"تضادات”: چند تاثرات


ملک کے بائیں بازو کے حلقوں میں رشید مصباح سے کون واقف نہیں۔ ان کا تعلق تو لائلپور سے تھا، اور انھوں نے انقلابی سیاست کا آغاز بھی لائلپور ہی سے کیا اور پھر لاہور کے ہو کر رہ گئے۔ ان کی شخصیت کی کئی جہات ہیں، وہ سیاست دان بھی تھے، افسانہ نگار بھی تھے، ترقی پسند تجزیہ نگار بھی تھے اور اس کے علاوہ مدرس اور منتظم بھی تھے۔ نیشنل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے لے کر پاکستان انقلابی پارٹی تک ان کی جدوجہد کا طویل سفر ہے جو ان کی اکہتر سالہ زندگی پر محیط ہے جس میں وہ ایک پل بھی چین سے نہیں بیٹھے اور بائیں بازو کی سیاست کے پودے کی مسلسل آبیاری کرتے رہے۔ ان کے اب تک تین افسانوی مجموعے ”سوچ کی داشتہ“ ۔ ”گمشدہ آدمی“ اور ”آکاس بیل“ شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا ناول ”چندن بائی“ بھی رسالہ ”سائبان“ میں چھپتا رہا لیکن مکمل نہ ہو پایا۔ ان کے ادبی، سیاسی اور سماجی مضامین کا مجموعہ ”تضادات“ 2022 ء میں عکس پبلی کیشنز، لاہور سے شائع ہوا ہے۔

مذکورہ مجموعے میں وہ مضامین شامل ہیں جو ستر، اسی اور نوے کی دہائی میں تحریر کیے گئے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مضامین مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہو کر قارئین سے پذیرائی حاصل کر چکے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے مضامین بھی ہیں جو کتب کے دیباچے کے طور پر شائع ہوئے اور اب دوبارہ ”تضادات“ کا حصہ بنے ہیں۔ کچھ مضامین ایسے ہیں جو ادبی نشستوں اور کتب کی پذیرائی کی تقریبات میں پڑھے گئے ہیں جن کا مقصد کتابوں کا محاکمہ تھا۔

مثلاً ”خانہ بدوش“ ایک ہمہ پہلو سفر نامہ، نصر ملک کی کہانیاں اور ہجرت کا عذاب، ”قصبہ کہانی“ :بیمار معاشرے کی کہانی، بے چہرہ خوابوں کا مجموعہ ”خواب جزیرہ دل“ اور مبشر میر کا ”انڈیا گیٹ“ ایک عمدہ سفر نامہ وغیرہ قابلِ غور ہیں۔ کچھ مضامین ادبی شخصیات کے تعارف کے طور پر تحریر کیے گئے ہیں مثلاً ریاض مجید:میرا دوست میرا دشمن، ساحر لدھیانوی :فن اور شخصیت، فرحت عباس شاہ: نئی نسل کا نوحہ خواں اور سلیم آغا :افسانے کی تلاش میں وغیرہ، اس حوالے سے اہم ہیں۔

ان تمام مضامین میں مشترک عنصر ترقی پسند نقطۂ نظر ہے جس کے رشید مصباح تمام عمر وفادار رہے۔ انھیں اس بات پر یقین تھا کہ پاکستانی معاشرہ قدامت اور ترقی کے تضاد نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس سے چھٹکارا حاصل کیے بغیر سماج کو ترقی کے راستے پر گامزن نہیں کیا جا سکتا۔ وقت کے اس مرحلے پر ترقی کی دعویدار قوتیں پسپائی کے عمل سے گزر رہی ہیں اس لئے تلوار کی نسبت قلم سے جہاد کی ضرورت ہے تاکہ عوام الناس کی ذہنی بالیدگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان کے مذکورہ مجموعے میں اس حوالے سے کئی اہم مضامین موجود ہیں جن میں ”گلوبلائزیشن، ترقی پسند ادب اور پاکستان“ اہمیت کا حامل ہے جس میں انھوں نے گلوبلائزیشن کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ یہ مضمون ہر اس قاری کو پڑھنا چاہیے جو ثقافتی مطالعات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس میں گلوبلائزیشن کا پس منظر، اس کے اثرات اور پاکستان کے لئے اس میں مضمر خطرات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ سامراجی ممالک گلوبلائزیشن کی ترویج کے کون کون سے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں اس حوالے سے ان کے مضمون کا ایک اقتباس دیکھیے :

