تھیں، ان کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے خود کو مشکلات میں ڈال رکھا تھا۔ آج جب میری باری آئی تو یہ خونی رشتے باہم یکجا ہو کر میرے خلاف صف آرا ہو کر ہر قسم کی طعن و ملامت اور الزام و بہتان میرے سر منڈھنے کی سازش میں مصروف ہیں۔

میرا قصور کیا ہے؟ میرا قصور یہ ہے کہ مالی طور پر نا آسودہ والدین کی شریکے برادری میں ناک اُونچی کرنے کے لیے میں نے دن رات ایک کیا، گاؤں چھوڑ کر شہر آیا، فٹ پاتھ پر سویا، ہوٹل میں برتن مانجھے، گلی محلے کی اکیڈمیز میں معمولی معاوضہ پر بچوں کو پڑھایا، فیکٹریز میں معمولی ملازمتیں کی، جنرل سٹورز میں سامان ڈھویا، پڑھائی کرتا رہا، مرتا رہا لیکن اپنے اندر کے کُنبہ پروری کے احساس کو زندہ رکھا۔

رب تعالیٰ نے مدد کی اور چھپر پھاڑ کر میری بساط اور ضرورت سے زیادہ دُنیا کی دولت عطا کی جسے بہن بھائیوں کی فلاح و آسانی پر خرچ کر ڈالا، علم کی دولت نے مجھے دُنیا کی دولت اکٹھا کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آج میرے پاس علم کی دولت موجود ہے لیکن دُنیا کی دولت موجود نہ ہونے کے باوجود دُنیاوی دولت کے درست اور بر وقت استعمال پر اطمینان بخش تفاخر کا احساس مجھے اپنے کیے پر شرمندہ نہیں ہونے دیتا۔ علم کی دولت سے انسان کا شعور پختہ ہوتا ہے، اچھے بُرے کی تمیز آتی ہے، دُنیا داری کے تقاضوں کو نبھانے کا سلیقہ آتا ہے، معاشرہ، ریاست، قانون، مذہب، اقدار، سماجیات اور جملہ طرزِ حیات کی رنگینیوں اور طور طریقوں کو سمجھنے، پرکھنے کا موقع ملتا ہے۔

یہ علم کی دولت ہے جس نے میرے ظرف کو وسعت بخشی، دُنیا کی دولت کو خونی رشتوں پر دونوں ہاتھ سے لُٹانے پر بھی من میں کبھی یہ منحوس خیال نہ جھانک سکا کہ تم یہ کیا کر رہے ہو، کچھ اپنے لیے بچا رکھو۔ دُنیا کے جملہ مذاہب میں دُنیا کی زندگی کو آزمائش قرار دیا گیا ہے، یہ آزمائش دولت، شہرت، عزت، وقار، ناموس، تحفظِ احساس اور خانگی معاملات کے وسیع نظام کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ رب تعالیٰ کہتا ہے میں دُنیا کی نعمتیں دے کر اور لے کر اپنے بندے کو آزماتا ہوں کہ لمبی لمبی ہانکنے اور چھوڑنے والا یہ بندہ گناہ گار میری رضا کے لیے کہاں تک صبر، شکر اور راضی بر رضا رہتا ہے۔

انسان بے چارہ انسان ہے، کمزور، بزدل اور نادان بھی، پل بھر میں پھسل جاتا ہے، اپنے کیے پر پچھتاتا ہے، کم ظرفی، کمینگی، اور پست ذہنی پہ اُتر آتا ہے، یوں کہیے کہ ناشکرا ہوجاتا ہے۔ خونی رشتوں کی سفاکانہ حرکات دیکھ کر یوں لگتا ہے ایثار کے جس تصور کو قربانی سمجھ کر میں نے خونی رشتوں کی آبیاری کا عہد کیا تھا، وہ آج اپنے انجام کو پہنچ کر ناشکری کا نشان بن گیا ہے۔

آپ سمجھ رہے ہیں کہ رب تعالیٰ نے مجھے نعمتوں سے نوازا ہے تو مجھے پریشان ہو نے کی کیا ضرورت ہے، رشتے تو ایسے ہی ہوتے ہیں، سماج ظالم ہے، آج جو مجبور ہے کل مختار ہونے پر فرعون ہو جائے گا، والدین ظالم بھی ہیں اور مسیحا بھی ہیں، بہن بھائی آڑے وقت میں کام آتے ہیں اور مشکلات پیدا بھی کرتے ہیں، یہ سماج کا چلن ہے یہاں ہر شخص دوسرے کے لیے زحمت کی وجہ بنا ہوا ہے، کسی کو کسی سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

