پاکستان کا قیمتی اثاثہ: مستقبل کے معمار یا منشیات کے شکار؟
اکثر کہا جاتا ہے کہ ’نوجوان‘ پاکستان کا سب سے بڑا اور قیمتی اثاثہ ہے، جس کی آبادی 66 فیصد ہے۔ اور اسے ملک کا روشن مستقبل سمجھا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہی روشن مستقبل موجودہ دور میں سب سے زیادہ تاریکی میں ہے۔ اگر حالات یہی رہے تو باقی اثاثوں کی طرح یہ اثاثہ بھی بہت جلد ملک سے ناپید ہو جائے گا۔ حالیہ چند سالوں میں جس طرح سے ذہین اور قابل نوجوانوں کا ایک سیلاب بیرون ملک جا رہا ہے، اس سے برین ڈرین کا عفریت دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف، جو نوجوان پاکستان میں رہ گئے ہیں، وہ منشیات کے نشے کی لت میں مبتلا ہو کر اپنی زندگیاں برباد کر رہے ہیں۔ منشیات نے پاکستان کے نوجوانوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے، اور ان کی صلاحیتوں کو بیکار بنا دیا ہے۔ جو بہتر مستقبل کی تلاش میں بیرون ملک کا رخ کرتے ہیں، وہ تو کسی نہ کسی طرح اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہیں۔ مگر زیادہ سنگین مسئلہ ان بد قسمت نوجوانوں کا ہے جو یہاں رہ کر معاشرتی تلخیوں کا سامنا نہیں کر پاتے اور منشیات کی لت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور پھر ایک دن ان کی لاشیں فٹ پاتھوں، پارکوں اور سڑکوں سے ملتی ہیں۔
منشیات کا مسئلہ دہشت گردی کے مسئلے سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ مشہور امریکی جریدے ”فارن پالیسی“ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ڈھائی لاکھ افراد منشیات کے استعمال کے نتیجے میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اس لعنت کے برے نتائج کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں پچھلے دس سال میں دہشتگردی کے نتیجے میں 60 ہزار سے زائد افراد نے اپنی جانیں قربان کیں، لیکن اس سے چار گنا زیادہ تعداد میں ہر سال پاکستان میں منشیات کی وجہ سے ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ ایک اور ریسرچ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ 700 افراد نشے کا شکار ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اس تعداد کو کنٹرول کرنے کی بجائے اس میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ لاپروائی اور بے حسی ہمارے معاشرتی اور حکومتی نظام کی کمزوریوں کی عکاسی کرتی ہے، جو آنے والی نسلوں کے لئے ایک المناک تصویر پیش کرتی ہے۔
وجوہات کی اگر بات کی جائے تو بے چینی اور غیر محفوظ مستقبل کی فکر اور بیزاری کو بنیاد سمجھا جا سکتا ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کی عمر میں نوجوانوں کی ساری دلچسپی غیر تعلیمی اور منفی سرگرمیوں میں ہوتی ہے، اور جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، گھر اور معاشرتی دباؤ انھیں ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور تناؤ کی کیفیت میں دھکیل دیتا ہے۔ نہ والدین، نہ معاشرہ، اور نہ ہی حکومت ان کے لئے بروقت کوئی اقدامات کرتی نظر آتی ہے۔ ایسے حالات میں، نوجوان مختلف قسم کے نشے میں پناہ لینا ہی غنیمت سمجھتے ہیں۔ ان کے لئے نشے کا استعمال ایک مفروری کا راستہ بن جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا مستقبل اور بھی تاریک ہو جاتا ہے۔
قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی، گلگت بلتستان کے وائس چانسلر پروفیسر سید عطا اللہ شاہ اپنے یونیورسٹی خطاب میں کہتے ہے کہ، کچھ عام وجوہات میں سماجی اور معاشی دباؤ، تعلیمی دباؤ، والدین کی توقعات، مناسب مشاورت کی کمی، اور تعلیمی اداروں میں منشیات تک آسان رسائی شامل ہیں۔
