چین کی ترقی میں کمیونسٹ پارٹی کا تاریخی کردار


اگر ہم گزشتہ بیس برس کی عالمی سیاست کا جائزہ لیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ صرف ان ممالک نے ہی نمایاں ترقی کی ہے جنہوں نے معیشت کے میدان میں سخت محنت کی ہے۔ ان ممالک نے سب سے زیادہ توجہ انسانی وسائل کی ترقی پر دی اور ان کا سارا فوکس علم، سائنس اور ٹیکنالوجی پر رہا۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سیاست کا مرکز معاشی امور کی طرف مڑ گیا ہے جس میں اقتصادی روابط، تجارت، سرمایہ کاری، بین العلاقائی اور بین الا اقوامی تعاون شامل ہے۔

موجودہ دور میں صرف ایسی ریاستوں کو نمایاں اہمیت حاصل ہوئی ہے جن کی معیشت مستحکم، وسعت پذیر ہیں اور جن ممالک میں مضبوط، جمہوری سیاسی جماعت برسر اقتدار ہوں۔ چین نے جس تیز رفتاری سے دنیا کی معیشت اور سیاسی میدان میں اپنا لوہا منوایا ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ چین کی اس کامیابی کے پیچھے یقیناً اس کی لیڈر شپ، نظریہ اور کمیونسٹ پارٹی کی بے لوث خدمات شامل ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی 1949 ء سے چین کے اقتدار پر عوام کی حمایت اور جمہوری طریقے سے حکمران جماعت ہے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی نے جس طرح تاریخ کے اتار چڑھاؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو مضبوط کیا ہے، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ 1921 ء میں قائم ہونے والی چین کی کمیونسٹ پارٹی ایک سو تین سال کی ہو چکی ہے۔ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور سب سے اہم یہ ہے کہ دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ صرف چین میں رہتا ہے۔ ایک ارب 42 کروڑ انسانوں کو چین سماجی تحفظ کے ساتھ خوش حال زندگی کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔

چین نہ صرف عالمی طاقت بلکہ عالمی سیاست کا محور بن چکا ہے، جو دنیا کو نیا عالمی ضابطہ دینے کے لیے کوشاں ہے۔ اس کا کریڈٹ یقیناً چین کی کمیونسٹ پارٹی کو جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سی پی سی کی رکنیت میں 2021 سے تقریباً 1.4 فیصد اضافہ ہوا، جو 2022 کے آخر میں 98.04 ملین تک پہنچ گئی ہے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی اثر و رسوخ، اس کی کشش اور جاذبیت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس نے اس جماعت کو عالمی سیاست کی صف اول میں پہنچا دیا ہے۔ اس پارٹی نے گزشتہ ایک صدی کے دوران مختلف جنگوں، قحط کے ادوار اور بحرانی سماجی حالات والے سالوں میں چین کی قیادت کی۔

عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد سے، سی پی سی دنیا کے سب سے بڑے سوشلسٹ ملک پر سات دہائیوں سے زائد عرصے سے حکومت کر رہی ہے، جس نے چین کو ایک غریب اور پسماندہ ملک سے بدل کر ایک اعلیٰ آمدنی والے ملک میں تبدیل کر دیا ہے۔ سی پی سی کے بے مثال کارنامے تاریخ میں چمکتے دمکتے رہیں گے۔ 2012 میں 18 ویں سی پی سی نیشنل کانگریس کے بعد سے، پارٹی نے 1.4 بلین آبادی والے ملک میں مکمل غربت کے معجزانہ خاتمے کا منصوبہ بنایا، جو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

چین نے سی پی سی کی قیادت میں ہر لحاظ سے ایک معتدل خوشحال معاشرے کی تعمیر کے اپنے ہدف کو حاصل کیا ہے۔ اسی وقت، چین بین الاقوامی معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کرتے ہوئے عالمی سطح کے مرکز کے قریب پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ بیس برسوں کے دوران ملک کے دیہی اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں رہنے والے کئی ملین غریب اور فاقہ زدہ چینی شہریوں کو انتہائی غربت سے نکالا جا چکا ہے۔ یہ ایک ایسا تاریخی کارنامہ جس پر دنیا بھی حیران ہے۔