یہ دُنیا مطلبی ہے، یہ لوگ مطلبی ہیں، یہ سماج مطلبی ہے، گویا کارخانہ قدرت کا جملہ نظام مطلبی ہے، یہاں جینے کے لیے شیر کا کلیجہ، ہرن کی تیز رفتاری، گیدڑ کی مکاری، اونٹ کا کینہ، بکری کا نخرہ، کُتے کی وفاداری، کبوتر کی مصلحت گری اور کوئے کی بے جا کائیں کائیں کا متصفِ ذات ہونا بہت ضروری ہے۔ گویا آپ کے اندر متضاد عناصر و لوازم کا ایک جہان آباد ہونا چاہیے، کامیاب دُنیا دار بننے کے لیے آپ کو جھوٹا، منافق، دغا باز، کمینہ، شریر، مفاد پرست ہونا پڑے گا تبھی یہ دُنیا جینے دے گی۔

عجب ستم ہے جب آپ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی بات کرتے ہیں اور واویلا مچاتے ہیں کہ میں نے تمہارے لیے کیا کچھ نہیں کیا تو جواب میں کنبہ پروری کے داعی کو یہ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے تھوڑا کہا تھا کہ تم ہمارے لیے یہ سب کرو، تمہیں خود ہمارا ابَا بننے کا شوق چڑھا تھا، تم نے اپنی ناک اونچی کرنے اور شریکے برادری میں اپنی عزت کا سکہ منوانے اور ہیرو بننے کے لیے یہ سب کچھ کیا ہے، اس لیے ہم نے جو ملا اُسے کمال شوق سے وصول کیا، اب تم جانو اور تمہارے معاملات جانیں، ہم کچھ نہیں کر سکتے، آج تم جن حالات کا شکار ہو، اس دگرگوں کیفیت کے تم خود ذمہ دار ہو، بھیا! ہم تمہاری طرح پڑھے لکھے سمجھ دار ہیں اور نہ دُنیا داری کے طور طریقوں کو سمجھتے ہیں، ہمارے اپنے مسائل ہیں، ہمیں اپنی مصیبتوں سے چھٹکارا نہیں ملتا، ہم آپ کو کچھ نہیں دے سکتے اور نہ آپ کی کسی طرح کی مدد کر سکتے ہیں، ہمارا وراثت میں جو حصہ بنتا ہے وہ ہم لے کر رہیں گے اور کوئی ہمیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتا۔

ہزاروں برس سے ہندوستانی سماج کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ پانی پلانے والے کو پیاسا مارا جاتا ہے، سہارا دینے والے کو بے سہارا کیا جاتا ہے، راستہ دکھانے والے کو کھائی میں گِرایا جاتا ہے، روشنی دینے والے کو اندھا کیا جاتا ہے، منزل کی نشاندہی کرنے والے کو مقامِ مسکنت سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ ہندوستانی ذہن کی عجیب و غریب نفسیات ہے، اس ذہن کو بننے میں ہزاروں برس کی ریاضت صرف ہوئی ہے، اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ہزاروں برس کی مشقت سے تراشے ہوئے ذہن کو ایثار، قربانی، احساس، ہمدردی، ملنساری، آگہی، دردمندی، شفقت پروری، اپنائیت اور کنبہ پروری کے عناصر ِ تعمیری سے آشنا کیا جائے۔

مختصر یہ کہ سماج ظالم ہے، یہاں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ دوسروں کو راستہ دکھائیں، ان کی زندگی آسان کریں، ان کے مستقبل کو محفوظ کریں، ان کی خواہشوں کا احترام کریں، اپنی خوشیاں قربان کر کے ان کی ضرورتیں پوری کریں، اپنے حصے سے علیحدہ ہوجائیں، اپنا حق چھوڑ دیں، خود کو یکسر قربان کر دیں اور اپنا آپ تباہ کر لیں۔ آپ شوق سے یہ سب کر لیں اور بدلے میں آپ کو وہی کچھ ملے جو آپ اِن سے توقع کرتے ہیں تو یہ آپ کی بھول ہے۔ ایثار و وفاداری کا بدلہ رب تعالیٰ تو دے سکتا ہے لیکن یہ ظالم سماج آپ کو لعن طعن کی بوچھاڑ اور الزامات کی دستار کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا۔

مجھ ایسے ہزاروں کنبہ پروری کے شعور ِ احساس سے آراستہ افراد کو اس سماج نے زہر کا پیالہ پینے پر مجبور کیا ہے، حیرت کی بات ہے اس کے باوجود خود کو تباہ کر کے ملال نہ ہونے کا دعویٰ کرنے والے یہ چراغِ آخر شب آج بھی کنبہ پروری کی اس روایت کے امین ہیں، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ داعیانِ کنبہ پروری کے درخشندہ ستاروں کی روشنی کبھی ماند نہ پڑے گی، یہ ٹمٹاتے دیَے گو بجھ جائیں گے لیکن سحر ضرور کر جائیں گے۔

Facebook Comments HS