اکادمی ادبیات پاکستان کے کمال فن ایوارڈ کی روئیداد


اکادمی ادبیات پاکستان کے زیراہتمام ایک سہ روزہ قومی تقریب تقسیم اعزازات کا گیارہ تا چودہ جون اسلام آباد ہوٹل میلوڈی میں انعقاد ہوا۔ یہ تقریب پہلے ہر سال منعقد ہوا کرتی تھی لیکن بوجوہ سال 2017 سے تعطل کا شکار تھی۔ سات سال کے تعطل کے بعد چند ماہ قبل تعینات ہونے والی اکادمی ادبیات کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف کی کاوشوں اور خصوصی دلچسپی سے اس اہم قومی تقریب کا سلسلہ بحال کیا گیا جس کے لئے نہ صرف وہ بلکہ ادارے کے ڈی جی سلطان محمد ناصر اور دیگر تمام ملازمین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ علمی اور ادبی محفلوں کے لئے اب اس ملک میں ویسے ہی بہت کم سنجیدہ کاوشیں کی جاتی ہیں کیونکہ حاکم طبقات کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی ادب سے ناتا کمزور ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے معاشرے میں سماجی برائیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس قومی تقریب کے متعلق معلوم ہوا کہ اس کے انعقاد میں چیئرمین وزیر اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود نے بہت کوششیں کیں اور فنڈز کا اجرا کرانے میں اپنا کردار ادا کیا جو قابل ستائش ہے۔ تقریب میں پاکستان بھر سے آئے ہوئے لکھاریوں، ادیبوں اور دانشوروں نے شرکت کی جن میں شاعر، محقق اور نقاد پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی، ناظم اعلیٰ بزمِ اقبال لاہور اور سابق ناظم اعلیٰ مجلس ترقی ادب، لاہور، معروف فکشن نگار، ادیب، اور دانش ور جناب حفیظ خان، سابق سیکرٹری برائے قانون و پارلیمانی امور پنجاب اور سابق ڈائریکٹر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی سمیت سینکڑوں اہل قلم بھی شامل تھے۔

پچھلے سال وفات پانے والی عظیم علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر توصیف تبسم کی گراں قدر خدمات کے پیش نظر ان کا ایوارڈ ان کے صاحبزادے کو دیا گیا۔ مجموعی طور پر اس موقع پر ملک بھر سے 134 ادیبوں کو ان کی ادبی خدمات پر کمال فن ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ یہ تقریب ایک طرح سے قومی یکجہتی اور اور ہم آہنگی کی عکاس تھی کیونکہ اس میں ایک ہی چھت کے نیچے ملک بھر کے ہر علاقے سے اعزاز یافتگان جمع تھے۔ بجا طور پر اس طرح کی تقریبات پاکستان کے نوجوانوں کو مثبت اور تعمیری ادبی سرگرمیوں میں مشغول ہونے کے مواقع میسر کرتی ہیں۔

ادارے کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف جو انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی ڈین بھی رہ چکی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ علمی شخصیت اور محقق بھی ہیں کے بقول اکادمی ادبیات پاکستان ایک وفاقی ادارہ ہے جس کے قیام کا بنیادی مقصد پاکستان کی تمام زبانوں اور ان کے ادب کا فروغ، ادیبوں کی فلاح و بہبود اور حکومت پاکستان کو زبان و ادب سے متعلق مشاورت فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ ادب اور ادیب کے لیے وقف ہے اور کسی قسم کی تفریق یا تعصب کا قائل نہیں۔ اس کی کارکردگی کا دائرہ بہت وسیع ہے اور اس کے تحت، کسی بھی طبقاتی، صوبائی، علاقائی، لسانی، فکری یا سیاسی امتیاز کے بغیر، مختلف النوع سرگرمیاں سارا سال اور ہفتے کے تمام دنوں میں جاری رہتی ہیں۔

اکادمی ہر سال، اردو، انگریزی اور چاروں صوبوں کی زبانوں میں 9 رسائل و جرائد شائع کرتی ہے۔ حال ہی میں ادبیات اردو اور ادبیاتِ اطفال کے نسل نو نمبر شائع کیے گئے جن میں چالیس برس سے کم عمر ادیبوں کی تحریریں شامل تھیں۔ اس کے علاوہ اکادمی کی مطبوعات میں پاکستانی اور بین الاقوامی زبانوں سے دوطرفہ تراجم، تحقیق و تنقید، پاکستانی ادب کے انتخابات، پاکستانی زبانوں کے ادب کی تواریخ اور دیگر اہم موضوعات پر کتب شامل ہیں۔