چین کی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت میں، چین دنیا کا سب سے بڑا مینوفیکچرر، دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ اور دوسرا بڑا درآمد کنندہ ملک بن چکا ہے۔ چین کی سالانہ اور تین سالہ شرح نمو 9.9 فیصد رہی ہے۔ غربت کی شرح 90 فیصد سے کم ہوئی ہے۔ 80 کروڑ لوگوں کو غربت کی سطح سے اٹھا کر ان کے معیار زندگی کو بلند کیا گیا۔ دنیا کے 10 بڑے بینکوں میں دو کا شمار چینی بینکوں میں ہوتا ہے۔ دنیا کی پانچ سو بڑی کمپنیوں میں سے 61 کا تعلق چین سے ہے۔

چین کا ہائی وے نیٹ ورک دنیا کا دوسرا بڑا نیٹ ورک ہے۔ چین ہر سال اپنے لوگوں کے لیے 90 لاکھ ملازمتیں تیار کرتا ہے۔ 2010 ء تک امریکہ دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ تھا جبکہ 2011 ء سے چین نے امریکہ کی جگہ لے لی ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہوا ہے کہ چین میں ایک ایسی جماعت برسراقتدار ہے جو اپنے تنظیمی ڈھانچے کی وجہ سے اپنے عوام اور ملک کی ترقی اور بہتری کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتی ہے۔

کامیاب معاشی پالیسیوں کی بدولت اس وقت چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن چکا ہے یہی وجہ ہے کہ چین کے عالمی کردار میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ چین نے ہمیشہ عالمی امن کے تحفظ، دنیا میں مشترکہ ترقی کے فروغ اور بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر میں ایک بڑے اور ذمہ دار ترقی پذیر ملک کے طور پر اپنا اہم کردار ادا کیا ہے اور کر رہا ہے۔ سی پی سی کی خارجہ پالیسی اور چینی صدر شی جن پنگ کی قیادت میں تیسرا بیلٹ اینڈ روڈ فورم کامیابی سے منعقد ہوا، جس نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کو اعلیٰ معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل کیا، برکس میکانزم نے تاریخی توسیع حاصل کی اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان یکجہتی اور تعاون کی نئی قوتوں کو اکٹھا کیا۔

چین میں وسطی ایشیا سربراہ اجلاس کامیابی سے منعقد ہوا، جس سے اچھی علاقائی ہمسائیگی، دوستی اور تعاون کے لئے ایک نیا پلیٹ فارم میسر آیا۔ اس کے علاوہ چین نے روس۔ یوکرین تنازعہ، فلسطین۔ اسرائیل اور سعودی عرب۔ ایران تنازعے کے نئے دور کے حوالے سے مختلف مواقعوں پر امن مذاکرات کو فروغ دینے، جنگ بندی اور دشمنی کو ختم کرنے اور بحران کے سیاسی تصفیے کے فروغ کے اپنے موقف کا اظہار کیا۔ افغانستان کے مسئلے پر چین نے صورتحال کو مستحکم کرنے اور پرامن تعمیر نو کے لیے قابل عمل طریقے پیش کیے۔ شمالی میانمار میں تنازعے کی مصالحت اور جزیرہ نما کوریا کے جوہری مسئلے کے حل کے لیے اپنی بھر پور کوشش کی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ چین عالمی امن و سکون کے لیے ایک ناگزیر اور تعمیری قوت بن چکا ہے۔ چین دنیا میں استحکام اور امن پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ چین نے اپنی سفارت کاری کے ذریعے عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنے اور عالمی گورننس کو فروغ دینے میں بھی کردار ادا کیا ہے۔

Facebook Comments HS