ٹھرک کا اژدہام ہے ساقی


ڈاکٹر صاحب ہاؤس جاب سے فارغ کیا ہوئے، چاروں جانب قمقمے سے چمکنے لگے۔
ذہن ایسا رساں ہوا ہے پیا
ہر طرف تیری آفرینش ہے

اول روز سے کتابیں اٹھائے کوٹھے میں فروکش ہوئے کہ ہو نہ ہو اب پارٹ ون کی تیاری مار گرائیں گے۔ ولولے دو دِن میں ڈھیر ہوئے میاں پڑھائی سے سیر ہوئے۔ کھیلیے روبلاکس اور سینکیے اکھیاں۔ بھیا ہیگا یہ تعلقات کا جمانہ، نہ ہوگی سفارش نہ ملو گی نوکری، دیجو گھر گھر سیوی، پائیو پیا کی پھٹکار۔ نہ ہم ٹھہرے نازنین کہ کریں سولہ سنگھار، دیویں حاضری بہ حضور سرکار ہسپتال اور پاویں من کی مراد۔ سو لکھنے میں رکھی ہے اپنی وارفتگی کی جھنکار، سنے نہ سنے شہر نابکار دیوانے ڈاکٹر کی فریاد۔

اللہ اللہ صبحے جو اٹھے، دل چاہا معدہ آنت جگر پڑھی جاویں لیکن دل ہے کہ کوچہ مے فروشاں کو مائل۔ کھولیے انسٹاگرام اور دیکھیے مہ رخوں کے ہزار جلوے۔ مہنگے رنگین ڈیزائنر کپڑے، شوہروں کو بھی آ جائے پسینہ۔ صاحب تو بچپن کی اچکن میں ہی حیاتی کیے دیتے ہیں اور بی بی صاحب کی ہر آن موج اور مستی میں غلطاں۔ یہ چوڑیاں، پائلیں قیامت خیز میکپ، ناخنوں پہ لگا عمدہ پینٹ۔ یہ انہی مفلوک الحال میاں کی زوجہ ہیں جو باقر خانی بھی کھا لیں تو دھڑکن نہیں رکتی۔

اب ایسے میں رکے بھی کیسے کہ جلووں سے تیرے بت بے خبر، ہیں روشن نین زمانے کے۔ خاص ہیں ان میں باریش، بزرگان نسل نو۔ بابا جی کسی بچی کو علیک سلیک بنا جانے دیں، بچ کے جائے کی کہاں بلبل گلرنگ، دام خستہ نہیں ہوتے کبھی بقراطوں کے۔ صاحب شکر پارے بکھرے پڑے ہیں تاحد نگاہ، آپ بھی کھائیے، مہنگے نہ سہی سستے سہی۔ سب ہی کھاتے ہیں، چھپ چھپ کر بیچ چوراہے میں۔ اپنی اپنی پلیٹ سے کھائیے۔ بعد از شکر ادا کیجئے با حضور داتا دیون ہار، لگائی ہیں اسی نے یہ رونقیں تمام۔

اور گھبرانے کی بات نہیں جو دکھتا ہے وہی بِکتا ہے۔ ان دفتروں میں، ڈراموں میں، مے خانوں میں، جہاں نظر اٹھائیے سامان ہائے زینت و ضیافت چن دیا گیا ہے فقط آپ کے لیے۔ اچھا آپ کو سماج کا بھرم بھی رکھنا ہے۔ تو کوچی پھیر دیں۔ نقاب لگا لیں، پنڈلیاں بھی تو جاذب نظر ہوتی ہیں۔ سیکریٹری رکھ لیں نہیں تو پچاس انچ کا ٹی وی رکھوا لیجو گھر، ساری محفل ہی سجا لیجو گھر۔ کیا نہیں ملتا بازار سے۔ مالٹ، مرینڈا، دختر رز۔ مدھر دھنیں اور تھرکتے جسم صرف آپ کی سیوا کے لیے۔

پیسہ خرچیں مہاراج رادھا ناچے گی۔ یہ دنیا ہے، ہم گوشت پوست کے بونے ہیں۔ ہمیں روٹی کے بعد کیا چاہیے۔ آرام چاہیے مہاراج شہر میں دہکتے سر بلند شعلے، رائفلوں کی آتش بازی یا دبئی کے قحبہ خانوں میں چمکیلی، بد مست مدہوش عیاشی۔ یہی آدم کی حقیقت ہے۔ نہ یقین آئے تو گوگل پہ پچھلے سال سب سے زیادہ علمی او ادبی ویڈیوز ویبسائٹ کے انڈیکس دیکھ لینا۔ دیکھتے سب ہی ہیں مانتا کوئی نہیں۔

دختر رز نے اٹھا رکھی ہے آفت سر پر
خیریت گزری کہ انگور کے بیٹا نہ ہوا

Facebook Comments HS