مطبوعات کے علاوہ دوسرا اہم کام جو سال بھر جاری رہتا ہے، ادبی تقریبات کا انعقاد ہے۔ اکادمی نہ صرف خود قومی اور بین الاقوامی کانفرنسیں، سیمینار، مشاعرے اور ادبی پروگرام منعقد کرتی ہے بلکہ دیگر ادبی تنظیموں کو بھی سہولیات فراہم کرتی ہے تاکہ وہ اکادمی کے اشتراک سے اپنی ادبی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ اکادمی پاکستان کا ایک اور اہم کام یہ ہے کہ اکادمی تمام صوبوں کے ادبی اداروں کو مالی امداد فراہم کرتی ہے اور مستحق ادیبوں کو ماہانہ وظائف بھی دیتی ہے اور بیماری یا اچانک ابتلا کی صورت میں یکمشت مالی مدد بھی کرتی ہے ؛ جس کے لیے بورڈ آف گورنرز کی منظوری سے صوبائی کمیٹیاں بنائی جاتی ہیں اور کمیٹیوں کی سفارش پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ ان سب کاموں کے ساتھ ساتھ ایک اور اہم کام ادیبوں کو ادبی خدمات کے اعتراف میں اعزازات سے نوازنا بھی ہے۔

اس مقصد کے لیے ہر سال دس لاکھ روپے کی مالیت پر مبنی کمالِ فن ایوارڈ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ کمالِ فن ایوارڈ کے ساتھ دس لاکھ روپے کا نقد انعام بھی دیا جاتا ہے اور یہ کسی ادیب کو اس کی غیر معمولی تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار اور عمر بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔ اس تمام عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ایوارڈ کا فیصلہ کرنے کے لیے ملک کے تمام صوبوں اور زبانوں کے معتبر ادیبوں اور دانش وروں پر مشتمل ایک کمیٹی نامزد کی جاتی ہے جو ایک اجلاس میں اس ایوارڈ کا فیصلہ باہمی مشاورت سے جمہوری طریقے پر کرتی ہے۔ اس اجلاس میں چئیر پرسن سمیت اکادمی کا کوئی فرد شامل نہیں ہوتا۔ اجلاس کے بعد منتخب ادیب کا نام ایک بند لفافے میں پریس کے سامنے اکادمی کے صدر نشین کو دیا جاتا ہے اور وہیں اس ایوارڈ کا اعلان ہوتا ہے۔

اکادمی ادبیات بغیر کسی تفریق کے پاکستان کی تمام زبانوں کے فروغ کے لیے کوشاں رہتی ہے۔ یقینی طور پر اسی خلوص اور جذبے کے ساتھ اس کامیاب تقریب کے انعقاد کا پروگرام بنایا گیا۔ جس میں 2016 سے لے کر 2022 تک کے سات برس کے دوران میں دیے گئے ایوارڈز کی اسناد اور نشان حق داران کو پیش کیے گئے۔ اس تقریب کے پہلے اجلاس میں کمال فن ایوارڈ دیے گئے تھے جبکہ دوسرے اجلاس میں سندھی، پنجابی اور سرائیکی زبان کے ادیبوں کو اعزازات دیے گئے۔

یہ ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے تربت اور سکھر سے لے کر مانسہرہ اور چونیاں تک ہر علاقے سے اہلِ قلم تشریف لائے۔ تقریب میں جڑواں شہروں کے سینکڑوں شہریوں سمیت مختلف یونیورسٹیز کے طلبا و طالبات نے بھی شرکت کی جبکہ شمعون ہاشمی نے عمدہ طریقے سے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد ہوٹل کی انتظامیہ نے اس تقریب کے انعقاد کے لیے اپنا ہال بلا معاوضہ فراہم کیا جو کارپوریٹ سیکٹر کی طرف سے ادبی کاوشوں کو فروغ دینے کے لئے فراخدلی کا ثبوت ہے۔

ادب انسان کی شخصیت میں صبر، ٹھہراؤ اور معاملہ فہمی کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی پولرائزیشن کی ایک بڑی وجہ ادب سے دوری بھی ہے۔ بہت اچھا وقت ہوا کرتا تھا جب گھر بناتے وقت ہمارے بزرگ لائبریری کے لئے جگہ یا کمرہ مختص کیا کرتے تھے اور ہمارے بچے اپنی پاکٹ منی سے کتابیں خریدا کرتے تھے۔ جب سے ہمارے گھروں میں ادب رخصت ہوا تمیز اور بنیادی اخلاقیات بھی رخصت ہو رہی ہیں۔ ایسے میں اکادمی ادبیات جیسے ادارے ہم جیسے ترقی پذیر معاشرے کے لئے غنیمت ہیں جو اپنی کسی نہ کسی ادبی و علمی کاوش سے جوہڑ میں ارتعاش پیدا کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو کتاب دوست بنانا ہو گا اور سرمایہ دارانہ نظام کے گھڑے اور مسلط کیے ہوئے جعلی ہیروز کی جگہ سماجی، علمی اور ادبی خدمات دینے والوں کو ان کا رول ماڈل بنانے کے لئے محنت کرنا ہو گی۔

 

Facebook Comments HS