زیادہ تر کیسز کے مطابق، نوجوانوں میں نشے کا آغاز ایڈونچر، کچھ مختلف کرنے اور دوستوں کے دباؤ اور ذہنی الجھنوں سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ آپ اسے بے شک نشے کی لت، تفریح، لمحاتی لذت کے لیے، یا صرف کسی خاص سماجی حلقے میں قابل قبول ہونے کے لیے شروع کریں، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ اس کا انجام فرد کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کو بھی تباہ کر دیتا ہے۔ اسی لئے تو کہتے ہیں کہ نشہ نسلوں کو کھا جاتا ہے۔
کچرے میں کاغذ چنتا آدمی ہو یا مہنگے ترین تعلیمی ادارے میں پڑھتا نوجوان، دونوں ہی نشے کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں، بس معیار کا فرق ہے۔ امیر طبقہ اور اشرافیہ آئس کرسٹل، حشیش، ہیروئن اور دیگر ممنوعہ ادویات کا استعمال کرتے ہیں جبکہ مڈل کلاس کے لوگ فارماسیوٹیکل ڈرگز، شراب، چرس، پان، گٹکا، نسوار اور سگریٹ جیسے زہروں سے اپنے آپ کو برباد کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ منشیات کو استعمال کرنے والے نوجوان زیادہ تر پڑھے لکھے طبقے سے ہیں، جو کہ ملک کا حقیقی اثاثہ ہیں۔
جن اداروں میں کبھی مستقبل کے معمار تیار ہوتے تھے، جہاں سے ملک کے روشن مستقبل کی کرنیں پھوٹتی تھیں، وہاں اب منشیات کے آسیب نے اپنے پنجے گاڑ لیے ہیں۔ ان اداروں کے وہی نوجوان، جو کبھی اپنے اور ملک کے بہتر مستقبل کی جستجو کے لیے سرگرم ہوا کرتے تھے، اب نشے کی لعنت میں مبتلا ہو کر اپنی زندگیوں میں زہر انڈیل رہے ہیں۔ پڑھے لکھے نوجوانوں کے تیزی کے ساتھ نشہ آور اشیاء کی طرف مائل ہونے کے اس بدترین رجحان نے نہ صرف ان کی صحت کو برباد کر دیا ہے بلکہ ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔ ریسرچ اور سروے کے دل دہلا دینے والے نتائج یہ انکشاف کرتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں منشیات استعمال کرنے والے طلبہ و طالبات کی شرح 43 سے 53 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اور انتہائی تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان میں نوجوان لڑکیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد شامل ہیں۔
ذرا غور کریں کہ تعلیمی ادارے کے اندر منشیات کا لانا، خود استعمال کرنا، اور دوستوں کو اس میں شامل کرنا، اگر کوئی مخالفت کرے تو اسے سرعام تشدد کا نشانہ بنانا، اور باقی طلباء کا خاموش تماشائی بن کر اس ظلم سے لطف اندوز ہونا، جبکہ تعلیمی ادارے کی انتظامیہ کا ان سب واقعات سے بے خبر ہونا بھی اپنے آپ میں ایک عجوبہ ہے۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کے ساتھ اس قسم کے پر تشدد واقعات، جہاں طلبہ کو زبردستی معاشرتی برائیوں میں ملوث کیا جاتا ہو اور سکول کی انتظامیہ ایسے حساس معاملات میں غفلت کی مرتکب ہو، ملک میں تعلیمی اور اخلاقی زوال کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایسے المناک واقعات کے ذمہ دار، تعلیمی ادارے اور بچوں کے والدین مشترکہ طور پر ہیں۔ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں، ان کی مصروفیات، دوستوں کا حلقہ، اور دیگر مقامات، جیسے کوچنگ سینٹرز، کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیں۔ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ والدین نے اپنی ذمہ داریاں پس پشت ڈال رکھی ہیں۔ والدین، جنہیں اپنے بچوں کی تربیت کرنی چاہیے اور ان پر اختیار رکھنا چاہیے کہ انہیں نظم و ضبط سکھا سکیں اور انہیں ذمہ داریوں کا احساس دلا سکیں، الٹا اپنی اولاد کو غیر ضروری آرام اور سہولتیں فراہم کر کے انہیں زندگی کی تلخیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں چھوڑتے۔ یہ بچے مشکل حالات میں فوراً ہی پست ہمتی کا شکار ہو جاتے ہیں اور خود کو نشے میں گم کر کے اس مشکل سے فرار حاصل کر نے کی کوشش کرتے ہیں۔