”سرمایہ دارانہ گلوبلائزیشن کو سامراجی ممالک نظری سطح پر تین ہتھیاروں کے ذریعے مضبوط سے مضبوط تر کر رہے ہیں۔ یہ تین ہتھیار نظریاتی گلوبلائزیشن یعنی سرمایہ دارانہ طرزِ فکر کے نظریات کو تعلیم، میڈیا اور Entertainmentکے ذریعے دنیا بھر میں اپنے مفادات کو مضبوط کرنے کے لئے نظریاتی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔ دوسرا ہتھیار ٹیکنیکل گلوبلائزیشن ہے۔ اس ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے سامراجی ممالک کے سرمایہ دار ہر روز بظاہر ایسی نئی ٹیکنالوجی تشکیل دے رہے ہیں جس سے فرد کی نجی زندگی میں آساٰئشوں کا اضافہ ہو رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ اضافہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سرمائے میں اضافے کا باعث بن رہا ہے اور کمزور معیشتیں رکھنے والے ممالک کو اپنے شکنجے میں پوری طرح کسنے کا باعث بن رہا ہے۔ سر مایہ دار دنیا کا گلوبلائزیشن کے لئے تیسرا ہتھیار سماجی گلوبلائزیشن ہے جس کا مقصد ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک کے تہذیب و تمدن کو نیست و نابود کر کے ایسے تہذیب و تمدن کو تشکیل دینا ہے جو ان کے سرمائے میں بڑھوتری میں معاون ثابت ہو۔“ (ص: 15 )

سرمایہ دارانہ گلوبلائزیشن کے اس عہد میں جس طرح سے پاکستان کی معیشت، ثقافت اور سماج، سامراج کے قبضے میں ہے، قدامت پسندی، مذہبی شدت پسندی اور دائیں بازو کی فکر کا زور دن بدن بڑھتا جا رہا ہے اور ملک میں غیر علانیہ خانہ جنگی کی کیفیت موجود ہے، اس پر انھوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے اور ترقی پسند سوچ کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوششوں پر زور دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2007 ء میں رشید مصباح نے ملتان میں ترقی پسند مصنفین کے احیا کی کوشش بھی کی تھی جو اس طرح سے ثمر آور نہیں ہو پائی جس کا خواب انھوں نے دیکھا تھا۔

”ترقی پسند ادب کے سماجی اثرات“ بھی محنت اور لگن سے قلم بند کیا گیا مضمون ہے جس میں انھوں نے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں ہر انقلابی تحریک سے پہلے ادیب انقلاب کی فکری فضا قائم کرتے ہیں۔ انقلابِ فرانس سے پہلے والٹیر، روسو اور دیدرو جیسے مفکرین کے خیالات نے انقلابی فضا پیدا کر دی تھی۔ اسی طرح انقلابِ روس سے پہلے میکسم گورکی، ٹالسٹائی اور چیخوف کی تحریروں سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔

انقلابِ چین میں لوسون کی تحریروں نے عوام کو شعور بخشا اور ماؤزے تنگ تو خود شاعر تھا جس نے نظموں، سٹیج ڈراموں اور تھیٹر کے فن کو انقلاب کی تیاری میں استعمال کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اس مضمون میں ہندوستان کی ترقی پسند تحریک کی ابتدا اور ارتقا پر دانشورانہ نظر ڈالی ہے اور ثابت کیا ہے کہ ادب سماجی زندگی پر گہرے اثرات مرقسم کرتا ہے۔

”جنگِ آزادی 1857 ء کے ادب پر اثرات“ ایک اور اہم مضمون ہے جو اس کتاب کا حصہ ہے۔ اردو ادب کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لئے انتہائی اہم مضمون ہے جس میں انھوں نے ادب میں عہد بہ عہد ہونے والے تغیرات کا ذکر کیا ہے اور ہندوستان کی تاریخ کے اس اہم واقعے کے ادب پر اثرات کا کھوج لگایا ہے۔ ان کے علاوہ بھی کئی پر مغز اور دانش سے لبریز مضامین اس کتاب میں شامل ہیں جن پر فرداً فرداً بات کی جائے تو طوالت کا خدشہ ہے۔

رشید مصباح کے مضامین پر مشتمل یہ کتاب ان کے فن، نظریے اور شخصیت کو سمجھنے کے لئے بڑی اہم ہے جسے عامر فراز، عبدالوحید اور خالد فتح محمد نے عکس پبلی کیشنز لاہور سے شائع کر نے کا اہتمام کیا ہے۔ اس کے بامعنی اور جمالیاتی انداز کے سرورق پر ریاظ احمد صاحب کو داد بنتی ہے جن کی عرق ریزی اور جانفشانی اس سے واضح طور پر جھلک رہی ہے۔ انھوں نے، رشید مصباح کی محبتوں کا قرض اتارنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ان کے بقیہ کام کو بھی اگر منظرِ عام پر لایا جائے تو علم و ادب سے محبت رکھنے والوں پر احسان ہو گا۔

 

Facebook Comments HS