ماں باپ اس مغالطے میں ہیں کہ اولاد کے تعلیمی اخراجات اور روزمرہ کی ضروریات پوری کر کے ان کی ذمہ داریاں ختم ہو جاتی ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ صرف اچھے تعلیمی نتائج کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔ بچہ جس عمر میں بھی ہو، اسے ذمہ داری سونپیں تاکہ وہ اس کی اہمیت کو سمجھ سکے اور اس کا عادی بنے۔ ایک بات ذہن نشین رکھیں کہ اولاد کو جوان ہونے تک والدین اور اساتذہ کی رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے، مگر افسوس کہ دونوں طبقات اپنا کردار ٹھیک سے انجام نہیں دے رہے۔ والدین کی بے اعتنائی اور اساتذہ کی لاپرواہی نے نوجوان نسل کو بے راہ روی کی جانب دھکیل دیا ہے۔
والدین اور تعلیمی ادارے تو ایک طرف حکومت نے بھی اس معاملے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ انسداد منشیات کے قوانین، پولیس اور اینٹی نارکوٹکس کے اداروں کی موجودگی کے باوجود ملک کی عام شاہراؤں سے لے کر تعلیمی اداروں تک ہر قسم کی نشہ آور چیزیں با آسانی دستیاب ہیں۔ یہ وہی ملک ہے جہاں لاکھ کوششں کے باوجود بھی آپ کو خالص شہد اور دودھ نہیں ملتا۔ یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارا نظام کس قدر ناکارہ اور بے بس ہو چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 44 ٹن ہیروئن استعمال کی جاتی ہے جو امریکا میں استعمال ہونے والی ہیروئن سے تین گناہ زیادہ ہے۔ منشیات کی فراوانی اور اس کی رسائی ہماری نسلوں کے مستقبل کو تباہ کر رہی ہے، جبکہ حکومتی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے محض تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
منشیات کی لت سے نمٹنے کے لیے حکومت کا ایسے اقدامات کرنا لازمی ہے جن کے تحت منشیات کے استعمال کو روکنے، اسکولوں اور کالجوں میں منشیات کی روک تھام کے پروگراموں کے لیے فنڈز میں اضافہ کرنا، عوامی آگاہی کی مہمات بنانا جو لوگوں کو منشیات کے خاتمے کے خطرات سے آگاہ کریں، اور منشیات سے متعلق جرائم کے لیے سخت سزائیں دینا شامل ہیں۔ لیکن حقیقت میں، یہ اقدامات صرف کاغذوں میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔
حقیقت میں، حکومت کی عدم فعالیت اور والدین و تعلیمی اداروں کی بے حسی نے منشیات کے استعمال کو ایک وبا کی طرح پھیلا دیا ہے۔ والدین کو صرف اپنے بچوں کے تعلیمی اخراجات کی فکر ہوتی ہے، جبکہ ان کی نگرانی اور تربیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ تعلیمی ادارے، جو قوم کے مستقبل کو سنوارنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں، خود منشیات کی لعنت کے شکار ہو چکے ہیں۔
یہ ضروری ہے کہ ان واقعات پر قانونی ہی نہیں بلکہ معاشرتی طور پر بھی غور کیا جائے۔ والدین اور تعلیمی اداروں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں میں نشے کی لعنت کے سدباب اور اس کے نقصانات کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھانی چاہئیں۔ لیکن بدقسمتی سے، موجودہ حالات میں کوئی بھی اپنی ذمہ داری ٹھیک سے انجام نہیں دے رہا۔ اس ناقابل قبول صورت حال نے ہمارے معاشرتی نظام کی قلعی کھول دی ہے، اور ہماری نوجوان نسل ایک المناک انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔
وطن عزیز میں اگر نوجوان نسل کو اس لعنت سے نجات نہ دلائی گئی تو نسل نو کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اگر فوری اور موثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل کے معمار، جو قوم کی ترقی کا خواب ہیں، تباہی کے دہانے پر پہنچ جائیں گے۔ ملک کے نوجوان اگر نشے کی لت میں ڈوب گئے تو پاکستان کا روشن مستقبل تاریکی میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے حکومت، والدین، اور تعلیمی اداروں کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ ہماری نسل نو اس تباہ کن لعنت سے نجات حاصل کر سکے۔


